1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز کی حفاظت و پابندی کے متعلق مسند احمد کی ایک حدیث کی تحقیق

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏اگست 31، 2018۔

  1. ‏اگست 31، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم بھائی @mrs khan
    نے سوال کیا ہے کہ :
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2073
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

    حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَلَا نَجَاةٌ وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ
    حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جو شخص اس کی پابندی کرے گا تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن روشنی ، دلیل اور نجات کا سبب بن جائے گی اور جو شخص نماز کی پابندی نہیں کرے گا تو وہ اس کے لئے روشنی دلیل اور نجات کا سبب نہیں بنے گی اور وہ شخص قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔

    اس حدیث کی صحت بتادیں پلیز
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    امام احمد بن حنبلؒ مسند میں روایت کرتے ہیں :
    حدثنا أبو عبد الرحمن، حدثنا سعيد، حدثني كعب بن علقمة، عن عيسى بن هلال الصدفي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه: ذكر الصلاة يوما فقال: " من حافظ عليها كانت له نورا، وبرهانا، ونجاة يوم القيامة، ومن لم يحافظ عليها لم يكن له نور، ولا برهان، ولا نجاة ، وكان يوم القيامة مع قارون، وفرعون، وهامان، وأبي بن خلف " (مسند احمد 6576 )
    سیدنا
    عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے تو یہ نماز اس کے لئے نور، برھان اور قیامت کے دن نجات کا ذریعہ ہو گی۔ جو حفاظت نہ کرے گا تو یہ نماز نہ تو اس کے لئے نور بنے گی نہ دلیل اور نہ باعث نجات ہو گی بلکہ بے نمازی قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان، ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا‘‘۔ (مسند احمد، ابن حبان)

    قال الامام المنذري في الترغيب والترهيب :روَاهُ أَحْمد بِإِسْنَاد جيد وَالطَّبَرَانِيّ فِي الْكَبِير والأوسط وَابْن حبَان فِي صَحِيحه "
    یعنی علامہ منذری رحمہ اللہ "الترغيب والترهيب " میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو امام احمدؒ نے مسند میں "جید یعنی عمدہ " اسناد سے روایت کیا ہے "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور شیخ زبیر علی زئیؒ کے نزدیک بھی اس کی سند حسن ہے
    مشکاۃ کی تحقیق و تخریج میں لکھتے ہیں :(حسن ،مسند احمد 2/169 عیسیٰ بن ہلال جمہور کے نزدیک ثقہ ہے ،الدارمی کتاب الرقاق باب فی المحافظۃ علی الصلاۃ ح2724 )
    دیکھئے "انوار المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد اول صفحہ323
    https://archive.org/stream/AnwarUlM...sabih-Shrah-MishkatulMasabih-Jild-1#page/n325
    ــــــــــــــــــــــــــــ
    اور مسند امام احمدؒ کی تعلیق وتحقیق میں علامہ شعیب الارناؤط اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :
    اس کی اسناد حسن ہے ،اور امام ھیثمیؒ "مجمع الزوائد " میں فرماتے ہیں کہ مسند احمد میں اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں "
    مسند احمد میں علامہ شعیب الارناؤط ؒ کا مکمل کلام یہ ہے :

    إسناده حسن، عيسى بن هلال: روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات" 5/213، وذكره الفسوي في "تاريخه" 2/515 في ثقات التابعين من أهل مصر، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير كعب بن علقمة، فمن رجال مسلم. أبو عبد الرحمن: هو عبد الله بن يزيد المقرىء، وسعيد: هو ابن أبي أيوب.
    وأخرجه عبدُ بنُ حميد في "المنتخب" (353) ، والدارمي 2/301-302، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (3181) ، وابن حبان (1467) من طريق عبد الله بن يزيد، بهذا الإسناد.
    وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (1788) من طريق ابن ثوبان، عن سعيد بن أبي أيوب، به.
    وأخرجه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (3180) من طريق عبد الله بن وهب، عن ابن لهيعة وسعيد بن أبي أيوب، عن كعب، به.
    وأورده الهيثمي في "المجمع" 1/292، وقال: رواه أحمد والطبراني في "الكبير" و"الأوسط" ورجال أحمد ثقات.


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب حدیث میں موجود ہے :

    رواه أحمد (2/196) وفي السنة [782]
    وعبد بن حميد في (المنتخب) [353 تحقيقي]
    والدارمي [2721] والطحاوى في (مشكل الآثار) (4/229)
    وابن حبان [1467]
    والطبراني في (الكبير) (13/67/163) وفي (الأوسط) [1767]
    وفي (مسند الشاميين) [245]
    وابن نصر في (تعظيم قدر الصلاة) [53]
    والبيهقي (شعب الإيمان) (3/46)
    وابن شاهين في (الترغيب) [59] والأصبهاني [1933]
    والأجري في (الشريعة) [298 ، 299 قرطبة]
    وابن بطة في (الإبانة) [895]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏اگست 31، 2018
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  2. ‏اگست 31، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    نماز کی حفاظت و پابندی کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (238)
    اپنی نمازوں کی حفاظت کرو ، اور بالخصوص بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے حضور پر سکون اور خشوع کے ساتھ کھڑے ہو ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    توضیح :
    دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرض نمازوں کے اہتمام کی تاکید فرمائی ہے، پانچوں نمازوں کی بالعموم اور نماز وسطی کی بالخصوص، نمازوں کی محافظت اور اہتمام کا مفہوم یہ ہے کہ نمازیں مسنون اوقات میں پڑھی جائیں، اور شروط و ارکان، خشوع و خضوع اور تمام واجبات و مستحبات کا خیال رکھتے ہوئے پڑھی جائیں۔ اور اگر آدمی کو کوئی خطرہ در پیش ہو، چاہے دشمن سے یا جانور سے، تو چلتے ہوئے نماز پڑھ لے، یا سواری پر پڑھ لے، ایسی حالت میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں، اور جب خطرہ زائل ہوجائے تو مکمل نماز پڑھے،
    یعنی تمام ارکان، واجبات اور مستحبات وغیرہ کی رعایت کر کے نماز پڑھے۔ صلاۃ وسطی، کی تفسیر میں علماء کے کئی اقوال ہیں، لیکن محدثین کے نزدیک اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔
    صحیحین میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے دن کہا کہ اللہ تعالیٰ ان (کفار ومشرکین )کے دلوں اور گھروں کو آگ سے بھردے، جس طرح انہوں نے ہمیں صلاۃ وسطی سے مشغول کردیا۔ یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا۔
    ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے ہمین صلاۃ وسطی عصر کی نماز سے مشغول کردیا۔
    مسند احمد میں سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی ) پڑھا اور ہمیں نام لے کر بتایا کہ وہ عصر کی نماز ہے۔
    امام ابن جریر نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ صلاۃ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔
    (منقول از تیسیرالرحمن )
     
    Last edited: ‏اگست 31، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں