• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نمازِ جنازہ اور تدفین کا طریقہ

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
السلام علیکم۔

مسجدالاحرام میں صلاۃ پہلے سے قائم ہے یا احادیث پڑہ کر قائم کی گئی ہے؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
برا نہ منائیں تو جو سوالات پچھلی پوسٹس میں کئے گئے ہیں ان کا جواب دے دیں تو آپ کے سوال کا جواب بھی خود ہی مل جائے گا۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
محترم بھائی،
آپ بہت سے اہم سوالات کو چھوڑ کر ایک نئی آیت پیش کر رہے ہیں۔ گویا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے آپ نے جن آیات کے ریفرنس دئے جن کا ذکر اوپر ہوا ان سے آپ کا وہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ مسجد حرام میں نماز کا طریقہ ہمیشہ درست اور یکساں رہے گا۔
درج بالا آیت کی تفسیر بھی آپ ہی کر دیں تو ہم کم علموں کو سمجھ آ جائے۔ ورنہ درج بالا آیت سے بھی زیر بحث مسئلہ کی کوئی شق ثابت ہوتی ہوئی مجھے نظر نہیں آ رہی۔ کیونکہ درج بالا آیت میں نہ تو نماز کا ذکر ہو رہا ہے، نہ ہی اس کا کوئی بیان ہے کہ نماز کا کوئی غلط طریقہ حرم میں رائج نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ یہاں عالمین کے لئے ہدایت کے الفاظ سے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں تو معاف کیجئے گا اس سے صرف نماز نہیں، بلکہ ہدایت کے تمام امور ثابت ہوں گے۔ لہٰذا آپ کو مسجد حرام سے جاری ہونے والے تمام فتاویٰ بھی درست ماننے ہوں گے۔ حج، روزہ، زکوٰۃ، حجیت حدیث سے متعلق جو کچھ وہاں رائج ہے سب ہی ہدایت پر مشتمل ہوگا۔ یہ کیا بات ہوئی کہ نماز قرآن سے ثابت نہیں ہوئی تو مسجد حرام کی نماز کو اپنی تائید میں پیش کر دیا۔ لیکن بقیہ امور میں آپ قرآن کی اس آیت سے کفر کرتے ہوئے بیت اللہ کو گمراہی کا مرکز قرار دے رہے ہیں؟؟
نماز ہی کے مسئلے کو لے لیں تو کیا بیت اللہ میں جو نماز قائم کی جاتی ہے وہ آپ کے نظریہ پر قائم ہے؟ یا وہاں کے مسلمین نماز کے طریقہ کو کتب احادیث میں موجود پا کر اس طرح کی نماز قائم کرتے ہیں؟ سمجھنے کی بات ہے بھائی، کہ ہم جب آپ سے کہتے ہیں کہ نماز کا طریقہ صحیح احادیث میں ملتا ہے وہ مان لیں، تو آپ نہیں مانتے۔ آپ بیت اللہ میں پڑھی جانے والی نماز کو اسٹینڈرڈ بنا لیتے ہیں جو کہ خود انہی صحیح احادیث کو دیکھ کر نماز قائم کئے ہوئے ہیں۔۔۔؟ ہم آپ کو ماخذ تک لے جانا چاہتے ہیں اور آپ ہیں کہ بواسطہ مسجد حرام ہی وہاں تک جانا چاہتے ہیں؟ یہ عجیب بات نہیں؟
نیز یہ بھی بتا دیں کہ اگر مسجد حرام میں پڑھائی جانے والی نماز کا طریقہ اگر کوئی شخص کسی کتاب میں لکھ دے اور وہ شخص سچا، پکا، اچھا، مخلص اور قوی یادداشت رکھنے والا مسلمان ہو اور اس مسلمان کی عدالت کی اور اس کتاب کی صداقت کی گواہی اس جیسے دیگر بہت سے مسلمان دے رہے ہوں تو کیا آپ اس کتاب کے مطابق نماز پڑھنے کو تیار ہو جائیں گے یا نہیں؟

پھر آپ سے یہ بھی دریافت کرنا تھا کہ کیا قرآن آج ٹی وی ، انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ کا محتاج ہو گیا ہے؟ (نعوذ باللہ) اگر یہ چیزیں آج کے دور میں نہ ہوتیں تو آپ یا میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر کیسے عمل کر پاتے؟ یہ بہت اہم سوال ہے کیونکہ آپ حدیث کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے لہٰذا امید ہے کہ کفار کی بنائی ہوئی دور جدید کی ان ایجادات کو بھی قرآن پر اتھارٹی تسلیم نہیں کریں گے۔
امید کرتا ہوں کہ آپ کچھ تفصیلی وضاحت کر کے شکریہ کا موقع دیں گے۔
والسلام
مسلم بھائی،
آپ سے درج بالا پوسٹ میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات کا انتظار ہو رہا تھا کہ آپ کچھ روز غالباً عید کی چھٹیوں پر چلے گئے۔ اب واپس آ کر آپ نے کچھ دیگر تھریڈز میں لکھنا شروع کیا ہے۔ لیکن یہاں کوئی جواب نہیں دے رہے۔ ازراہ کرم ادھر بھی توجہ فرمائیں۔ تاکہ کسی نتیجہ پر ہم پہنچ جائیں یا آپ کو پہنچا آئیں۔
والسلام
 
شمولیت
اکتوبر 18، 2016
پیغامات
46
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
32
شمولیت
اپریل 10، 2018
پیغامات
62
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
43
تجہیزوتکفین کا طریقہ اور احکام
قریب المرگ اور وفات کے بعد کے احکام
1۔قریب المرگ کو لاالہ الااللہ کی تلقین کرنی چاہیے۔(صحیح مسلم:916)
وفات کے بعد میت کی آنکھیں بند کرنی چاہیے اور رونے کی بجائے میت کے لیے دعا کرنا مسنون ہے۔(صحیح مسلم:920)

3۔وفات کے بعد میت کو کپڑے کے ساتھ ڈھانپ دینا چاہیے۔(صحیح بخاری:5718)
4۔وفات کی خبر سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا چاہیے۔(سورۃالبقرۃ:156،صحیح مسلم:918)

5۔مسلمان کی وفات کی اطلاع کرنا مستحب ہے۔(صحیح بخاری :1245)البتہ نوحہ ،بین یا قابل فخر کارناموں کے ساتھ اعلان کرنا جاہلیت کا کام ہے۔اسی طرح تعزیتی اجلاس منعقد کرنا اور ماتمی جلوس کا اہتمام کرنا بھی جاہلیت کا کام کرنا ہے۔
6۔میت کی تجہیز وتکفین اور جنازہ میں جلدی کرنی چاہیے۔(صحیح بخاری:1315)
7۔میت کا قرض اتارنے میں جلدی کرنی چاہیے۔(سنن ترمذی:1078)
غسل کے وقت مطلوبہ چیزیں
۱۔صاف پانی (ضرورتا نیم گرم) ۲۔صابن ۳۔بیری کےپتے ۴۔ روئی کا بنڈل ۴۔کافور
۵۔دستانے 6۔غسل والا تختہ 7۔3عددمٹی کے ڈھیلے

غسل کےچند احکام
1۔مسلمان میت کو غسل دینا واجب ہے۔(صحیح بخاری:1849)
2۔قریبی رشتہ دار میت کو غسل دینے کے زیادہ مستحق ہیں اگر صاحب علم ہوں۔ورنہ کوئی بھی صاحب علم غسل دے گا۔(مسند احمد:24881)
3۔خاوند بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔(ابن ماجہ:1465)
4۔میت کو پردہ میں غسل دینا ضروری ہے۔((سنن ابو داود:4012)
5۔غسل 3یا5مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ طاق عدد میں پانی اور بیری کے پتوں سے دیا جائے۔(صحیح بخاری :1253)

آخری مرتبہ کافور استعمال کرنا ہے۔( صحیح بخاری:1253)
غسل کا طریقہ
میت کو تختہ پر سیدھا لٹادیں ۔پھرستر کے اوپر موٹا کپڑا ڈال کر میت کا لباس اتاریں۔اگر آسانی سے کپڑے نہ اتریں تو قینچی سے کاٹ کر اتار دیں ۔پھرمیت کو سر کی جانب سے ہلکا سا اٹھا کر پیٹ کو دبائیں تاکہ نجاست خارج ہو جائے۔پھر دستانے پہن کر میت کوپانی سے استنجا ء کروائیں ۔پھر میت کووضوء(منہ اور ناک میں پانی ڈالنے کے علاوہ) کروائیں ۔گیلی روئی نچوڑ کر منہ کے اندرونی حصہ کی اچھی طرح صفائی کریں ۔پھر روئی کے ساتھ ناک اور کانوں کی صفائی کریں۔سر کو اچھی طرح صابن کے ساتھ دھوئیں۔(شیمپو بھی استعمال کر سکتے ہیں)پہلے دائیں پھر بائیں جانب سے جسم کو دھوئیں۔کمر کو ہلکا سا ٹیڑھا کر کے جسم کو اچھی طرح دھوئیں۔ضرورت کے مطابق 3،5،7مرتبہ جسم پر غسل کا پانی بہایا جائےآخری با ر کافور ملاپانی بہایا جائے۔
7۔میت اگر عورت ہو تو بالوں کو کھول کر اچھی طرح دھویا جائے پھر تین چوٹیاں بنا کر پیچھے ڈال دیا جائے۔( صحیح بخاری :1254)
8۔دوران غسل کوئی عیب و نقص معلوم ہونے پر پردہ ڈالنے والے کےگناہوں پر اللہ پردہ ڈالے گا(مسند احمد:24881)
9۔شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا۔( صحیح بخاری :1346)

کفن کے احکام
1۔میت کو کفن پہنانا واجب ہے۔( صحیح بخاری :1265)
2۔صاف ستھرا اور اچھا کفن دیں جو زیادہ قیمتی نہ ہو۔( صحیح مسلم:943)
3۔سفید رنگ کا کفن مستحب ہے(ابوداود:4061)
4۔بغیر قمیص کے تین چادروں میں کفن دینا مسنون ہے۔( صحیح بخاری :1264)

کفن کا طریقہ
میت کو غسل دینے کے بعد اس کے جسم کو کپڑے کے ساتھ خشک کریں ۔پھر چارپائی پر برابر سائز کی 3 چادریں بچھائیں اور چادروں کے نیچے تین بند سر،کمر اور پاوں کے برابر بچھائیں ۔اور چادر کو عمدہ خوشبو سے معطر کریں ۔پھر میت کو احسن انداز سے اٹھا کر بچھائی ہوئی چادروں پر لٹا دیں ۔پھر سب سے اوپر والی چادر کی دائیں طرف کو میت پر لپیٹیں پھر بائیں طرف کولپیٹیں اور اسی طرح دوسری اور تیسری کو لپیٹیں ۔پھر تینوں بند باندھ د یں تاکہ کفن کھلنے نہ پائے۔
5۔تین چادروں کے علاوہ کسی قسم کا کپڑا کفن کے لیے سنت سے ثابت نہیں ہے۔
6۔کفن پر بسم اللہ ،کلمہ ،قرآنی آیات یا اہل بیت کے نام لکھنا کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے۔
7۔کسی کپڑا یا کاغذ پر کلمہ ،قرآنی آیات یا عہد نامہ لکھ کرکفن میں رکھنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے۔
 
شمولیت
اپریل 10، 2018
پیغامات
62
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
43
نماز جنازہ اور اس کے احکام
1۔ مسلمان کا نماز جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے۔(صحیح بخاری:2295)
2۔امام مرد کے سر کے برابر اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہو گا۔(مسند احمد:13114)

نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا مستحب ہے۔(صحیح بخاری:1334)
4۔چا ر سے زیادہ تکبیریں بھی ثابت ہیں ۔
(صحیح مسلم:957)
5۔چھوٹے بچے کی نماز جنازہ پڑ ھی جائے گی۔(سنن ترمذی :1031)
6۔پہلی تکبیر کے بعد سورۃالفاتحہ اور ساتھ کوئی سورت پڑھنی ہے۔ (سنن نسائی:1987)
7۔ جنازے کی تکبیروں میں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ (جزء رفع الیدین:105)
8۔ نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے کے لیے ایک قیراط جبکہ تدفین تک ساتھ رہنے والے کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔(صحیح بخاری:1325)
9۔ جنازے کے ساتھ چلنا مسنون ہے۔(سنن ابو داود:3182)
10۔جنازے کےساتھ چلنے والا اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے(صحیح بخاری:1310)
11۔بوقت ضرورت مسجد میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔(صحیح مسلم : 973)
12۔نماز جنازہ کی قرات سری اور جہری دونوں طرح ثابت ہے۔(سنن الکبری للبیہقی:6959)، (صحیح مسلم : 973)
نماز جنازہ کاطریقہ
1۔سب سے پہلے نیت کریں جو کہ دل کے ارادے کا نام ہے۔(صحیح بخاری:1)
2۔پھر اللہ اکبر کہہ کر سورۃالفاتحہ پڑھیں اور ساتھ کوئی بھی سورت ملا لیں۔(سنن نسائی:1987)

(1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7) (سورۃالفاتحہ)
،قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4) (سورۃ الاخلاص)
(سنن نسائی:1987)
3۔پھر دوسری تکبیر کہہ کر درود ابراہیمی پڑھیں۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ(سنن الکبری للبیہقی:6959)
پھر تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیےمندرجہ ذیل مسنون دعائیں کریں۔(سنن الکبری للبیہقی:6959)
«اللهُمَّ، اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ - أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ -»(صحیح مسلم:963)
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ»(سنن ابو داود:3201)
اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ»(سنن ابو داود:3202)

پھر چوتھی تکبیر کے بعدسلام پھیر دیں۔(سنن الکبری للبیہقی:6959)
ایسے امور جو کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہیں
نماز جنازہ کے فوری بعد اجتماعی دعا کرنا۔
2۔جنازہ پر پھول ڈالنا یا نقش و نگار والی چادرڈالنا ۔
3۔جنازہ پر قرآنی آیات یا کلمہ لکھی ہوئی چادر ڈالنا۔
4۔جنازہ گھر سےنکالتے وقت صدقہ و خیرات کرنا۔
5۔جنازہ اٹھانے سے پہلے اس پر ڈھائی پارے پڑھنا ۔
6۔یہ عقیدہ رکھنا کہ نیک آدمی کا جنازہ ہلکا ہوتا ہے اور گنہگار کا بھاری ہوتا ہے۔
7جنازے کو نیک لوگوں کی قبروں کا طواف کروانا ۔
 
شمولیت
جولائی 14، 2019
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
نماز جنازہ میں دعائے استفتاح پڑھنی چاہیے یا نہیں ؟
علماء کرام جواب قرآن وحدیث کی روشنی جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
 
شمولیت
اپریل 10، 2018
پیغامات
62
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
43
1۔سب سے پہلے نیت کریں جو کہ دل کے ارادے کا نام ہے۔(صحیح بخاری:1)
2۔پھر اللہ اکبر کہہ کر سورۃالفاتحہ پڑھیں اور ساتھ کوئی بھی سورت ملا لیں۔(سنن نسائی:1987)

(1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7) (سورۃالفاتحہ)
،قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4) (سورۃ الاخلاص)
(سنن نسائی:1987)
3۔پھر دوسری تکبیر کہہ کر درود ابراہیمی پڑھیں۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ(سنن الکبری للبیہقی:6959)
پھر تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیےمندرجہ ذیل مسنون دعائیں کریں۔(سنن الکبری للبیہقی:6959)
«اللهُمَّ، اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ - أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ -»(صحیح مسلم:963)
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ»(سنن ابو داود:3201)
اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ»(سنن ابو داود:3202)

پھر چوتھی تکبیر کے بعدسلام پھیر دیں۔(سنن الکبری للبیہقی:6959)
نماز جنازہ کا مکمل طریقہ درکار ہے
اس کے علاوہ مزید ؟
 
Top