• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ندائے یارسول اللہ ﷺ کا تاریخی تسلسل

samisain

مبتدی
شمولیت
جنوری 05، 2013
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
0
ندائے یارسول اللہ ﷺ کا تاریخی تسلسل
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی حبیبہ الکریم اما بعد

پیغمبرِ اسلام ﷺ کا مسلمانوں سے رابطہ
مسلمانوں کو حضور سید عالم ،فخرِ موجودات،نبی رحمتﷺ کی ذات والاصفات سے جو شغف اور تعلق روحانی ہے دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔
عہدِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے آج تک مسلمان اپنے اس خصوصی کردار میں ممتاز رہے ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم اپنے رہنما سے وہ عشق اور شیفتگی نہیں رکھتی جو اہل اسلام کو اپنے پیغمبرﷺسے ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سارے مسلمان دل وجان سے ان پر شیدا اور مجازی معنی میں نہیں حقیقی معنی میں ان کاکلمہ پڑھتے ہیں ان کو اپنے روحانی کرب واضطراب کا مسیحاتصور کرتے ہیں۔اور جسمانی دردوالم کا مرہم سمجھتے ہیں۔خلوت تنہائی ہو یا جلوت وانجمن،مسرت ہو یا رنج و غم،وہ ہرعالم میں ان کو پکارتے ہیں۔اور ان کے نام کا نعرہ لگاتے ہیں،انہیں تصورمیں اپنے پاس پاتے ہیں تو انہیں خطاب کرتے ہیں اور ان سے التجااورفریاد کرتےہیں۔
اور اس عالم میں چودہ صدیوں کے دبیزپردے،ہزاروںمیل مسافتیں،شجروحجر،بحروبر،موت وحیات،اور ثمودوغیاب کے حجاب ہیچ اور درماندہ ہوتےہیں کہ !بعدمنزل نہ بوددر سفرروحانی۔۔۔یا
اے غائب از نظر کہ شدی ہم نشین دل می بینمت عیاں ودعاء می فرستمت
نگاہوں سے غائب اور دل میں پوشیدہ میں تجھ کو علی الاعلان دیکھ رہاہوں اور دعابھیج رہا ہوں

شرک نظر آیا
جب کہ بعض حضرات کو اس خطاب وندا استغاثہ وفریاد سے سخت وحشت ہوتی ہے۔وہ اس کو اسلام کی تعلیمات کے سخت خلاف ،بلکہ شرک وکفر کہہ جاتےہیں۔اس غلط فہمی کی اصل وجہ یہ ہے کہ خطاب کے سلسلہ میں عام گمان یہ ہے کہ جو سامنے ہو اسی کو پکاریں اور جس کو دیکھ رہے ہوں،اسی کو خطاب اور آوازدیں"حالانکہ یہ کلمہ نہ ہی عقلاً درست ہے نہ ہی نقلاً
نداء یارسول اللہ کا تاریخی پس منظر
سیدنا امیرالمومنین عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا عمل

صحّ انّ عمر کان اذا قدم من سفراتیٰ قبر النبی ﷺ فقال السلام علیک یارسول اللہ یابا بکر السلام علیک یا ابتاہ
یہ بات درجہ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب بھی سفر سے آتے تو حضورﷺ کی قبر انور پر حاضر ہوکر کہتے سلام ہو آپ پر یا رسول اللہ سلام ہو آپ پر یا ابا بکر آپ پر اے میرے ماں باپ
خلاصہ الوفا،صفحہ ۷۴،شفاء جلد۲،صفحہ ۷۶

بعد وصال ایک اعرابی کا روضہ اقدس پر کھڑے ہوکر عرض کرنا

یا خیر من دفنت فی القاع اعظمہ فطاب من طیبھن القاع والاکم نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ فیہ العفاف وفیہ الجود والکرم
اے ان سب کے افضل جنہیں زمین میں دفن کیا گیا ور جن کی خوشبو سے برابر زمین اور ٹیلے سب خوشبودار ہوگئے میری جان اس قبر پر جس میں آپ ساکن ہیں،اس میں پاک دامنی ہے،اس میں بخشش ہے، اسی میں کرم ہے
خلاصہ الوفا،صفحہ ۸۵،شفاء المقام صفحہ ۶۴


آپ کے فراق میں حسان ابن ثابت کہتے ہیں۔
ما بال عینک لانام کانما کحلت ما فیھا بکحل الارمد جزعا علی المھدی اصبح ثویا یاخیر من وطی الحصٰی لاتعبد یوما یقیک الترب لحفی لیتنی غبت قبلک فی بقیح الغرقد
تیری آنکھوں کو کیا ہوگیا ہےجو سوہی نہیں پارہی ہیں۔اس کے گوشوں میں بے خوابی کا سرمہ لگادیا گیا ہے۔یہ گھبرائی ہوئی ہیں اس ہادی پر جسے قبر میں دفن کردیا گیا ہ۔ اے ان سب میں بہترین جو نامانوس راستوں پر چلے جس دن مٹی نے آپ کو اپنے دامن میں محفوظ کیا۔اے کاش!آپ سے پہلے میں ہی مٹی میں دفن کردیا گیا ہوتا۔
سیرت ابن ہشام جلد ۴،صفحہ نمبر۶۶۹

یہ چند حوالاجات ہے بطور نمونہ پیش کئے گئے۔ان کے علاوہ بہت سے واقعات اور حوالہ جات پیش کئے جاسکتے ہیں مگر اختصار کے پیش نظر قلم کیے گئے۔اب یہ اور بات کہ آج کے نام نہادخودساختہ توحید کے متوالے اسلام کی اس چودہ سو سالہ تاریخ کو ملیا میٹ کرنے کے لیے کمر بستہ ہو اور عامتہ المسلمین کو جادۂ حق سے ہٹانے کے لیے نئے فتنے جگائے اور علماء و صلحاء آئمہ ومجتہدین ،صحابہ و تابعین مفتی و قاضی خواص وعام ،خطباء اور مختلف اسلامی کو مشرک و کافر کہنے کی جرأت کرے۔
 

محمد عاصم

مشہور رکن
شمولیت
مئی 10، 2011
پیغامات
236
ری ایکشن اسکور
1,026
پوائنٹ
104
شرک نظر آیا
جب کہ بعض حضرات کو اس خطاب وندا استغاثہ وفریاد سے سخت وحشت ہوتی ہے۔وہ اس کو اسلام کی تعلیمات کے سخت خلاف ،بلکہ شرک وکفر کہہ جاتےہیں۔اس غلط فہمی کی اصل وجہ یہ ہے کہ خطاب کے سلسلہ میں عام گمان یہ ہے کہ جو سامنے ہو اسی کو پکاریں اور جس کو دیکھ رہے ہوں،اسی کو خطاب اور آوازدیں"حالانکہ یہ کلمہ نہ ہی عقلاً درست ہے نہ ہی نقلاً
جناب اللہ کے علاوہ کسی کو مدد کے پکارنا نبی ﷺ کی سنت سے ثابت کرکے دے سکتے ہیں؟؟؟؟
بلکہ آپ سبھی انبیاء اور رُسل علیہم السلام کی زندگی سے قرآن اور صحیح حدیث سے دلیل دے سکتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کسی غیراللہ کو پکارا ہو؟؟؟
اگر آپ ایسا ثابت نہیں کرسکتے اور یقینا آپ ثابت نہیں کرسکتے تو آپ لوگ کیوں ایسا شرکیہ عمل کرتے ہیں؟؟؟؟
اور جو ایک واقعہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے یہ صحت کے لحاظ سے اس قابل نہیں کہ اس پر عقیدہ بنایا جائے اور ویسے بھی یہ ہمارے لیئے حجت نہیں ہے اور جوچیز ہمارے اور آپ کے درمیان مشترک ہے اُس سے دلیل لائیں یعنی قرآن اور صحیح حدیث۔
اور باقی جو دو دلیلیں دیں ہیں اُن میں ایسا کچھ نہیں کہ وہ آپ کے عقیدے کو سپورٹ کریں۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,233
پوائنٹ
240
روضہ اقدس ﷺ کا مسئلہ الگ ہے اور غیابت کا مسئلہ الگ ہے روضہ اقدس پر تو الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کہہ سکتے ہیں لیکن آپ ﷺ کو حاضر ناظر جا ننا شرک ہے اور ایسے ہی آپ ﷺ کو عالم الغیب سمجھنا یا مشکل کشا سمجھنا شرک ہے اور گناہ ہے آپ کا تصور کرنا بھی غلط ہے ان تمام صفتوں سے متصف صرف اور صرف اللہ تعا لیٰ کی ذات اقدس ہے انسان نہیں ۔
هُوَ الله ُالذي لا إلهَ إلا هُوَ عالِمُ الغَيْبِ والشَّهادَةِ هوَ الرَّحمنُ الرَّحيم هُوَ اللهًُ الذي لا إلهَ إلا هُوَ الملِكُ القُدُّوسُ السلامُ المؤمِنُ المُهَيْمِنُ العَزِيزُ الجبَّارُ المتَكَبِّرُ سُبحَانَ اللهِ عَمَّا يُشرِكونَ هُوَ اللهُ الخالِقُ البَارِئُ المُصَوِّرُ لَهُ الأسْمَآءُ الحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا في السَّمَواتِ والأرْضِ وهُوَ العَزِيزُ الحَكِيمُ
اللهُ لا إلَهَ إلا هُوَ الحَيُّ القَيُومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ ولا نَوْمٌ لَهُ ما في السّمَواتِ ومَا في الأرْضِ مَنْ ذَا الذي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إلا بِإذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أيدِيهِم وما خَلْفَهُم ولا يُحِيْطُونَ بِشَىءٍ مِنْ عِلمِهِ إلا بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَواتِ والأرْضَ وَلا يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا وهُوَ العَلِيُّ العَظِيم
ءامَنَ الرّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إليهِ مِنْ رَبّه والمُؤمِنُونَ كلٌ ءامَنَ بِاللهِ ومَلائِكتِه وكُتُبِهِ ورُسُلِه لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أحَدٍ مِنْ رُسُلِه وقالُوا سَمِعْنَا وأطَعْنَا غُفرَانَكَ رَبّنَا وإليْكَ المَصِيْر لا يُكَلِّفُ اللهُ نفسًا إلا وُسْعَهَا لها مَا كَسَبَتْ وعَليها ما اكتَسَبَت ربَّنَا لا تُؤاخِذْنا إن نَسِينَا أو أخْطأنَا ربَّنا ولا تَحْمِلْ علينا إصْرًا كمَا حَمَلتَهُ على الذين مِنْ قَبْلِنا رَبَّنَا ولا تُحَمِّلنَا ما لا طاقَةَ لنا به واعفُ عَنّا واغْفِرْ لنا وارْحَمْنَا أنْتَ مَوْلانَا فَانصُرنَا على القَومِ الكَافِرِين
بس سب کچھ اللہ ہی ہے باقی سب ’’بے بس‘‘
 
شمولیت
جولائی 03، 2012
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
94
پوائنٹ
47
معذرت! آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں مل سکا!
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,366
ری ایکشن اسکور
2,674
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یہ صفحہ فورم کے پرانے ویب ایڈرس پر تھا، اب کیسے میسر آئے گا کچھ سوچتے ہیں، شاید کسی کے پاس اس کی کاپی موجود ہو! تلاش کرتے ہیں ۔ ان شاء اللہ!
بلکہ یہ تو کتاب کا لنک ہے، یہ تو ان شاء اللہ مل جائے گی۔
 
شمولیت
اگست 27، 2013
پیغامات
78
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
57
ابن داود ۔۔۔شیخ ان تینوں لنک میں سے ایک بھی کام نہیں کررہی ۔۔۔۔۔!
کوئی اور ذریعہ ہو تو بتائیے ۔۔!
جزاک اللہ
 
Top