• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میراث الغرقی أوالھدمی( الموت الجماعی) {Simultaneous death} (تفہیم الفرائض)

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
نوٹ:- پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : (میراث الخنثی)
باب الغرقی أوالھدمی( الموت الجماعی) (Simultaneous death)


لغوی معنی:
الغرقی یہ غریق کی جمع ہے جس کے معنی ڈوب کرمرنے والا اور الھدمی یہ ھدیم کی جمع ہے جس کے معنی عمارت گرنے سے اس کے نیچے دب کرمرنے والا۔
اصطلاحی معنی:
فرائض کی اصطلاح میں مذکورہ دونوں الفاظ یا ایک لفظ بول کر ایسی جماعت کو مراد لیا جاتا ہے جو کسی حادثہ میں ایک ساتھ فوت ہوگئے ہوں۔
قدیم زمانے میں عام طور سے اجتماعی موت سمندر میں ڈوبنے یا عمارت کے گرنے سے ہوتی تھی اس لئے اس زمانے میں ایک ساتھ مرنے والوں کو انہیں الفاظ سے تعبیرکرتے تھے ، لیکن آج کے دور میں ایک ساتھ مرنے کے بہت سارے اسباب پیدا ہوگئے ہیں مثلا روڈ حادثہ ، پلین حادثہ ، جنگی حالات وغیرہ اس لئے اس کیفیت سے واقع ہونے والی موت کو ''الموت الجماعی ''سے تعبیرکرنا زیادہ بہتر ہے۔

اجتماعی اموات کے حالات

✿ پہلی حالت :
اجتماعی اموات میں یہ معلوم ہو کہ سب ایک ساتھ ہی فوت ہوئے ہیں۔
اس صورت میں ایک ساتھ فوت ہونے والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے ، کیونکہ وارث کے لئے ضروری ہے کہ وہ مورث کے بعد فوت ہوا ہو، جیساکہ مقدمہ میں بیان کیا جاچکا ہے لہٰذا ایسی صورت میں ہر میت کا ترکہ ان کے صرف زندہ وارثین میں عام اصول کے تحت تقسیم ہو گا۔

✿ دوسری حالت:
اجتماعی اموات میں یہ معلوم ہو کہ کون کب فوت ہوا ہے۔
ایسی صورت میں بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کا وارث ہوگا ، پھر الگ الگ، یا مناسخہ کے اصول سے زندہ وارثین میں ترکہ تقسیم ہوگا، جیساکہ عام اصول ہے۔

✿ تیسری حالت:
اجتماعی اموات میں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کون کب فوت ہوا ہے، یا یہ معلوم ہو کہ بعض بعض کے بعد فوت ہوئے ہوں لیکن کسی کی وفات کا وقت معلوم نہ ہوسکے، یا وقت معلوم ہوا ہو لیکن بعد میں لوگ بھول گئے ہوں۔
عصرحاضر میں اس حالت کی نوبت عام طور سے نہیں آتی ہے، کیونکہ یکے بعد دیگرے واقع ہونے والی اموات کا علم لاشیں دیکھنے کے بعد ہی ہوتاہے، اور عصر حاضر میں لاشوں کی موجودگی میں میڈیکل ٹسٹ سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کون کب فوت ہوا ہے ، اور میڈیکل رپوٹ آنے کے بعد بھولنے کے بھی امکانات نہیں رہتے ہیں ۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو عصر حاضر میں اس مسئلہ کو قدیم طریقے سے حل کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ہے ، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ لاشوں کا ٹیسٹ کئے بغیر انہیں دفنا دیا گیا ہو تو یہ صورت پیش آسکتی ہے، لہٰذا اس صورت میں مسئلہ کا حل پیش کیا جاتا ہے۔

اہل علم کا اختلاف

اگراجتماعی اموات کی تیسری حالت ہو، تو ایسی صورت میں مرنے والوں کے مابین، ان کی میراث تقسیم ہوگی یا نہیں اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔
❀ پہلا قول:
مالکیہ ، شوافع اور احناف اور جمہور کا قول یہ ہے کہ اس حالت میں مرنے والے آپس میں کسی کے وارث نہیں ہوں گے کیونکہ وارث ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مورّث کے بعد وارث کی حیات متحقق ہو اور مذکورہ صورت میں اس بات کا تحقق نہیں ہوپاتا، لہٰذا میراث جاری نہیں ہوگی ۔
❀ دوسرا قول:
حنابلہ اور بعض اہل علم کا قول یہ ہے کہ ان کے مابین میراث جاری ہوگی، لیکن اموات آپس میں دوسری میت کے صرف تلاد(پرانے مال) سے ہی حصہ پاسکتے ہیں، طریف(نئے مال) سے نہیں ؛ باقی زندہ ورثاء ہر میت کے تلاد اور طریف دونوں سے حصہ پائیں گے۔
تلاد کا مطلب میت کا وہ پرانامال جس کا مالک وہ حادثہ سے قبل تھا۔ اور طریف کا مطلب وہ نیامال جو حادثہ کے بعد دوسری میت سے اسے ملا ہے ۔
میت کے طریف میں دوسری میت کو اس لئے نہیں دیا جاتا کیونکہ اس سے دور لازم آئے گا یعنی میت اپنے ہی مال کا وارث ثابت ہوگا ، کیونکہ ہرمیت کا مال دوسری میت کو ملے گا یعنی ہرمیت کا اپنا مال بھی لوٹ کر اس کے پاس آئے گا۔اورکوئی شخص اپنے مال کا خود وارث نہیں ہوسکتا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
طریقہ حل

حادثہ میں دو میت ہوں تو مسئلہ کے حل کا طریقہ

دوسرے قول کی بنیاد پر اس مسئلہ کا حل اس طرح ہوگا کہ، دونوں میتوں کے تلاد کو الگ الگ تقسیم کیا جائے گا ،ایک بار کسی ایک کو متقدم میت فرض کرکے اس کے تلاد کومردہ اورزندہ وارثین تقسیم کریں گے ،اور دوسری بار دوسری میت کو متقدم فرض کرکے اس کے تلاد کومردہ اورزندہ وارثین میں تقسیم کریں گے۔پھرمردہ وارثین کے حصے ان کے صرف زندہ وارثین میں تقسیم کریں گے۔
یہ تقسیم مناسخہ کے طریقہ پر ہوگی اور مناسخہ کے باب میں بتایا جاچکا ہے کہ اس میں دو طرح تقسیم ممکن ہے ، اول تتابع یعنی ہرمیت کا مسئلہ الگ الگ بناکر ، دوم جامع مسئلہ کے ذریعہ ۔
مثال:
شوہر اوربیوی گھر گرنے سے یکے بعد دیگر فوت ہوگئے ، شوہر کے وارثین میں اس کا ایک بیٹا اور اس کی ماں ہے ، بیوی کے وارثین میں اس کا وہی بیٹا اور اس کاباپ ہے۔

❀ تتابع کے ذریعہ حل کا طریقہ:
٭شوہر کو پہلے فوت ہونے والا فرض کرکے مسئلہ کا حل:
پہلا مسئلہ:ـ شوہر فوت ہوا اوروارثین میں اس کی ماں ، ایک بیٹا اور مردہ بیوی ہے ۔ شوہرکے تلاد کو ا س کے وارثین میں تقسیم کریں گے:
Screenshot_6.jpg

دوسرا مسئلہ :-شو ہر کے بعد بیوی فوت ہوئی وارثین میں اس کا باپ ، اور اس کا بیٹا ہے۔
Screenshot_7.jpg

اوپر کے مسئلہ میں بیوی کو جو(٣)حصے ملے ہیں وہی یہاں تقسیم ہوں گے۔

٭بیوی کو پہلے فوت ہونے والا فرض کرکے مسئلہ کا حل:
پہلا مسئلہ:- بیوی فوت ہوئی، اور وارثین میں اس کا باپ اور اس کا بیٹااور مردہ شوہر ہے۔بیوی کے تلاد کو اس کے وارثین میں تقسیم کریں گے۔
Screenshot_8.jpg

دوسرا مسئلہ:- بیوی کے بعد شوہر فوت ہوا ، وارثین میں اس کی ماں اور اس کا بیٹا ہے۔
Screenshot_9.jpg

اوپر کے مسئلہ میں شوہر کو جو(٣)حصے ملے ہیں وہی یہاں تقسیم ہوں گے۔
اس پورے عمل میں ہر میت کے تلاد کو، پہلے اس کے مردہ اورزندہ وارثین میں تقسیم کیاگیا،اس کے بعد مردہ وارثین کے حصہ کو ،اس کے صرف زندہ وارثین میں تقسیم کیا گیا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
❀ جامع مسئلہ کے ذریعہ حل کا طریقہ:
٭شوہر کو پہلے فوت ہونے والا فرض کرکے مسئلہ کا حل:
شوہر فوت ہوا اوروارثین میں اس کی ماں ، ایک بیٹا اور مردہ بیوی ہے ۔اس کے بعد بیوی فوت ہوئی ، وارثین میں ، باپ اور اس کا مذکورہ بیٹا ہے ۔
Screenshot_10.jpg

اس طرح شوہر کاتلاد پہلے اس کے مردہ اورزندہ وارثین میں تقسیم ہوگا، بعد میں مردہ وارث کاحصہ اس کے صرف زندہ وارثین میں تقسیم ہوگا۔
٭بیوی کو پہلے فوت ہونے والا فرض کرکے مسئلہ کا حل:
بیوی فوت ہوئی اور وارثین میں اس کا باپ اور اس کا بیٹا اور مردہ شوہر ہے، اس کے بعد شوہر فوت ہوا وارثین میں اس کی ماں اور مذکورہ بیٹا ہے۔
Screenshot_11.jpg

اس طرح بیوی کا تلاد بھی شوہر کے تلاد کی طرح تقسیم ہوگا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
حادثہ میں تین میت ہوں تو مسئلہ کے حل کا طریقہ

اگر کسی حادثہ میں تین میت ہوں تو تینوں میتوں کے تلاد کو تین بار الگ الگ تقسیم کیا جائے گا ، پہلی بار کسی ایک میت کو متقدم میت فرض کرکے اس کے تلاد کو اس کے مردہ اور زندہ وارثین میں تقسیم کیا جائے ، دوسری بارکسی دوسری میت ، اسی طرح تیسری بار کسی تیسری میت کو متقدم میت فرض کرکے اس کے تلاد کو تقسیم کیا جائے گا۔ (اموات تین سے زائد ہوں توبھی طریقہ یہی ہوگا)۔
ہر میت کے تلاد کی تقسیم کا طریقہ:
ایک میت کے تلاد کواس کے مردہ اور زندہ وارثین میں تقسیم کیا جائے گا، اس کے بعد جن دو مردہ وارثین کواس تلاد میں سے مال ملا ہے، ان کے اس مال کو ان میں سے ہرایک کے زندہ وارثین میں تقسیم کیاجائے گا۔
یہ تقسیم بھی دو طریقہ پر ہوسکتی ہے۔
٭ایک تتابع کے طریقے پر، یعنی پہلے کسی ایک میت کا مسئلہ بناکر اس کے تلاد کو اس کے مردہ اورزندہ وارثین میں تقسیم کردیا جائے ،پھر ہرمردہ وارث کو جو حصہ ملا ہے اسے اس کے صرف زندہ وارثین میں تقسیم کردیا جائے۔یہ طریقہ بہت واضح ہے ۔
٭دوسرا طریقہ جامع مسئلہ کا ہے یعنی کسی ایک میت کے مالِ تلاد کو ایک ساتھ اس کے زندہ اورمردہ وارثین میں تقسیم کردیا جائے۔اس طریقہ میں یہ یاد رہے کہ بعد کے دونوں میت کے حصے، صرف ان کے زندہ وارثین میں ہی تقسیم ہوں گے ۔
مثال:- شوہر، بیوی اور ان کابیٹاگھر گرنے سے یکے بعد دیگرے فوت ہوگئے ، شوہر کے زندہ وارثین میں اس کی ماں ہے اور بیوی کے زندہ وارثین میں اس کا باپ ہے ، بیٹے کے زندہ وارثین میں اس کا ایک بیٹا ہے۔
پہلے طریقہ پر اس کا حل بہت ہی واضح ہے ،آگے صرف دوسرے طریقے پر اس کاحل پیش کیا جاتاہے۔
شوہر کو پہلے فوت ہونے والا فرض کرکے مسئلہ کا حل
Screenshot_3.jpg

بیوی کو پہلے فوت ہونے والا فرض کرکے مسئلہ کا حل
Screenshot_4.jpg

بیٹے کو پہلے فوت ہونے والا فرض کرکے مسئلہ کا حل
Screenshot_5.jpg

نوٹ:- اگلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : ( چھٹا حصہ : تقسیم ترکہ )
 
Last edited:
Top