1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز تراویح اور نام نہاد اہلحدیثوں کی فریب کاریاں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از بھائی جان, ‏مارچ 12، 2020۔

  1. ‏مارچ 12، 2020 #1
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    نماز تراویح اور نام نہاد اہلحدیثوں کی فریب کاریاں



    نماز تراویح ایک ایسی عبادت ہے جو تواتر سے ایک ہی طریقہ پر عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت سے اب تک چلا آرہا ہے۔
    اس میں بھی اختلاف پیدا کر دیا گیا سوچی سمجھی اسکیم کے تحت قرآن و حدیث کے نام پر۔


    قيام شہر رمضان


    صحيح ابن خزيمة

    باب: ذكر الدليل على أن قيام شهر رمضان سنة النبي صلى الله عليه وسلم
    خلاف زعم الروافض الذين يزعمون أن قيام شهر رمضان بدعة لا سنة



    قیام رمضان اور تہجد دو الگ الگ عبادات
    صحيح البخاري: كِتَاب صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ: بَاب فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ:
    وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ قَالَ عُمَرُ نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنْ الَّتِي يَقُومُونَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ


    قیام رمضان کا مسنون وقت
    سنن الترمذي: كِتَاب الصَّوْمِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: بَاب مَا جَاءَ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ:
    (1) حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنْ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَقَالَ إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنْ الشَّهْرِ وَصَلَّى بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَدَعَا أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا الْفَلَاحَ قُلْتُ لَهُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ


    عدد رکعات تراویح

    سنن البيهقي الكبرى (
    (2) عن بن عباس قال ثم كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في شهر رمضان في غير جماعة بعشرين ركعة والوتر تفرد به أبو شيبه إبراهيم بن عثمان العبسي الكوفي وهو ضعيف


    ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ میں انفراداً بیس (20) رکعات اور وتر پڑھتے تھے۔
    اس میں أبو شيبہ إبراہيم بن عثمان العبسی الکوفی متفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔

    (3) عن السائب بن يزيد قال ثم كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه في شهر رمضان بعشرين ركعة قال وكانوا يقرؤون بالمئتين وكانوا يتوكؤن على عصيهم في عهد عثمان بن عفان رضي الله عنه من شده القيام
    عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں ہم بیس رکعات (تراویح) پڑھتے تھے۔ عہدِ عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں(ایک رکعت میں) دو سو آیات پڑھتے اور شدتِ قیام کے سبب لاٹھیوں پر سہارا لیتے تھے۔

    (4) عن يزيد بن رومان قال ثم كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه في رمضان بثلاث وعشرين ركعة

    (5) أنبأ أبو الخصيب قال ثم كان يؤمنا سويد بن غفله في رمضان فيصلي خمس ترويحات عشرين ركعة

    (6) وروينا عن شتير بن شكل وكان من أصحاب علي رضي الله عنه أنه كان يؤمهم في شهر رمضان بعشرين ركعة ويوتر بثلاث

    (7) عن على رضي الله عنه قال ثم دعا القراء في رمضان فأمر منهم رجلا يصلي بالناس عشرين ركعة قال وكان علي رضي الله عنه يوتر بهم

    (8) عن أبي الحسناء ثم أن علي بن أبي طالب أمر رجلا أن يصلي بالناس خمس ترويحات عشرين ركعة وفي هذا الإسناد ضعف

    (9) عن زيد بن وهب قال ثم كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه يروحنا في رمضان يعني بين الترويحتين قدر ما يذهب الرجل من المسجد إلى سلع كذا قال ولعله أراد من يصلي بهم الترويح بأمر عمر بن الخطاب رضي الله عنه والله أعلم

    (10) عن عائشة رضي الله عنها قالت ثم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي أربع ركعات في الليل ثم يتروح فأطال حتى رحمته فقلت بأبي أنت وأمي يا رسول الله قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر قال أفلا أكون عبدا شكورا تفرد به المغيرة بن زياد وليس بالقوي وقوله ثم يتروح إن ثبت فهو أصل في تروح الإمام في صلاة التراويح والله أعلم

    ابو الخصيب قال يؤمنا سويد بن غفلة في رمضان فيصلى خمس ترويحات عشرين ركعة
    وروينا عن شتير بن شكل وكان من اصحاب على رضى الله عنها انه كان يؤمهم في شهر رمضان بعشرين ركعة ويوتر بثلاث وفي ذلك قوة
    ابى عبد الرحمن السلمى عن على رضى الله عنه قال دعا القراء في رمضان فامر منهم رجلا يصلى بالناس عشرين ركعة قال وكان على رضى الله عنها يوتر بهم وروى


    محدثین نے کم سے کم کتنی رکعات بتائیں

    قَالَ أَبُو عِيسَى: أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عشرين رَكْعَةً وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ و قَالَ الشَّافِعِيُّ وَهَكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً و قَالَ أَحْمَدُ رُوِيَ فِي هَذَا أَلْوَانٌ وَلَمْ يُقْضَ فِيهِ بِشَيْءٍ و قَالَ إِسْحَقُ بَلْ نَخْتَارُ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَاخْتَارَ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَاخْتَارَ الشَّافِعِيُّ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ إِذَا كَانَ قَارِئًا وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 08، 2020 #2
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد مین آنے والون کے لئے دلائل چھوڑے ہیں۔
    رمجان مین پہلی دفعہ تراویح اول تہائی شب تک پڑھائی تاکہ ثابت ہو جائے کہ تہجد اور تراویح دو الگ نمازیں ہیں۔
    تاکہ فتنہ پرور لوگ مضطرب اور غیر واضح روایات کے پردہ میں لوگوں کو سنت راہ سے نا ہٹا سکیں۔
    حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تینو طاق راتون میں (جیسا کہ آخری دفعہ کیا) پوری رات تراویح پڑھا دیتے تو ان مفسدین کا تدارک ممکن نا ہوپاتا۔
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 08، 2020 #3
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    پہلی دفعہ باجماعت نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اول تہائی رات تک پڑھا کر اور تہجد انفراداً پڑھ کر یہ ثابت کر دیا کہ تراویح اور تہجد دو الگ نمازیں ہیں۔
    یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں پوری رات عبادت (نماز پڑھتے) تھے سوتے نا تھے۔
     
  4. ‏مئی 08، 2020 #4
    اسرار حسین الوھابی

    اسرار حسین الوھابی رکن
    جگہ:
    منامہ، بحرین
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    100
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    تحریر: محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

    اس مختصر مضمون میں گیارہ رکعات قیامِ رمضان (تراویح) کا ثبوت اور (بعض تحقیقی اور بعض الزامی) دلائل پیشِ خدمت ہیں:

    1) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

    ’’ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علٰی احدیٰ عشرۃ رکعۃ …‘‘

    رمضان ہو یا غیر رمضان، آپ ﷺ گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔

    (صحیح بخاری ج 1ص 269 ح 2013، عمدۃ القاری ج 11 ص 128، کتاب التراویح باب فضل من قام رمضان)

    اس حدیث پر امام بخاری اور محدث بیہقی رحمہمااللہ نے قیام رمضان (اور تراویح) کے عنوانات لکھے ہیں۔ (مثلاً دیکھئے السنن الکبریٰ للبیہقی 2/ 495۔496)

    نیز بہت سے حنفی وغیر حنفی علماء نے اس حدیث سے استدلال کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس سے مراد قیامِ رمضان (تراویح) ہے۔ مثلاً دیکھئے نصب الرایہ للزیلعی (2/ 153) الدرایہ لابن حجر العسقلانی (1/ 203) عمدۃ القاری للعینی (11/ 128) فتح القدیر لابن ہمام (1/ 467) اور الحاوی للسیوطی (1/ 348)

    ایک حدیث میں آیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

    رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے …… آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے اور (آخر میں) ایک وتر پڑھتے تھے۔

    (صحیح مسلم ج 1 ص 254 ح 736)

    اس حدیث سے ثابت ہوا کہ گیارہ رکعات دو دو کر کے (2+2+2+2+2) اور آخر میں ایک وتر (کل 11) پڑھنا ثابت ہے۔

    2) سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

    رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رمضان میں نماز پڑھائی، آپ نے آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھے۔

    (صحیح ابن خزیمہ 2/ 138 ح 1070، وسندہ حسن، صحیح ابن حبان، الاحسان 4/ 62، 64 ح 2401، 2406)

    اس حدیث کے راوی عیسیٰ بن جاریہ رحمہ اللہ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہونے کی وجہ سے حسن الحدیث ہیں۔ (دیکھئے تحقیقی مقالات ج 1 ص 525۔532)

    دوسری روایت میں آیا ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

    میں نے رمضان میں آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھے اور نبی ﷺ کو بتایا تو آپ نے کچھ نہیں کہا، پس یہ رضا مندی والی سنت بن گئی۔

    (مسند ابی یعلیٰ 3/ 236 ح 1801، وسندہ حسن، مجمع الزوائد 2/ 74 وقال الہیثمی: رواہ أبو یعلیٰ و الطبرانی بنحوہ فی الأوسط و إسنادہ حسن)

    3) سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ (خلیفۂ راشد و امیر المومنین) نے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا تمیم الداری (رضی اللہ عنہما) کو حکم دیا، لوگوں کو گیاہ رکعات پڑھائیں۔ (موطأ امام مالک روایۃ یحییٰ 1/ 114ح 249، السنن الکبریٰ للبیہقی 2/ 496)

    اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی اضطراب نہیں بلکہ جب طحاوی نے اس روایت کو دو سندوں سے بیان کیا تو عینی حنفی نے کہا:

    ’’ما أخرجہ عن عمر بن الخطاب رضي اللہ عنہ من طریقین صحیحین‘‘

    جو انھوں (طحاوی) نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے دو صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔

    (نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار فی شرح معانی الآثار ج 5 ص 103)

    نیموی نے کہا: ’’و إسنادہ صحیح‘‘ (آثار السنن ص 250)

    ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ صحابی نے فرمایا:

    ہم (سیدنا) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔

    (سنن سعید بن منصور بحوالہ الحاوی للفتاوی 1/ 349 وقال السیوطی: بسند في غایۃ الصحۃ)

    دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا اُبئ بن کعب اور سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہما دونوں گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 2/ 392 ح 7670 وسندہ صحیح)

    4) طحطاوی حنفی اور محمد احسن نانوتوی نے لکھا ہے:

    ’’لأن النبي علیہ الصلٰوۃ والسلام لم یصلھا عشرین بل ثماني‘‘

    بے شک نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیس نہیں پڑھیں بلکہ آٹھ پڑھی ہیں۔

    (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار 1/ 295 واللفظ لہ، حاشیۃ کنز الدقائق ص 36 حاشیہ نمبر 4)

    5) انور شاہ کاشمیری دیوبندی نے کہا:

    ’’وأما عشرون رکعۃ فھو عنہ علیہ السلام بسند ضعیف و علٰی ضعفہ اتفاق‘‘

    اور جو بیس رکعات ہیں تو وہ آپ ﷺ سے ضعیف سند کے ساتھ (مروی) ہیں اور اس (روایت) کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔

    (العرف الشذی ج 1 ص 166)

    انور شاہ صاحب نے مزید کہا:

    اور اس بات کے تسلیم کرنے سے کوئی چھٹکارا نہیں کہ آپ علیہ السلام کی تراویح آٹھ رکعات تھی اور روایتوں میں سے کسی ایک روایت میں بھی یہ ثابت نہیں کہ آپ علیہ السلام نے رمضان میں تراویح اور تہجد علیحدہ پڑھے ہوں……

    رہے نبی ﷺ تو آپ سے آٹھ رکعات صحیح ثابت ہیں اور رہی بیس رکعتیں تو وہ آپ علیہ السلام سے ضعیف سند کے ساتھ (روایت) ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔

    (العرف الشذی ج 1 ص 166، مترجماً)

    نیز دیکھئے فیض الباری (ج 2 ص 420)

    6) ابو بکر بن العربی المالکی (متوفی 543ھ) نے کہا:

    اور صحیح یہ ہے کہ گیارہ رکعات پڑھنی چاہئیں (یہی) نبی ﷺ کی نماز اور قیام ہے اور اس کے علاوہ جو اعداد ہیں تو ان کی کوئی اصل نہیں۔

    (عارضۃ الاحوذی شرح الترمذی ج 4 ص 19)

    7) خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی نے لکھا ہے:

    ’’اور سنت مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو بالاتفاق ہے اگر خلاف ہے تو بارہ میں ہے‘‘

    (براہین قاطعہ ص 195)

    8) ابن ہمام حنفی نے کہا:

    اس سب کا حاصل (نتیجہ) یہ ہے کہ قیامِ رمضان (تراویح) گیارہ رکعات مع وتر (اور) جماعت کے ساتھ سنت ہے۔

    (فتح القدیر شرح الہدایہ ج 1 ص 407، نیز دیکھئے البحر الرائق ج 2 ص 67)

    9) دیوبندیوں کے منظورِ نظر عبد الشکور لکھنوی نے لکھا ہے:

    ’’اگرچہ نبی ﷺ سے آٹھ رکعت تراویح مسنون ہے اور ایک ضعیف روایت میں ابن عباس سے بیس رکعت بھی۔ مگر……‘‘

    (علم الفقہ ص 198، حاشیہ)

    عرض ہے کہ صحیح حدیث اور آثارِ صحیحہ کے بعد اگر مگر کی کوئی ضرورت نہیں اور صحیح حدیث پر عمل میں ہی نجات ہے۔

    10) محمد یوسف بنوری دیوبندی نے تسلیم کیا:

    پس یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ آپ ﷺ نے آٹھ رکعات تراویح بھی پڑھی ہیں۔

    (معارف السنن ج 5 ص 543 مترجماً)

    11) امام شافعی رحمہ اللہ نے بیس رکعات کو پسند کرنے کے بعد فرمایا:

    اس چیز (تراویح) میں ذرہ برابر تنگی نہیں اور نہ کوئی حد ہے، کیونکہ یہ نفل نماز ہے، اگر رکعتیں کم اور قیام لمبا ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر رکعتیں زیادہ ہوں تو بھی بہتر ہے۔

    (مختصر قیام اللیل للمروزی ص 202۔203)

    1: بعض آلِ تقلید نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’بیس رکعتیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہیں‘‘ لیکن یہ دعویٰ کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں، بلکہ ہماری پیش کردہ دلیل نمبر 3 کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

    2: بعض آلِ تقلید نے بس رکعات تراویح پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اجماع کا یہ دعویٰ باطل ہے۔ (دیکھئے میری کتاب: تعداد رکعاتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ ص 84۔87)

    3: درج ذیل حنفی اور دیوبندی علماء نے آٹھ رکعات تراویح کا سنت ہونا تسلیم کیا ہے:

    ابن ہمام، طحطاوی، ملا علی قاری، حسن بن عمار شرنبلانی۔

    محمد احسن نانوتوی، عبدالشکور لکھنوی، عبدالحی لکھنوی، خلیل احمد سہارنپوری، احمدعلی سہارنپوری، انور شاہ کاشمیری اور محمد یوسف بنوری۔

    تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب: تعدادِ رکعاتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ

    ……………… اصل مضمون ………………

    اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 5 صفحہ 167 تا 170)
     
  5. ‏مئی 14، 2020 #5
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    التاسع من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي:
    عن جابر , أن النبي صلى الله عليه وسلم «خرج ليلة في رمضان فصلى بالناس أربعة وعشرين ركعة» .
    وحدثنا ابن حيويه , عن ابن المجلد , وزاد: وأوتر بثلاث
    جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی ایک رات نکلے اور لوگوں کو چوبیس رکعات نماز پڑھائی اور تین رکعات وتر۔
    یعنی چار رکعات نماز عشاء۔ اس کے بعد بیس رکعات تراویح اور تین وتر۔
    یاد رہے کہ یہ آخری رات کا واقعہ ہی ممکن ہے۔ کیونکہ آخری دفعہ ہی وتر آخر رات میں باجماعت پڑھے گئے تھے۔


    صحيح مسلم :
    قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ»
    عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہین کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان) کے آخری عشرہ میں جس قدر کوشش (نماز میں) کرتے اتنی اس کے علاوہ میں نہیں کرتے تھے۔

    سنن النسائي :
    قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیئے ہیں اور میں نے اس کی راتےوں کے قیام کو تمہارے لئے سنت بنایا۔ جس نے روزہ رکھا اور تراویح پڑھی ایمان اور احتساب کے ساتھ تو اس سے گناہ ایسے نکل جاتے ہیں جیسے کہ وہ ابھی پیدا ہی ہؤا ہو۔

    فضائل الأوقات للبيهقي :
    عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، وَكَثُرَتْ صَلَاتُهُ
    عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جیسے ہی رمضان آتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور نماز مین اضافہ فرما دیتے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں