• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میراث کی ڈکار

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
32
مْـیـــــراث کی ڈکار​

?:عبد السلام بن صلاح الدین مدنی

داعی و مترجم دفتر ِ تعاون,طائف‘سعودی عرب

الحمد للہ رب العالمین,و الصلاۃ و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین أما بعد

آج ہم جس دورِ پر فتن سے گزر رہے ہیں اور جن پر آشوب حالات میں سانس لے رہے ہیں اسے جدید جاہلی دور کہا جاسکتا ہے,ایک ایسا دور جہاں تشدد و جبر,جور و استبداد,ظلم و ستم,ناانصافی و حق تلفی,سماجی برائیاں,معاشرتی خامیاں,عقدی غلطیاں اور فکری پیچیدگیاں اپنے شباب پر ہیں,اور حد تو یہ ہے کہ انہیں معیوب بھی نہیں سمجھا جا رہا ہے ,انہی امور میں سے ایک میراث کا مسئلہ بھی ہے,قانون ِ میراث بطور ِ رحمت و شفقت اتارا گیا ہے,مگر اس کے تار و پود بکھیر دئے گئے, جس کی وجہ سے آپسی ہمدردیاں , اورباہمی محبتیں تار تار ہورہی ہیں,دلوں سے رافت و رحمت ,محبت و پیار کا جنازہ اٹھ رہا ہے, لوگ اسے(میراث کو) بلا محابا ڈکارے ,اور بلا خوف و خطر ہڑپ کئے جا رہے ہیں

قرآن کریم کا مطالعہ کیجئے اور اس کی تعلیمات کو بہ نظر ِ غائر دیکھئے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی ادائیگی کا حکم اللہ تعالی نے انتہائی تاکیدی طور پر دیا ہے,اللہ کریم نے نماز کا حکم دیا تو اس کا تفصیلی حکم نبی ٔ کریمﷺنے بیان فرمایا,روزے کو واجب قرار دیا تو اس کی تفاصیل نبی ٔ کریمﷺنے بیان فرمائیں,زکاۃ کا حکم دیا تو اس کی تفاصیل احادیث میں آئیں,حج واجب کیا تو اس کا بھی تفصیلی حکم احادیث شریفہ میں موجود ہے,مگر میراث ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اللہ تعالی نے خود قرآن ِ کریم میں اس کی تفاصیل بیان کیں, ایک ایک جزئیے کا تذکرہ فرمایا,چنانچہ سورہ ٔالنساء کی آیات:۷,۸,۹,۱۰,۱۱,۱۲,۱۳,۱۴,۳۳,اور ۱۷۶ کا بہ نظر غائر مطالعہ کیجئے جہاں رب تعالی نےانتہائی بسط و تفصیل سے میراث کا حکم,نصاب ہائے ترکہ کا بیان کیا؛نبی ٔ کریمﷺ نے بھی اس کی تفاصیل بیان کیں,جس سے اس امر(میراث)کی اہمیت و تاکید دَہ چند ہوجاتی ہے۔

چنانچہ آئیے آیات میراث پر غور فرمائیں کہ اللہ تعالی نے تین آیات کے اختتام کو اپنے علم سے مربوط فرمایا,آخر کیوں؟کس وجہ سے ؟کن مصلحتوں کی خاطر ایسا کیا گیا ۔

آئیے درج ذیل آیات پر تامل کرتے ہیں تاکہ مطلع بالکل بے غبار ہوجائے ,ارشادِ ربانی ہے:۔

(۱) (يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آَبَاؤُكُمْ وَأبناؤكم لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا)(النساء:۱۱)(ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اولاد ہو اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں اولاد ہے)

اس آیت کے بارے میں امام قرطبی نے انتہائی عظیم بات کہی ہے,فرماتے ہیں:( ھٰذِہِ الآیَةُ رُکْنٌ مِنْ أرْکَانِ الدِّیْنِ وَعُمْدَةٌ مِنْ عُمْدِ الدِّیْنِ وَاُمٌّ مِنْ اُمَّھَاتِ الْآیَاتِ، فَانَّ الْفَرَائِضَ عَظِیْمَةُ الْقَدْرِ، حَتّٰی أنَّھَا ثُلُثُ الْعِلْمِ)“یہ آیت (یُوْصِیْکُمُ اللہُ فِیْ اَوْلاَدِکُمْ)ارکان دین میں سے ہے ,دین کے اہم ستونوں میں سے ہے اور امہات آیات میں سے ہے؛ اس لیے کہ فرائض(میراث)کا بہت عظیم مرتبہ ہے ،یہاں تک کہ یہ ثلث علم ہے۔)([1])


(۲)نیز فرمایا:(وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أزواجكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ)(النساء:۱۲)(ترجمہ: تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اوﻻد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اوﻻد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو* تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیںاس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار)

(۳) نیز فرمایا:(يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاء فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ)(النساء:۱۷۶)(ترجمہ: آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے! کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وه آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں لانےکی رغبت رکھتے ہواور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کارگزاری انصاف کے ساتھ کرو تم جو نیک کام کرو، بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے والا ہے)

مذکورہ تینوں آیات کے آخری حصے پر تامل فرمائیں کہ اللہ تعالی نے ان آیات کو اپنے علم سے مربوط فرمایا اور اسی (علیم)پر آیات کا اختتام کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ تم کس نیت سے میراث دیتے ہو,یہ بھی جانتا ہے کہ کس طرح ڈکار جاتے ہو اور یہ بھی جانتا ہے کہ کیوں نہیں دیتے ہو, نیز وہ ربِ حکیم و علیم اس بات سے بھی بحوبی آگاہ ہے کہ اس (نظام ِ میراث)کے نفاذ سے دنیا و آخرت میں کیا کیا فوائد مترتب ہوتے ہیں؟کونسی حکمتیں مضمر ہیں؟اس قانون(میراث)کے نفاذ سے کیا اور کونسی خوبیاں معاشرے میں برگ وبار لائیں گی ؟اور جب جانتا ہے تو اس کے مطابق تمہیں جزاو سزا سے دو چار کرے گا,اگر حسن ِ نیت اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے جذبے سے دوگے تو تمہارے لئے جنت تیار ہے,جیساکہ رب کریم کا ارشاد ہے (وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)(النساء:۱۳)(ترجمہ: یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے)اور اگر حق تلفی کروگے,ظلم و جبر بجا لاؤگے,میراث کی ادائیگی میں ڈِھلائی برتو گے؛ٹال مٹول کروگے,آنا کانی کروگے, اورلیت و لعل سے کام لوگے تو یہ اللہ و رسول کی سرتاسر نافرمانی اور اللہ تعالی کی حدود کی پامالی متصور ہوگی اور جہنم تمہارا ٹھکانہ ہوگا جس سے کوئی مفر نہیں , جیسا کہ فرمایا:(وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ )(النساء:۱۴)(ترجمہ: اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿ﷺ﴾ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے)

نیز اللہ تعالی اپنے بندوں کی حکمتوں سے خوب خوب واقف ہے,کن چیزوں میں بندے کے فوائد و برکات پوشیدہ ہیں,ان سے با خبر ہے,پھر اللہ تعالی نے کس قدر تاکیدی حکم دیا کہ اس کے لئے ایسے الفاظ و اسالیب استعمال فرمائے کہ کلیجے دہل جاتے ہیں اور اس مسئلہ ٔ میراث کو ڈکارنے والے کے لئے وعیدِ شدید اور تاکید اکیدہے,اور اس کی اہمیت و عظمت ,تاکید و تعلیم کا خوب اندازہ ہوجاتا ہے,ملاحظہ فرمائیں:

(۱)(نَصِيبًا مَّفْرُوضًا )اس لفظ پر تامل فرمائیں کہ اللہ تعالی نے اس میراث کو مقرر کردہ حصہ قرار دیاہے,اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ میراث دے کر کوئی کسی خاتون (چاہے وہ بیٹی ہو,بیوی ہو,ماں,ہو,پوتی ہو وغیرہ )پر کوئی احسان نہیں کرتا ہے بلکہ یہ مقرر کردہ, اوراللہ رب العالمین کی طرف سے فرض کردہ حصہ ہے جو دینا ہے,جس سے کسی بھی طور پر چھٹکارا نہیں ہے,بلکہ اسے دینے میں ہی دنیا و عقبی کی بھلائی ہے

(۲)(يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ) اس لفظ (یوصیکم )پر غور فرمائیں کہ اللہ تعالی نے ایک تو لفظ وصیت کے ساتھ جملہ مؤمنین کو خطاب فرمایا ہے,یعنی اللہ تعالی تم کو آرڈر دیتا ہے, تمہیں حکم دیتا ہے,جس طرح اللہ تعالی نے ماں باپ کی خدمت واجب و ضروری ہے اور اس کی حکم عدولی پر عذاب ِ الیم کی وعید شدید ہے,جیسا کہ فرمایا: (وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ )(الأحقاف:۱۵))ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا)نیز فرمایا:( وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ )(النساء:۱۳۱)( ترجمہ:اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو)مطلب یہ ہے کہ جس طرح والدین کے ساتھ حسن سلوک ضروری ہے,جس طرح تقوی اختیار کرنا ضروری ہے,اسی طرح اللہ نے مسلمانوں کو میراث کی ادائیگی بھی واجب قرار دیا ہے,نیز یہ وصیت ِ الہی اس بات کی غماز ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے ,کس طرح معدلت گستری کے ساتھ احکامات صادر فرماتا ہے, کہ کسی پر کوئی ظلم و جبر کا ادنی شائبہ نہ ہونے پائے,جس طرح ماں باپ پر حسن سلوک کرنے کا حکم دے کر اپنی رحمت و کرم نوازی کا ثبوت بہم پہنچایا ہے,مردوں کی طرح خواتین کے لئے بھی میراث مقرر کرکے اپنی رحمت و شفقت کی برکھا برسایاہے اور عورتوں پر احسانِ عظیم فرمایا ہے,پھر آپ غور فرمائیں کہ اللہ تعالی نے (أولاد)کہہ کر لڑکا لڑکی کی ساری شاخوں کا ذکر فرمادیا کہ اس میت(مورث)کے سارے بیٹے,بیٹی کے بیٹے ؛بیٹیاں شامل ہوں اور ہر ایک کو ایک قاعدہ کے تحت حصہ ملے اور کوئی چھوٹنے نہ پائے ,پھر اس امر پر آپ غور فرمائیں کہ اللہ تعالی نے میراث کا تذکرہ کرتے ہوئے نو(۹)بار (أولاد)کہا ہے,جس میں (لڑکا اور لڑکی دونوں شامل ہیں,کیوں کہ سب سے قریبی ورثہ یہی اولاد ہیں

(۳) ( لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ ) , (وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ..)اس تعبیر پر بھی آپ غور کریں کہ اللہ تعالی نے لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلہ میں دو حصہ دینے کا تذکرہ فرمایاہے,اور اسلوب وہی اختیار فرمایا ہے جو حج کی فرضیت کے لئے استعمال کیا گیا ہے,حج کے حوالے سے اللہ تعالی نے فرمایا: (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ )(آل عمران:۹۷)(ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے)یعنی جس طرح حج واجب ہے,اسی طرح میراث کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔

(۴)(فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ)اس لفظ (فریضہ)کے تعلق سے شاید کچھ کہنے کی ضرورت نہ ہو,یہاں تو اللہ تعالی نے بالکل صاف لفظ (فریضۃ)کہہ کر واضح کردیا کہ یہ میراث(چاہے لڑکا ہو یا لڑکی )اللہ کی طرف سے فرض ہے,واجب ہے,مقرر کردہ ہے,ٹھیک اسی طرح ادا کرنا ضروری ہے جس طرح نماز ادا کرنا ضروری ہے,بالکل اسی طرح فرض ہے جس طرح روزہ رکھنا فرض ہے,اسی طرح فرض ہے جس طرح زکاۃ دینا فرض ہے وغیرہ وغیرہ ؛اور وہ بھی اللہ کا فرض کردہ قانون ہے,جس کی ادائیگی از بس ضروری ہے,اس کے بغیر کوئی چارہ ٔ کار نہیں ہے

(۵)(وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ)(اس لفظ پر بھی غور کریں اور ٹھیک اس پر بحث یوصیکم اللہ)پر ملاحظہ فرما لیں


(۶)(تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ)(اس لفظ پر غور فرمائیں کہ میراث اللہ کی حدیں ہیں,جن سے کسی بھی طور پر تجاوز نہیں کیا جا سکتا ہے,اس سے تجاوز کرنا کسی بھی طور جائز نہیں ,جیسا کہ کئی مقامات پر اللہ تعالی نے عدم تعدی کو لازم قرار دیا ہے اور حدود تجاوز کرنے سے صاف صاف روکا ہے,(دیکھئے:البقرہ:۱۸۷,۲۲۹,۲۳۰,سورہ النساء:۱۳,الطلاق:۱) اور نبی ٔ کریمﷺ نے بھی فرمایا ہے(إنَّ اللَّه تَعَالَى فَرَضَ فَرائِضَ فَلاَ تُضَيِّعُوهَا، وحدَّ حُدُودًا فَلا تَعْتَدُوهَا، وحَرَّم أشْياءَ فَلا تَنْتَهِكُوها، وَسكَتَ عَنْ أشْياءَ رَحْمةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيانٍ فَلا تَبْحثُوا عَنْهَا) (
[2])(ترجمہ:اللہ تعالی نے کچھ فرض کئے ہیں لہذا انہیں مت کرنا,کچھ حدیں مقرر کی ہیں,تو ان سے تجاوز نہ کرنا,کچھ چیزیں حرام کی ہیں,انہیں پامال نہ کرنا,اور کچھ چیزوں سے بغیر بھولے بسرے سکوت اختیار کیا ہے تو ان کی تلاش میں مت رہنا)


مذکورہ بالا تمام اسالیبِ قرآنی پر آپ غور فرمائیں کہ کس طرح رب کریم نے تاکیدی حکم دیا ہے,اور کس طرح میراث کے معاملے میں ٹال مٹول کرنے والے کو شدید وعید سنائی ہے,جس سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے کہ میراث کا قانون ایک بہت بۃری نعمت ِ ربانی ہے اور اسے ڈکارنا ,اس کا ہڑپ کرجانا بہت بڑا ظلم اور جبر و استبداد ہے۔

vخواتین کو میراث سے محروم کرنے کے اسباب و عللv

جب ہم اپنے گردو نواح کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنے معاشرہ کے احوال و ظروف اور حالات و کوائف پر نظر ڈالتے ہیں تو میراث سے خواتین کو محروم کرنے کے کچھ اسباب و علل سامنے آتے ہیں ورنہ ؎

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی vv یوں ہی کوئی بیوفا نہیں ہوتا

تو آئیے ان سباب و علل پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں:۔

(۱)ایمان کی کمزوری اور یقین کی سستی

بندہ کے اوپر لازم و ضروری ہے کہ اللہ پر ایمان لائے,اور یہ ایمان جس قدر مضبوط اور قوی ہوگا اعمال ِ خیر میں اسی کے بہ قدر مسابقت کا جذبہ پیدا ہوگا,اور اسی کے بہ قدر اسے کارِ خیرکی توفیق بھی نصیب ہوگی,آخرت کے اوپر جتنا یقین ِ کامل ہوگا اتنا ہی بندہ ٔ مؤمن کے قلب و دماغ میں ایمان و ایقان راسخ و ثابت ہوگا,اور جب بندے کے دل میں ایمان کی بادِ بہاری چلتی ہے تو اعمال ِ صالحہ اور کار ِ خیر کی طرف رغبت دَہ چند ہوجاتی ہے,بندہ ہر وہ کام کرنا ضروری خیال کرتا ہے جو اسے اپنے رب سے قریب کردے,جنت کی طرف لے جائے,نارِ جہنم سے نجات کا ذریعہ ہو,اور پھر یہ عمل کرتا چلاجاتا ہے‘اسے کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی ہے اور نہ ہی کوئی حاجز اس کے راستے میں روڑے ڈال سکتی ہے,ٹھیک اس کے بالمقابل جب ایمان کی لَو بندہ ٔ مؤمن کے دل میں مدھم پڑ جاتی ہے,اس کی شمع ٹمٹمانےلگتی ہے, اورایمانی نور کمزور اور ضعیف ہوجاتی ہے تو گوکہ وہ نمازیں خوب پڑھے,روزے خوب رکھے, اور زکاتیں خوب ادا کرے ,مگر حقوق العباد کی ادائیگی کی رسی ڈھیلی پڑ جاتی ہے,اسے حقوق کے ڈکارنے ,حق تلفی کرنے, اور مال ِ حرام ہضم کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی ہے,جو لوگ حق ِ میراث ڈکارنا معیوب نہیں سمجھتے ہیں,در حقیقت ان کے دل میں بھی شمع ایمانی بہت کم باقی رہتی ہے,ایقانی شمع ٹمٹماتی نظر آتی ہے اور میراث کو ایسے ڈکار جاتے ہیں گویا یہ ان کا اپنا حق ہو یا اس میں دوسرے کا کوئی حق ہی نہ ہو

(۲)حرام مال کھانے کی لالچ و طمع اور خواتین کے حقوق کو ڈکارجانے کا قبیح داعیہ


عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ فی زماننا حرام و حلال کی تمیز ختم ہورہی ہے,انسان کی خواہش و کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کمائے اور خوب کمائے,اس کا بینک بیلنس بھرا رہے,چاہے حرام طریقے سے یا حلال طریقے سے ,اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی ,اور نبی ٔ کریمﷺکی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف صادق آتی ہے,جس میں آپﷺنے فرمایاہے(لَيَأْتِيَنَّ علَى النَّاسِ زَمانٌ، لا يُبالِي المَرْءُ بما أخَذَ المالَ، أمِنْ حَلالٍ أمْ مِن حَرامٍ) (
[3]) (ترجمہ:ایک زمانہ ضرور لوگوں پر ایسا آئے گا جس میں انسان کو کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس نے مال حلال طریقے سے حاصل کیا یا حرام طریقے سے)بس وہ مال جمع کرے گا,اپنی جیب بھرنے کی تگ دو میں لگا رہے گا گوکہ حرام طریقے سے ہی سہی,حالانکہ حرام کمانے والا,کھانے والا,کھلانے والا اللہ کی رحمت سے دور رہتا ہے, حتی کہ اس کی دعا تک قبول نہیں ہوتی ,جیسا کہ حدیث میں آتا ہے,لفظ لفظ پر غور فرمائیں(رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ایک ایسے شخص کا تذکرہ فرمایا(نقشہ کھنچا) جو کہ لمبا سفر کر کے بیت اللہ کی زیارت کے لیے آیا۔ اس کے سر کے بال گرد و غبار سے اَٹے ہوئے تھے اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا :((… یَارَبِّ یَارَبِّ وَمَطْعَمُہ حَرَام وَمَشْرَبُہ حَرَام وَمَلْبَسُہ حَرَام وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ) ([4]) (ترجمہ: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے 'اس کا پینا حرام کاہے 'اس کا لباس حرام کا ہے اور حرام مال اس کی غذا ہے تو اس کی دعا کہاں سے قبول کی جائے گی)اللہ اکبر! ذرا غور فرمائیں قبولیت ِ دعا کے سارے عناصر موجود ہیں,لمبا سفر ہے,خانہ ٔ کعبہ پر حاضری ہے,ہاتھ اٹھائے دعائیں کر رہا ہے,ربنا ربنا کی صدائیں لگاکر مانگ رہا ہے,گردو غبار سے اٹا ہوا ہے, اور پراگندہ بال ہے,مگر ایک چیز ایسی ہے جو قبولیت ِ دعا کے لئے مانع ثابت ہورہی ہے,اور وہ ہے ((حرام کھانا,حرام پینا,حرام طریقے سے پرورش و پرداخت))اور دعا رد کر دی جا رہی ہے,اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ میراث ڈکارنے والے کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی,اس کی عبادت اس کے چہرے پر مار دی جاتی ہے(اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے)


(۳)جاہلی رسم و رواج کی تقلید

سچ پوچھئے تو آج ہم جس دور پر فتن میں سانس لے رہے ہیں ,اسے اگر جدید جاہلی دور سے معنون کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا ,جاہلیت کے وہ جاہلی اعمال و افعال جن کی بیخ کنی اور قلع قمع کے لئے رسول ِ رحمتﷺکو مبعوث کیا گیا تھا,پھر عود کر آیا ہے,اور شاعر کی زبان میں ؎ پنبہ کجا کجا نہم تن ہمہ داغ داغ شد

والی بات صادق آتی ہے, آج کا انسان جوتہذیب یافتہ اور روشن خیال ہونے کا دعویدارہے، دم بھرتا ہے,مادی ترقی میں زمینوں کو تہہ وبالا کرنے کے بعد آسمانوں کی تسخیر کے خواب دیکھ رہا ہے، اس کے لئے تدبیریں کرتا پھرتا ہے؛لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنی زیادہ تسخیر کائنات ہوتی جارہی ہے، انسان اتناہی زمانۂ جاہلیت کے قریب سے قریب ترہوتا جارہا ہے۔جاہلیت کی تہذیب وتمد ن کو روشن خیالی اور ترقی کا جامہ پہنا کر اپنایا جارہا،اس پر فخر بھی محسوس کیا جا رہا ہے, زمانہ جاہلیت میں لوگ جس طرح کفر وشرک میں مبتلا تھے،طرح طرح کی ظالمانہ و سفاکانہ رسوم و رواج کا چلن تھا،غلاموں پر بے جاتشدد کرنا،لڑکیوں کو زندہ در گورکرنا، ان کے مال ڈکارجانا,یتیموں اور بیواؤں کامال ہڑپ کرجانا،اورعورتوں کو ان کے جائزحقوق سے بھی محروم کرناعام بات تھی،اسی طرح آج بھی خواتین کے مال کو ہڑپ کرنا جانا,ڈکار جانا,ان پر ظلم کرنا,انہیں ستانا,ان پر تشدد روا رکھنا ایک معمول سا بن گیا ہے۔إلا من رحم ربی۔(اللہ ہم سب پر رحم فرمائے)

جس طرح زمانہ ٔ جاہلیت میں عورتوں کے ساتھ برتاؤ کیا جاتا تھا, آج اس سے کہیں بھیانک صورت حال بنتی دکھائی دے رہی ہے,ان پر ظلم و ستم,جبر و استبداد اور جور و قہر اپنے شباب پرہے,ان کی توہین و تنقیص اوج ثریا تک جا پہنچی ہے,ان کے حقوق ڈکار جانا,ان کے اموال ناجائز طریقے سے کھاجانا ,ان کی جائدادیں ہڑپ کرجانا ایک عام سی بات ہوگئی ہے ۔

دورِ جاہلیت میں عورتوں کو میراث سے یکسر محروم کردیا جاتا تھا,بلکہ یہ تصور ہی نہیں تھا کہ عورتوں کو بھی ترکہ میں حق بنتا ہے,آج بعینہ وہ تصور ِبد عود کرآیا ہے کہ عورتوں کا کون سا حق ہے؟میراث میں انہیں کیوں کر حقدار بنایا جائے ؟کیسے انہیں حق دیا جائے؟حالانکہ آیاتِ میراث کے شان ِ نزول پر غور کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں ان حضرات کو پھٹکار لگائی گئی ہے جو خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر دیتے تھے ,ملاحظہ فرمائیں:


(ألف)(يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٌ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا)کی شان ِ نزول پر تامل فرمائیں:(حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار تھا (مرض الوفات) چنانچہ نبی کریم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میں کچھ سمجھ نہیں پارہا تھا، مجھے افاقہ نہیں تھا، تو آپ ﷺنے پانی منگاکر اس سے وضو فرمایا اور پھر بقیہ پانی سے میرے اوپر چھینٹیں ماریں تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! میں اپنے مال کا کیا کرو، تو اس وقت یہ آیت کریمہ شروع سے نازل ہوئی) (
[5])(اس آیتِ کریمہ کی ایک اور شان نزول بیان کی جاتی ہے,چنانچہ(حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ربیع۔رضی اللہ عنہ۔ کی بیوی اپنی دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کی:اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہ سعد کی بیٹیاں ہیں جو غزوۂ احد میں آپ کے ساتھ شہید ہوگئے۔اب ان(بیٹیوں) کے چچا نے سارامال خود ہی لےلیا ہے۔مال کے بغیر ان کی شادی کیسے ہوگی؟آپ نے فرمایا:"اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل کرے گا ،پھر آیت میراث:(يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ) نازل ہوئی۔رسول اللہ ﷺنےان کے چچا کو بلوایا اور فرمایا:"سعد (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی ان دونوں بیٹیوں کو ترکہ کی دو تہائی دو اور ان کی والدہ(سعد کی بیوہ) کو آٹھواں حصہ ادا کرو پھر جو باقی بچے گا وہ تمہارا ہے) ([6])


(ب)( لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا)(ترجمہ: ماں باپ اور خویش واقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور خویش واقارب چھوڑ مریں) خواه وه مال کم ہو یا زیاده (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے)حافظ صلاح الدین یوسف اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:(اسلام سے قبل ایک یہ ظلم بھی روا رکھا جاتا تھا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا اور صرف بڑے لڑکے جو لڑنے کے قابل ہوتے، سارے مال کے وارث قرار پاتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مردوں کی طرح عورتیں اور بچے بچیاں اپنے والدین اور اقارب کے مال میں حصہ دار ہوں گی، انہیں محروم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصے سے نصف ہے (جیسا کہ آیات کے بعد مذکور ہے) یہ عورت پر ظلم نہیں ہے نہ اس کا استخفاف ہے بلکہ اسلام کا یہ قانون میراث عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ عورت کو اسلام نے معاش کی ذمہ داری سے فارغ رکھا ہے اور مرد کو اس کاکفیل بنایا ہے۔ علاوہ ازیں عورت کے پاس مہر کی صورت میں مال آتا ہے جو ایک مرد ہی اسے ادا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے عورت کے مقابلے میں مرد پر کئی گنا زیادہ مالی ذمہ داریاں ہیں۔ اس لئے اگر عورت کا حصہ نصف کے بجائے مرد کے برابر ہوتا تو یہ مرد پر ظلم ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی پر بھی ظلم نہیں کیا ہے کیونکہ وہ عادل بھی ہے اور حکیم بھی) (
[7])(اس آیت کے شان نزول کے متعلق علامہ قرطبی تحریر فرماتے ہیں:( حضرت اوس بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے پس ماندگان میں اپنی اہلیہ(بیوہ) ام کُجّہ اور تین بیٹیاں چھوڑیں،حضرت اوس بن ثابت کے چچازاد بھائی سوید اور عرفجہ جو ان کے وصی بھی تھے، انھوں نے سارامال خود لے لیا اور ام کجہ اور حضرت اوس رضی اللہ عنہ کی بیٹیوں کو جائیداد میں حصے سے محروم کر دیا،(ترکہ میں سے کچھ بھی نہیں دیا بلکہ میراث کو ڈکارنے کی کوشش کی)‘چنانچہ ام کجہ نبی ٔ کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور سارا ماجرا عرض کیا، چنانچہ آپﷺنے فرمایا: اپنے مکان لوٹ جاؤ ،جب تک اللہ کی طرف سے کوئی فیصلہ نہ آئے تم صبر کرو، اس پراللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔)([8])


(ج) (يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ)(ترجمہ گزر چکا ہے)کی شان نزول پر بھی تامل فرمالیں (حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیمار تھے تو نبی ٔ کریمﷺ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی عیاد ت کے لئے تشریف لائے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ بےہوش تھے، نبی ٔ اکرمﷺ نے وضو فرما کراس کا پانی اُن پر ڈالا توانہیں اِفاقہ ہوا (آنکھ کھول کر دیکھا تونبیٔ اکرم ﷺ تشریف فرما تھے)۔ عرض کیا، یارسولَ اللہ!ﷺ، میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی) (
[9])


کلالہ اور اس بابت احکام کے بارے میں کے بارے میں حافظ صلاح الدین یوسف۔رحمہ اللہ۔ فرماتے ہیں:( كَلالَةٌ“ کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے کہ اس مرنے والے کو کہا جاتا ہے جس کا باپ ہو نہ بیٹا۔ یہاں پھر اس کی میراث کا ذکر ہو رہا ہے۔ بعض لوگوں نے کلالہ اس شخص کو قرار دیا ہے جس کا صرف بیٹا نہ ہو۔ یعنی باپ موجود ہو، لیکن یہ صحیح نہیں۔ کلالہ کی پہلی تعریف ہی صحیح ہے۔ کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن سرے سے وارث ہی نہیں ہوتی۔ باپ اس کے حق میں حاجب بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر اس کی بہن ہو تو وہ اس کے نصف مال کی وارث ہوگی۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ وہ ہے کہ بیٹے کے ساتھ جس کا باپ بھی نہ ہو۔ یوں بیٹے کی نفی تو نص سے ثابت ہے اور باپ کی نفی اشارۃ النص سے ثابت ہو جاتی ہے۔(
[10])


(۴)آخرت سے بیزاری اور دین سے دوری

میراث ڈکارنے کی ایک وجہ آخرت سے بیزاری اور دین سے دوری بھی ہے,حالانکہ قرآن ِ کریم کی مکی سورتوں پر آپ غور فرمائیں ,آپ کو پتہ چلے گا کہ قرآن ِ کریم نے فکر آخرت پر انتہائی شد و مد کے ساتھ زور دیا ہے کیوں کہ کفارِ مکہ کو آخرت پر یقین ہی نہیں تھا,انہیں مرنے کے بعد دو بارہ اٹھایاجانا محال لگتا تھا,اسی لئے وہ اللہ پر بھی ایمان نہیں لاتے تھے,اللہ تعالی نے کئی مقامات پر ان کے اس غلط سوچ کی تردید فرمائی ہے,فرمایا:( اَوَلَمْ یَرَ الْاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنۡ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ  وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ ھِیَ رَمِیۡمٌ  قُلْ یُحْیِیۡھَا الَّذِیِٓ اَنۡشَاَھَاۤاَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ وَ ھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیۡمٌ)(یس:۷۷،۷۸،۷۹)(ترجمہ: کیا آدمی نہیں جانتا کہ ہم نے اسے منی کے ایک قطرے سے بنایا ہے پھر وہ کھلم کھلا دشمن بن کر جھگڑنے لگا۔ اور ہماری نسبت باتیں بنانے لگا اور اپنا پیدا ہونا بھول گیا، کہنے لگا بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے۔ کہہ دو انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ سب کچھ بنانا جانتا ہے)(اس طرح کی بیشتر آیات قرآن کریم میں موجود ہے)

اللہ اورآخرت کے تصور کے بغیر نہ اسلامی معاشرے تخلیق پا سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل انصاف کا تصور وجود میں آسکتا ہے, دنیا کا کوئی قانون اس دنیا میں ہونے والے جرائم پر مکمل انصاف فراہم کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا,اگر اسلامی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ,آخرت کی فکر سے بے خوف ہوکر انسان زندگی گزارنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ فکری کجی وہیں سے شروع ہوتی ہے,جب معاشرے فکر آخرت سے عاری ہوتے ہیں تو وہیں سے ظلم کی انتہا ہونے لگتی ہے اور ایسا لا متناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ ہضم حقوق اور ظلم ِ صریح تک معاملہ جا پہنچتا ہے,یہی ہوا میراث کے ڈکارنے والوں کے ساتھ ,انہوں نے جب دین رشتہ توڑا,آخرت سے علاقہ کاٹا,اور ان سےاسلام بیزاری کا صدور ہونے لگا تو نفاذ میراث ایک مہمل سا لفظ ہوگیا۔

ہمارے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ قانون الہٰی ہر دور کیلئے یکساں معیارِ ہدایت ہے اور ہر دور کے تقاضوں کی رعایت اس میں ملحوظ ہے۔متلاشیٔ حق، عمر اور منزل کے جس موڑ پربھی ہو ، قرآن مکمل طور پر اس کی ر ہنمائی کرتا ہے ۔ سائنسی ایجادات اور جدید ٹکنالوجی عروج کے جس نقطہ پر بھی ہو،مسائل اور مشکلات کا وہ ایسا حل بتاتا ہے کہ محسوس ہوتا ہے ، شاید اسی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے قرآن نازل کیاگیا ہے اور اسی مسئلہ کا حل قرآن کے نازل کئے جانے کا اہم مقصد ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نزول قرآن پر چودہ صدی سے زا ئد عر صہ گزرجانے کے باوجود آج تک اس میں تابانی ،روحانیت,ضو فشانی,اور انقلابی تاثیر موجود ہے ,جس کا اعتراف اپنوں نے بھی کیا ہے اور غیروں نے بھی۔

(۵)جہیز کا حوالہ

میراث ڈکارنے والے جب میراث ڈکارتےہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے بیٹی یا بہن کو جہیز میں اتنا اور فلاں فلاں سامان دیا ہے ,اتنا خرچ کیا اور اس قدر اس کی شادی میں صرف کیا,اس سلسلہ میں عرض ہے کہ:

(الف)جہیز کی شناعت و قباحت معلوم و مشہور ہے,اسے میراث سے قطعی طور پر جوڑ نہیں دیکھا جا سکتا ہے,حالانکہ اس روشن دور میں بھی کچھ حضرات جہیز کو میراث ہڑپ کرنے کے لئے وجہ ِ جواز مان رہے ہیں,جو قطعی اور لا ریب بے بنیاد اور غلط بات ہے۔

(ب)جہیز حرام ہے اور ایک ہندوانہ رسم ہے اور ہندوستانی معاشرہ کا ایک مہلک ناسور ہے,جس سے آپسی ہمدردی,باہمی محبت و پیار,بھائی چارگی,الفت و انس کو چاٹ جاتا ہے اور دیمک کی طرح کھاجاتا ہے, اور میراث واجب اور فرض ہے جس کے لئے قرآن نے انتہائی واضح لفظوں میں وجوب کا حکم دیا ہے,اور اس کا معاملہ عائلی نظام پر ہے۔

(ج)جہیز لینے والا ایک غیر مہذب فقیر کی طرح بھیک مانگتا ہے,لڑکی والے کی جیب پر ڈاکہ ڈالتا ہے ,جبکہ میراث کو رب تعالی نے واجب قرار دیا ہے,اس لئے لڑکی کو مانگنے کی ضرورت نہیں ہے,بلکہ اسے بغیر مانگنا دینا ضروری ہے,جبکہ صورت حال یہ ہے کہ اس میراث پر بھی ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں اور بہیترے لوگ اپنا ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔

(ھ)جہیز لینے والا,معاشرہ کا ظالم ہوتا ہے ,جبکہ میراث کو ڈکارنے والا اللہ کے نزدیک ایک مجرم ,ظالم اور بدمعاش انسان قرار پاتا ہے

لہذا جہیز کا حوالہ دے کر میراث کو ہڑپ کرجانا,اسے ڈکار جانا قطعی طور پر درست نہیں ہوگا

(و)یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر لڑکیوں کو کچھ جہیز دے کر بہانہ بنا لیا جاتا ہے تو کیا لڑکوں کے پیچھے خرچ نہیں ہوتا؟کیا ان کی زیب و زینت کے لئے, ان کی خواہشات کی تکمیل میں مال صرف نہیں کیا جاتا ہے ,بلا شبہ کیا جاتا ہے تو پھر لڑکیوں کو میراث میں حق دینے کے وقت یہ بہانہ اور حیلہ کیوں تراشا جاتا ہے؟

(۶)دوسروں کے مال کو ناجائز طور پر کھانے کی سزا سے بے خبری


دوسروں کے مال کو نا حق کھاجانا انتہائی قبیح فعل اور شنیع عمل ہے, چاہے وہ یتیموں کا مال ہو یا غریبوں کا ,وہ مال خواتین کا ہو یا میراث کے قانون کا ,جس سے روزہ نماز کرکے بھی جہنم رسید ہوگا,جیسا کہ نبی ٔ کریمﷺنے فرمایا:( أَتَدرونَ مَنِ المُفلِسُ؟ قالوا: المُفلِسُ فينا يا رسولَ اللهِ مَن لا دِرْهَمَ له ولا مَتاعَ، قال: المُفلِسُ مِن أُمَّتي يومَ القِيامةِ مَن يأتي بصلاةٍ وصيامٍ وزكاةٍ، ويأتي قد شتَمَ عِرْضَ هذا، وقذَفَ هذا، وأكَلَ مالَ هذا، وضرَبَ هذا، فيُقعَدُ فيَقتَصُّ هذا مِن حَسناتِه، وهذا مِن حَسناتِه، فإنْ فنِيَتْ حَسناتُه قبلَ أنْ يُقضى ما عليه، أُخِذَ مِن خطاياهم، فطُرِحَ عليه، ثمَّ طُرِحَ في النّارِ) (
[11])(ترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ دیوالیہ اور مفلس کون ہے؟لوگوں(صحابہ) نے کہا’’ مفلس ہمارے یہاں وہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس اور دیوالیہ وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز،روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ اللہ کے پاس حاضر ہوگا اور اسی کے ساتھ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی،کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا(ناحق)مال کھایا ہوگا، کسی کو(ناحق)قتل کیا ہوگا، کسی کو ناحق مارا ہوگا تو ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور مظلوم کے حقوق باقی رہے تو ان کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی اور پھر اسے جہنم میں گھسیٹ کر پھینک دیا جائے گا) اللہ اکبر! حدیث ِ پاک کا لفظ لفظ ہمیں دعوت ِ تامل دے رہا ہے, ذرا تامل کریں اور میراث ڈکارنے والے اس حدیث پر غور فرمائیں کہ انسان نماز ,روزہ و دیگر عبادتیں کرکے بھی حرام مال کھانے,لوگوں کے مال ہڑپ کرجانے,دوسروں کی جائیداد ہتھیانے کی بنیاد پر واصل ِ جہنم ہورہا ہے اور انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ جہنم میں پھینکا جا رہا ہے (اللہ ہم سب کو بچائے)


(۷)احکام ِ میراث سے لا علمی

احکام میراث سے لا علمی اور جہالت بھی میراث ڈکارنے کا اک سبب ہے,آج کے اس دور ِ روشن میں بھی بہت کم لوگ ایسے ملیں گے کہ انہیں میراث کے احکامات کا علم ہو,جس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے متعلق پوچھنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں,نتیجتا لوگوں کے پاس معلومات بھی بہت کم ہوتی ہے,اور عدم جانکاری کی وجہ سے میراث اور خواتین کے حقوق کو بھی ہڑپ کر لیا جاتا ہے,ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو معلوم ہی نہ ہو کہ میراث میں خواتین کے حقوق بھی متعین ہیں اور انہیں بھی دینا ہے,فیا أسفاہ۔

(۸)موروثی جائیداد کے ٹکڑے نہ ہونے کی خواہش

کچھ لوگ اس لئے بھی میراث تقسیم نہیں کرتے کہ جو جائیداد ہے اس کے ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوجائیں ؛مال تتر بتر نہ ہوجائے ,اس لئے وہ ترکہ سارا کا سارا اپنے پاس ہی رکھ لیتے ہیں

(۹)قطع تعلق کے خوف سے عورتوں کا اپنے حق سے دست بردار ہوجانا

ہمارے معاشرے کی بد نصیبی یہ بھی ہے کہ خواتین میں ایک خوف یہ بھی بھر دیا جاتا ہے یا خود ان کے ذہن میں یہ بھوت سوار ہوجاتا ہے کہ اگر میراث لے لیا گیا تو پھر ہمارا رشتہ اپنے بھائیوں سے کٹ جائے گا,ہم اپنے گھر نہیں آسکتے,کبھی کبھار یہ بات کہہ بھی دی جاتی ہے کہ اگر تم نے میراث کا مطالبہ کیا تو اس گھر میں دوبارہ نہیں آنا,تمہارے لئے یہاں کوئی جگہ باقی نہیں بچے گی,نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خواتین اپنے حق سے دستبرداری کا اعلان کردیتی ہیں کہ ہم کو کچھ نہیں چاہئے,تم لوگ اپنا تقسیم کر لو,سال میں ایک دو بار مجھے کپڑے وغیرہ دے دینا وغیرہ وغیرہ (ایسے کئی واقعات میں خود جانتا ہوں,جن میں خواتین خود لینے سے انکاری ہوتی ہیں,اس خوف سے کہ ہمارا تعلق اس گھر سے نہ ختم ہوجائے)حالانکہ یہ پرلے درجے کی گھٹیا سوچ ہے,طرفین کو اسلامی تعلیمات کے حصول کی ضرورت ہے,اس طرح یہ بھی ضروری ہے کہ علمائے اسلام اس جانب بھی شعور و بیداری لائیں اور عوام الناس کو سمجھائیں بجھائیں اور صحیح اسلامی رخ بتائیں ۔


حالانکہ آپ تامل فرمائیں مذکورہ واقعات میں حضرت ام کجہ(حضرت اوس کی بیوی) نے مطالبہ کیا,حضرت سعد کی بیوی نے مانگ کر لیا,نبی ٔ کریمﷺکی خدمت میں شکایت لے کر حاضر ہوگئیں اور تو اور حضرت فاطمہ ۔رضی اللہ عنہا۔نے رسول اللہ ﷺکی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق۔رضی اللہ عنہ۔سے میراث کا مطالبہ کردیا کہ آپﷺکی وفات ہوگئی ہے,اس میں سے مجھے بھی دیا جائے,جیسا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں,( أَنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا، مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» . . .“) (
[12]),چنانچہ حضرت ابو بکر۔رضی اللہ عنہ۔نے فرمایا کہ رسول اللہﷺخود فرما گئے ہیں:( ہماری میراث نہیں ہوتی۔ ہم (انبیاء ) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔۔۔۔)


(۹)عورتوں کا اپنے حق کو مانگنے سے شرمانا

ہمارے معاشرہ میں ایسی بھی خواتین ہوتی ہیں جو اپنے حق کو مانگنے میں جھجک محسوس کرتی ہیں,حالانکہ یہ (میراث)تو اللہ اور اس کے رسولﷺکا دیا ہوا حق ہے,اس میں شرمندگی کی کوئی بات ہی نہیں ہے

نفاذ ِمیراث کے فوائد و برکات

یہ بات بلا چون و چرا کہی جاسکتی ہے کہ اسلام کے جملہ احکامات و تعلیمات کے عمل در آمد میں فائدے ہی فائدے ہیں,اس سے دنیا میں بھی انسان فائدہ حاصل کرتا ہے اور آخرت میں بھی سرخ رو ہوتا ہے ,نفاذ میراث کے بھی بیشمار فوائد و برکات ہیں,کچھ دنیوی ہیں اور کچھ اخروی ,انتہائی اختصار کے ساتھ بعض فوائد و برکات کا تذکرہ فائدہ سے خالی نہ ہوگا

(۱) خواتین کے مالی استحکام کا ذریعہ

اسلام نے ہمیشہ مردوں کی طرح خواتین کا بھی خاطر خواہ خیال رکھا ہے,تاکہ اسے بھی در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانا پڑے,اسی لئے وجوبی طور پر اللہ تعالی نے کبھی شوہر پر تو کبھی باپ کے ترکہ میں اسے قواعد و اصول کی بنیاد پر حق دار ٹھہرایا ہے,اور اسی لئے میراث میں عورتوں کا حصہ بھی مقرر فرمایا(جس کی تفصیل گزشتہ صفحات میں آپ پڑھ آئے ہیں)تاکہ عورت مالی طور پر مضبوط رہے

(۲)رشتہ داروں میں احترام و تکریم

ایک خاتون جب اپنے سسرال جاتی ہے تو اسے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے,کئی طرح کے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں,کبھی کبھی گالی گلوج بھی برداشت کرنا پڑتا ہے,اگر ظالم سسرال سے سابقہ پڑ گیا تو مار پیٹ تک کی نوبت بھی آجاتی ہے,کبھی ساس کے طعنے تو کبھی سسر کی گالی,کبھی شوہر کی مار پیٹ تو کبھی نند وغیرہ کی تشنیع سے سابقہ پڑتا رہتا ہے(جو ہمارے معاشرہ کی ظالمانہ تلخ حقیقت ہے)جس کے نتیجے میں کبھی اور بعض لڑکیاں خود کشی وغیرہ جیسے حرام کام کے ارتکاب کو بھی گلے لگاکر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں,کبھی سمندر میں کود کر اپنی جان گنوا بیٹھتی ہیں تو کبھی دوسرے وسائل اختیار کرکے اپنے ماں باپ کو سکون پہنچانے کی خاطر ایسے اعمال کرلیتی ہیں جن کی اجازت اسلام کبھی نہیں دیتا (ایسی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں,جنہیں پڑھ سن کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے اور ایک شریف انسان کے ماتھے میں سردی کے دنوں میں پسینہ آجاتا ہے)

اگر میراث تقسیم ہونے لگے اور درست طریقے پر نفاذ ہوجائے تو بلاشبہ خواتین خود کفیل بھی ہوجائیں گی اور رشتہ داروں میں اس کا ایک مقام ہوگا,اس کی عزت و تکریم بھی ہوگی اور اس کا احترام بھی کیا جائے کیوں کہ آج ہم جس معاشرہ میں جیتے ہیں بدقسمتی سے مال و دولت کے ہوس کا شکار ہوچکا ہے ؎

جس کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے vvاس کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

(۳)اطاعت الہی اور اطاعت نبوی

انتہائی واضح طور پر آیات میراث کے بیچ قرآن ِ کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:( وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)(النساء:۱۳)( :۱۳)(ترجمہ: یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے)چنانچہ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ اللہ کریم نے کس طرح آیات میراث کے وسط میں اس اطاعت(ربانی و نبوی)کا تذکرہ فرمایا ہے جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ نفاذ میراث الہی اور اس کے رسولﷺکی اطاعت و فرمان برادری کا نام ہے,بالفاظ دیگر آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسولﷺکی فرماں برداری کا جس قدر جذبہ ٔ فراواں ہوگا وہ اسی کے بہ قدر نفاذِ میراث میں پہل کرے گا,بلکہ تابعدارانِ کتاب و سنت کبھی بھی اس میں سستی کریں گے نہ تغافل

(۴)حصول جنت اور دخول بہشت اور اس میں ہمیشہ رہنے کی بشارت

جو لوگ میراث کو کما حقہ ادا کرتے ہیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے (ملاحظہ فرمائیں مذکورہ بالا آیت)

(۵)رشتہ ٔ نکاح میں دوام و ثبات

کبھی کبھار (بلکہ اکثر)مال و دولت کی حرص و آز رکھنے والے اپنے ان بہؤوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتے ہیں,ان پر جبر و استبداد روا رکھتے ہیں,جس کے بھیانک نتائج اور خطرناک عواقب سامنے آتے ہیں؛اور آئے دن ان ظالمانہ رویوں کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی دکھائی دیتی ہیں,اور کتنی ہی حوا زادیاں ان ظالموں کی مجرمانہ بھینٹ چڑھ جاتی ہیں, یہاں تک کہ طلاق کی نوبت تک معاملہ جا پہنچتا ہے,رشتے ٹوٹ جاتے ہیں,یا کم از کم رشتوں میں کھٹاس ضرور پیدا ہوجاتی ہے, اور تعلقات بکھر جاتے ہیں,اس کے بر عکس جب میراث کی تقسیم ہوگی,اس میں خواتین(لڑکیوں )کو حصہ مل جائے گا تو نہ یہ کہ رشتے مضبوط ہوں گے,بلکہ رشتوں کو دوام و ثبات نصیب ہوگا اور کسی بھیڑیا صفت انسان کو حوا زادیوں کی طرف غلط نگاہ اٹھانے اور انہیں برا بھلا کہنے کی جرات و ہمت نہیں ہوگی

(۶)خواتین کی نفسیاتی تسکین اور خود اعتمادی

عورت بنیادی طور پر کمزور پیدا ہوئی ہے,اور بہت جلد نفسیات کا شکار ہوجاتی ہے,اپنے آپ کو غیر بھروسہ مند خیال کرنا,پست ہمت ہوجانا,حالات سے مقابلہ نہ کرپانا,احوال و ظروف کے سامنے سپر ڈال دینا,یہ اور ان جیسے کئی امور ایسے ہیں جن سے خواتین جوجھتی رہتی ہیں,اگر میراث کا نفاذ ہوجائے تو خواتین کو نفسیاتی طور پر سکون ملے گا,اطمینان حاصل ہوگا,حالات کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ مل سکے گا اور خود اعتمادی پیدا ہوگی جو بذات خود بہت بڑی دولت و نعمت ہے,جس سے بہت کم لوگ سرشار ہوتے ہیں۔

میراث کے عدم نفاذ کے نقصانات​

میراث کا عدم نفاذ :۔

(۱)اللہ تعالی اور رسول اللہﷺکی معصیت کا ارتکاب ہے

یہ بات کہنے اور لکھنے میں مجھے کوئی تامل نہیں کہ میراث کا تقسیم نہ کرنا اللہ تعالی اور رسول ِ گرامیﷺکی اعلانیہ معصیت ہے,رسول اللہﷺکے حکم سے سرتابی اور سرکشی ہے,اوراللہ تعالی کے متعین کردہ حدود سے تجاوز کرنا ہے ,جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایاہے: (وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ )(النساء:۱۴)(ترجمہ: اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿ﷺ﴾ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے)

) (۲)جہنم میں جانے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا سبب ہے

پھر آپ اس امر پر بھی غور فرمائیں کہ میراث نہ دینے والوں کو اللہ تعالی جہنم میں تو داخل کرے گا,وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا اور ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور ہوگا(اللہ ہم سبھوں کو اس سے بچائے)

(۳)ظالم و جابر کی فہرست میں شمار

میراث میں اپنی بہن بیٹیوں کو حق نہ دینے والے,ان کے حقوق ہڑپنے والے,ان کے حقوق ڈکارنے والے انتہا قسم کے ظالم ہیں,جو ان کے مال پر ڈاکا ڈال کر ظلم و جبر کرتے ہیں,جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: (إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْماً إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَاراً وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيراً)(النساء:۱۰)(ترجمہ:بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں، اور عنقریب آگ میں داخل ہوں گے)یہاں پر غور فرمائیں کہ اللہ تعالی نے یتیموں کے مال کو ہڑپ کرجا نا,ڈکار جانا ان کو میراث سے محروم کردینا ,ان کی جائیداد سے انہیں بے دخل کردینا ایک صریح ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے گویا کہ وہ اپنے پیٹ میں آگ کے انگارے ڈال رہا ہو


بلاشبہ میراث کو نافذ نہ کرنا,اسے ڈکار جانا سراسر ظلم و جبرہے,انتہا قسم کا جبر و تشدد ہے,اور مستحق کے مال کا ہڑپ کرجانا ہے,کیوں کہ میراث کی ادائیگی کا صاف حکم نبی ٔ کریمﷺنےبھی دیا ہے,فرمایا:(أَلْحِقُوا الفَرائِضَ بأَهْلِها، فَما بَقِيَ فَهو لأوْلى رَجُلٍ ذَكَرٍ) (
[13])(ترجمہ:میراث اس کے حق دراروں تک پہنچا دو,اور جو کچھ باقی بچے وہ سب سے زیادہ قریبی عزیز مرد کا حصہ ہے)نیز فرمایا: (“أقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلٰی كِتَابِ اللہ”) ([14])(ترجمہ: مال کو حصے داروں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کرو)


اور جو کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہﷺکی روشنی میں حق داروں تک میراث نہ پہنچائے,ان میں تقسیم نہ کرے تو وہ ظالم ہے,اور ظلم یوم ِ قیامت تاریکیاں ہی تاریکیاں ہیں,جیسا کہ نبی ٔ کریمﷺنے فرمایا:( اتَّقوا الظُّلمَ، فإنَّ الظُّلمَ ظُلُماتٌ يومَ القيامةِ) (
[15]) (ترجمہ:ظلم سے بچتے رہو,کیوں کہ ظلم روزِ قیامت تاریکیاں ہی تاریکیاں ہیں) نیز نبی ٔ کریمﷺکی اس وعید شدید پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے جس میں آپﷺنے ایک بالشت زمین ظلم و زیادتی سے لینے پر ستر سال تک کی لگام پہنائے جانے کی وعید سنائی ہے,فرمایا: (مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الأرْضِ ظُلْمًا، طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيّاهُ يَومَ القِيامَةِ مِن سَبْعِ أَرَضِينَ) ([16])(ترجمہ:جس نے زمین میں سے کچھ بھی ظلم کیا اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں کا طوق پہنا دے گا")نیز نبی ٔ کریمﷺ فرمایا:( لا يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنَ الأرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ، إِلّا طَوَّقَهُ اللَّهُ إلى سَبْعِ أَرَضِينَ يَومَ القِيامَةِ) ([17])(ترجمہ: جو شخص کسی کی بالشت برابر زمین ظلم سے لے لے گا تو قیامت کے دن اس کو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔)نیز فرمایا:( من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين ) ([18])(ترجمہ: جس شخص نے زمین میں سے کچھ بھی ناحق لیا تو اسے قیامت والے دن اس کے بدلے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔)


(۴)بے رحمی و قساوت ِ قلبی کو فروغ

میراث ڈکارنے والا معاشرے میں بے رحمی ,قساوت ِ قلبی,سخت دلی کو فروغ دیتا ہے,ہمدردی اور محبت کے سارے اصولوں کو پاؤں تلے روندتا ہے,اور الفت و پیار کے ماحول کو مکدر کردیتا ہے

(۵)میراث سے محروم کرنا رشتہ داروں سے قطع تعلق کا ایک مظہر

رشتہ داروں سے حسن سلوک پر اسلام نے انتہائی شد و مد کے ساتھ زور دیا ہے,اور قطع تعلق کو نہ صرف حرام قرار دیا ہے,بلکہ اسے موجبِ لعنت ِ الہی,اوردخول جہنم کا سبب قرار دیا ہے؛فرمان ِ باری تعالی ہے(وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ اللّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُوْلَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ)(الرعد:۲۵)ترجمہ: اور جو لوگ اﷲ کا عہد اس کے مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تمام (رشتوں اور حقوق) کو قطع کر دیتے ہیں جن کے جوڑے رکھنے کا اﷲ نے حکم فرمایا ہے اور زمین میں فساد انگیزی کرتے ہیں انہی لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے)اسی پر بس نہیں بلکہ قطع تعلق کو فساد فی الأرض جیسے گھناؤنے جرم کے ساتھ ذکر فرماکر منافقین کی علامت قرار دیا ہے,فرمایا:(فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ)(محمد:۲۲)ترجمہ: پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اﷲ اور اس کے رسول ﷺ نے مواصلت اور مودت کا حکم دیا ہے)


اسی لئے نبی ٔ کریمﷺنے رشتہ داریاں نبھانے کا حکم دیا ہے اور رشتے کاٹنے یا اس کے اسباب اختیار کرنے پر شدید وعید سنائی ہے,فرمایا: (وأبغضُ الأعمالِ إلى اللهِ الإشراكُ باللهِ ثم قطيعةُ الرَّحِمِ) (
[19])(ترجمہ: اوراللہ کے نزدیک سب سے بُرا عمل رب کائنات کے ساتھ شرک کرنا، پھر رشتہ داری کاٹنا ہے)نیز آپﷺنے فرمایا: (ما من ذنبٌ أجدرُ أن يُعجِّلَ اللهُ لصاحبِه العقوبةَ في الدنيا مع ما يدَّخِرُ له في الآخرةِ من البغيِ وقطيعةِ الرحمِ) ([20])(ترجمہ: کوئی گناہ ایسا نہیں کہ اس کا کرنے والا دنیا میں ہی اس کا زیادہ سزا وار ہو اور آخرت میں بھی یہ سزا اسے ملے گی سوائے ظلم اور رشتہ کاٹنے کے)مطلب رشتہ داریاں کاٹنے والے کو دنی میں بھی سزا ملے گی اور آخرت میں بھی وہ عذاب ِ الہی سے دو چار ہوگا)


جبکہ آج ہمارے معاشرہ میں یہ سماجی قہر ایک وبا بن کر ناسور بنتی جا رہی ہے اور گھن کی طرح معاشرہ کو کھوکھلا کر رہی ہے,میراث سے لڑکیوں کو محروم کرنے والا در حقیقت رشتہ داریاں کاٹتا ہے,قطع ِ تعلق کرتا ہے,جس سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔

خلاصہ ٔ کلام:۔

مذکورہ بالا سطور سے یہ بات دو دو چار کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے میراث میں عورتوں کے حقوق متعین کئے ہیں جن کی ادائیگی از بس ضروری ہے,اس کی عدم ادائیگی بڑے بڑے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

اس لئے :
لوگو!عورتوں کو ان کے حقوق دیا کرو
لوگو!میراث کی تقسیم میں شمہ برابر سستی نہ کرو

لوگو!جہیز سے اس کو جوڑنے کی کبھی غلطی نہ کرو

لوگو!میراث کو ڈکارنے سے قطعی پرہیز کرو,اجتناب کرو

لوگو!دوسروں کے مال کو ہڑپنے سے اللہ سے ڈرو,اور یہ جان رکھو کہ اللہ کے یہاں تم حاضر کئے جاؤگے,اور اس کے متعلق تم سے ضرور سوال ہوگا

لوگو!لڑکیوں,بیٹیوں اور بہنوں کی قدر کرو اور انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم نہ کرو

نیز علمائے کرام پر بھی قانونِ وراثت پر مقالے لکھیں,تقریریں کریں,خطبے دیا کریں,پند و موعظت کی مجلسیں منعقد فرمائیں,دعوتی دورے انجام دیں,نجی محفلوں میں اس پر زور صرف فرمائیں,خاندانی ملاقاتوں کے درمیان اس موضوع کو چھیڑیں ,خواتین میں بھی شعور پیدا کریں,ان میں قانون ِ میراث کی فضا ہموار فرمائیں,اور اس کے نفاذ کی ہر ممکن کوششیں بجا لائیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ رب کریم ہمیں اسلام کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے,خواتین کے حقوق جاننے,سمجھنے اور انہیں ادا کرنے اورحرام مال کھانے سے بچنے اور حلال کھانے کی توفیق عطا فرمائے,آمین یا رب العالمین




([1]) دیکھئے:تفسیر ِ قرطبی:تفسیر آیت ِ مذکورہ,ایک ضعیف حدیث میں اسے نصف علم کہا گیا ہے(دیکھئے:ابن ماجہ حدیث نمبر:۲۷۱۹,ضعیف الجامع حدیث نمبر:۲۴۵۱)
([2]) مستدرک حاکم حدیث نمبر:۷۱۱۴,بیہقی حدیث نمبر:۲۰۲۱۷,شیخ البانی نے:شرح العقیدہ الطحاویہ:۳۰۲ میں حسن,شیخ ارناؤط نے بھی حسن,اور علامہ ابن القیم نے (أعلام موقعین:۱ /۲۲۱)میں صحیح قرار دیا ہے,اسی طرح نووی نے بھی الأذکار(۵۰۵)میں حسن قرار دیا ہے
([3]) بخاری حدیث نمبر:۲۰۸۳
([4]) مسلم حدیث نمبر:۱۰۱۵ من حدیث ابی ذر۔رضی اللہ عنہ۔
([5]) دیکھئے: بخاری:۴۵۷۷, (کتاب التفسیر، باب قولہ یوصیکم اللہ),مسلم حدیث نمبر:۱۶۱۶
([6]) دیکھئے:ابو داؤد:۲۸۹۱,ترمذی:۲۰۹۲,ابن ماجہ:۲۷۲۰,مسند احمد:۱۴۷۹۸,و سندہ حسن دیکھئے:إرواء الغلیل حدیث نمبر:۱۶۷۷)
([7]) دیکھئے: تفسیر احسن البیان تفسیر آیت ِ مذکورہ )
([8]) دیکھئے:تفسیر قرطبی :آیت ِ مذکورہ کی تفسیر)
([9]) دیکھئے:بخاری:۷۶۲۳مسلم:۱۶۱۶
([10]) دیکھئے:تفسیر احسن البیان تفسیر آیت ِ مذکورہ
([11]) مسلم حدیث نمبر:۲۵۸۱,ترمذی حدیث نمبر:۲۴۱۸,مسند احمد حدیث نمبر:۸۴۱۴,صحیح ابن حبان حدیث نمبر:۴۴۱۱ من حدیث ابی ہریرۃ۔رضی اللہ عنہ۔
([12]) بخاری حدیث نمبر:۳۰۹۲
([13]) بخاری حدیث نمبر:۶۷۳۵
([14]) مسلم حدیث نمبر:۴۲۲۸,۱۶۱۵
([15]) بخاری حدیث نمبر:)۲۴۴۷,مسلم حدیث نمبر:۲۵۷۹من حدیث ابن عمر۔رضی اللہ عنہما۔
([16]) مسلم حدیث نمبر:۱۶۱۰
([17]) مسلم حدیث نمبر:۱۶۱۱
([18]) بخاری حدیث نمبر:۲۴۵۴
([19]) صحیح الجامع حدیث نمبر۱۶۶
([20]) ابو داؤد حدیث نمبر:۴۹۰۲, ترمذی حدیث نمبر:۲۵۱۱, ابن ماجہ حدیث نمبر:۴۲۱۱,مسند احمد حدیث نمبر:۲۰۳۷۴ و سندہ صحیح
 

اٹیچمنٹس

Top