• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے بارے میں قرآن اور حدیث میں کیا فیصلہ ہے۔

شمولیت
اگست 27، 2013
پیغامات
79
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
57
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین ایمان والے تھے ؟
ان لوگوں کا کیا ہوگا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی اس دنیا سے چل بسے ان کے لیے آخرت میں قرآن اور حدیث میں کیا فیصلہ ہے ؟
اس حدیث کا کیا معنیٰ ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ میرا باپ اور تیرا باپ جہنم میں ہے اکثر لوگ باپ سے مراد چاچا لیتے ہیں ۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منسوب کتاب
''الفقه الأكبر'' میں یہ الفاظ موجود ہیں:
ووالدا رسول الله ﷺ ماتا علی الكفر.
ترجمہ: اور رسول اللہ ﷺ کے دونوں والدین کا کفر کی حالت میں انتقال ہوا۔
جن کے نزدیک یہ کتاب امام ابو حنیفہ کی ہے، ان کے لئے تو یہ بات واضح ہونی چاہیئے، کہ امام ابو حنیفہ کے مؤقف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین سے متعلق یہی تھا کہ ان کا انتقال حالت کفر میں ہوا!
اور جن احناف کے نزدیک یہ کتاب امام ابو حنیفہ کی نہیں، ان کے لئے بھی ملا علی القاری الحنفی کی ''شرح فقہ الأكبر'' ایک معتبر کتاب ہے، اس میں بھی ملا علی القاری نے یہی مؤقف بیان کیا ہے، مزید کے امام سیوطی کے مؤقف کو رد کیا ہے، اور امام سیوطی کے رد پر مستقل رسالہ تالیف فرمایا ہے؛ ملا علی القاری کا کلام ملاحظہ فرمائیں:

[ووالدا رسول الله ﷺ ماتا علی الكفر.] وهذا رد علی من قال إنهما ماتا علی الإيمان أو ماتا علی الكفر ثم أحياهما الله فماتا في مقام الإيمان. وقد أفردت لهذه المسألة رسالة مستقلة ودفعتُ ما ذکره السيوطي في رسائله الثلاث في تقوية هذه المقالة بالأدلة الجامعة المجتمع من الكتاب والسنة والقياس وإجماع الأمة. ومن غريب ما وقع في هذه القضية إنكار بعض الجهلة من الحنفية عَلَيَّ في بسط هذا الكلام، بل اشار إلی أنه غير لائق بمقام الإمام. وهذا بعينه كما قال الضّالّ جهم بن صفوان: وددتُ أن احك من المصحف قوله تعالی: ﴿ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ﴾ [الأعراف: 54]، وإشارة إلی الضالّ الآخر وهو أحمد بن أبي داؤد القاضي إلی الخليفة المأمون يكتب علی ستر الكعبة: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾، وقول الروافض الأكبر أنه بريء من المصحف الذي فيه نعت الصديق الأكبر.
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 128 – 129 شرح فقه الأكبر – علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري الحنفي، المعروف ملا علي القاري (المتوفى: 1014هـ) - المطبعه الحنفي

مذکورہ بالا عبارت کا ترجمہ سید امیر علی حنفی نے عین الہدایہ کے مقدمہ میں کیا ہے، عین الہدایہ کے مقدمہ میں فقہ الأكبر اور ملا علی القاری کی شرح کا ترجمہ شامل ہے؛ ملاحظہ فرمائیں:
ووالدا رسول الله ﷺ ماتا علی الكفر.
ترجمہ: اور رسول اللہ ﷺ کے دونوں والدین کا کفر کی حالت میں انتقال ہوا۔
ماتا علی الكفر (رسول اللہ کے والدین کا کفر کی حالت میں انتقال ہو) یعنی زمانہ رسالت و اسلام سے پہلے؛ زمانہ کفر میں انتقال کیا، اور روافض کہتے ہیں کہ چونکہ امام ہونے کے لئے یہ بات شرط اور لازم ہے کہ اس کے والدین مؤمن ہوں اس لئے امام اعظم ؒ نے اپنے اس رسالہ میں اس کا رد کرتے ہوئے تصریح کی کہ رسالت کے لئے ایسی کوئی شرط لازم نہیں ہے، ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ اس کلام سے ان لوگوں کا رد کرنا مقصود ہے جو یہ کہتے ہیں کہ آپﷺ کے والدین کا انتقال ایمان کی حالت میں ہوا، یا ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کرکے ایمان کی توفیق دے کر موت دی۔
میں (ملا علی القاری) نے اس مسئلہ کو اپنے ایک مستقل رسالہ میں تحقیق کے ساتھ لکھا ہے، اور امام سیوطیؒ نے امام اعظمؒ کے قول کے خلاف اپنے تینوں رسالوں میں جو کچھ لکھا تھا اس کو کتاب اللہ، سنت رسول، قیاس اور اجماع کے دلائل سے رد کیا ہے، اس موقع پر عجیب بات یہ ہے کہ بعض جاہل حنفیہ نے بھی امام اعظمؒ کی یہاں صریح کردہ عنوان سے بھی انکار کیا ہے، اور اشارۃ یہ کہا ہے کہ امام صاحبؒ کا یہ قول ان کی شان کے لائق ہی نہیں ہے، مگر اس منکر کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ گمراہ فرقہ جہمیہ کے سردار جہم بن صفوان نے کہا کہ میری دلی خواہش ہے کہ ''اگر موقع ملے تو میں قرآن کریم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿
الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾ کو کاٹ کر نکال ڈالوں'' اور جیسا ایک گمراہ شخص احمد بن ابی داؤد نے خلیفہ مامون الرشید کو کہا تھ اکہ غلاف کعبہ پر ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾کی بجائے ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾لکھیں، اور جیسا کہ ایک بڑے رافضی کا قول ہے کہ میں اس قرآن سے بیزار ہوں جس میں ابو بکر صدیق کی تعریف ہو،۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 70 - 71 جلد 01 (فقہ الاکبر في مقدمہ عین الہدایہ)عین الہدایہ جدید – سید امیر علی ۔ دار الاشاعت کراچی
ملاحظہ فرائیں:صفحہ 28 جلد 01 (فقہ الاکبر في مقدمہ عین الہدایہ) عین الہدایہ – سید امیر علی ۔ مطبوعہ نامی منشی نولکشور لکھنؤ

عین الہدایہ کی جدید اشاعت میں ﴿میں (مترجم) ﴾ درست نہیں، کہ یہ کلام سید امیر علی کا نہیں ، بلکہ ملا علی القاری کا ہے، جیسا کہ ملا علی القاری کی عربی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے

اب والدین کو کوئی چا چا ، ماما ، پھپڑ ، خالو کہتا ہے، تو اس پر دعا کے علاوہ اور کیا کیا جائے!
 
Last edited:

difa-e- hadis

رکن
شمولیت
جنوری 20، 2017
پیغامات
294
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
71
اب والدین کو کوئی چا چا ، ماما ، پھپڑ ، خالو کہتا ہے، تو اس پر دعا کے علاوہ اور کیا کیا جائے!
محترم،
میرے خیال سے اس بارے میں خاموشی بہتر ہے اور یہ چچا وغیرہ کہنا اس کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نہیں ہوئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام عبداللہ سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ شاید اس وقت فطرت سلیم پر تھے اس لئے میرے خیال سے اس بارے میں ہمیں اچھا گمان رکھنا چاہیے کہ وہ انشاء اللہ اچھے مقام میں ہوں گے واللہ اعلم
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
''دلیل'' کے مقابلہ میں ''حسن ظن'' باطل ہے!
اول تو یہ نام ''عبد اللہ'' ان کے والد یعنی عبد المطلب کا دیا ہوا ہونا ہی درست معلوم ہوتاہے، نہ کہ از خود انہوں نے اپنا نام یہ رکھا !
دوم بالفرض ''عبد اللہ '' تو دین فطرت پر ہوئے، لیکن ان کے بھائی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور تایا دین فطرت پر نہ ہوئے! جبکہ ان کا دین ان کے والد یعنی عبد المطلب کا دین تھا!
جیسا کہ ابی طالب نے وفات کے وقت کہا تھا کہ وہ عبد المطلب کے دین پر قائم رہتے ہیں، اور اسلام قبول نہیں کرتے!
جبکہ ایسی کوئی بات وارد نہیں ہوئی کہ ''عبد اللہ'' نے اپنے والد ''عبد المطلب'' کے دین سے اعراض کیا ہو!
اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ایک بات بتلا دی گئی ہے، تو کسی ''حسن ظن'' کی گنجائش نہیں!
ان کا ''مقام'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلا دیا ہے ، جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے، اب اگر کوئی اس ''مقام'' کو یعنی ''جہنم ''کو اچھا سمجھے ، تو یہ اس کی مرضی ہے!
 
Last edited:

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
@difa-e- hadis پہلے تو آپ اسکین صفحات لگاتے تھے، اب آپ نے اس جاہل اور کذاب کا کلپ لگادیا!
آپ نے جو بیان کرنا ہے، وہ یہاں لکھ دیں!
 
شمولیت
اگست 27، 2013
پیغامات
79
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
57
مرزا علی انجینئر گمراہ اور جھوٹا گستاخ اے صحابہ ہیں ۔




Meerza ali engr or molvi ishaq mardood hein ahle sunnat e kharij hein.

Sent from my SM-A910F using Tapatalk
 

difa-e- hadis

رکن
شمولیت
جنوری 20، 2017
پیغامات
294
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
71
دوم بالفرض ''عبد اللہ '' تو دین فطرت پر ہوئے، لیکن ان کے بھائی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور تایا دین فطرت پر نہ ہوئے! جبکہ ان کا دین ان کے والد یعنی عبد المطلب کا دین تھا!
محترم،
سب سے پہلی بات یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا موازنہ آپ کے چچا"ابو طالب" سے کرنا عبث ہے کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق تک موجود تھے اور ان پر آپ کا رسول ہونا واضح ہو گیا تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد آپ کی ولادت سے قبل ہی فوت ہو گئے جس کو فترۃ کا زمانہ کہا گیا جیسا اس وڈیو میں بھی کہا گیا،سورہ المائدہ آیت ۱۹
دوسری بات یہ کہ صحیح مسلم کی جس حدیث کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس میں ابیہ کا لفظ ہے اور ابیہ چچا کے لئے بھی کہا جاتا ہے جیسا قرآن میں بھی موجود ہے سورہ البقرۃ ۱۳۳ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بارے میں واضح حدیث ہے کہ ان کو سب سے ہلکا عذاب دیا جا رہا ہے تو میرے خیال سے اس کی تاویل ہوسکتی ہے تو کرنی چاہیے اور خاموشی اختیار کرنی چاہیے باقی اپ کی اپنی مرضی ہے
 

difa-e- hadis

رکن
شمولیت
جنوری 20، 2017
پیغامات
294
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
71
اور اس حوالے سے آخری زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا موقف تھا کہ اس بارے میں خاموشی اختیار کی جائے جیسا اس وڈیو میں زبیر علی زئی کی وڈیو کلپ ڈالی گئی ہے
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
اول تو آپ مرزا جہلمی کذاب کا حوالہ پیش کر رہے ہیں!
جوناقابل اعتبار ہے!
دوم کہ آپ کو پہلے بھی کہا ہے کہ آپ نے جو کہنا ہے ، یہاں یونیکوڈ میں تحریر کریں!
صحیح مسلم کی حدیث سے ابی کے معنی چچا لینا درست نہیں، کیوں کہ اس حدیث میں ایک شخص نے اپنے ''ابي'' کے متعلق سوال کیا تھا!
اور وہ اس نے اپنے والد کے متعلق سوال کیا تھا، نہ کہ اپنے چاچا کے لئے، اور اسی میں اللہ کے رسول نے فرمایا ''أَبِي وَأَبَاكَ'' تو جو ''اباك'' میں معنی ہیں، وہی ''اباك''میں ہیں!
اب کوئی یہ کہے کہ اس نے اپنے ''والد'' نہیں بلکہ ''چچا'' کے متعلق پوچھا تھا، تو یہ معقول بات نہیں!

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ أَبِي؟ قَالَ: «فِي النَّارِ»، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ»
حضرت انس ﷜ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا:’’ آگ میں ۔‘‘ پھر جب وہ پلٹ گیا توآپ نے اسے بلا کر فرمایا:’’ بلاشبہ میراباپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں۔ ‘‘
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ بَيَانِ أَنَّ مِنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَلَا تَنَالُهُ شَفَاعَةٌ، وَلَا تَنْفَعُهُ قَرَابَةُ الْمُقَرَّبِينَ)
صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: کفر میں مرنےوالا جہنمی ہے ، اسے شفاعت نصیب نہیں ہو گی اور نہ اسے مقرب لوگوں کی رشتہ داری فائدہ دے گی)
 
Last edited:
Top