• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی رحمت ﷺ اور اونٹوں کا پیشاب پلوانا ​

شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,003
پوائنٹ
97



اعتراض نمبر 24:۔​

مصنف اپنی کتاب صفحہ 64پر لکھتا ہے ''قرآن پاک میں مسلمانوں کے لئے حرام اور پلید چیزوں کے استعمال سے دور رہنے کا حکم ہے اور حلال طیب استعمال کرنے کا حکم ہے ۔۔۔اور نبی کریم ﷺ نے حرام اشیاء سے دور رہنے کا حکم دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ نجس اور پلید اشیاء کو ان پر حرام الا ستعما ل کہا لیکن بخاری میں ایک اورجھوٹی روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اونٹوں کے پیشاب پینے کا حکم دیا ۔۔۔۔ (بخاری 1005/2)
جواب :۔​

الحمد للہ قارئین کرام یہ بات میں نے ثابت کی ہے کہ مصنف علوم القرآن اور علوم الحدیث سے تو ناواقف ہے ہی بلکہ وہ عصری علوم سے بھی ناواقف ہے اس حدیث مبارکہ کا تعلق (میڈیکل) سے ہے اسے حدیث کی حکمت کیسے معلوم ہوگی اس نے تو صرف اور صرف ظاہری چیز کو دیکھتے ہوئے اعتراض کرنا سیکھا ہے۔حکمت تو اسے ملے گی جو قرآن وحدیث کو من و عن تسلیم کرے گا ان شا ء اللہ ۔اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب صحیح بخاری کتاب الطب باب الدواء بالبان الابل رقم الحدیث 5685پر ذکر فرمایا ہے :
''عن انس رضی اللہ عنہ أن ناسا کان بھم سقم قالوا : یا رسول اللہ ﷺ آونا وأطعمنا''
''انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا مدینے میں کچھ لوگوں کو (پیٹ کی )بیماری ہوگئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم کو رہنے کا ٹھکانہ بتلائیں اور ہمارے کھانے پینے کا بندوبست کردیجئے جب و ہ صحت یاب ہوگئے تو کہنے لگے مدینے کی آب وہوا غلیظ ہے آپ نے ان کو حرہ میں اتارا (ایک جگہ کا نام ہے) وہاں صدقے کے اونٹ رہا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا دودھ پیا کرو''۔
(دوسری حدیث میں ہے کہ اونٹنی کا دودھ اور پیشاب پیا کرو )یہ وہ حدیث ہے جس کو مصنف تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ حدیث ہمارے لئے باعث فخر ہے اگر ہم اس حدیث پر غور کرتے ہیں تو 1400سال پہلے نبی کریم ﷺ نے جو علاج تجویز کیاآج (Medical Science)اس کو ثابت کرتی ہے الحمد للہ جو لوگ نبی کریم ﷺ کے پا س آئے تھے ان کا تعلق قبیلہ ''عکل اور عرینہ سے تھا ان کو استسقاء کی بیماری ہوگئی تھی یعنی انکے پیٹ میں یا پھیپڑوں میں پانی بھر گیا تھا جدید طبی اصطلاح میں اس بیمار ی کو (Ascites)ایسائیٹیذ کہا جاتا ہے۔ اوراس بیماری میں اونٹنی کا پیشاب مؤثر ہے ڈاکٹر خالد غزنوی اپنی کتاب ''علاج نبوی ﷺ اور جدید سائنس ''میں رقمطراز ہیں :
''گوجرانوالہ سے چار سال کا ایک بچہ گردوں اور جگر کی خرابی کی وجہ سے میوہسپتال لاہور کے بچہ وارڈ میں زیر علاج تھا بچے کے پیٹ میںسے کئی بار پانی نکالا گیا اور کورٹی سون کی گولیوں کے مسلسل استعمال سے اسکی حالت قابل رحم تھی ۔وہ پہلا مریض تھا جس کو ارشاد نبوی ﷺ کی تعمیل میں اونٹنی کا دودھ اور پیشاب پلایا گیا ۔۔۔۔۔(اس بچے کے اونٹنی کے پیشاب اور دودھ پینے کی وجہ سے )ایک ماہ میں پیٹ بالکل صاف ہوگیا ۔ دوسرے ماہ کمزوری جاتی رہی اور جلد ہی صحت یاب ہوگیا ۔'' (جلد3ص305)
غور فرمائیں نبی کریم ﷺکی حدیث اس بچے کے لئے باعث رحمت ہوئی جس سے وہ بچہ مستفید ہوا اگر ہم اس بچے یا ان کے والدین سے پوچھیں تو یقینا وہ یہ کہے بغیر نہ رہیں گے کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث تو ہمارے لئے معجزہ بن گئی ۔اور واقعتا ایسا ہی ہے ۔
ایک مشہور سیاح ڈاؤٹی اپنی کتاب ( 1,Arabia Petra 2,Arabia Deserta)میں لکھتا ہے : 1924میں میں نے پورے عرب کا دورہ کیا اور اس نے یہ دو کتابیں لکھیں اس شخص نے کثرت سے عرب میں سفر کیا یہ اپنی یاداشت میں لکھتا ہے کہ جزیرہ عرب کے سفر کے دوران ایک موقع پر وہ بیمار پڑ گیا ۔ پیٹ پھول گیا رنگ زرد پڑ گیا ۔اور اسے زرد بخارکی طرح ایک بیماری ہوگئی جس کا اس نے دنیا میںمختلف ممالک میں علاج کروایا لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا ۔آخر کار جر منی میں کسی بڑے ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ اس علاقے میں جائے جہاں وہ بیمار پڑا تھا ممکن ہے کہ وہاں کوئی مقامی طریقہ علاج ہو یا کوئی عوامی انداز کا دیسی علاج ہو۔ کہتاہے کہ جب وہ واپس گیا تو جس بدّو کو اس نے خادم کے طور پر رکھا ہوا تھا ۔اس نے دیکھا تو پوچھا یہ بیماری آپ کو کب سے ہوئی ہے؟ اس نے بتایا کہ کئی مہینے ہوگئے اور میں بہت پریشان ہوں۔ اس نے کہا کہ ابھی میرے ساتھ چلیں ۔ اسے اپنے ساتھ لے کر گیا اور ایک ریگستان میں اونٹوں کے باڑے میں لے جاکر کہا کہ وہ کچھ دن یہاں رہے اور اونٹ کے دودھ اور پیشاب کے علاوہ کچھ نہ پیئے ۔ ایک ہفتے بعد علاج کرکے وہ بالکل ٹھیک ہوگیا ۔ اور اسے بہت حیرت ہوئی ۔
یہ واقعہ میں نے تفصیل سے اس لئے ذکر کیا ہے کہ الحمدللہ حدیث کی صراحت ہر طریقے سے ہوتی ہے اگر مصنف کو معلوم نہ ہوسکا تو اس میں مصنف کی کم علمی کا قصور ہے نہ کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ کا ۔ (مزید تفصیل کے لئے میری کتاب حدیث اور جدید سائنس اور اسلام کے مجرم کون؟ کا مطالعہ کریں )
 
Top