• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موانع اصلاح

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,550
پوائنٹ
641
میں کافی عرصہ سے اپنے تزکیہ کی کوشش میں لگا ہوں لیکن تزکیہ ہے کہ ہونے کو نہیں آ رہا۔ میں نے سوچا کہ تزکیہ نہ ہونے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں تو یہ وجوہات سامنے آئیں:

۱۔ میں تزکیے کی طلب میں سچا نہیں ہوں۔ میں نے اس وجہ پر غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں اپنا تزکیہ چاہتا ہوں اور اس کی سچی طلب اور تڑپ رکھتا ہوں۔

۲۔ میں تزکیے کے لیے سچی طلب تو رکھتا ہوں لیکن کوشش نہیں کر رہا۔ میں نے اس پر بھی غور کیا تو کسی قدر یہ بات درست تھی لیکن مکمل نہیں کیونکہ میں کوشش تو کر رہا تھا لیکن کوشش زیادہ نہیں تھی۔ لیکن میں نے سوچا کہ جتنی کوشش میں کرتا ہوں کیا اس کے بقدر تزکیہ ہو جاتا ہے تو جواب ناں میں تھا۔

۳۔ میں اپنی طلب میں بھی سچا ہوں اور کچھ تھوڑی بہت کوشش بھی کرتا ہوں لیکن پھر بھی احوال اور کیفیات حاصل نہیں ہو رہے، کیا بات ہے؟ میں نے اس پر غور کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ موانع کا مسئلہ ہے۔ تزکیہ ننفس تو اندر کی صفائی کا نام ہے، اور اگر صفائی میں کوئی رکاوٹ آ جائے تو صفائی حاصل نہیں ہوتی۔ میرے ذہن میں اپنی والدہ آئیں جو اپنے ہاتھ میں ایک ڈنڈا پکڑے اپنے گھر سے باہر جانے والی نالی کی صفائی کرتی تھیں کیونکہ اس میں کچرا آ جاتا ہے جس وجہ سے گھر کا گند باہر نہیں نکل پاتا تھا۔ ہماری پوٹھوہاری زبان میں اسے "ڈکا" کہتے تھے۔ ہر گھر میں صحن سے ایک پانی کی نالی باہر گلی میں جاتی تھی اور عموما اس نالی کے ذریعے گھر کا گند گھر سے باہر گلی کی نالی میں دھکیلا جاتا تھا۔ تو گھر صفائی میں پانی کی بہت اہمیت ہے لیکن اگر صفائی کی نالی کچرے کی وجہ سے بند ہو گی تو پانی بہانے سے گھر کا گند گھر سے باہر نہیں جائے گا۔

پس اس سے یہ بات ذہن میں آئی کہ عبادت کرنےکی مثال پانی بہانے کی سی ہے جیسے پانی ظاہری طہارت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اسی طرح عبادت باطنی طہارت کے لیے مثل پانی کے ہے لیکن اگر آپ کی تزکیہ نفس کی نالی میں "ڈکا" لگا ہوا تو پھر پانی بہانے کا خاطر خواہ فائدہ نہ ہو گا۔ اور یہ "ڈکا" کیا ہے، یہ رذائل نفس ہیں۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت اسے وہ احوال وکیفیات عطا کرے جو سلف صالحین کو حاصل تھے تو اسے پہلے اپنی نالی کی صفائی کرنی ہو گی تا کہ اندر کا گند باہر نکلنے کا رستہ پیدا ہو۔ واللہ اعلم
 

makki pakistani

سینئر رکن
شمولیت
مئی 25، 2011
پیغامات
1,325
ری ایکشن اسکور
3,052
پوائنٹ
282
اخی الکریم ۔

گلاں تہاڈیاں ڈونگیاں تے سچیاں نے۔
 

123456789

رکن
شمولیت
اپریل 17، 2014
پیغامات
215
ری ایکشن اسکور
87
پوائنٹ
43
دوسرے مسلمان بارے بد گمانی سے بچنا، اندازے لگانا اوراسکو حقیر سمجھنا بھی اصلاح میں مانع ہوتاہے۔
اصلاح کی طلب ہو تو دل مسلمان کیلئے کینہ اور بغض سے پاک ہونا چاہئے۔
کسی حکیم سے کسی نے پوچھا کہ اس مرتبہ تک رسائی کیسے ہوئی۔ فرمایا جو بات دوسروں میں بری لگی اسےخود سے دور کیا۔ شاید اسی مفہوم کی ایک حدیث بھی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کیلئے مثل آئینہ ہے۔
ہر بات میں خیر کے پہلو ڈھونڈنا اور بات کو خیر کی طرف پھیرنابھی باعث سعادت ہے
اللہ سچی طلب میں آپکو سرخرو فرمائے اور آپکی ذات کو ہزاروں لاکھوں لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنا دے۔
 
Top