• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نیا سال اور فکرآخرت

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
20
بسم اللہ الرحمن الرحیم



نیا سال اور فکرآخرت​


الحمد للہ رب العالمین الصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم امابعد:


محترم قارئین!!

اس دنیا وی زندگی کے اندررب العالمین نے ہمیں بے شمار اور ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے ،رب العالمین کی تمام نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت وقت ہےیہی وجہ ہے کہ رب العالمین نے اپنی کلام پاک کےاندر جگہ جگہ پر وقت کی قسم کھائی ہے ،کہیں رب العالمین نے دن و رات کی قسم کھائی اور کہا کہ :’’ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى ‘‘ قسم ہے رات کی جب وہ چھاجائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہوجائے،(اللیل:1-2)اور کہیں پر رب ذوالجلال والاکرام نے کہا کہ ’’ وَالْفَجْرِ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ ‘‘ قسم ہے فجر کی اور قسم ہے دس راتوں کی۔(الفجر:1-2) کہیں پر رب العالمین نے یہ کہا کہ ’’ وَالضُّحَى ، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى ‘‘ قسم ہے چاشت کے وقت کی اور قسم ہے رات کی جب وہ چھاجائے۔(الضحی:1-2) ان تمام آیتوں کے اندر رب ذوالجلال والاکرام نے وقتوں کی قسم کھا کر ہمیں متنبہ کردیا ہے کہ دیکھو خبردار وقت سے فائدہ اٹھا لینا،وقت رہتے دنیا ہی میں اپنی آخرت کے لیے کچھ کرلینا کیونکہ گیا وقت پھر لوٹ کرکے نہیں آتا ہے،یہ وقت تمہیں آخرت کو بنانے کے لیے دی گئی ہے ،آج جیسا بوؤگے کل آخرت میں وہی کاٹو گے فرمان باری تعالی ہے ’’ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ، وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى ، ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَى ‘‘ خبردار!! ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ہوگی،اور اپنی تمام کوششوں کو وہ ضرور بالضرور دیکھ لے گا،پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔(النجم:39-41)

ہائے افسوس !! آج کا مسلمان سال کے ختم ہونے پر جشن مناتا ہے جب یہ زندگی کے اوقات ایک نعمت ہے تو نعمت کے کم ہونے پر جشن نہیں بلکہ افسوس ہونی چاہیئے تھی ،کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے

نادان کہہ رہے ہیں نیاسال مبارک​

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک سال کا ختم ہونا ہر انسان کے لیے ایک پیغام ہے کہ تمہارے زندگی سے اور تمہاری عمر سے ایک سال کم ہوگئے،پہلے کے بنسبت اب تم اور بھی اپنی موت اور اپنی قبر کے قریب ہو چکے ہومگر انسان غفلت میں ہے،ایسے ہی خواب غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو قرآن یہ باخبر کررہا ہے کہ ’’ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ ، مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ، لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ‘‘ یعنی کہ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وہ بے خبری میں منہ پھیرے ہوئے ہیں،ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے اسے وہ کھیل کو د میں ہی سنتے ہیں ان کے دل بالکل غافل ہیں۔(الانبیاء:1-2) قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ جیسے جیسے وقت گذرتا جاتا ہے ویسے ویسے ایک انسان اپنی موت اور اپنی قبر اور اپنی آخرت کے قریب ہوتا جاتا ہے،اب ذراسوچئے کہ جب ایک سال کے گذرنے پر ایک انسان اپنی موت اور اپنی قبر کے اور قریب ہوگیا تو پھر خوشی کس بات کی؟جشن کس بات کی؟

کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی

گَردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی​

محترم قارئین!ایک سال کے گذرنے سے صرف ہم ہی نہیں موت اور قبرکے قریب ہوگئے ہیں بلکہ یہ دنیا بھی اب اختتام ہونے کو ہے ،جس طرح سے آج ہم سب نے اپنی زندگی کی زیادہ بہاریں ختم کرلی ہیں ٹھیک اسی طرح سے یہ دنیا بھی اپنی عمر کے اکثر وبیشتر حصے کو ختم کرچکی ہے ،اب دنيا ميں سوائے شر،آفت ومصیبت کے کچھ بھی نہیں بچا ہے میرے دوستو جیسا کہ فرمان مصطفیﷺ ہے ’’ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ الدُّنْيَا كُلَّهَا قَلِيلًا وَمَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا الْقَلِيلُ مِنَ الْقَلِيلِ وَمَثَلُ مَا بَقِيَ مِنْهَا كَالثَّغْبِ شُرِبَ صَفْوُهُ وَبَقِيَ كَدَرُهُ ‘‘ یعنی کہ اللہ نے دنیا کو بہت تھوڑا بنایا ہے اور اب جو کچھ بھی دنیا باقی ہے وہ بہت تھوڑا باقی ہے اور اب دنیا میں جو کچھ بھی بچا ہے اس کی مثال ایک ایسی تالاب سی ہے جس کا صاف وشفاف پانی پی لیا گیا ہو اور گدلا پانی بچا ہو۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:1625)

محترم بزرگو اور دوستو!!جب ہمارے نبی اکرم و مکرمﷺ کا یہ اعلان ہے کہ دنیا اب بہت تھوڑی سی بچی ہے تو کیوں نہ ہم اپنی آخرت کی فکر کریں کیونکہ ہرآنے والا سال ،ہر آنے والا مہینہ،ہرآنے والا دن ، ہرآنی والی رات اور ہر آنے والا ہر لمحہ اور ہرلحظہ ہمیں یہ باخبر کرتی ہے کہ اے انسان اپنی عمر کو تو دیکھ بزبان شاعر:

ہورہی ہے عمر مثل برف کم

چپکے چپکے،لمحہ لمحہ،دم بہ دم​

اسی لئے اے لوگو!زمانے کے حوادثات اور واقعات سے کچھ تو عبرت پکڑواورکچھ تو اپنی آخرت کی فکرو!اسی سلسلے میں سیدنا علیؓ نے کیا ہی خوب نصیحت کی کہ اے لوگو سنو!! ’’ اِرْتَحَلَتِ الدُّنْيَا مُدْبِرَةً وَارْتَحَلَتِ الآخِرَةُ مُقْبِلَةً ‘‘ دنیا دن بدن ختم ہوتی جارہی ہے اور آخرت سامنے آرہی ہےاور ہاںسنو !’’ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ ‘‘ انسانوں میں دنیا و آخرت دونوں کو چاہنے والے ہیں مگر تم ’’ فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الآخِرَةِ وَلاَ تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا ‘‘ آخرت کے چاہنے والے بنو دنیا کے چاہنے والے نہ بنو کیونکہ ’’ فَإِنَّ اليَوْمَ عَمَلٌ وَلاَ حِسَابَ وَغَدًا حِسَابٌ وَلاَ عَمَلٌ ‘‘ کیونکہ آج تو صرف عمل کرنے کا موقع ہے اور حساب وکتاب کا وقت نہیں ہے اور کل تو ایک ایسا دن آئے گا جس دن صرف حساب وکتاب ہوگا اور عمل کرنے کا موقع نہ دیا جائے گا۔(بخاری،کتاب الرقاق ،باب فی الامل وطولہ ) کتنی پیاری نصیحت ہے کہ دنیا تو بس ختم ہونے کے کگار پر ہے لہذا خوب جی بھر کے نیکیاں کمالو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل تمہیں پچھتانا پڑے ،ہمارا رب بھی ہمیں بڑے ہی پیار اور والہانہ انداز میں یہ کہہ رہاہے کہ اے میرے بندو! ’’ وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ ، وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ‘‘ تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کے فرمان کے مطابق زندگی گذارتے رہو اس سے پہلے کہ تمہارے پاس عذاب آجائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اور قرآن وحدیث کی پیروی کرتے رہا کرو اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ملے اور پھر تمہارے زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ ہائے افسوس! ’’ أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَاحَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ ، أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ، أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ‘‘ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں سے تھا،اگر اللہ مجھے بھی ہدایت وتوفیق دیتا تو میں بھی نیک ومتقی بن جاتا تھا ،کاش کہ دنیا میں مجھے پھر سے لوٹا دیا جاتا تو میں بھی خوب نیکیاں کرکے نیک لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا۔(الزمر:55-58)

محترم بزرگو اوردوستو!!جب ہمارا یہ ایمان ہے اور یہ امر مسلم ہے کہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ یہ موقع اور چانس نہیں دیا جائے گا کہ وہ دنیا میں جاکر نیکیاں کرکے آئے تو پھر ہم کس بھروسے اپنی آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں؟ہم اللہ کی عبادت وبندگی سے کیوں دور ہیں؟ جب ہمارا یہ ماننا ہے کہ ہمیں اپنے رب کے حضور منہ دکھانی ہے تو کیوں ہم نماز سےدور ہیں،آخرت کے معاملات کو ہم نے کیوں پس پشت ڈال دیا ہے،آج دنیا کے معاملات میں ہم بہت چالاک ہیں اور وقت آنے سے پہلے ہی ہم ہر چیز کی تیاری کر لیتے ہیں،مگر جب آخرت کی بات آتی ہے ،جنت کی پانے کی بات آتی ہے، جہنم سے بچنے کی بات آتی ہے توہم فورا یہ کہہ دیتے ہیں کہ ابھی ہمیں کون سا مرنا ہے! ابھی تو ساری عمر باقی ہے ! ابھی تو میں جوان ہوں!جو ہوگا دیکھا جائے گا!جو دوسروں کے ساتھ ہوگا وہی میرے ساتھ ہوگا!آخری عمر میں توبہ کرلیں گے! جب ریٹائرڈ ہوں گے تو نمازی بن جائیں گے غرض کہ سالہاسال گذرتے جارہے ہیں مگر ہم اپنے رب کی طرف نہیں آرہے ہیں،ہرجمعہ کے دن ہم یہ کہتے ہیں کہ اگلے جمعہ سے ہم پانچوں وقت کی نماز پڑھیں گے،رمضان آیاتو میں نمازی بن جاؤں گا،مہینے گذرتے جارہے ہیں،دن گذرتے جارہے ہیں اور ہم اپنی قبر کے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں ، موت ہمارے سر پہ کھڑی ہے مگر ہم نے اپنے آپ کوجھوٹی تسلیوں،جھوٹی امیدوں اور جھوٹی آرزؤں میں الجھا ئے رکھا ہے،پیارےحبیب ﷺنے کیا ہی بہترین مثال دے کر اور نقشہ کھینچ کرہمارے آرزؤں اور امیدوں کا حال بیان کردیا ہےجیساکہ ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ایک مرتبہ مربع لکیر کھینچی اور اس کے درمیان میں ایک اور لکیر کھینچی جو مربع لکیر سے باہر نکلی ہوئی تھی اور پھر اس درمیانی لکیر کے ارد گرد پہلو میں چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچی اور پھر فرمایا کہ دیکھو یہ لمبی لکیر انسان ہے اور یہ مربع لکیریں اس کی موت ہیں جو اسے چارو ں طرف سے گھیریں ہوئی ہیں ،اور یہ جو بیچ کی لکیر سے باہر نکلی ہوئی لکیر ہے وہ ایک انسان کی آرزوئیں اور امیدیں ہیں اور چھوٹے چھوٹے جو خطوط ہیں وہ اس کو پیش آنے والے دنیای حادثات وپریشانیاں ہیں،پس ایک انسان ایک مشکل سے بچ کر نکلتا ہے کہ دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتاہے کہ تیسری میں پھنس جاتا ہے اور اس طرح سے آرزؤں اور امیدوں میں گھرا رہتا ہے کہ موت اسے آ لیتی ہے اور وہ مرجاتا ہے۔(بخاری:6417)مذکورہ بالا تمثیلات کو سمجھنے کے لیے نیچے دیئے گئے نقشے کو بغور ملاحظہ کیجئے:


اسی لیے میرے دوستوں امیدوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آئیں، کیا صرف امید لگاکر بیٹھ جانے سے ہم اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پوری کرسکتے ہیں؟ہرگز نہیں ،بلکہ ہم اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے جی توڑ محنت کرتے ہیں،صبح وشام خون پسینہ ایک کرتے ہیں تب جاکر ہماری تھوڑی بہت ضرورتیں پوری ہوتی ہیں تو پھر ذرا یہ سوچئے کہ جب ہم صرف امیدوں سے اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پوری نہیں کرسکتے ہیں تو پھر آخرت میں ہم کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں؟اور اگر ہم صرف امید پر جی رہے ہیں تو پھر ہم سے بڑا ناداں اور ہم سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں اس جہاں میں یہی وجہ ہے کہ جب ایک انصاری صحابی نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی اکرم ومکرﷺ ’’ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ ‘‘ مومنوں میں سب سے افضل مومن کون ہوتا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ :’’ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ‘‘ جس کا سب سے اچھااخلاق ہو وہ سب سے افضل اور بہتر مومن بندہ ہے،پھر انہوں نے سوال کیا کہ اے اللہ کہ نبی اکرم ومکرﷺ اچھا یہ بتلائیں کہ ’’ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ ‘‘ چالاک مومن کون ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ :’’ أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا، وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا، أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ ‘‘ وہ مومن چالاک ہے اور ایسے لوگ بہت ہی زیادہ عقلمند ہیں جو اپنی موت کو یاد رکھے اور پھر موت کے بعد آنے والی زندگی آخرت کے لیے اچھی طرح سے تیاری کرے۔(ابن ماجہ:4259 وحسنہ الالبانیؒ)اس حدیث کو سن کرکے اب ہم فیصلہ خود کرلیں کہ ہم عقلمند ہیں یا پھر بیوقوف؟؟

میرے محترم بزرگوں اور دوستوں ایک بات یادرکھنا کہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں کسی کی آرزو پوری نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی پوری ہوسکتی ہے نہ بادشاہ کی اور نہ ہی پیر وفقیر کی اس کے بالمقابل جنت ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہرایک کی ہرخواہش وآرزو پوری ہوسکتی ہے اور ہوگی جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے کہ اے انسانوں یادرکھنا:’’ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ‘‘ جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ بھی تم مانگو گے سب کچھ تمہارے لیے جنت میں موجود رہے گا۔(فصلت:31) اسی لیے دنیا میں آخرت کے لیے جیو ،جتنا ہوسکے ابھی نیک اعمال کر لو،جھوٹی امیدوں کے سہارے نہ رہا کرو ،دنیا کے پیچھے جتنا بھاگوگےیہ دنیا تمہیں اتنا ہی رلائے گی کسی عربی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے:

هِيَ الدُّنْيَا تَقُوْلُ بِمِلْءِ فِيْهَا ... حَذَارِ حَذَارِ مِنْ بَطْشِيْ وَ فَتْكِيٌ

فَلَا يَغْرُرْکُمْ مِنِّيْ اِبْتِسَامٌ ... فَقَوْلِيْ مُضْحِكٌ وَالْفِعْلُ مَبْكِيٌ

یعنی کہ یہ دنیا لوگوں سے کہتی ہے کہ اے دنیا کےاندر رہنے والو!میری پکڑ اور میری گرفت سے بچو،یہ دنیا کی چمک دھمک کہیں تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے،خبرداریاد رکھنا! میری باتیں تو ہنسادینے والی ہوتی ہیں مگر انجام تورلادینے والی ہوتی ہیں،یقیناجو آخرت کو بھلا کردنیا کے پیچھے بھاگے گا وہ ایک دن بہت پچھتائے گا اور اپنے آپ کو کوسے گا کہ کاش میں نے کچھ نیکیاں کی ہوتی تو آج میرا یہ انجام نہ ہوتا۔آج ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن رہے ہیں،اور ہماری زندگی کا مقصد صرف دنیا ہے ،ہماری صبح بھی دنیا کے فکر میں ہوتی ہے اور شام بھی دنیا کے ہی فکر میں ہوتی ہیں جبکہ یہ دنیا کسی کی نہیں ہم میں سے ہر ایک شخص وفرد کو یہ دنیا چھوڑ کرایک نہ ایک دن چلے جانا ہے،آج ہم دنیا کے اتنے دلدادہ ہوگئےکہ ہمیں ہرچیز میں دنیا نظر آتی ہے جب کہ ہمارے اسلاف کرام دنیا سے کتنے بے رغبت تھے اس کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے :

خلیفہ ہشام بن عبدالملک یہ ایک بار حج کے لیے آئے ہواتھا دورانِ طواف اس نے دیکھا کہ سالم بن عبداللہ بن عمرؓ بھی حج کو آئے ہوئے ہیں،معمولی کپڑا پہنے ہوئے ہیں اورجوتااپنے ہاتھ میں لے کرطواف کررہے ہیں ،یہ دیکھ کر خلیفہ ہشام نے کہاکہ ’’ سَلْنِیْ حَاجَۃً ‘‘ کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے ؟تو سالم بن عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ ’’ إِنِّیْ لَأَسْتَحْیِیْ مِنَ اللّٰہِ أَنْ أَسْأَلَ فِیْ بَیْتِہِ غَیْرَہُ ‘‘مجھے اللہ سے شرم آرہی ہے کہ میں اللہ کے گھر میں ہوتے ہوئے کسی اور سے مانگو!ایسا جواب سن کر خلیفہ ہشام شرمندہ ہوکر ہکا بکا رہ گیا اور حضرت سالمؒ کے حرم شریف سے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا،جیسے ہی وہ حرم شریف سے باہر نکلے خلیفہ ہشام فورا سامنے آیا اور کہنے لگا کہ ’’ أَلْآنَ قَدْ خَرَجْتَ مِنْ بَیْتِ اللّٰہِ فَسَلْنِیْ حَاجَۃً ‘‘ اب تو آپ اللہ کے گھر سے باہر نکل چکے ہیں اب آپ کی کوئی حاجت ہے تو بتائیں میں پوری کردوں گا،ایسا سن کر حضرت سالمؒ نے اس سے پوچھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ ’’ مِنْ حَوَائِجِ الدُّنْیَا أَمْ مِنْ حَوَائِجِ الْآخِرَۃِ ‘‘ آپ میری کس ضرورت کو پوری کرسکتے ہیں دنیاوی ضرورتوں کو یا پھراخروی ضرورتوں کو؟خلیفہ ہشام نے کہا کہ دیکھئے اخروی ضرورتوں کو پوری کرنے کی طاقت وسکت تو مجھ میں نہیں ہے ہاں البتہ میں آپ کی دنیاوی ضرورتوں کو ضرور پوری کرسکتا ہوں!!یہ سن کر حضرت سالم ؒ نے کہا کہ اے خلیفہ ذرا سن!’’ مَا سَأَلْتُ الدُّنْیَا مَنْ یَّمْلِکُھَا فَکَیْفَ أَسْأَلُھَا مَنْ لَا یَمْلِکُھَا ‘‘ میں نے تو دنیا اس سے بھی نہیں مانگی جس کی یہ ساری دنیا ہے توپھر بھلا میں اس سے دنیا کیسے مانگ سکتا ہوں جس کا وہ خود مالک نہیں ہے۔ (البدایہ والنہایۃ:9/235 بحوالہ :سنہرے حروف ،ص:30) اللہ اللہ کیسے خدا ترس لوگ تھے آج ایسے لوگ کہاں ہیں؟آج تو بس ہم کو دنیا چاہیے چاہے اس دنیا کی وجہ سے ہماری آخرت ہی تباہ وبرباد کیوں نہ ہوجائے ۔

میرے دوستو!!

دوچار دنوں کے بعد سال 2021 کا اختتام ہونے جارہا ہے یقینا 2021 کا یہ سال اب پھر دوبارہ نہ آئے گا مگر ایک دن ایسا آئے گا کہ جس دن یہ سال پھر لوٹ کرہمارے سامنے میں آئے گا اور اس دن 2021 سال کے 365 اوراق ہوں گے اوران اوراق کو ہمارے ہاتھوں میں تھما کر یہ کہا جائے گا کہ ’’ اِقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ‘‘ یہ لو! خود ہی اپنی کتاب پڑھ لو اور اچھی طرح سےدیکھ لو کہ تمہارے نامۂ اعمال میں کیا کچھ بھرا پڑا ہے اور پھر خود فیصلہ کرلو کیونکہ آج تو تم خود اپنا حساب وکتاب کرنے لئے کافی ہو۔(اسراء:14)

آج ہم کو یہ بات یاد نہ ہوگی کہ ہم نے 2021 کے جنوری ،فروری ،مارچ ،اپریل،مئی ،جون،جولائی،اگست،ستمبر،اکتوبر ،نومبر اور دسمبر کے دنوں اور راتوں میں ہم نےکتنی نافرمانیاں کی،ہم نےکتنی برائیاں کی،ہم نےکتنی نمازیں پڑھیں،ہم نےکتنی نیکیاں اور کتنی بدکاریاں کی مگرہمارا رب بھولا نہیں ہے یہ سال ہی کیا ہماری زندگی کے ایک ایک سال ،ایک ایک مہینہ اور ایک ایک دن اور ایک ایک لمحے اور ایک ایک سکنڈکو ہمارے سامنے میں کھول کرکے رکھ دے گا کیونکہ ہمارا رب بھولنے والوں میں سے نہیں ہےرب کا فرمان ہے:’’ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ‘‘ جس دن الله تعالي سب كو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے تمام کرتوتوں سے آگاہ کرے گا ،جسے اللہ نے شمار کررکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے تھے اور اللہ تعالی ہر چیز سے واقف ہے۔(المجادلہ:6)حدیث قدسی میں بھی اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا اللہ کا کہنا یہ ہے کہ ’’ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا، فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ ‘‘ اے میرے بندو! میں تمہارے تمام اعمال کو گن گن کر تمہارے لیے محفوظ کروائے جارہاہوں جس کا تمہیں قیامت کے دن پورا پورا بدلہ دیا جائے گا،پس جسے بھلائی ملے وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے اور جسے اس کے برعکس کچھ بھگتناپڑے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔(مسلم:2577)

محترم قارئین!!

جب یہ سال گذر رہاہے تو ہم بطور مسلمان دو باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں سب سے پہلی بات یہ کہ ہم سب اپنے پچھلے سال اور اپنی پچھلی زندگی کا جائزہ لیں ،عبادات ومعاملات،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا جائزہ لیں کہ پچھلے عرصے میں میں ہم نے کس میں کیا کیا کوتاہیاں کی ہیں اور اپنی تمام غلطیوں کی اصلاح کرلیں اور دوسری جس بات کا ہمیں سب سے زیادہ خیال رکھنا ہے وہ یہ کہ ہم اپنے آنے والے زندگی کے لیے آج ہی کچھ کرلیں کیونکہ اب ہمارے پاس موقع ہے،ذرا یاد کیجئے کہ کتنےایسے ہمارے رشتے دار تھے جو 2021 کے شروعات میں ہمارے ساتھ تھے مگر اب جب 2021 ختم ہونے کو ہے تو ہمارے ساتھ نہیں ہیں ،وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوچکے ہیں ،ان کے لیے رب کو راضی کرنا اب ممکن نہیں ہے اور ہم سب کو ابھی اللہ نے امن وامان اور صحت وتندرستی کے ساتھ زندہ رکھا ہے تاکہ ہم اپنے کل کے لیے کچھ کرلیں جیسا کہ رب ہمیں اس بات سے آگاہ کررہا ہے کہ ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ‘‘ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل قیامت کے واسطے اس نے اعمال کا کیا ذخیرہ بھیجاہے،اور ہروقت اللہ سے ڈرتے رہو اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔(الحشر:18) اسی طرح سے آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ ‘‘ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے،صحت وتندرستی کو بیماری آنے سے پہلے،مالداری کو غریبی سے پہلے،خالی اوقات کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے پہلے ۔(صحیح الجامع الصغیر للألبانیؒ:1077،صحیح الترغیب والترہیب:3355)

میرے اسلامی بھائیو اور بہنو!!

ہم اس بات سے ہرگز ہرگز خوش نہ ہوں کہ ہم نے تو ایک سال گذاردیا ،ہم تو اتنے بڑے ہوگئے کیونکہ عمرکی زیادتی ایک انسان کے لئے رحمت بھی ہوسکتی ہے اور زحمت بھی وہ اس طرح سے کہ اگر اس نے عمرکی زیادتی کے ساتھ ساتھ نیکیاں کیں تو الحمدللہ یہ چیز اس کے لیے ایک رحمت ہوسکتی ہے لیکن اسی کے برعکس اگر اس نے عمرکے بڑھنے کے ساتھ ساتھ نیکیاں نہ کی،گناہ پر گناہ کرتے رہے تو یہ چیز اس کے لئے زحمت ہوگی یہی وجہ ہے کہ جب کسی صحابی نے آپﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ اچھا یہ بتلائیں کہ ’’ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ‘ ‘ لوگوں میں سب سے بہتر کون لوگ ہیں ؟تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ ‘‘ لوگوں میں سب سے بہتر آدمی وہ ہے جس کی عمر لمبی ہوئی تو اس کے اعمال حسنہ بھی اچھے رہے ،پھر سوال ہوا کہ اے اللہ کے نبیﷺ اچھا یہ بتلائیں کہ ’’ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ‘‘ لوگوں میں سب سے براکون انسان ہوتا ہے؟ تو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے آپﷺ نے کہا کہ ’’ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ ‘‘ لوگوں میں سب سے برا وہ آدمی ہے جس کی عمرتو لمبی رہی اور اس کے اعمال برے رہے۔(مسنداحمد:20415،ترمذی:2330،صحیح الجامع للألبانی:3297) اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں کہ ہم کس میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟

آج ہم آخرت کے لیے ہربار اور باربار یہی کہتے ہیں کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا ،ہمیں نہ اپنے رب کا ڈر اورنہ ہی جہنم کی آگ کا خوف اور نہ ہی اپنے انجام کی فکراور ایک وہ لوگ تھے کہ دنیا میں ہی ان کوجنت کی بشارت مل گئی تھی پھر بھی آخرت کو یاد کرکے رویا کرتے تھے سیدنا ابوہریرہؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب ان کے موت کا وقت آیا تو یہ رونے لگے،آس پاس بیٹھے ہوئے دوست واحباب اور صحابہ نے پوچھا کہ ’’ مَا يُبْكِيكَ ‘‘ کیا آپ دنیا اور اہل خانہ کو چھوڑ کر جارہے ہیں اس لیے رورہے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ ’’ مَا أَبْكِي عَلَى دُنْيَاكُمْ هَذِهِ وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيَّ بَعْدَ سَفَرِي وَقِلَّةِ زَادِي ‘‘ میں تمہاری اس دنیا پر نہیں رورہاہوں بلکہ میں تو یہ سوچ کر رورہاہوں کہ میں ایک لمبے سفر پر روانہ ہورہاہوں اور میرے پاس زادِ سفر بھی بہت کم ہے اور میں نے جنت وجہنم کے ایک ایسے وادی میں زندگی گذاری ہے جس کے بارے میں مجھے یہ نہیں معلوم ہے کہ میرا ٹھکانہ کہاں ہے جنت میں یا پھر جہنم میں۔(البدایہ والنہایہ:8/112)

محترم قارئین! تاقیامت یہ ماہ وسال آتے رہیں گے جاتے رہیں گے ،جب تک یہ دنیا رہے گی تب تک سورج وچاند کی گردش باقی رہے گی الغرض یہ سب کچھ رہیں گے اور اگر کوئی اس جہاں میں نہ ہوگا تو ایک ہم ہیں جونہ ہوں گے اسی لیے نیک اعمال کرتے رہیں اور سیدناحضرت علیؓ کی یہ نصیحت یاد رکھیں کہ اے لوگو!یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں اسی لیے اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو! اسی طرح سے سیدنا ابن مسعودؓ کہا کرتے تھے کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوتا جتنا اس دن کے گذرنے پر ہوتا ہوں جس کا سورج غروب ہوگیا ،میری زندگی کا ایک دن کم ہوگیا مگر میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا۔(قیمۃ الزمن عندالعلماء:27)

آخر میں رب العالمین سے دعا گوہوں کہ الہ العالمین تو ہم سب کو اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطاکرے۔آمین



کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 
Top