• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

واقعہ ام معبد کی اسنادی حالت

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
ان باکس میں محترم بھائی @عبدالعظیم راشد صاحب نے سوال کیا ہے کہ :
حدیث ام معبد کی اسنادی حثییت کیا ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت میں سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا کے خیمہ میں جانا اور بکری کا دودھ دوہنے کا واقعہ کئی کتب میں منقول ہے ؛

ہم یہاں مشکاۃ المصابیح سے نقل کرتے ہیں :
ام معبد کی بکری سے متعلق ایک معجزہ کا ظہور

(از مشکوٰۃ ،کتاب المعجزات )
وعن حازم بن هشام عن أبيه عن جده حبيش بن خالد – وهو أخو أم معبد – أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أخرج من مكة خرج مهاجرا إلى المدينة هو وأبو بكر ومولى أبي بكر عامر بن فهيرة ودليلهما عبد الله الليثي مروا على خيمتي أم معبد فسألوها لحما وتمرا ليشتروا منها فلم يصيبوا عندها شيئا من ذلك وكان القوم مرملين مسنتين فنظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى شاة في كسر الخيمة فقال : " ما هذه الشاة يا أم معبد ؟ " قالت : شاة خلفها الجهد عن الغنم . قال : " هل بها من لبن ؟ " قالت : هي أجهد من ذلك . قال : " أتأذنين لي أن أحلبها ؟ " قالت : بأبي أنت وأمي إن رأيت بها حلبا فاحلبها . فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم فمسح بيده ضرعها وسمى الله تعالى ودعا لها في شاتها فتفاجت عليه وردت واجترت فدعا بإناء يربض الرهط فحلب فيه ثجا حتى علاه البهاء ثم سقاها حتى رويت وسقى أصحابه حتى رووا ثم شرب آخرهم ثم حلب فيه ثانيا بعد بدء حتى ملأ الإناء ثم غادره عندها وبايعها وارتحلوا عنها . رواه في " شرح السنة " وابن عبد البر في " الإستيعاب " وابن الجوزي في كتاب " الوفاء " وفي الحديث قصة (مشکوٰۃ ،باب المعجزات )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرۃ النبی کے مستند عالم " مھدی رزق اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی مختلف اسانید و متون کی چھان بین سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اصل قصہ حسن درجہ اسناد سے ثابت ہے ،لکھتے ہیں :
قال صاحب (السيرة النبوية في ضوء المصادر الأصلية دراسة تحليلية مهدي رزق الله أحمد )

أخرج قصة الرسول * وام معبد، الحاكم في مستدرکه (۳) ۹. ۱۰) مطولة من حديث هشام
ابن حبش، وقال: صحيح الإسناد ولم يخرجاه، وذكر أمورا يستدل بها على الصحة، ووافقه الذهبي، وقال: صحيح، ولكنه نازعه في توافر شرط الصحيح، وفيه أنه عن هشام بن حبیش ابن خويلد. وفيه خطا من عدة نقاط الفظ عن جده یشاء وخویلد خطا، والصواب خالد ذكر هذه الملاحظة الدكتور عبد المهدي في محاضراته المطبوعة على الآلة الكاتبة تحت عنوان : السيرة النبوية من الكتاب والسيئة.. ص 4 وقال الأرنؤوطيان في حاشية زاد المعاد { ۵۷ /
۳ ): حديث حسن ورواها البيهقي في دلالله (۱۹۱ / ۲ - 4۹۲) من حديث یحیی بن زکریا، قال ابن كثير في البداية (۲۱۱۳): : إسناد حسنا, وتبعه الدكتور العود في رسالة الهجرة - ص ۱۹۸ ، فقال : لکه متقطع لان عبدالرحمن ابن أبي ليلى لم يدرك أبا بكر .. وأحال إلى جامع التحصيل، ص ۲۷۵ والتهذيب (۲۹۰
/ ۹ . ومضمون رواية اليهني قريب من مضمون رواية هشام بن حیث ورواها بنحو رواية ابن حبش بسنده إلى أبي سعید کی فکر ابن کثیر (۳) ۲۱۱ - ۲۱۲) وعزاه إلى البيهن ۱۱۱ وقال ابن كثير في البداية ( ۲۰۹ / ۳ ) في قصة أم معبد: ارقصتها شهورة مرورية من طرف بلید بعضها بعضاء ومافي الروايات المختلفة فيها (۲۰۰۲ - ۲۱۹) وذكر ابن حجر في الفتح ( ۱۰۷۱۰ ) طرفا من رواة تمنها، وذكرها الهيثمي في المجمع ( ۵۵ / ۹ - ۵۸) عن حبیش بن خالد، وقال رواه الطاي ولي أسناده جماعة لم أعرفهم. وذكره في علامات النيرة، باب میفته 4 , ورواها این سعد في البقانه مطولة عن أم سعيد (۲۳۰۱ - ۲۳۲)، ورواها البزار غمرة بإسناد ضعيف
کشف الاستار (۲/ ۳۰۰ - ۳۰۱)، والخلاصة إن القمة تقوي إلى درجة الحسن لغيره لكثرة طرقها وشهرتها ، كما قال الدكتور العود في رسالة الهجرة، ص ۱۹۹، وسياني وصف ام معبد )
https://archive.org/details/FPsndma


اور نامور محقق عالم شیخ زبیر علی زئی مشکاۃ کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ اس کی اسناد حسن ہے :
وقال الشيخ زبير علي زئي رحمه الله في تعليقه على المشكاة :
"حسن ، رواه البغوي في شرح السنة ،وابن عبدالبر في الاستيعاب (4 /495 ) وصححه الحاكم (3/ 10 ) ووافقه الذهبي وللحديث شواهد"
اسی طرح شیخ ناصرالدین البانیؒ بھی اسے "حسن " تسلیم کرتے ہیں "​
وقال الشيخ ناصر الالباني في تعليقة المشكاة : (ضَعِيف وَقد يرقى إِلَى الْحسن بِتَعَدُّد طرقه)
ترجمہ :
اور حضرت حزام ابن ہشام اپنے (والد حضرت ہشام ) سے اور وہ حزام کے دادا (یعنی اپنے والد ) حبیش سے جو ام معبد کے بھائی ہیں روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ چھوڑ دینے کا حکم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزادہ کردہ غلام عامر ابن فہیرہ اور ان دونوں (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر ) کو راستہ بتانے والے عبداللہ لیثی (ان چاروں ) کا گزر (مدینہ کے راستہ میں ایک جگہ، ام معبد کے دوخیموں پر ہوا (جو اس ویرانے میں قیام پذیر تھیں ) ان حضرات نے اہل خیمہ سے کچھ گوشت اور کھجوریں خریدنی چاہیں لیکن ان دونوں کو ام معبد کے پاس ان میں سے کوئی چیز دستیاب نہیں ہوئی کیونکہ اس زمانہ میں عام طور پر لوگ قحط زدگی اور بے سروسامانی کا شکار تھے ۔ اتنے میں اچانک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک بکری کی طرف گئی ، جو خیمہ کی ایک جانب (بندھی کھڑی ) تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بکری دیکھ کر ) پوچھا کہ ام معبد ! اس بکری کو کیا ہوا ؟ ام معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : اس کے دبلے پن نے اس کو ریوڑ سے الگ کر رکھا ہے (یعنی اتنی کمزور اور لاغر ہے کہ چرنے کے لئے دوسری بکریوں کے ساتھ چراگاہ تک جانے پر قادر نہیں ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ! کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟ ام معبد نے کہا ! جس مصیبت میں یہ مبتلا ہے اس میں دودھ کہاں سے دے سکتی ہے (مطلب یہ کہ ذرا سابھی دودھ دینے کی صلاحیت اس میں باقی نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہوں ؟ ام معبد نے کہا : میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں دودھ معلوم ہوتا ہے توضرور دوہ لیں (یعنی جب اس میں سرے سے دودھ ہی ہے نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوہیں گے ؟) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بکری کو منگوایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھنوں پر اپنا دست مبارک پھیرا، بسم اللہ پڑھی اور ام معبد کے لئے ان کی بکری کے تئیں برکت کی دعا فرمائی ، چنانچہ بکری نے دودھ دینے کے لئے اپنے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کشادہ کردئیے (جیسا کہ دودھ والے جانور کی عادت ہوتی ہے کہ دوہے جانے کے وقت اپنے دونوں پاؤں کو پھیلا دیتا ہے ۔ پھر وہ بکری دودھ بہانے اور جگالی کرنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اتنا بڑا برتن منگایا جو ایک جماعت کو شکم سیر کرے اور اس برتن میں خوب بہتا ہوا دودھ دوہا یہاں تک کہ دودھ کے جھاگ برتن کے اوپر تک آگئے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ (پہلے ام معبد کو پلایا جنہوں نے خوب سیر ہو کر پیا پھر اس کے ساتھیوں کو پلایا وہ بھی اچھی طرح سیر ہوگئے اور پھر سب کے بعد خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا ، کیونکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے لوگوں کو پلانے والا خود سب کے بعد پیتا ہے ) پھر پہلی مرتبہ دوہنے کے بعد (کچھ دیر ) بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اسی برتن میں دوہا ، یہاں تک کہ وہ برتن دودھ سے لبریز ہوگیا اور وہ دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام معبد کے پاس چھوڑ دیا (تاکہ وہ اپنے خاوند کو بھی یہ معجزہ دکھا دیں ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام معبد کو مسلمان کیا اور ان کے ہاں سے روانہ ہوگئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کو بغوی نے شرح السنۃ میں، ابن عبد البر نے استعیاب میں اور ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں نقل کیا ہے نیز حدیث میں واقعہ کی اور بھی تفصیل ہے ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
السلام علیکم شیخ صاحب اس حدیث کو اس لنک پر پڑھ کر بتائیں http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=3638
اسی وجہ سے میں نے یہ سوال کیا تھا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
میں نے اپنی گذشتہ اوپر والی پوسٹ میں تین انتہائی معتبر اور مشہور علماء کے حوالہ سے اس واقعہ کے متعلق بتایا تھا کہ اصل قصہ حسن اسناد سے منقول ہے
(1) علامہ مھدی رزق اللہ اپنی کتاب
(السيرة النبوية في ضوء المصادر الأصلية دراسة تحليلية )
میں لکھتے ہیں :

أخرج قصة الرسول * وام معبد، الحاكم في مستدرکه (۳) ۹. ۱۰) مطولة من حديث هشام
ابن حبش، وقال: صحيح الإسناد ولم يخرجاه، وذكر أمورا يستدل بها على الصحة، ووافقه الذهبي
یعنی امام حاکم ؒ نے ام معبد کے خیمہ والی روایت نقل فرمائی ہے اور اسے صحیح کہا ہے ، اور بتایا ہے کہ کئی قرائن و شواہد ہیں جو اس قصہ کی صحت پر دلالت کرتے ہیں
،اور امام الذھبی ؒ نے تلخیص مستدرک میں امام حاکم ؒ کی موافقت فرمائی ہے ،
ـــــــــــــــــــــــــ
(2)اور نامور محقق عالم شیخ زبیر علی زئی مشکاۃ کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ اس کی اسناد حسن ہے :
وقال الشيخ زبير علي زئي رحمه الله في تعليقه على المشكاة :
"حسن ، رواه البغوي في شرح السنة ،وابن عبدالبر في الاستيعاب (4 /495 ) وصححه الحاكم (3/ 10 ) ووافقه الذهبي وللحديث شواهد"
یعنی اس کی اسناد حسن ہے ، اور امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام الذھبیؒ نے ان کی موافقت کی ہے "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(3) اسی طرح شیخ ناصرالدین البانیؒ بھی اسے "حسن " تسلیم کرتے ہیں "
وقال الشيخ ناصر الالباني في تعليقة المشكاة : (ضَعِيف وَقد يرقى إِلَى الْحسن بِتَعَدُّد طرقه)
یعنی یہاں مشکاۃ میں منقول روایت سنداً ضعیف ہے ،لیکن اس کے کئی طرق ہیں جن کی بنا پر یہ حسن درجہ تک پہنچ جاتی ہے ؛
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب اس کے مقابل ملتقی اہل الحدیث میں شائع مضمون جس میں اس روایت کو باطل کہا گیا ہے ،اس کے لکھنے والے کو ہم جانتے تک نہیں ،
اور پھر اس نے اس قصہ کے تمام طرق پر بحث نہیں ،بلکہ چند ایک کے رواۃ پر جرح نقل کرکے اسے باطل کہہ دیا ،
اس لئے اس مجہول لکھاری کی تحقیق کی بنا ہم کئی نامور علماء کی اس واقعہ کی تحسین کو رد نہیں کرسکتے ، ہم ان محققین کی تحقیق ہی مانیں گے
جن کے سامنے یہ تمام مصادر علم موجود تھے ۔
ــــــــــــــــــــــــ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
Top