1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز تراویح کی رکعات کی تعداد ۔۔۔ مقلدین کے نزدیک

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از بھائی جان, ‏فروری 08، 2020۔

  1. ‏فروری 08، 2020 #1
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    نماز تراویح اور نام نہاد اہلحدیثوں کی فریب کاریاں

    دن رات صحیح بخاری کی رٹ لگانے والے صحیح بخاری کی روایت چھوڑ کر دوسری کتب کی طرف کیوں راغب ہیں؟؟؟
    صحیح بخاری کی روایت بتاتی ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے لوگوں کو جمع کیا۔
    اس صحیح روایت کو چھوڑ کر اس روایت کے پیچھے پڑ گئے جس میں دو قاریوں کے پیچھے (ابی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ تعالیٰ عنہما) جمع کرنے کا ذکر ہے۔
    اس میں ہے کہ انہیں گیارہ رکعات پڑھانے کو کہا گیا۔
    کیا کسی روایت سے ملتا ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد ہؤا؟؟؟
    کیا کسی روایت میں ہے کہ دونوں حضرات کتنی کتنی رکعات پڑھاتے تھے؟؟؟
    جبکہ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتدا میں لوگ تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں مسجد نبوی میں پڑھتے تھے۔
    ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیس رکعت تراویح پڑھانا بھی ثابت ہے۔
     
  2. ‏فروری 09، 2020 #2
    حافظ معاویہ سلفی

    حافظ معاویہ سلفی مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی، پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 14، 2019
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    جی بالکل ملتا ہے کہ اس پر ان دونوں قاری ابی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ عنھم اجمعین نے عمل بھی کیا

    چنانچہ امام ابو بکر بن شیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، أَنَّ السَّائِبَ أَخْبَرَهُ: «أَنَّ عُمَرَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيٍّ وَتَمِيمٍ فَكَانَا يُصَلِّيَانِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَقْرَآنِ بِالْمِئِينَ» يَعْنِي فِي رَمَضَانَ
    [مصنف ابن أبي شيبة ١٦٢/٢ رقم ٧٦٧١]
    [​IMG]

    یہ لیں جی آپ نے کہا کیا کسی صحیح روایت میں ہے کہ انہوں نے اس حکم پر عمل بھی کیا ؟؟

    تو اس کا جواب اس روایت سے مل گیا روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ
    فَكَانَا يُصَلِّيَانِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً
    یعنی وہ دونوں یعنی ابی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ عنھم اجمعین گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔
    معلوم ہوا کہ اس حکم پر عمل بھی ہوا ہے۔
     
    Last edited: ‏فروری 09، 2020
  3. ‏فروری 09، 2020 #3
    حافظ معاویہ سلفی

    حافظ معاویہ سلفی مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی، پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 14، 2019
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    11


    اگر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیس رکعت تراویح پڑھانا ثابت ہے؟
    تو ثابت کریں نا؟؟؟؟
    کون سی روایت میں ثابت ہے؟؟
     
  4. ‏فروری 09، 2020 #4
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    کیا دونوں گیارہ گیارہ رکعات پڑھاتے تھے یا کہ دونوں گیارہ کے عدد کو پورا کرتے تھے؟
    ثبوت کے ساتھ لکھئے گا۔
     
    Last edited: ‏فروری 09، 2020
  5. ‏فروری 09، 2020 #5
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیس رکعات تراویح پڑھانا
    ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رمضان میں مسجد نبوی میں بیس رکعات تراویح اور تین وتر پڑھایا کرتے تھے۔
    مصنف ابن أبي شيبة: كَمْ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ
    حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَسَنٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: «كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِالْمَدِينَةِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ»
     
  6. ‏فروری 09، 2020 #6
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    لأحاديث المختارة = المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما :
    أخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أُبَيًّا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّهَار وَلَا يحسنون أَن (يقرؤا) فَلَوْ قَرَأْتَ الْقُرْآنَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا (شَيْءٌ) لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّهُ أَحْسَنُ فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة (إِسْنَاده حسن)
     
  7. ‏فروری 09، 2020 #7
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    اس گیارہ رکعات پر عمل کو کس نے اور کب ترک کیا؟
    ثبوت کے ساتھ بتائیے گا۔
     
  8. ‏فروری 09، 2020 #8
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    نماز تراویح اور نام نہاد اہلحدیثوں کی فریب کاریاں
    گیارہ کے عدد کے لئے نام نہاد اہلحدیثوں نے صحیح بخاری کو چھوڑ دیا۔
    مگر یہ گیارہ کا عدد بھی ان کے گلے کا ہار بننے کی بجائے ان کے گلے اٹکے گا۔
    آئیے دیکھیں وہ کیسے؟
    یہ کہتے ہیں تراویح آٹھ رکعات ہے۔
    اگر تہجد اور تراویح کو ایک ہی نماز سمجھا جائے تو وتر کو شامل کرکے گیارہ رکعات بنتی ہیں تو وتر تین ثابت ہوئے۔
    صحیح بخاری کی روایت سے بھی سارا سال (رمضان و غیر رمضان) وتر تین ثابت ہوئے۔
    تراویح کو گیارہ ثابت کرنے کے لئے صحیح بخاری کو چھوڑا۔
    وتر تین سے اعراض کے لئے اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو چھوڑا۔
     
  9. ‏فروری 09، 2020 #9
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    اصول حدیث سے دو آدمیوں پر جمع کرنے والی حدیث شاذ کہلائے گی کہ وہ صحیح بخاری کی صحیح حدیث (جس میں ایک آدمی ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جمع کیا ) کے مخالف ہے۔
     
  10. ‏فروری 09، 2020 #10
    حافظ معاویہ سلفی

    حافظ معاویہ سلفی مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی، پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 14، 2019
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    روایت مذکور کا جواب


    اس روایت میں علت یہ ہے کہ یہ روایت منقطع ہے کیوں کہ عبد العزیز بن رفیع نے ابی بن کعب کا دور نہیں پایا اور جب دور نہیں پایا تو ظاہر سی بات ہے کہ ان سے کچھ سنا بھی نہیں ہے۔ لہذا روایت منقطع ہے۔
    ذیل میں ہم اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔

    امام بخاری رحمہ اللہ عبد العزیز بن رفیع کے تعلق سے کہتے ہیں کہ:
    "قال محمد بن حميد عن جرير: أتي عليه نيف وتسعون سنة"
    جریر نے کہا کہ عبد العزیز بن رفیع نے نوے سال سے زائد عمر پائی ہے۔
    [التاریخ الکبیر للبخاری ۱۱/۶]
    PicsArt_02-09-07.49.42.png


    امام ابن حبان فرماتے ہیں کہ:
    "مات بعد الثلاثين ومائة "
    یعنی عبد العزیز بن رفیع کی وفات ۱۳۰ھ کے بعد ہوئی۔
    [الثقات لابن حبان ۱۲۳/۵]
    PicsArt_02-09-08.01.57.png


    یعنی اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ عبد العزیز بن رفیع نے 90 سال کی عمر پائی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی وفات 130 ہجری میں ہوئی ہے تو اس حساب سے ان کی پیدائش بنتی ہے 40 ہجری کے قریب قریب ہوئی ہے کیوں کہ 130 ہجری سے 90 سال پیچھے آیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 40 ہجری یا 39 ہجری یا اسی کے قریب قریب عبد العزیز بن رفیع کی پیدائش ہوئی۔

    جبکہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی وفات 30ھ میں ہوئی ہے۔
    چنانچہ امام ابو نعیم الاصبھانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
    ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی وفات میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں 22 ہجری میں ان کی وفات ہوئی اور بعض کہتے ہیں عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں 30ھ میں ان کی وفات ہوئی اور یہیں بات صحیح ہے کیوں کہ زر بن حبیش نے عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان سے ملاقات کی۔
    [معرفۃ الصحابۃ لأبی نعیم ۲۱۴/1]
    JointPics_20200209_204810.JPG

    معلوم ہوا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی وفات تو 30 ہجری میں ہو چکی تھی۔ اسی بات کو امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
    جبکہ عبد العزیز بن رفیع کی وفات 40ھ یا 39ھ یا اسی کے قریب قریب ہوئی تھی
    تو گزشتہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ عبد العزیز بن رفیع نے ابی بن کعب کا زمانہ نہیں پایا اور جب زمانہ نہیں پایا تو ظاہر ہے کہ ان سے کچھ سنا بھی نہیں ہے لہذا زیر بحث روایت منقطع ہے۔

    تو اس کو اس صحیح روایت کے خلاف بھلا کیسے حجت بنایا جا سکتا ہے جس میں گیارہ رکعت کی تعداد مذکور ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں