1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

موبائل.... ایمان، صحت اور سوشل لائف کیلئے خطرہ (قرآن و حدیث اور مشاہدات کی روشنی میں چشم کشا تحریر)

'تزکیہ نفس' میں موضوعات آغاز کردہ از فیاض ثاقب, ‏نومبر 19، 2017۔

  1. ‏نومبر 19، 2017 #1
    فیاض ثاقب

    فیاض ثاقب مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 30، 2016
    پیغامات:
    80
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    موبائل.... ایمان، صحت اور سوشل لائف کیلئے خطرہ (قرآن و حدیث اور مشاہدات کی روشنی میں چشم کشا تحریر)

    طه منیب
    (بتعاون عبداللہ طیبی)

    اہم نوٹ : زیل میں شئر کیے مشاہدات شاید سب کیلئے یکساں نا ہوں. لیکن سوشل میڈیا پر موجود افراد کو ان میں سے بیشتر سے پالا پڑتا ہوگا.

    سوشل میڈیا عوامی رابطہ کا ایک زریعہ ہے جس پر ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کی آزادی حاصل ہے. گزشتہ چند سالوں میں اسکے رحجان میں بے حد اضافہ ہوا ہے. کروڑوں پاکستانی اس کا استعمال کر رہے ہیں. اسکی آمد کے ساتھ ہی ہم کن تبدیلیوں سے گزرے یہ اہم بات ہے. اس سے ہماری سماجی زندگی سمیت صحت، عبادات، معمولات، نفسیات میں کیا تبدیلیاں آئیں انکا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے. جبکہ ان سب تبدیلیوں سے متعلق اللہ رب العزت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا فرامین ہیں ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا.

    1. ایمان متاع زندگی ہے:

    سوشل میڈیا کے بعد سب سے زیادہ خطرات ہمارے ایمان کو لاحق ہوئے ہیں. برائی کی دستیابی انتہائی آسان اور ایمان انتہائی مشکل.

    بدنظری: سوشل میڈیا پر کچھ بھی خلط ملط ہمارے چاہنے یا نا چاہنے کے باوجود آ جاتا ہے. نظر کی حفاظت بہت اہم ہے. نظر سے ہی غلط معاملات کی ابتدا ہوتی ہے.

    رسول اللہ فرماتے ہیں:

    غیر محرم کی طرف دیکھنا شیطان کا ایک زہریلا تیر ے جو میرے خوف سے اسے ترک کردے گا میں اسے ایمان میں بدل دوں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا۔

    ابن کثیر،تفسیر ابن کثیر، ج۳،ص ۲۹۳،متقی ہندی،کنزالعمال،ج۵،ص ۳۳۷

    فحاشی کی طرف رغبت : فحش مواد تک رسائی انتہائی آسان ہے. موبائل کے استعمال کے دوران غیر محسوس انداز میں ہم اس جانب چل پڑتے ہیں. اوپر والی حدیث اس برائی پر بھی صادق آتی ہے. مزید

    فحش کی تعریف کرتے ہوئے راغب اصفہانی کہتے ہیں:

    ہر بری شے کو فحش کہتے ہیں چاہے اس کا تعلق فعل سے ہو یا قول سے۔

    حوالہ جات
    ۵۔ اعراف/۳۳

    مفردات راغب،ص ۳۷۴

    بے حیائی : برائیوں کی کثرت بے حیائی کو جنم دیتی ہے.

    نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی حدیث جسکا مفہوم ہے

    جب تم میں حیا نا رہے تو جو مرضی کرو.

    فرض نمازوں میں سستی اور چھوڑنا : ازان ہوتی ہے، اقامت ہوتی ہے اور نماز ہو جاتی ہے لیکن موبائل ہماری جان نہیں چھوڑتا.
    محض نماز میں سستی کی سخت وعید قرآن میں موجود ہے. کہ جہنمیوں سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہیں جہنم میں کیوں ڈالا گیا تو وہ کہیں گے ہم نمازوں میں سستی کرتے تھے. سورہ ماعون

    نفلی عبادت کا خاتمہ : جب فرض نماز کی ادائیگی کیلئے فرصت نہیں تو نوافل کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے. نوافل کے اجر و ثواب پر بے شمار احادیث موجود ہیں.

    میوزک سننا : سوشل میڈیا کے بعد میوزک ہمارے لیے تقریباً حلال ہو گیا ہے. چاہے گانے کی صورت میں ہو یا ساز. جبکہ اس حوالے سے بھی وعید موجودہے.

    ( ۔ لقمان (۲

    اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ کلام خریدتے ہیں تاکہ نادانی میں لوگوں کو خدا کی راہ سے گمراہ کریں اور آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے

    جھوٹ اور مزاح : سوشل میڈیا کے بعد مزاحیہ اور جھوٹے لطیفے بہت زیادہ سنے، دیکھے اور شئر کیے جاتے ہیں. جھوٹ بھی عام ہو گیا.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ )

    زیادہ نہ ہنسا کریں کیونکہ زیادہ ہنسنا دلوں کو مردہ کر دیتا ہے

    حدیثِ نبوی ہے: تباہی ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹی باتیں کرتا ہے ۔ اس کے لیے تباہی ہے ۔ اس کے لیے تباہی ہے۔(ترمذی :۵۱۳۲)

    2 وقت بہت قیمتی ہے :
    سوشل میڈیا پر جب ہم آتے ہیں تو وقت کا احساس نہیں رہتا. کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں لیکن پتہ ہی نہیں چلتا. جبکہ اس ضائع کیے گئے وقت کودیگر مفید سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے.

    ’" (صحیح بخاری ،کتاب الرقاق ،باب ماجاء فی الرقاق ۔۔الخ) ’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

    ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن سے اکثر لوگ غفلت میں رہتے ہیں :صحت اور فرصت‘

    3 صحت خطرے میں :
    جب ہم حد سے زیادہ موبائل استعمال کرتے ہیں تو ہمارے صحت کو کئی خطرات لاحق ہوتے ہیں. مثلا.

    آنکھیں : سکرین کو کثرت سے دیکھنا آنکھوں کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے. نظر کمزور ہو جاتی ہے.

    گردن اور کمر :موبائل سکرین ہو کا لیپ ٹاپ آپکو گردن اور کمر اسے متاثر ہوتے ہیں. کمر اور گردن میں درد شروع ہو جاتا ہے جسے اگنور کرنا کسی سنگین بیماری کا باعث بنتا ہے.

    توند نکلنا: بیٹھے رہنے کی وجہ سے ہماری توند نکلنا شروع ہو جاتی ہے. کیونکہ کھانا پینا تو جاری رہتے ہیں لیکن اسکے ہاضمہ کیلئے جسمانی سرگرمی ضروری ہوتی ہے جو کہ نہیں ہوپاتی اور ہم جوانی میں ہی پیٹ لیے پھرتے ہیں.

    دماغ : سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال آپکے دماغ کو متاثر کرتا ہے. سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور سر درد معمول بن جاتا ہے.

    حدیث : صحت اور فراغت کے حوالے سے اوپر والی حدیث ہی یہاں بھی فٹ آتی ہے.

    اسی طرح فرمایا کہ اللہ تعالٰی کو قوی مومن پسند ہے.

    4 فضول خرچ :
    پیسے ہوں یا نا ہوں ارینج کر کے ہر نیا آنے والا ماڈل لینا اور لینے تک چین سے نا بیٹھنا. اسی طرح فضولیات کیلئے مہنگے انٹرنیٹ پیکجز کا استعمال فضول خرچی ہے.

    سورت بنی اسرائیل (۲۷)

    اور فضول خرچی نہ کرو ۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ۔ اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے

    5 مرد و زن کا اختلاط :
    موبائل اور سوشل میڈیا کے آنے کے بعد مرد و عورت کا باہمی رابطہ نہایت آسان ہے. بیسیوں پلیٹ فارم و طریقے موجود ہیں. غیر محرم سے تنہائی میں بات چیت اسلام میں حرام ہے. لیکن اب یہ ہمارے لیے حرام نہیں رہا. ہماری بہنوں بیٹیوں کی عصمت و عفت محفوظ نہیں. اللہ معاف فرمائے. فرمایا دو مرد و عورت میں تیسرا شیطان ہوتا ہے.

    خواتین کے حوالے سے احکام الہی.
    اے نبیؐ ! اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور تمام مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر انھیں ستایا نہیں جائے گا۔
    [ الأحزاب : 59 ]

    اس قدر پردہ کا حکم ہے. گھروں میں رہنے کا حکم ہے. لیکن یہاں اللہ معاف فرمائے. کھلے عام روابط جاری ہیں. گھر برباد ہو رہے ہیں.

    6 آرام و سکون چھن گیا:
    جب موبائل کا استعمال حد سے زیادہ ہوگیا تو آرام بھی چھن گیا. نا دن کا پتہ نا رات کا. بس موبائل ہو اور میں. کب سونا کب جاگنا کوئی نہیں پتہ. نیند کی کمی اور سونے و بیدار ہونے کے اوقات کا تعین نا ہونا صحت کیلئے نقصان دہ ہے. رات کو جلد سونا صبح جلد بیدار ہونا مسنون عمل ہے. اور کامیاب لوگوں کا طرزعمل ہے. لیکن یہاں آدھی رات کو سوتے ہیں اور ظہر سے قبل بیداری نا ممکنات میں ہوتی ہے. جسم کا پورا پورا حق ہے. کہ اسے آرام دیا جائے.

    7 مطالعہ و کتب دوستی ختم:
    فضول اور حد سے زیادہ معلومات آپکے علم میں اضافے کی بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے. مشاہدہ، تحقیق، مطالعہ کیلئے فرصت نہیں. میری زاتی رائے میں کتاب کا مطالعہ ہی آپکی علمی استعداد میں اضافے کا باعث ہے. علم و تعلیم کی اہمیت پر بے شمار احادیث موجود ہیں.

    8 صلہ رحمی و رشتہ داری :
    پہلے پہل دوستوں، رشتہ داروں کو وقت دیا جاتا، آنا جاتا ہوتا ہے، محفلیں سجتی تھیں، حال احوال ہوتا تھا گپ شپ ہوتی تھی. لیکن سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ہی یہ سلسلہ کم ہوگیا ہے.آج تو ہمارے پاس والدین کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں. رشتہ داروں، ہمسایوں کے حقوق تو دور کی بات ہے . ان سب حقوق کا ادا کیا جانا ایمان کا حصہ ہے.

    اللہ تعالی نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صِلہ رحمی کی تاکید فرمائی ہے،

    اور رشتہ دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق ادا کرو، اور فضول خرچی نہ کرو۔ [الإسراء: 26]

    ایک مقام پر صلہ رحمی کو تقوی کے بعد متصل بیان کیا، فرمایا:
    نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی رشتوں کے معاملہ میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو۔ [النساء: 1]

    9 بیوی بچوں کے حقوق:
    ہماری گھریلو زندگی بھی اسکی وجہ سے متاثر ہوئی. ہم نے سوشل میڈیا کے کثرت سے استعمال کی وجہ سے بے شمار طلاقوں کی خبریں سنی ہیں. کہیں وٹس ایپ وجہ بنا تو کہیں کچھ. لڑائی جھگڑے معمول بن چکے. بیوی بچوں کو وقت دینا انکا جائز حق ہے جو موبائل کھا جاتا ہے.

    فرمان باری تعالٰی : ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں حسن اخلاق کے ساتھ معاملہ رکھو گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کردے۔(سورۂ النساء ۱۹)

    10 نفسیاتی امراض حملہ آور :
    سوشل میڈیا نے ہمیں نفسیاتی امراض میں مبتلا کر دیا ہے. بار بار نوٹیفکیشن چیک کرنا. کمنٹس اور لائکس کا منتظر رہنا. فضول سکرین پر انگلیاں گھماتے رہنا. بیداری کے ساتھ ہی موبائل چیک کرنا.

    یہ مسائل ہیں. جو ایک موبائل کے بعد ہمیں درپیش ہیں. جنکی وجہ سے ہمارا، ایمان، صحت، مال اور سوشل لائف خطرے میں ہے. بھائی موبائل کو آپکوچلاؤ. وہ آپکو چلائے. بھرپور صحت، کامل ایمان اور خوشیوں سے بھر پور زندگی آپکی منتظر ہے زرا اس موبائل کو اسکی اوقات پر رکھیں.

    بہت شکریہ
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 20، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,395
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    واقعتا چشم کشا تحریر ہے. اللہ صاحب مضمون اور آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے. اور ہمیں سوشل میڈیا سے صحیح انداز سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں