• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا؟

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
مساجد میں بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نماز میں رکوع کے بعد ہاتھوں کو کھلا چھوڑنے کے بجائے ان کو باندھ لیتے ہیں، کیا ان کا یہ عمل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ؟عرب ممالک میں تو اکثر لوگ اسی طرح کرتے ہیں ، یہ مسئلہ بھی علما ے کرام کے نزدیک مختلف فیہ ہے ۔ ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس بارے میں اپنی آرا سے مستفید فرمائیں
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
نماز میں رکوع کے بعد ہاتھوں کو دوبارہ باندھ لیا جائے یا اُنہیں اپنی اصل فطری حالت پر چھوڑ دیا جائے؟ جمہور علماے اہل حدیث رکوع کے بعد ہاتھوں کو دوبارہ باندھنے کے قائل نہیں ہیں ،جبکہ بعض علماے اہلِ حدیث رکوع کے بعد ہاتھوں کو دوبارہ باندھنے کے قائل ہیں۔ قائلین میں استادِ محترم علاّمہ سید بدیع الدین شاہ راشدی ؒ ہیں ،آپ نے ا س سلسلہ میں کچھ رسائل بھی لکھے ہیں، اسی طرح دوسرے علما میں سے شیخ مفتی اعظم علامہ عبد العزیز بن بازؒ ہیں، دوسرے گروہ میں کچھ علماے اہلِ حدیث نے ہاتھوں کو دوبارہ باندھنے کے رد میں کچھ رسائل لکھے ہیں جن میں شاہ صاحب کے بڑے بھائی استادِ محترم شیخ علامہ سید محب اﷲ شاہ راشدی ؒ ہیں۔آپ نے اس مسئلہ کے ردّ میں کئی رسائل تحریر فرما ئے ہیں، علاوہ ازیں اس مسئلہ کے رد میں لکھنے والوں میں شاہ صاحب کے استادِ محترم علامہ حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ (المتوفی۱۳۸۳ھ)، محترم شیخ پروفیسر عبداللہ بہاولپوریؒ، محترم ابو عمّار محمد ایوب بن عبدالغفار ﷾ساکن حیدرآباد سندھ، محترم قاری خلیل الرحمٰن جاوید﷾ ، شیخ عبدالقادر حصاری،شیخ عبدالمنان نور پوری ، اور شیخ خواجہ قاسم وغیرہ ہیں۔ علامہ ناصر الدین ا لبانی ؒ نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کے عمل کو غیر ثابت قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے اور جمہور علماےاہلِ حدیث کا عمل بھی رکوع کے بعد ارسال الیدین ہی ہے۔
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
ایک صدی قبل کے اہل حدیث اسلاف میں سے کسی ایک کا نام بتایا جاسکتا ہے کہ وہ اس قیام میں وضع پر عمل کرتے تھے؟اگر اس کا کوئی عملاً قائل نہیں تھا تو کیوں نہیں تھا؟
وہ احادیث جن سے واضعین نے بعد الرکوع قیام میں وضع پر استدلال کیا ہے اسلاف میں سے کسی نے ان احادیث سے اس مسئلہ پر استدلال کیا ہے؟ اگر کسی سے اس کا ثبوت ہے تو پیش کریں؟
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
اس موضوع کے متعلق فورم پر تقریبا ڈیڑھ سال پہلے کافی لمبی ’’ لڑی ‘‘ چلتی رہی ہے ۔ اب اس کا لنک یاد نہیں ۔ شاید محمد ارسلان بھائی نے مولانا عبد الوکیل صدیقی رحمہ اللہ کا کوئی مضمون شاملِ فورم کیا تھا جس کے بعد بحث طول اختیا کرگئی تھی ۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
Imaam Ahmed bin Hanbal was asked, should the hands be tied after ruku or not?, so he replied: "I hope
there is no constriction in it, Inshallah" [Masaail Ahmed by Saalih bin Ahmed bin Hanbal: 615]

سابقہ جواز کہاں پڑھا تھا اب یاد نہیں۔مگر یہ دیکھیں۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
اس موضوع کے متعلق فورم پر تقریبا ڈیڑھ سال پہلے کافی لمبی ’’ لڑی ‘‘ چلتی رہی ہے ۔ اب اس کا لنک یاد نہیں ۔ شاید محمد ارسلان بھائی نے مولانا عبد الوکیل صدیقی رحمہ اللہ کا کوئی مضمون شاملِ فورم کیا تھا جس کے بعد بحث طول اختیا کرگئی تھی ۔
خضر بھائی! مجھے خود بھی یاد نہیں، لیکن میں نے جہاں تک سنا ہے وہ یہی ہے کہ دونوں طریقوں سے ٹھیک ہے۔
رفیق طاھر بھائی نے اس موضوع پر بات کی تھی، اور انہوں نے صحیح بخاری کی ایک حدیث سے استدلال کیا تھا کہ ہاتھوں کو کھلا چھوڑ دینا چاہئے۔
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
میں نے پڑھا ہے کہ دونوں صورتوں میں جائز ہے۔
واللہ اعلم
علامہ البانی صاحب نے تو اس کو بدعت قرار دیا ہے،چناں چہ وہ صفۃ الصلاہ میں رقم طراز ہیں :
"ولست أشك في أن وضع اليدين على الصدر في هذا القيام- يعني بذلك: القيام بعد الركوع- بدعة ضلالة؛ لأنه لم يرد مطلقا في شيء من أحاديث الصلاة وما أكثرها، ولو كان له أصل لنقل إلينا ولو عن طريق واحد، ويؤيده أن أحدا من السلف لم يفعله ولا ذكره أحد من أئمة الحديث فيما أعلم"
‘"مجھے اس بارے میں بالکل بھی شک نہین ہے کہ اس قیام میں ہاتھوں کو سینے پر باندھنا (رکوع کے بعد) یہ بدعت ہے،کیوں کہ اس بارے میں مطلقا کوئی حدیث وارد نہین ہوئی ہے،اگر اس بارے میں کوئی ایک بھی چیز منقول ہوتی تو ہم تک ضرور پہنچتی ، اور اس کو بدعت کہنے کی تایید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس بارے میں میرے عمل کے مطابق ائمہ حدیث نے کوئی بھی چیز ذکر نہین کی ہے۔" (صفۃ الصلاۃ: 109
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
علامہ البانی صاحب نے تو اس کو بدعت قرار دیا ہے،چناں چہ وہ صفۃ الصلاہ میں رقم طراز ہیں :
"ولست أشك في أن وضع اليدين على الصدر في هذا القيام- يعني بذلك: القيام بعد الركوع- بدعة ضلالة؛ لأنه لم يرد مطلقا في شيء من أحاديث الصلاة وما أكثرها، ولو كان له أصل لنقل إلينا ولو عن طريق واحد، ويؤيده أن أحدا من السلف لم يفعله ولا ذكره أحد من أئمة الحديث فيما أعلم"
‘"مجھے اس بارے میں بلکل بھی شک نہین ہے کہ اس قیام میں ہاتھوں کو سینے پر باندھنا (رکوع کے بعد) یہ بدعت ہے،کیوں کہ اس بارے میں مطلقا کوئی حدیث وارد نہین ہوئی ہے،اگر اس بارے میں کوئی ایک بھی چیز منقول ہوتی تو ہم تک ضرور پہنچتی ، اور اس کو بدعت کہنے کی تایید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس بارے میں میرے عمل کے مطابق ائمہ حدیث نے کوئی بھی چیز ذکر نہین کی ہے۔" (صفۃ الصلاۃ: 109
حافظ عمران بھائی! آپ عالم دین ہیں۔ ماشاءاللہ
آپ اس موضوع پر مزید تحقیق پیش کریں۔
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
Imaam Ahmed bin Hanbal was asked, should the hands be tied after ruku or not?, so he replied: "I hope
there is no constriction in it, Inshallah" [Masaail Ahmed by Saalih bin Ahmed bin Hanbal: 615]

سابقہ جواز کہاں پڑھا تھا اب یاد نہیں۔مگر یہ دیکھیں۔
وہ یہ ہے :
فقد نقل المرداوي صاحب الإنصاف عن الإمام أحمد قوله: إذا رفع رأسه من الركوع إن شاء أرسل يديه وإن شاء وضع يمينه على شماله.
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اور ان کے بعد اس مسئلے کے بارے کسی سے بھی کوئی چیز منقول نہین ہے
 
Top