• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین حدیث سے پچاس سوالات

123456789

رکن
شمولیت
اپریل 17، 2014
پیغامات
215
ری ایکشن اسکور
87
پوائنٹ
43
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چھوٹی عمر میں شادی جس حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ قابل اعتبار نہیں ۔ گو کہ وہ حدیث کی معتبر کتاب بخاری میں نقل ہوئی ہے اور سند کے لحاظ سے بھی مضبوط ہےلیکن دیگر قرائن سے مجھے دوسری بات کہ اماں عائشہ رض کی شادی 17 یا 19 سال وغیرہ کی عمر میں ہوئی ہے زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ بخاری کی حدیث ہے تو سندا ٹھیک اور اسکے حدیث ہونے کا بھی انکار نہیں کرتا لیکن اسکا متن مجھے مطمئن نہیں کرتا بلکہ دوسرا موقف زیادہ ٹھیک معلوم ہوتا ہے تو کیا میں منکر حدیث تو نہیں ہوجا تا اس صورت میں۔ ابھی دلائل پیش نظر نہیں۔ آپ کچھ لکھنا چاہیں تو لکھ دیں ۔ کل میں دلائل بھی سامنے رکھونگا اگر آپ منا سب سمجھیں تو۔
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چھوٹی عمر میں شادی جس حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ قابل اعتبار نہیں ۔ گو کہ وہ حدیث کی معتبر کتاب بخاری میں نقل ہوئی ہے اور سند کے لحاظ سے بھی مضبوط ہےلیکن دیگر قرائن سے مجھے دوسری بات کہ اماں عائشہ رض کی شادی 17 یا 19 سال وغیرہ کی عمر میں ہوئی ہے زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ بخاری کی حدیث ہے تو سندا ٹھیک اور اسکے حدیث ہونے کا بھی انکار نہیں کرتا لیکن اسکا متن مجھے مطمئن نہیں کرتا بلکہ دوسرا موقف زیادہ ٹھیک معلوم ہوتا ہے تو کیا میں منکر حدیث تو نہیں ہوجا تا اس صورت میں۔ ابھی دلائل پیش نظر نہیں۔ آپ کچھ لکھنا چاہیں تو لکھ دیں ۔ کل میں دلائل بھی سامنے رکھونگا اگر آپ منا سب سمجھیں تو۔
لوگ ایک "جذباتی اعتراض" یہ کرتے ہیں کہ کیا ہم میں سے کوئی اپنی 9 سال کی بیٹی یا بہن کو 53 سال کے شیخ کے نکاح میں دے گا؟ "جدید ذہن" کو یہ اعتراض "واقعی اپیل" کرتا ہے؛ مگر اسی جدید ذہن رکھنے والوں سے سوال یہ ہے کہ اگر آج کوئی 53 سال کا شیخ انکی 19 سال کی بیٹی یا بہن کے لئے رشتہ بھیجے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو ہنسی خوشی رخصتی کے لئے تیار ہوجائیں گے؟ اگر وہ اسے معیوب سمجھیں گے تو پھر 9 کو 19 بنانے سے کیا ملا؟ کم از کم 29 یا 39 تو بناؤ بھائی تاکہ بات پوری بن سکے۔

المیہ یہ ہے کہ بات میں سنسنی پیدا کرنے کے لیے چھ سال کی عمر کو زیادہ اچھالا جا رہا ہے اور نو سال رخصتی والی حقیقت کو کم اہمیت دے کر بحث میں جیتنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ارے بھائی، نکاح تو چلیں چھ سال کی عمر میں ہوا تھا لیکن اصل چیز تو رخصتی ہے اس پر کیوں بات نہیں کررہے۔ جبکہ کسی بھی لڑکی کی پوشیدہ باتوں سے باپ واقف نہیں ہوتا بلکہ ماں واقف ہوتی ہے۔ اسی لیے جب ماں نے دیکھا کہ اب لڑکی رخصتی کے قابل ہوگئی ہے تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرکے روانہ کیا۔
پھر وہی عرض ہے کہ ۱۴۰۰ پہلے ہونے والے واقعہ کو آج کے تناظر میں دیکھیں گے تو عجیب لگے گا لیکن اس دور میں یہ کوئی عجیب اور انہونی چیز نہیں تھی ورنہ معترضین کے پاس اس سے زیادہ سنہری موقعہ کیا ہوتا کہ اسے لے کر خوب پروپگنڈا کرتے۔
دوسری بات یہ کہ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی ماضی بعید تو چھوڑیں ماضی قریب میں بھی ہوئی ہیں۔بلکہ اگر آپ کو آج بھی امریکہ کی تین ریاستوں میں لڑکی کے لیے مقرر کی گئی شادی کی عمروں کا بتایا جائے تو آپ ضرور حیران ہوں گے۔ نیچے ان تینوں ریاستوں کے نام اور لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر درج کی جاتی ہے:
۱۔ ریاست Massachusetts لڑکی کی کم سے کم عمر بارہ سال
۲۔ ریاست New Hampshire کم از کم عمر تیرہ سال
۳۔ ریاست New York کم سے کم عمر چودہ سال
یہ پرانی بات نہیں بلکہ آج بھی ان تینوں ریاستوں میں لڑکیوں کے لیے یہی عمر مقرر ہے۔
پھردیکھیں کہ جو لوگ ہمارے ملک میں لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں پر ٹیسوے بہاتے ہیں ان کے اپنے ملک کا یہ حال ہے۔ اور جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے ان کے ہاں لڑکیاں اس سے بھی کم عمری میں تعلق قائم کرلیتی ہیں جس کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ ]سنہ ۲۰۱۴ میں برطانیہ میں ساتویں گریڈ میں پڑھنے والی ایک لڑکی نے بارہ سال کی عمر میں ایک ناجائز بچے کی ماں بن ملک کی تاریخ میں رکارڈ قائم کیا اور اس کا نام گنیز بک میں درج کیا گیا ہے، خبر بی بی سی سمیت پورے عالمی میڈیا پر چلی تھی، آج بھی گوگل پر موجود ہے[
اس کے علاوہ اگرہم ماضی میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ:
۱۔ سینٹ آگسٹن ]350AD[نے دس سال کی لڑکی سے شادی کی۔
۲۔ کنگ رچرڈ دوئم ]1400AD[نے سات سالہ لڑکی سے شادی کی
۳۔ ھینری ہشتم ]1500AD[نے چھ سالہ لڑکی سے شادی کی
اس کے علاوہ برطانیہ میں سنہ ۱۹۲۹ تک چرچ کے وزراء قانونی طور پر ۱۲ سالہ لڑکی سے شادی کرسکتے تھے۔ کیوں کہ قانون میں اس کی اجازت تھی۔ ۱۹۸۳ سے قبل تک مشہور کینن لا کے مطابق پادری بارہ سالہ لڑکیوں سے شادی کرسکتے تھے۔
یہ بات شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ سنہ ۱۸۸۰ تک امریکی ریاست ڈیلویئر میں لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر ۷ ]سات[ سال مقرر تھی، جبکہ کیلیفورنیا میں یہی عمر دس سال مقرر تھی۔
منکرین اسلام کو دندان شکن جوابات
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
مستشرقین اور ملحدین نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے نکاح کے سلسلہ میں جس مفروضہ کی بنیاد پر ناروا اور بیجاطریقہ پر لب کو حرکت اور قلم کوجنبش دی ہے’ اگر عرب کے اس وقت کے جغرافیائی ماحول اور آب و ہوا کا تاریخی مطالعہ کریں تو اس کا کھوکھلا پن ثابت ہوجاتا ہے۔
ہر ملک وعلاقے کے ماحول کے مطابق لوگوں کے رنگ وروپ ،جسمانی وجنسی بناوٹ اورعادت واطوار جس طرح باہم مختلف ہوتے ہیں اسی طرح سن بلوغت میں بھی کافی تفاوت و فرق ہوتا ہے ۔ جن ممالک میں موسم سرد ہوتا ہے وہاں بلوغت کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جہاں موسم گرم ہوتا ہے وہاں بلوغت جلد وقوع پذیر ہوجاتی ہے ۔ مثلاً عرب ایک گرم ملک ہے ۔وہاں کی خوراک بھی گرم ہوتی ہے جوکہ عموماً کھجور اور اونٹ کے گوشت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لئے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا 9سال کی عمر میں بالغ ہوجانا بعید از عقل نہیں ۔
حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی نسبت قابل وثوق روایات سے بھی یہ معلوم ہے کہ ان کے جسمانی قوی بہت بہتر تھے اور ان میں قوت نشو و نما بہت زیادہ تھی۔ ایک تو خود عرب کی گرم آب و ہوا میں عورتوں کے غیرمعمولی نشوونماکی صلاحیت ہےدوسرے عام طورپر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قویٰ میں ترقی کی غیرمعمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح قدوقامت میں بھی بالیدگی کی خاص صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے بہت تھوڑی عمر میں وہ قوت حضرت عائشہ رضی الله عنہا میں پیدا ہوگئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لیے ایک عورت میں ضروری ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو خود ان کی والدہ نے بدون اس کے کہ آنحضرت صلى الله علیه وسلم کی طرف سے رخصتی کا تقاضا کیاگیاہو، خدمتِ نبوی میں بھیجا تھا اور دنیا جانتی ہے کہ کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن نہیں ہوتی؛ بلکہ لڑکی سب سے زیادہ اپنی ماں ہی کی عزیز اور محبوب ہوتی ہے۔ اس لیے ناممکن اور محال ہے کہ انھوں نے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت واہلیت سے پہلے ان کی رخصتی کردیا ہو ۔

اسلامی تاریخ سے مثالیں:
اسلامی کتابوں میں ایسے بہت واقعات نقل کیے گئے ہیں ، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب کے معاشرے میں نو (9) سال کی عمر میں بچہ جنم دینا عام بات اور اس عمر میں نکاح کرنارواج تھا۔ ان لوگوں کے لئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔چند واقعات ،
(1) ابوعاصم النبیل کہتے ہیں کہ میری والدہ ایک سو دس (110) ہجری میں پیدا ہوئیں اور میں ایک سو بائیس( 122) ہجری میں پیدا ہوا۔ (سیر اعلاالنبلاء جلد7رقم1627) یعنی بارہ سال کی عمر میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کی والدہ کی شادی دس سے گیارہ سال کی عمر میں ہوئی ہوگی۔
(2) عبداللہ بن عمر و اپنے باپ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے صرف گیارہ سال چھوٹے تھے ۔
( تذکرة الحفاظ جلد1ص93)
(3) ہشام بن عروہ نے فاطمہ بنت منذر سے شادی کی اور بوقت زواج فاطمہ کی عمر نو سال تھی ۔ (الضعفاء للعقیلی جلد4رقم 1583، تاریخ بغداد 222/1)
(4) عبداللہ بن صالح کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں ایک عورت نو سال کی عمر میں حاملہ ہوئی اور اس روایت میں یہ بھی درج ہے کہ ایک آدمی نے ان کو بتایاکہ اس کی بیٹی دس سال کی عمر میں حاملہ ہوئی ۔ (کامل لابن عدی جلد5ر قم 1015)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی نو سال کی عمر میں عبداللہ بن عامر سے کرائی (تاریخ ابن عساکر جلد70) ۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ عباد بن عباد المہلبی فرماتے ہیں میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی نو سال کی عمر میں اس نے بیٹی کو جنم دیا اور اس کی بیٹی نے بھی نو سال کی عمر میں بچہ جنم دیا ۔(سنن دارقطنی جلد3کتاب النکاح رقم 3836) ان

ماضی قریبب اور حال کی مثالیں:
اس طرح کے کئی حوالے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا معاملہ نہیں تھا ، آج کل بھی اخباروں میں اس قسم کی خبریں چھپتی رہتی ہیں ۔
ماضی قریب میں اسی طرح کا ایک واقعہ رونما ہواکہ 8سال کی بچی حاملہ ہوئی اور 9سال کی عمر میں بچہ جنا ۔ (روزنامہ DAWN 29 مارچ1966)
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک دفعہ اپنے ایک انٹر ویو بتاتے ہیں کہ : ”حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں میرے ذہن میں بھی کافی شکوک وشبہات تھے۔بطور پیشہ میں ایک میڈیکل ڈاکٹر ہوں۔ ایک دن میرے پاس ایک مریضہ آئی جس کی عمر تقریباً 9سال تھی اور اسے حیض آرہے تھے۔ تو مجھے اس روایت کی سچائی اور حقانیت پر یقین آگیا ‘۔
علاوہ ازیں روزنامہ جنگ کراچی میں 16اپریل 1986ء کوایک خبر مع تصویرکے شائع ہوئی تھی جس میں ایک نو سال کی بچی جس کا نام (ایلینس) تھا اور جو برازیل کی رہنے والی تھی بیس دن کی بچی کی ماں تھی۔
اس طرح روزنامہ آغاز میں یکم اکتوبر 1997کوایک خبر چھپی کہ (ملتان کے قریب ایک گاؤں میں)ایک آٹھ سالہ لڑکی حاملہ ہوگئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس خدشہ کا اعلان کیا ہے کہ وہ زچکی کے دوران ہلاک ہوجائے.پھر 9دسمبر 1997کو اسی اخبار میں دوسری خبر چھپی کہ ”ملتان (آغاز نیوز) ایک آٹھ سالہ پاکستانی لڑکی نے ایک بچہ کو جنم دیا ہے. ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچہ صحت مند ہے ۔
جب پاکستان جیسے جیسے معتدل اور متوسط ماحول وآب و ہوا والے ملک میں آٹھ برس کی لڑکی میں یہ استعداد پیدا ہوسکتی ہے تو عرب کے گرم آب و ہوا والے ملک میں ۹/ سال کی لڑکی میں اس صلاحیت کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
انٹرنیٹ پر بھی اس عمر کی لڑکیوں کے ہاں بچوں کی پیدائش کی بیسوں خبریں موجود ہیں، دو تین ماہ پہلے ایک خبر نظر سے گزری تھی جس میں یورپ کی ایک لڑکی کا بتایا گیا تھا کہ وہ بارہ سال کی عمر میں ماں بن گئی، اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے نکاح پر اعتراض کرنے والے انہی ملحدین نے اسے ورلڈ ریکارڈ قرار دیا تھا..
جاری ہے۔
بشکریہ پیج :مستند اسلامی تاریخ
http://ilhaad.com/2015/04/age-ayesha-mustashriqeen/
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
شکریہ محترم بھائی میرے مشورے پر عمل کرنے کا کہ اسلام کی تحقیق میں اور اپنے دل کو مطمئن کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے اور نہ کسی کی ملامت کا خیال کرنا چاہئے ورنہ شکوک و شبہات مزید بڑھتے چلے جائیں گے
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ جب کوئی انسان تحقیق کی راہ پر چل رہا ہوتا ہے تو وہ جمہود کا شکار نہیں ہوتا اور اسکو دائیں بائیں موڑنے میں یا مڑنے میں آسانی ہوتی ہے مگر جب وہ تحقیق مکمل کر کے ایک نظریہ پر مطمئن ہو جاتا ہے تو پھر وہ وہاں جمود کا شکار ہو جاتا ہے اور اسکو دائیں بائیں پھیرنے یا پھرنے میں زیادہ قوت لگتی ہے جیسے کھڑی گاڑی اور متحرک گاڑی کو حرکت دینے کا فرق ہوتا ہے پس ایک تحقیق کرنے والا مسلمان دوسرے جمود کے شکار مسلمان کو قائل کرنے میں مشکلات پاتا ہے تو وہ اسکو غلط سمجھنے لگتا ہے مگر ایسا ہوتا نہیں پس ہم چونکہ اس وقت ایک نظریہ پر ٹھہرے ہوئے ہیں تو آپ ہم میں سے کسی بھائی کی بات کا برا نہ مانیے گا
اب آپ کی بات کی طرف آتے ہیں اور میں اس سلسلے میں کوشش کروں گا کہ بات اصولوں اور قواعد پر کی جائے کہ فلاں نظریہ رکھنے کے پیچھے میرے اور آپ کے قواعد اور اصولوں میں کیا فرق ہے کیونکہ باقی دلائل تو نیٹ پر بہت موجود ہیں مگر جب تک اصولوں کا باریک بینی سے مطالعہ اور موازنہ نہ کیا جائے گا تو درست معاملے کا تعین مشکل ہو گا پس میں پہلے آپ سے تھوڑی سی گفتگو اصولوں پر کروں گا اور پھر ان شاءاللہ ان اصولوں پر اتفاق ہو جانے کے بعد عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمر جیسے اعتراضات پر بھی ضرور ایک ایک کر کے بات ہو گی
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چھوٹی عمر میں شادی جس حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ قابل اعتبار نہیں ۔ گو کہ وہ حدیث کی معتبر کتاب بخاری میں نقل ہوئی ہے اور سند کے لحاظ سے بھی مضبوط ہےلیکن دیگر قرائن سے مجھے دوسری بات کہ اماں عائشہ رض کی شادی 17 یا 19 سال وغیرہ کی عمر میں ہوئی ہے زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ بخاری کی حدیث ہے تو سندا ٹھیک اور اسکے حدیث ہونے کا بھی انکار نہیں کرتا لیکن اسکا متن مجھے مطمئن نہیں کرتا بلکہ دوسرا موقف زیادہ ٹھیک معلوم ہوتا ہے تو کیا میں منکر حدیث تو نہیں ہوجا تا اس صورت میں۔ ابھی دلائل پیش نظر نہیں۔ آپ کچھ لکھنا چاہیں تو لکھ دیں ۔ کل میں دلائل بھی سامنے رکھونگا اگر آپ منا سب سمجھیں تو۔
محترم بھائی کسی حدیث کا مطلق انکار کرنا ہی کسی کو منکر حدیث نہیں بنا دیتا بلکہ یہ پہلے یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ انکار کس وجہ سے کیا گیا ہے پس امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک رسالہ لکھا جس کا نام رفع الملام عن ائمۃ الاعلام ہے جس میں انہوں نے ان ائمۃ المسلمین سے لوگوں کی ملامتوں کو رفع کیا ہے کہ جنہوں نے بعض احادیث کا رد کیا اور لوگوں نے حدیث رد کرنے کی وجہ سے انکی ملامت شروع کر دی پس اس میں انہوں نے حدیث کو رد کرنے کی مختلف وجوہات لکھی ہیں کہ جن وجوہات کی وجہ سے حدیث کا رد کرنے والا ملامت کا مستحق نہیں ٹھہرتا چہ جائے کہ اسکو منکر حدیث کہ دیا جائے
پس سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہی ابن تیمیہ جیسے ائمۃ المسلمین بعض مسلمانوں کے احادیث کے رد کرنے والوں کا تو دفاع کر رہے ہیں اور بعض احادیث کے رد کرنے والوں کو یہی منکر حدیث کہ رہے ہیں تو وہ کون سا انکار حدیث ہے جسکو یہ ائمہ منکر حدیث کہ رہے ہیں
اس پر ان شاءاللہ اگلی فرصت میں لکھتا ہوں
 
Last edited:

مون لائیٹ آفریدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 30، 2011
پیغامات
640
ری ایکشن اسکور
407
پوائنٹ
127
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چھوٹی عمر میں شادی جس حدیث میں بیان ہوئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ قابل اعتبار نہیں ۔
فلاوربک لایومنون حتی یحکموک فیماشجر بینھم
اےمحبوب!تمھارےرب کی قسم!یہ لوگ مومن نہیں ھوسکتے جب تک آپس کے جھگڑوںمیں تم کو حاکم نہ مان لیں
 

Imran Ahmad

مبتدی
شمولیت
جنوری 20، 2016
پیغامات
13
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
7
انکار حدیث
کسی ایک یا چند احادیث پر جرح کرنا یا انہیں لائق استدلال نہ سمجھنا غلط تو ہو سکتا ھے لیکن اسے انکار حدیث سے تعبیر کرنا علمی افلاس کی دلیل ھے ۔انکار حدیث ایک فکر ایک رویہ ااور ایک منہج ھے رہی کسی حدیث پر تنقید تو کوئ صاحب علم ایسا نہیں جسے یہ کام نہ کرنا پڑا ہو ۔اس کا آغاز حضرت عمر نے کیا اور ایک خاتون کی روایت رد کردی کہ قرآن سے ھم آھنگ نہیں ۔ان کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ نے کئ صحابہ کی کئ روایات کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔تمام فقہاء محدثین ارباب علم و دانش کا یہی رویہ رہا ۔جب آپ یہ کہتے ھیں کہ امام بخاری نے اتنے لاکھ احادیث سے یہ دو اڑھائ ھزار احادیث منتخب کیں تو لاکھوں احادیث کو رد کرنے کی وجہ سے وہ منکر حدیث نہیں قرار پائے بلکہ ساری امت ان کی ممنون ھے کہ انہوں نے صحیح و سقیم کو الگ الگ کر دیا ۔اس پہلو سے حدیث پر گفتگو کرنا انکار حدیث نہیں بلکہ ائمہ مجتہدین و محدثین کا اتباع ھے ۔
 

ابن ادم

مبتدی
شمولیت
اپریل 17، 2017
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
29
سوال نمبر1 ۔

قرآن مجید کی جو 114 سورتیں ہیں ان سورتوں کے نام کس نے رکھے ہیں کیا قرآن نے خود ان سورتوں کے نام رکھے ہیں؟

جواب: جس وقت نبی کریم (ص) نے قرآن دیا، کیا اس میں یہ نام نہیں تھے؟ اگر نہیں تھے تو نبی کریم (ص) نے یہ نام علیحدہ کیوں لکھوائے؟ کتاب کے ابواب کے نام کسی دوسری کتاب میں نہیں آتے.

اور پھر یہ بھی بتا دیں کہ کس حدیث میں یہ سارے نام موجود ہیں؟


سوال نمبر2۔

قرآن مجید میں 15 مقامات پر (آیت سجدہ پڑھ کر) سجدہ کرنے کا حکم ہے کیا یہ حکم قرآن میں موجود ہے یا یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے؟

جواب: کیا نبی کریم (ص) نے یہ کر کے دکھایا کہ بس بتا دیا اور اب مسلمان کر رہے ہیں؟ اگر کر کے دکھایا تھا تو پھر تو یہ سنت جاری و ساری ہو گئی اور ہر قرآن پڑھنے والے کے پاس پہنچ گئی.

سنت و حدیث میں اگر آپ کو فرق نہیں معلوم تو پھر آگے بحث ضرورت نہیں.



سوال نمبر3۔

قرآن مجید کی ہر سورت کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتی ہے سوائے سورئہ توبہ کے۔ سورۃ انفال اور سورئہ توبہ کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں ہے۔ یہ کس نے بتایا کہ اب سورۃ توبہ شروع ہو گئی؟

جواب: کیا ہر سورت کے شروع میں بسم الله، الله کے حکم سے لکھی گئی تھی کہ نبی نے خود سے لکھوائی؟ اور اگر الله کے حکم سے لکھی جا رہی تھی تو کیا نبی کریم (ص) نے جو قرآن لکھوایا تھا کاتبین وحی سے اس میں بسم الله نہیں لکھوائی تھی اور علیحدہ سے حدیث میں بتایا؟ اگر علیحدہ سے بتایا تو نبی نے جو قرآن لکھوانے کی سنت چھوڑی اس میں بسم الله نہیں تھی تو کیا ہم آج اس سنت کے خلاف جا رہے ہیں.

سوال نمبر5۔

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیٰۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَااَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (سورئہ بقرہ:106)

ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اس کو فراموش کرا دیتے ہیں تو اُس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے؟

جواب: یہاں پر دو باتیں بہت اہم ہیں. پہلی بات کہ الله نے کہا کہ جس آیت(نشانی) کو منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت لے آتے ہیں. یہ درحقیقت پچھلی کتابوں کے بارے میں ہیں جو قرآن کے انے کے بعد منسوخ ہو گئی ہیں یا فراموش ہو چکی ہیں. دوسری بات اگر اس کو قرآن کی آیت مانا جائے تو الله نے کہا کہ ویسی ہی یا اس سے بہتر آیت آئے گی تو قرآن کی آیت کی منسوخی قرآن کی آیت سے ہو گی نہ کہ حدیث سے. جو چیز قرآن میں تھی اس کی منسوخی ایک حدیث کے ذریعہ اگر ہو گی تو وہ منسوخ ہونے والی آیت سے کم تر ہی رہے گی. جب کہ الله کہہ رہا ہے کہ ہم اس جیسی یا اس سے بہتر چیز دیں گے.



سوال نمبر6۔

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَ مَا اﷲُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (بقرہ 149۔ 150)

جواب: یہ حکم مسلمانوں کو قبلہ اول یعنی خانہ کعبہ کو مشرکین سے آزاد کرانے کے لئے ہے. اس لئے مسلمانوں کی شروع کی تمام لڑائیاں مشرکین سے ہوئیں اور جب سوره فتح میں بتا دیا کہ مسلمانوں کو فتح مبین مل گئی ہے یعنی خانہ کعبہ آزاد ہونے والا ہے تو پھر مسلمان یہودیوں سے اور دیگر اقوام سے لڑے.


سوال نمبر7۔

اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اﷲُ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ

حج کے مہینے (معیّن ہیں جو) معلوم ہیں تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کر لے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی بُرا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے اور جو نیک کام تم کرو گے اس کو اللہ جانتا ہے اور زادِ راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زادِ راہ (کا) پرہیز گاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو ۔ (سورئہ بقرہ آیت نمبر197)۔

جواب: جس نے سوره توبہ کا مطالعہ کیا ہوا ہے اس کو اس سوال کا جواب مل جائے گا


سوال نمبر8۔

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّ عَشْرًا فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (سورئہ بقرہ آیت نمبر234)۔

اور جولوگ تم میں سے مر جائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں ’’چار مہینے اور دس‘‘ اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب (یہ) عدت پوری کر چکیں تو اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کر لیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے ۔

جواب: جب بھی کوئی مقدار بتائی جاتی ہے تو بڑی سے چھوٹی بتائی جاتی ہے. کوئی کہے کہ اس چیز کا وزن ٥ کلو ٢٥٠ ہے تو آپ سمجھ جائیں گے. ویسے الله نے بھی متعدد بار مثالیں دیتے ہوئے یہی کہا ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے.


سوال نمبر9۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اﷲَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اﷲِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلاً (سورۃ النساء آیت نمبر59)۔

مومنو! اللہ اور اُس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب ِ حکومت ہیں اُن کی بھی۔ پھر اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اُس میں اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کاانجام بھی اچھا ہیـ ۔

جواب: الله اور اس کے رسول تک ہم آج کے دور میں صرف قرآن سے پہنچ سکتے ہیں اور قرآن نے الله کے نبی کی تمام اہم باتیں محفوظ کی ہوئی ہیں


سوال نمبر 10۔

وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ

اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) ہم نے تم کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا نِالَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَآ اِٰلہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاﷲِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (سورئہ اعراف:158)۔

(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) کہہ دو کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی بخشتا اور وہی موت دیتا ہے تو اللہ پر اور اُس کے رسول پیغمبر اُمّی پر، جو اللہ پر اور اُس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں، ایمان لاؤ اور اُن کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ ۔

جواب: یہ قرآن ہی وہ تعلیمات اور راستہ بتا رہا ہے




سوال نمبر11۔

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کر دو اُس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اُس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے (النسائ:۶۵)

جواب: یہ آیت تو واضح کر رہی ہے کہ جو حدیث کو قرآن ثابت کرنا چاہ رہے ہیں وہ درحقیقت نبی کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں. کیونکہ نبی کریم (ص) تو صرف قرآن دے کر گئے ہیں. نبی کریم (ص) نے قرآن کو لکھوایا اور حدیث کو لکھوانے کا کوئی اہتمام نہیں کیا. تو آپ اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں پھر؟ کاتبین وحی قرآن کی کتابت کرنے والے ہیں اور نبی کریم (ص) نے کاتبین وحی جو قرآن کی کتابت کرنے والے تھے وہ دیے.

اپس کی بات ہے اس بات کو لکھ کر تو آپ نے پورا منکرین قرآن کو بے نقاب کر دیا ہے. جو الله کے رسول کے دیے ہوئے قرآن کا انکار کرنے کے لئے حدیث کی آر لیتے ہیں



سوال نمبر12۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اﷲَ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا (سورۃ النسائ:80)۔

جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے اُن کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔

جواب: کیا نبی کریم (ص) قرآن کے علاوہ بھی کسی چیز کی پیروی کر رہے تھے؟



سوال نمبر13۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ وَ اِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا وَ اِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اﷲُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ ٰلکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (سورئہ مائدہ:6)۔

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگرنہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلاء میں سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اُس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو ۔

جواب: اس آیت میں ہی بتا دیا گیا ہے کہ بیت الخلا اور ہم بستری کے بعد آپ کو وضو کرنا ہے. بیت الخلا میں آپ دو جگہ سے مادہ کا اخراج کرتے ہیں، ان دو جگہوں سے کچھ بھی اخراج ہو گا تو وضو کرنا پڑے گا اور ہم بستری کے بعد نہانا پڑے گا.

باقی یہ کہ وضو سنت ہے جو ہر نماز کے لئے ضروری ہے. اور نماز دن میں ٥ مرتبہ ہر مسلمان نے پڑھنی ہے. آپ نے وضو سیکھنے سے پہلے کون کون سی روایات پڑھی تھیں؟ اور اپنے بچوں کو کس روایت کی روشنی میں وضو سکھاتے ہیں؟ مجھے تو والد نے ساتھ وضو کر کے سکھایا تھا. اور ایسے ہی میں نے اپنے بچوں کو سکھایا ہے اور میرے والد نے بھی ایسا ہی سیکھا تھا. آپ کے خاندان میں شاید کسی نے ایسے نہ سیکھا ہو





سوال نمبر14۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اﷲِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر173)۔

اُس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سؤر کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا ہے۔ ہاں جو ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) اللہ کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اُس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔

جواب:


سوال نمبر15۔


اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (سورئہ بقرہ:۶)۔

بیشک جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

جواب: سوره بقرہ کی یہ آیت نمبر ٦ کہہ رہی ہے کہ جو لوگ کفر کریں ان کے لئے نصیحت کرنا یا نہ کرنا برابر ہے. لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کفر کس چیز کا کریں. تو یہ باتیں سوره بقرہ کی پہلی ٥ آیات میں بیان کی گئی ہیں. جن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس کتاب یعنی قرآن مجید میں کوئی شک نہیں. اور کفر کرنے والے اس کتاب میں شک کریں گے کہ یہ مکمل ہے کہ نہیں ہے، یہ سمجھی جا سکتی ہے کہ نہیں جا سکتی، یہ الله کی طرف سے ہے کہ کسی اور کی طرف سے.

اب اتے ہیں کہ ان کو نصیحت کی جائے کہ نہیں. آپ قرآن پر شک کرتے ہیں کہ نہیں یہ میں نہیں جان سکتا. یہ دلوں کے بھید ہیں جو صرف الله جانتا ہے. جب میں نہیں جان سکتا تو پھر میرا کام تو صرف نصیحت کرتے ہی جانا ہے. ہاں اگر کسی کا کفر واضح ہو جائے تو آپ کو اجازت ہے کہ آپ مزید نصیحت اور بحث میں نہ پڑیں.



سوال نمبر16۔

اِنَّ اﷲَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاﷲِ فَقَدِ افْتَرٰٓی اِثْمًا عَظِیْمًا

اللہ تعالیٰ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے اللہ کاشریک مقرر کیا اُس نے بڑا بہتان باندھا۔ (سورۃ النسائ:48)۔

جواب: اس میں توبہ کی بات ہی نہیں کی گئی.


سوال نمبر 17۔

]قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اﷲِ بِہٖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورئہ انعام :145)۔

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں اُن میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اسکے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سؤر کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اُس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہیـ ۔

جواب: جیسے نماز کی فرضیت شراب کی حرمت تدریجاً ائی ہے سب سے پہلے شراب کو برا گردانہ گیا، پھر شراب کی حالت میں نماز سے دور رہنے کو کہا گیا اور پھر مکمل شراب کی حرمت. جیسے کوئی دوسری آیت سے یہ مطلب لے لے کہ نماز کے علاوہ شراب پی جا سکتی ہے وہ غلطی پر ہو گا ایسے ہی یہ پہلا حکم ہے حرام چیزوں کا. اور حلال اور حرام کا آخری حکم سوره مائدہ میں آیا ہے.
 

ابن ادم

مبتدی
شمولیت
اپریل 17، 2017
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
29
لوگ ایک "جذباتی اعتراض" یہ کرتے ہیں کہ کیا ہم میں سے کوئی اپنی 9 سال کی بیٹی یا بہن کو 53 سال کے شیخ کے نکاح میں دے گا؟ "جدید ذہن" کو یہ اعتراض "واقعی اپیل" کرتا ہے؛ مگر اسی جدید ذہن رکھنے والوں سے سوال یہ ہے کہ اگر آج کوئی 53 سال کا شیخ انکی 19 سال کی بیٹی یا بہن کے لئے رشتہ بھیجے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو ہنسی خوشی رخصتی کے لئے تیار ہوجائیں گے؟ اگر وہ اسے معیوب سمجھیں گے تو پھر 9 کو 19 بنانے سے کیا ملا؟ کم از کم 29 یا 39 تو بناؤ بھائی تاکہ بات پوری بن سکے۔

المیہ یہ ہے کہ بات میں سنسنی پیدا کرنے کے لیے چھ سال کی عمر کو زیادہ اچھالا جا رہا ہے اور نو سال رخصتی والی حقیقت کو کم اہمیت دے کر بحث میں جیتنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ارے بھائی، نکاح تو چلیں چھ سال کی عمر میں ہوا تھا لیکن اصل چیز تو رخصتی ہے اس پر کیوں بات نہیں کررہے۔ جبکہ کسی بھی لڑکی کی پوشیدہ باتوں سے باپ واقف نہیں ہوتا بلکہ ماں واقف ہوتی ہے۔ اسی لیے جب ماں نے دیکھا کہ اب لڑکی رخصتی کے قابل ہوگئی ہے تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرکے روانہ کیا۔
پھر وہی عرض ہے کہ ۱۴۰۰ پہلے ہونے والے واقعہ کو آج کے تناظر میں دیکھیں گے تو عجیب لگے گا لیکن اس دور میں یہ کوئی عجیب اور انہونی چیز نہیں تھی ورنہ معترضین کے پاس اس سے زیادہ سنہری موقعہ کیا ہوتا کہ اسے لے کر خوب پروپگنڈا کرتے۔
دوسری بات یہ کہ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی ماضی بعید تو چھوڑیں ماضی قریب میں بھی ہوئی ہیں۔بلکہ اگر آپ کو آج بھی امریکہ کی تین ریاستوں میں لڑکی کے لیے مقرر کی گئی شادی کی عمروں کا بتایا جائے تو آپ ضرور حیران ہوں گے۔ نیچے ان تینوں ریاستوں کے نام اور لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر درج کی جاتی ہے:
۱۔ ریاست Massachusetts لڑکی کی کم سے کم عمر بارہ سال
۲۔ ریاست New Hampshire کم از کم عمر تیرہ سال
۳۔ ریاست New York کم سے کم عمر چودہ سال
یہ پرانی بات نہیں بلکہ آج بھی ان تینوں ریاستوں میں لڑکیوں کے لیے یہی عمر مقرر ہے۔
پھردیکھیں کہ جو لوگ ہمارے ملک میں لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں پر ٹیسوے بہاتے ہیں ان کے اپنے ملک کا یہ حال ہے۔ اور جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے ان کے ہاں لڑکیاں اس سے بھی کم عمری میں تعلق قائم کرلیتی ہیں جس کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ ]سنہ ۲۰۱۴ میں برطانیہ میں ساتویں گریڈ میں پڑھنے والی ایک لڑکی نے بارہ سال کی عمر میں ایک ناجائز بچے کی ماں بن ملک کی تاریخ میں رکارڈ قائم کیا اور اس کا نام گنیز بک میں درج کیا گیا ہے، خبر بی بی سی سمیت پورے عالمی میڈیا پر چلی تھی، آج بھی گوگل پر موجود ہے[
اس کے علاوہ اگرہم ماضی میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ:
۱۔ سینٹ آگسٹن ]350AD[نے دس سال کی لڑکی سے شادی کی۔
۲۔ کنگ رچرڈ دوئم ]1400AD[نے سات سالہ لڑکی سے شادی کی
۳۔ ھینری ہشتم ]1500AD[نے چھ سالہ لڑکی سے شادی کی
اس کے علاوہ برطانیہ میں سنہ ۱۹۲۹ تک چرچ کے وزراء قانونی طور پر ۱۲ سالہ لڑکی سے شادی کرسکتے تھے۔ کیوں کہ قانون میں اس کی اجازت تھی۔ ۱۹۸۳ سے قبل تک مشہور کینن لا کے مطابق پادری بارہ سالہ لڑکیوں سے شادی کرسکتے تھے۔
یہ بات شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ سنہ ۱۸۸۰ تک امریکی ریاست ڈیلویئر میں لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر ۷ ]سات[ سال مقرر تھی، جبکہ کیلیفورنیا میں یہی عمر دس سال مقرر تھی۔
منکرین اسلام کو دندان شکن جوابات
الله نے کہا کہ تمام انسانیت کے لئے نبی کریم(ص) کی زندگی بہترین ہے. تو اس میں متعدد باتیں غور کرنے والی ہیں. پہلی یہ کہ نبی کی زندگی ہر دور کے لئے بہترین ہے. دوسری یہ کہ اس میں کوئی انہونی چیزیں نہیں ہیں کہ وہ ٦ سال میں بڑی ہو جاتی تھیں اور اب عورتیں دیر سے بالغ ہوتی ہیں. پھر تو وہ ہر انسان کے لئے بہترین نہ رہی.
تیسری بات الله نے نکاح کی حد مقرر کی ہے. سوره نساء کی آیت ٦ میں آیا کہ
وَابْتَلُواْ الْيَتَامَى حَتَّىَ إِذَا بَلَغُواْ النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُواْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ
ترجمہ: اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو
یعنی نکاح کی ایک عمر ہے اس سے پہلے نہیں ہو سکتا.
اور سوره بنی اسرئیل کی آیات ٣٤ میں لله نے نکاح کی کم از کم عمر کیا ہے اس کا بھی تعین کر دیا. آیت ہے
وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُ ۥ‌ۚ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِ‌ۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولاً۬ (٣٤)
اور تم یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر ساتھ اس طریقے کے کہ وہ بہت ہی اچھا ہو یہاں تک کہ یتیم اپنی جوانی کو پہنچ جائے' اور تم عہد کو پورا کرو، بلاشبہ عہد (اس کی بابت) بازپرس ہو گی.

اور نبی کی بیویوں کی عمر کیا تھیں اس پر سوره احزاب کی آیت ٣٣ میں آیا

وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَـٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ
اور دَورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔
یعنی بیویوں نے سج دھج کیا تھا جب بعثت نبی نہیں ہوئی تھی. اور وہ ان کا دور جاہلیت تھا. تو اگر حضرت عائشہ (رض) نے سج دھج کیا تھا جو کہ بچپنے کے بعد ہی کیا جاتا ہے اور ان کے والد سب سے پہلے مسلمان مرد ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے جوانی میں قدم رکھ چکی تھیں جب اسلام ان کے گھر میں داخل ہوا تھا.

یہ روایتیں اس لئے بنائی گئی تھیں کہ دشمنان اسلام کو حضرت عائشہ (رض) کا مضبوط کردار اور ان کی دین فہمی اور ان کا علمی مقام کسی صورت نہیں بھاتا تو وہ حضرت عائشہ (رض) کے کردار کو گھٹانے اور ان کو نا سمجھ دکھانے اور ان کی منافقین کے خلاف جہاد کو غلط دکھانے کے لئے اس قسم کی روایات کا سہارا لیتے ہیں.

اور ماشاء الله سے آپ نے اس جھوٹی روایت اور منکر قرآن روایت کو سچا ثابت کرنے کے لئے نبی کریم (ص) کی زندگی کو سینٹ آگسٹن، کنگ رچرڈ دوئم، ھینری ہشتم سے ملا رہے ہیں؟ یعنی آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسوہ حسنہ پر چل رہے تھے؟ شکر ہے کہ آپ نے کسی اور سے نہیں ملا دیا. میرے نبی کریم (ص) کا کردار ان لوگوں سے بہت بلند ہے اور ان سے موازانہ کرنا میں نبی کریم (ص) کے کردار کے ساتھ سخت زیادتی تصور کرتا ہوں
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,713
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
الله نے کہا کہ تمام انسانیت کے لئے نبی کریم(ص) کی زندگی بہترین ہے. تو اس میں متعدد باتیں غور کرنے والی ہیں. پہلی یہ کہ نبی کی زندگی ہر دور کے لئے بہترین ہے. دوسری یہ کہ اس میں کوئی انہونی چیزیں نہیں ہیں کہ وہ ٦ سال میں بڑی ہو جاتی تھیں اور اب عورتیں دیر سے بالغ ہوتی ہیں. پھر تو وہ ہر انسان کے لئے بہترین نہ رہی.
کیوں نہہیں؟ پیمانہ زندگی کے سال نہیں، بلکہ بلوغت ہے!
اب کوئی منچلا آکر کہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 40 سال تھی جب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا، اور دعوت اسلام دی، تو جب تک اس کی عمر 40 سال نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے بہترین نہ ہوئے!
یہ بیوقوفی والی باتیں ہیں!
اور سوره بنی اسرئیل کی آیات ٣٤ میں لله نے نکاح کی کم از کم عمر کیا ہے اس کا بھی تعین کر دیا. آیت ہے
وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُ ۥ‌ۚ وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِ‌ۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولاً۬ (٣٤)
اور تم یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر ساتھ اس طریقے کے کہ وہ بہت ہی اچھا ہو یہاں تک کہ یتیم اپنی جوانی کو پہنچ جائے' اور تم عہد کو پورا کرو، بلاشبہ عہد (اس کی بابت) بازپرس ہو گی.
یہاں بھی بلوغت کا ذکر ہے، نہ کہ زندگی کے سالوں کا!
یعنی نکاح کی ایک عمر ہے اس سے پہلے نہیں ہو سکتا.
آپ نے یہ ''يعنی'' میں ''نہیں ہو سکتا'' تو قرآن کی اس آیت میں اپنی طرف سے داخل کیا ہے، اس آیت میں نفی تو کہیں نہیں!
وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَـٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ
اور دَورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔
یعنی بیویوں نے سج دھج کیا تھا جب بعثت نبی نہیں ہوئی تھی. اور وہ ان کا دور جاہلیت تھا. تو اگر حضرت عائشہ (رض) نے سج دھج کیا تھا جو کہ بچپنے کے بعد ہی کیا جاتا ہے اور ان کے والد سب سے پہلے مسلمان مرد ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے جوانی میں قدم رکھ چکی تھیں جب اسلام ان کے گھر میں داخل ہوا تھا.
یہاں بھی آپ نے عجیب ''یعنی'' کشید کیا ہے، اس سے یہ امہات المومنین کے جاہلیت کی سج دھج کہاں لازم آتا ہے؟ اور وہ بھی ہر ایک کے لئے؟
آپ آیت تو قرآن کی ہی پیش کر رہے ہو، لیکن اس سے ''يعنی'' خود ساختہ اور من گھڑت کشید کر رہے ہیں!
یہ روایتیں اس لئے بنائی گئی تھیں کہ دشمنان اسلام کو حضرت عائشہ (رض) کا مضبوط کردار اور ان کی دین فہمی اور ان کا علمی مقام کسی صورت نہیں بھاتا تو وہ حضرت عائشہ (رض) کے کردار کو گھٹانے اور ان کو نا سمجھ دکھانے اور ان کی منافقین کے خلاف جہاد کو غلط دکھانے کے لئے اس قسم کی روایات کا سہارا لیتے ہیں.
یہ خود ایک جھوٹ ہے کہ یہ روایتیں بنائیں گئیں ہیں، جبکہ یہ روایتیں روایت کی گئی ہیں!
دوم کہ ان روایات کا انکار قرآن کو خود ساختہ، من گھڑت اور نفس پرستی کے ''يعنی'' پہنانے کے لیئے کیا جاتا ہے!
اور ماشاء الله سے آپ نے اس جھوٹی روایت اور منکر قرآن روایت کو سچا ثابت کرنے کے لئے نبی کریم (ص) کی زندگی کو سینٹ آگسٹن، کنگ رچرڈ دوئم، ھینری ہشتم سے ملا رہے ہیں؟ یعنی آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسوہ حسنہ پر چل رہے تھے؟ شکر ہے کہ آپ نے کسی اور سے نہیں ملا دیا. میرے نبی کریم (ص) کا کردار ان لوگوں سے بہت بلند ہے اور ان سے موازانہ کرنا میں نبی کریم (ص) کے کردار کے ساتھ سخت زیادتی تصور کرتا ہوں
ایسا موازنہ ہم نے تو نہیں کیا، ہاں آپ نے ضرور کیا ہے!
 
Top