• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ولی کے نام ، اہم پیغام

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,743
پوائنٹ
1,069
12985396_971840242884245_7183897290133573940_n (1).jpg


بسم اللہ الرحمن الرحیم


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

ولی کے نام ، اہم پیغام


(اسلام میں زبردستی کی شادی کی کوئی گنجائش نہیں )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لیا جائے ، پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی (یعنی کنواری کی ) اجازت کی کیا صورت ہے ؟ (یعنی وہ شرم کی وجہ سےاگر منہ سے نہ بتا سکے تو ؟) تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی اجازت ہے

----------------------------------------
(صحيح البخاري : 6968 ، ، 5136 ، ،
صحيح النسائي : 3265 ، ، 3267 ، ،
صحيح مسلم : 1419 (3303))
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,743
پوائنٹ
1,069
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

جس طرح اسلام میں عورت کا ولی (سرپرست) کی اجازت کے بغیر کئے گئے نکاح کو باطل قرار دے دیا گیا


(ترمذی ، کتاب النکاح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : 1102)،

اسی طرح والدین و سرپرست کے علم میں بھی یہ بات ہونی چاہئے کہ کنواری لڑکی کی مرضی کے بغیر ، اجازت کے بغیر اس کے نکاح کرنے کو سختی سے منع کر دیا ہے ۔ کیونکہ خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد کر دیا تھا

(صحیح بخاری 6969 ، کتاب الحیل) ،

لہذاہ لڑکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زبردستی کے نکاح کو پنچائت یا عدالت سے فسخ کرا لے ،
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,743
پوائنٹ
1,069
والد کا لڑکی کومن پسند شخص سے شادی نہ کرنے دینے کا حکم کیا ہے

بعض ولی لڑکی کو اپنے کفو شخص سے شادی نہیں کرنے دیتے اس کا حکم کیا ہے اورلڑکیوں کا اس بارہ میں کیا موقف ہے ؟

Published Date: 2008-02-15

الحمد للہ :

یہ سوال فضیلۃ الشيخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا گيا تو ان کا جواب تھا :

یہ مسئلہ بہت ہی عظیم ہے اوربہت بڑی مشکل ہے ، اللہ تعالی بچائے بعض مرد تو اللہ تعالی کی خیانت کرتے ہیں اور اپنی امانتوں کی بھی خیانت کرتے اور اپنی لڑکیوں پر ظلم کرتے ہیں ، ولی کے ذمہ واجب تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے والے اعمال کرے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا توفرمان ہے :

{ اوراپنے میں سے بے نکاح عورتوں کی شادی کردو }

{ اوراپنے نیک اورصالح غلاموں اورلونڈیوں کی بھی شادی کردو } ۔

یعنی تمہارے جو غلام اورلونڈیاں نیک و صالح ہيں ان کی بھی شادیاں کردو ۔

اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کا دین اوراخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے ( اپنی بیٹی ) کی شادی کردو اگرایسا نہیں کرو گے تو زمین میں بہت وسیع وعریض فتنہ کھڑا ہوجائے گا ) ۔

لیکن کاش ہم اس حد تک نہ پہنچيں کہ جس میں لڑکی اس بات کی جرات کرے کہ جب اس کا والداسے ایسے شخص سے شادی نہ کرنے دے جو دینی اوراخلاقی لحاظ سے اس کا کفو ہو تو وہ لڑکی قاضی سے جا شکایت کرے ، اورقاضی اس کےوالد سے کہے کہ اس کی شادی اس شخص سے کردو وگرنہ میں کرتا ہوں یا پھر تیرے علاوہ کوئی ولی کردے گا ۔

اس لیے کہ لڑکی کو حق حاصل ہے کہ جب اس کا والد اسے شادی نہ کرنے دے ( تو وہ قاضی سے شکایت کردے ) اوریہ اس کا شرعی حق ہے کاش ہم اس حد تک نہ پہنچيں ، لیکن اکثر لڑکیاں شرم وحیاء کی وجہ سے ایسا نہیں کرتیں ۔

والد کو نصیحت ہے کہ وہ اللہ تعالی کا تقوی اورخوف کرتے ہوئے بیٹی کو شادی سے نہ روکے اورخود بھی تنگ ہو اوردوسروں کو بھی تنگ کرے ، وہ اس معاملہ میں اپنے آپ سے موازنہ کرے : کہ اگر اسے شادی کرنے سے روک دیا جائے تواس کے دل وجان پر کیا گزرے گی ؟

جس بیٹی کو وہ شادی کرنے سے روک رہا ہے روزقیامت وہ اس کے خلاف دعوی دائر کرے گی جس دن کے بارہ میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ جس دن مرد اپنے بھائي ، اوراپنی والدہ ، اوراپنے والد ، اوراپنی بیوی ، اوراپنے بیٹوں سے بھی دور بھاگے گا اورہر ایک شخص کے لیے اس دن اسے ایسی فکر دامن گیر ہوگی جواس کے لیے کافی ہوگی } ۔

اس لیے لڑکیوں کے ولیوں چاہے وہ والدین ہوں یا بھائي وغیرہ کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کا تقوی اورخوف کرتے ہوئے انہیں شادی کرنے سے نہ روکیں ، ان کا حق ہے کہ جس کا دین اوراخلاق اچھا ہو اس سے شادی کردیں ۔

ہاں یہ ہے کہ اگر لڑکی ایسا لڑکا اختیار کرے جو دینی اوراخلاقی طور پر بہتر نہیں تو پھر ولی کو یہ حق حاصل ہے کہ اس سے شادی نہ کرنے دے اورمنع کردے ، لیکن اگر لڑکی دینی اوراخلاق لحاظ سے اچھے شخص کو اختیار کرتی ہے اورپھر اس کا ولی صرف اپنے نفس کی خواہش پر عمل کرتے ہوئے اس سے شادی نہیں کرنے دیتا ۔

اللہ کی قسم یہ حرام ہے اورپھر حرام ہی نہیں بلکہ خیانت اورگناہ بھی ہے ، ایسا کرنے جو بھی فساد اورفتنہ پیدا ہو گا وہ اس کا ذمہ دار ہے اور اس کا گناہ بھی اس پر ہوگا ۔ .

شیخ محمد بن صالح العثیمیمن رحمہ اللہ تعالی سے ماہانہ ملاقات ۔

https://islamqa.info/ur/10196
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,743
پوائنٹ
1,069
13438955_1012906488777620_6968930702580225736_n (1).jpg



بسم اللہ الرحمن الرحیم


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

نکاح آسان کیجئے ، جلد کیجئے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت اُس وقت تک خیر پر رہے گی ، جب تک اِس میں ناجائز اولاد کی کثرت نہیں ہوگی ، اور جب اِس میں ناجائز اولاد کی کثرت ہونے لگے ، تو پھر وہ وقت قریب ہوگا جب اللہ کا عذاب اِن سب کو گھیر لے گا

-----------------------------------
(الترغيب والترهيب : 3/265 ، ،
صحيح الترغيب للألباني : 2400 (حسن لغيره) ، ،
مجمع الزوائد : 6/260 ، ،
فتح الباري لابن حجر : 10/203 ، ،
الزواجر : 2/136)
 
Top