• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولوی کا استہزاء کوئی ایسا بے سبب نہیں ہے :

شمولیت
جولائی 01، 2017
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
155
پوائنٹ
47
مولوی کا استہزاء کوئی ایسا بے سبب نہیں ہے :
...تحریر ابوبكر قدوسی
.
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ سب بنا کسی ارادے کے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہو رہا ہے ؟
اگر ایسا ہے تو آپ بہت سادہ ہیں -
میں کئی بار اس کا حوالہ دے چکا کہ جب پاکستان بن گیا تھا تو ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کا اجلاس ہوا تھا - جس میں آنے والے وقت کی پالیسی طے کی جانی تھی - اس میں ریڈیو کے سربراہ زیڈ اے بخاری ، کہ جو معروف مزاح نگار پطرس بخاری کے بھائی تھے ، نے برملا کہا تھا کہ ہم نے اس ملک سے ملّا کو نکالنا ہے - سو اسی پالیسی پر آج تک عمل ہو رہا ہے -
اب سوال یہ ہے کہ ابھی پاکستان بنا تھا اور ملّا کھٹکنا شروع ہو گیا تھا ، آخر مولوی نے ایسا کیا جرم کیا تھا ؟
پاکستان کی تشکیل میں مخالف کیمپ کے بڑے بڑے نام سب علماء تھے ، مولانا آزاد ، مولانا عبد القادر قصوری صدر پنجاب کانگرس ، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا مودودی جن میں نمایاں تھے - اب یہ بات واضح ہے کہ ان بڑے بڑے ناموں کے موقف کو عوام نے بہت حد تک قبول نہ کیا ..لیکن ایسی صورت میں تو سیکولر طبقے کو سکون کا سانس لینا چاہیے تھا کہ یہ بڑے بڑے مولوی اپنے موقف کو عوام سے نہ منوا سکے سو ان کا تو کانٹا نکل گیا - لیکن ایسی کیا فتاد آن پڑی کہ میڈیا کے سب سے طاقت ور شعبے کا اجلاس اور پہلے اجلاس میں ہی مولوی کو نکالنے کی باتیں -
جی ہاں ! اس طبقے کو ، کہ جس نے تحریک پاکستان ہائی جیک کیے رکھی ، ہم سے آپ سے زیادہ خبر تھی کہ قوم پرست علماء کے مخالف جا کر قوم نے ان کے حق میں جو رائے قائم کی ہے وہ بھی مذھب کی بنیاد پر تھی - مقابلہ موقف کا نہ تھا شور شرابے کا تھا ، اور اس میں یہ سیکولر طبقہ جیت گیا - انہوں نے نعرہ لگایا اور اسے خوب پھیلایا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ ..عوام اس نعرے پر مر مٹی - جب وقت نکل گیا پاکستان مل گیا تو سب سے پہلے فکر لاحق ہوئی کہ اس نعرے کے اثرات سے جان چھڑائی جائے - کہ مذھب کی اس لاٹھی کو لے کر اب مولوی نہ چڑھ دوڑے - وہ دن اور آج کا دن مولوی ان کی نوک قلم پر بھی ہے اور زبان پر بھی -
مولوی کی کوئی غلطی سامنے آ جائے ، استہزاء کا مکمل اہتمام ہوتا ہے - مولوی کا کوئی کیس عدالت میں چلا جائے اس کو بھر پور کوریج ملتی ہے بھلے اسی مولوی کے مرنے کی خبر اخبار میں سنگل کالم بھی نہ لے سکے - اگر وہ اس کیس میں باعزت بری ہو جائے تو خبر ہی نہیں ہوتی -
ہمارے یہ سکولر احباب اس معاملے میں خاصے بددیانت ثابت ہووے ہیں - ان کا کوئی اصول نہیں - تلخی حالات کے سبب اگر میں کہہ گزروں کہ بازار حسن کی طوائف ہمارے ان دانش وروں سے بدرجہا بہتر ہے کہ جسم و جاں بیچتی ہے قلم کی ناموس کا سودا تو نہیں کرتی تو شاید غلط نہ ہو گا -
آپ کو یاد ہو گا کہ لاہور اچھرہ میں ایک بچےکے ساتھ بد فعلی کر کے لاش مسجد کی چھت پر پھینک دی گئی تھی ، امام مسجد پکڑا گیا ، تب ان حضرات کی اور میڈیا کی پھرتیاں دیکھنے کے قابل تھیں - اور جو جو کچھ ٹاک شوز میں کیا گیا ، جیسی ایک طبقے کے خلاف نفرت پھیلائی گئی وہ خاصی قابل شرم حرکت تھی ، لیکن شرم آئے تو کہاں سے آئے ؟
اور پھر محلے کا ایک چرسی ملزم نکلا اور مولوی بے گناہ .. لیکن یہ حمیت اور غیرت سے محروم میڈیا ایسے چپ تھا کہ جیسے کوئی حاجن بی بی سدا کی معصوم -
طبقہ علماء سے بھی عرض ہے کہ کہ ایسے باوسائل اور چالاک دشمن کی موجودگی میں آپ کی ذمے داری بہت بڑھ جاتی ہے - آپ کو ایسی جگہوں سے احتیاط سے گزرنا چاہیے کہ جہاں دامن پر کوئی چھینٹ پڑنے کا خدشہ ہو -
یہاں فیس بک پر جو احباب دین سے متعلق ہیں اور داعی ہیں ، ان کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنے آپ کو ایسی سازشوں سے بچا کے رکھیں - اختلاط سے دور رہیں ، خواتین سےخطاب میں اپنی بہن یا بیٹی کا تصور رکھیں - بلا ضرورت آگے بڑھنا اصل میں شیطان کا وار ہوتا ہے جو کبھی کبھی اصلاح کی آڑ لیتا ہے - یہ بھی یاد رکھیں کہ ضروری نہیں کہ یہاں خاتون ، خاتون ہی ہو وہ آپ کا کوئی خالہ زد بھی ہو سکتا ہے اور کوئی ہمزاد بھی - یہ جو کسی عورت کے کمنٹ پر دل دھڑک اٹھتا ہے نا یہ اصل میں شیطانی وار ہوتا ہے - مختصر یہ کہ ہمیں بھی اپنی حفاظت کرنا چاہیے ورنہ مفتی عبد القوی کی آج کی خبریں پڑھ لیں
دامن یار ڈھانپ لے خدا پردہ تیرا
 
Top