• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنے منہ کا نوالہ ایک طوائف کے منہ میں ڈالنا؟

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اس روایت کی حیثیت و حقیقت وہی ہوسکتی ہے ، جو کسی بے حوالہ روایت کی ہوتی ہے ۔
مجھے یہ قصہ تلاش کرنے سے نہیں مل سکا ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
محترم عمراثری بھائی نے توجہ دلائی کہ اوپر بیان کردہ قصہ جیسی روایت بعض کتب میں موجود ہے :
المعجم الكبير للطبراني (8/ 200)
7812 - حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ تُرَافِثُ الرِّجَالَ، وَكَانَتْ بَذِيئَةً، فَمَرَّتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ ثَرِيدًا عَلَى طَرَيَانٍ، قَالَتْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ، وَيَأْكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيُّ عَبْدٍ أَعْبَدُ مِنِّي» . قَالَتْ: وَيَأْكُلُ وَلَا يُطْعِمُنِي. قَالَ: «فَكُلِي» . قَالَتْ: نَاوِلْنِي يَدَكَ، فَنَاوَلَهَا قَالَتْ: أَطْعِمْنِي مِمَّا فِي فِيكَ فَأَعْطَاهَا، فَأَكَلَتْ، فَغَلَبَهَا الْحَيَاءُ، فَلَمْ تُرَافِثْ أَحَدًا حَتَّى مَاتَتْ
المعجم الكبير للطبراني (8/ 231)
7903 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ بَذِيئَةُ اللِّسَانِ قَدْ عُرِفَ ذَلِكَ مِنْهَا، وَبَيْنَ يَدَيْهِ قَدِيدٌ يَأْكُلُهُ، فَأَخَذَ قَدِيدَةً فِيهَا عَصَبٌ، فَأَلْقَاهَا إِلَى فِيهِ، فَهُوَ يَلُوكُهَا مَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ هَذَا، وَمَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ الْآخَرِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَلَا تُطْعِمُنِي؟ قَالَ: «بَلَى» . فَنَاوَلَهَا مِمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا الَّذِي فِي فِيكَ، فَأَخْرَجَهُ فَأَعْطَاهَا، فَأَخَذَتْهُ فَأَلْقَتْهُ إِلَى فَمِهَا، فَلَمْ تَزَلْ تَلُوكُهُ حَتَّى ابْتَلَعَتْهُ، فَلَمْ يُعْلَمْ مِنْ تِلْكَ الْمَرْأَةِ بَعْدَ ذَلِكَ الْأَمْرِ الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْبِذَاءِ وَالذِّرَابَةِ
البتہ علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں دونوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے ۔(مجمع الزوائد(14138)(14227) بلکہ بعض راویوں پر شدید جرح ہے ۔
 
Top