• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ٹوپی

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
ٹوپی کی کئی قسمیں ہیں مثلا بنگالی ٹوپی، ترکی ٹوپی، افریقی ٹوپی، سندھی ٹوپی، جالی دار ٹوپی، جناح کیپ وغیرہ۔ شاید ٹوپی کی جتنی قسمیں ہیں، اتنی ہی باتیں اس کے فوائد اور نقصانات کے بارے بھی کی جا سکتی ہیں۔

شروع میں، میں ٹوپی پہنتا تھا لیکن میری اہلیہ کو پسند نہ تھا اوروہ میری ٹوپی غائب کر دیتی تھیں۔ اس عمل سے کافی چڑ ہوتی تھی کیونکہ مجھے مدرسہ اور تنظیم کے حلقے میں درس وتدریس اور دینی اسباق پڑھانا ہوتے تھے اور مدرسہ وتحریک کے ماحول میں استاذ ومصلح کے سر پر ٹوپی نہ ہونا باعث عار سمجھا جاتا ہے۔ میں نے اس مسئلے میں اہلیہ سے الجھنا مناسب نہ سمجھا، وہ ٹوپیاں غائب کرتی گئیں اور میں خریدتا گیا۔ اس طرح ٹوپی پہننے کے عمل کو مجاہدہ سمجھ کر ایک مہینے میں تین تین ٹوپیاں بھی خریدتا رہا۔

ایک وقت آیا کہ میں نے سوچا کہ میں ٹوپی کیوں پہنتا ہوں تو یہ جواب ملا کہ میرا اٹھنا بیٹھنا دیندار حلقوں میں ہوتا ہے جہاں سب یا اکثر نے ٹوپی پہنی ہوتی ہے یعنی وہاں کا دینی عرف ٹوپی پہننے کا متقاضی ہوتا ہے اور میرا ٹوپی نہ پہننا اس ماحول میں مجھے اجنبی بنا دیتا ہے۔ اور یہ اجنبیت ایسی تھی جسے لوگ ناپسند کرتے تھے اور بعض تو اس کا اظہار بھی کر دیتے کہ حافظ صاحب آپ ٹوپی کیوں نہیں پہنتے یا کوئی صاحب اگر عمر میں بڑے ہوتے تو ٹوپی پہننے کو سنت قرار دیتے ہوئے اس کی تلقین بھی فرما دیتے۔ بہرحال اب کافی سوچ وبچار کے بعد مجھے ٹوپی پہننے یا نہ پہننے میں کوئی حساسیت نہیں ہے۔ پہننا اس لیے درست سمجھتا ہوں کہ دین دار لوگوں کا عرف ہے اور نہ پہننا اس لیے مفید کہ اصلاح نفس میں اس کا بڑا کردار ہے۔

آج مجھے اس پہلو کو اجاگر کرنا ہے کہ میرے ٹوپی نہ پہننے نے میری اصلاح میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ مجھے اللہ نے زبان وبیان کی کچھ صلاحیت دی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ جہاں کہیں درس کا حلقہ یا خطبہ جمعہ یا مدرسے کی کلاس لینا شروع کروں تو کچھ عرصہ بعد سامعین یا طلباء کا ایک حلقہ میرے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ متاثرین تعداد میں تو چند ایک ہی ہوتے ہیں لیکن کسی واعظ یا استاذ کو بگاڑنے کے لیے ایک بھی کافی ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی آپ کی جوتیاں سیدھی کرنا شروع کر دیتا ہے، کوئی آپ کے وعظ وتدریس کی تعریف وتوصیف میں مبالغہ آمیز باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے، کوئی آپ کو آئیڈیلائز کرنا شروع کر دیتا ہے، اور کوئی آپ کی فکر کا جیالا بننے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔

ایسے میں مجھے احساس ہوتا ہے کہ اب میں اپنی چرب زبانی سے کوئی علیحدہ مخلوق لگنا شروع ہو گیا ہوں یا لوگوں کی نظر میں شیخ بن گیا ہوں۔ پس میں اپنا حلیہ دینداروں کی بجائے عام گناہ گاروں جیسا اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہوں تا کہ لوگ مجھے وہی سمجھیں جو میں حقیقت میں ہوں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ میں ان کے جیسا انہی میں سے ایک ہو۔ میں نے یہ عجیب محسوس کیا ہے کہ اس قسم کے متاثرین کے حلقے میں ٹوپی اتار دینا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے اپنے تقدس کی چادر اتار دی ہے اور اگر آپ شلوار قمیص کی بجائے سوٹ پہن لیں تو پھر تو لوگ شاید آپ کے نیک ہونے میں بھی شک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹی چیز ہماری اصلاح میں کس قدر بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,764
ری ایکشن اسکور
5,404
پوائنٹ
562
بہت عمدہ تحریر ہے۔ دراصل ہم دین کے معاملہ میں ”انتہا پسندانہ رویہ“ کا شکار ہیں۔ عرب یا مشرقی کلچر کو ”اسلامی کلچر“ کا درجہ دے بیٹھتے ہیں۔ اور یہاں کا کوئی مسلمان ”مغربی لباس و کلچر“ اپناتا نظر آئے تو جھٹ اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف اگر یورپ و مغرب کا کوئی فرد صرف کلمہ ہی پڑھ کر نام کا ”مسلمان“ ہوجائے اور اپنی سابقہ طرز حیات ہی کو جاری و ساری رکھے تب بھی ہم اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔
ٹوپی کے حوالہ سے ہمارے محلہ کے امام مسجد نے ایک ”لطیفہ“ کچھ یوں سنایا کہ ایک صاحب مسجد میں آئے اور ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کی تلقین کرنے والے امام صاحب کو ”چڑانے“ کی غرض سے ٹوپی سر سے اتار کر سنتیں ادا کرنے لگے۔ نماز کے بعد امام صاحب نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا حرکت کی؟ ٹوپی اتار کر نماز پڑھی۔ وہ صاحب فرمانے لگے: کیا فلاں صحابی نے فلاں وقت ٹوپی کے بغیر نماز ادا نہیں کی؟ امام صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: پھر تو آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے؟ وہ صاحب حیرت سے کہنے لگے: کیا مطلب؟ امام صاحب نے فرمایا: یہی کہ آپ نے قمیض اتار کر نماز ادا نہیں کی۔ کیونکہ فلاں فلاں صحابی نے بھی تو فلاں فلاں وقت بغیر قمیض کے نماز ادا کی تھی۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,985
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
السلام علیکم -

سر ڈھانپنا کا تعلق درحقیقت عرب کی ثقافت سے ہے نا کہ مذہب سے - چوں کہ دین اسلام سرزمین عرب سے نمودار ہوا اس لئے وہاں کی قدیم رسومات اور ثقافت کو زبردستی دین اسلام سے نتھی کر دیا گیا- ہمارے ہاں کے زیادہ تر مسلمان پاکستان بننے سے پہلے ہندووں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہندو ثقافت سے متاثر تھے اور اب بھی ہیں اور ہندوں کی بھی قدیم عبادات کے دوران ٹوپی سے سر ڈھانپنا لازم و ملزوم سمجھا جاتا رہا ہے - اس لئے برصغیر کے مسلمانوں نے سر پر ٹوپی رکھنا واجب سمجھ لیا - بلکہ انڈیا کے اکثرکٹر دیوبندی تو نماز اور دوسری عبادات کے علاوہ بھی ٹوپی سر سے اتارنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں- اور اپنی اولاد کو ہر وقت ٹوپی پہنے رہنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں-

جب کہ صحیح احادیث نبوی میں صرف بالغ عورت کو سرڈھانپنے کی تلقین کی گئی ہے- نا بالغ بچی اور مرد حضرات اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں-
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,260
پوائنٹ
412
ٹوپی کی کئی قسمیں ہیں مثلا بنگالی ٹوپی، ترکی ٹوپی، افریقی ٹوپی، سندھی ٹوپی، جالی دار ٹوپی، جناح کیپ وغیرہ۔ شاید ٹوپی کی جتنی قسمیں ہیں، اتنی ہی باتیں اس کے فوائد اور نقصانات کے بارے بھی کی جا سکتی ہیں۔

شروع میں، میں ٹوپی پہنتا تھا لیکن میری اہلیہ کو پسند نہ تھا اوروہ میری ٹوپی غائب کر دیتی تھیں۔ اس عمل سے کافی چڑ ہوتی تھی کیونکہ مجھے مدرسہ اور تنظیم کے حلقے میں درس وتدریس اور دینی اسباق پڑھانا ہوتے تھے اور مدرسہ وتحریک کے ماحول میں استاذ ومصلح کے سر پر ٹوپی نہ ہونا باعث عار سمجھا جاتا ہے۔ میں نے اس مسئلے میں اہلیہ سے الجھنا مناسب نہ سمجھا، وہ ٹوپیاں غائب کرتی گئیں اور میں خریدتا گیا۔ اس طرح ٹوپی پہننے کے عمل کو مجاہدہ سمجھ کر ایک مہینے میں تین تین ٹوپیاں بھی خریدتا رہا۔

ایک وقت آیا کہ میں نے سوچا کہ میں ٹوپی کیوں پہنتا ہوں تو یہ جواب ملا کہ میرا اٹھنا بیٹھنا دیندار حلقوں میں ہوتا ہے جہاں سب یا اکثر نے ٹوپی پہنی ہوتی ہے یعنی وہاں کا دینی عرف ٹوپی پہننے کا متقاضی ہوتا ہے اور میرا ٹوپی نہ پہننا اس ماحول میں مجھے اجنبی بنا دیتا ہے۔ اور یہ اجنبیت ایسی تھی جسے لوگ ناپسند کرتے تھے اور بعض تو اس کا اظہار بھی کر دیتے کہ حافظ صاحب آپ ٹوپی کیوں نہیں پہنتے یا کوئی صاحب اگر عمر میں بڑے ہوتے تو ٹوپی پہننے کو سنت قرار دیتے ہوئے اس کی تلقین بھی فرما دیتے۔ بہرحال اب کافی سوچ وبچار کے بعد مجھے ٹوپی پہننے یا نہ پہننے میں کوئی حساسیت نہیں ہے۔ پہننا اس لیے درست سمجھتا ہوں کہ دین دار لوگوں کا عرف ہے اور نہ پہننا اس لیے مفید کہ اصلاح نفس میں اس کا بڑا کردار ہے۔

آج مجھے اس پہلو کو اجاگر کرنا ہے کہ میرے ٹوپی نہ پہننے نے میری اصلاح میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ مجھے اللہ نے زبان وبیان کی کچھ صلاحیت دی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ جہاں کہیں درس کا حلقہ یا خطبہ جمعہ یا مدرسے کی کلاس لینا شروع کروں تو کچھ عرصہ بعد سامعین یا طلباء کا ایک حلقہ میرے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ متاثرین تعداد میں تو چند ایک ہی ہوتے ہیں لیکن کسی واعظ یا استاذ کو بگاڑنے کے لیے ایک بھی کافی ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی آپ کی جوتیاں سیدھی کرنا شروع کر دیتا ہے، کوئی آپ کے وعظ وتدریس کی تعریف وتوصیف میں مبالغہ آمیز باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے، کوئی آپ کو آئیڈیلائز کرنا شروع کر دیتا ہے، اور کوئی آپ کی فکر کا جیالا بننے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔

ایسے میں مجھے احساس ہوتا ہے کہ اب میں اپنی چرب زبانی سے کوئی علیحدہ مخلوق لگنا شروع ہو گیا ہوں یا لوگوں کی نظر میں شیخ بن گیا ہوں۔ پس میں اپنا حلیہ دینداروں کی بجائے عام گناہ گاروں جیسا اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہوں تا کہ لوگ مجھے وہی سمجھیں جو میں حقیقت میں ہوں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ میں ان کے جیسا انہی میں سے ایک ہو۔ میں نے یہ عجیب محسوس کیا ہے کہ اس قسم کے متاثرین کے حلقے میں ٹوپی اتار دینا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے اپنے تقدس کی چادر اتار دی ہے اور اگر آپ شلوار قمیص کی بجائے سوٹ پہن لیں تو پھر تو لوگ شاید آپ کے نیک ہونے میں بھی شک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹی چیز ہماری اصلاح میں کس قدر بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بعینہ وہی فکر ہے جو جاہل اور بے دین صوفیوں کی ہے جو نہ صرف اسلام کی روح کے منافی ہے بلکہ انتہائی قابل مذمت بھی ہے۔
ایسے میں مجھے احساس ہوتا ہے کہ اب میں اپنی چرب زبانی سے کوئی علیحدہ مخلوق لگنا شروع ہو گیا ہوں یا لوگوں کی نظر میں شیخ بن گیا ہوں۔ پس میں اپنا حلیہ دینداروں کی بجائے عام گناہ گاروں جیسا اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہوں تا کہ لوگ مجھے وہی سمجھیں جو میں حقیقت میں ہوں۔
جب تک مسلمان مرد کی داڑھی ہے اس وقت تک اسے لوگ دین دار ہی سمجھیں گے اس لئے عام گناہ گاروں جیسا حلیہ بنانے کے لئے بہتر ہے کہ داڑھی بھی منڈوا دی جائے تب مقصود یقیناً حاصل ہوجائے گا۔ جیسا کہ صوفیاء خود پسندی کے علاج کے لئے مریدوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ داڑھی منڈوا لو، بھیک مانگو، چوری کرو وغیرہ تاکہ لوگ تمھیں دین دار نہ سمجھیں اور نہ تم میں اپنی بڑائی یا تکبر کا احساس پیدا ہو۔ ابوالحسن علوی بھائی کی اس پوسٹ میں بھی یہی فکر کارفرما ہے۔

بے شک ٹوپی پہننا واجب یا فرض نہیں لیکن مستحب تو ضرور ہے اور اگر کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی نیت سے ٹوپی پہنتا ہے تو اس کے اجر و ثواب میں کس کو شک ہوسکتا ہے۔ اب ایسے اچھے عمل کو صرف اس لئے ترک کرنے کا مشورہ دینا کہ کہیں لوگ دین دار نہ سمجھ بیٹھیں بالکل غلط ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ عمل ہے تو کیا کوئی شخص اس نمونے سے ہمیں اس وجہ سے کسی مستحب عمل کو ترک کرنے کا ثبوت پیش کرسکتا ہے کہ یہ خود پسندی کا علاج ہے؟؟؟
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,260
پوائنٹ
412
ٹوپی کے حوالہ سے ہمارے محلہ کے امام مسجد نے ایک ”لطیفہ“ کچھ یوں سنایا کہ ایک صاحب مسجد میں آئے اور ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کی تلقین کرنے والے امام صاحب کو ”چڑانے“ کی غرض سے ٹوپی سر سے اتار کر سنتیں ادا کرنے لگے۔ نماز کے بعد امام صاحب نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا حرکت کی؟ ٹوپی اتار کر نماز پڑھی۔ وہ صاحب فرمانے لگے: کیا فلاں صحابی نے فلاں وقت ٹوپی کے بغیر نماز ادا نہیں کی؟ امام صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: پھر تو آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے؟ وہ صاحب حیرت سے کہنے لگے: کیا مطلب؟ امام صاحب نے فرمایا: یہی کہ آپ نے قمیض اتار کر نماز ادا نہیں کی۔ کیونکہ فلاں فلاں صحابی نے بھی تو فلاں فلاں وقت بغیر قمیض کے نماز ادا کی تھی۔
آپ کا یہ واقعہ پڑھ کر مجھے اشرف علی تھانوی کذاب اور امین اوکاڑوی دجال کی یاد آگئی کیونکہ اس طرح کے خود ساختہ لطیفہ گھڑ گھڑ کر انہوں نے اپنی کتابوں میں بہت لکھے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپکے محلے کی مسجد کے یہ امام صاحب بھی تقلیدی مولوی ہیں؟
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
120
آپ کا یہ واقعہ پڑھ کر مجھے اشرف علی تھانوی کذاب اور امین اوکاڑوی دجال کی یاد آگئی۔۔۔۔
کسی صاحب نے سوشل میڈیا پر یہ شاید بالکل درست کہا ہے کہ جب تک ہم دوسرے مذہب/مسلک/طبقہ کے علما کی عزت کرنا نہیں سیکھیں گے دنیا بھی کبھی بھی مسلمان علما کو قابل توقیر نہیں جانےگی۔
فکری نظریاتی اختلاف ایک بالکل الگ چیز ہے مگر سرعام کسی کو گالی دینا یا توہین/تضحیک کر ڈالنا نہایت معیوب اور اخلاق حسنہ کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ کذاب یا دجال ہند کے ادبی دینی حلقوں میں سنگین گالی ہی مانی جاتی ہے ۔۔۔۔ اب ممکن ہے پاکستان کی نوجوان نسل میں یہ عام تکیہ کلام ہو۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,553
پوائنٹ
641
ٹوپی کو مستحب قرار دینے کے لیے دلیل چاہیے؟ اپنے ایک مضمون میں، راقم نے اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے کہ ٹوپی پہننے کو مستحب قرار دینا محل نظر ہے البتہ یہ علماء اور دیندار طبقے کا عرف ہے۔ اسلیے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ بحث اس صفحہ پر موجود ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹوپی پہننا ایک مباح امر ہے جس کے پہننے پر نہ ثواب ہے اور نہ اتارنے پر گناہ ہے۔
http://forum.mohaddis.com/threads/اہل-سنت-کا-تصور-سنت.888/page-5
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
آپ کا یہ واقعہ پڑھ کر مجھے اشرف علی تھانوی کذاب اور امین اوکاڑوی دجال کی یاد آگئی کیونکہ اس طرح کے خود ساختہ لطیفہ گھڑ گھڑ کر انہوں نے اپنی کتابوں میں بہت لکھے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپکے محلے کی مسجد کے یہ امام صاحب بھی تقلیدی مولوی ہیں؟
http://forum.mohaddis.com/threads/مبلغ-اور-داعی-کے-اوصاف.22876/
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,432
پوائنٹ
463
السلام علیکم -

سر ڈھانپنا کا تعلق درحقیقت عرب کی ثقافت سے ہے نا کہ مذہب سے - چوں کہ دین اسلام سرزمین عرب سے نمودار ہوا اس لئے وہاں کی قدیم رسومات اور ثقافت کو زبردستی دین اسلام سے نتھی کر دیا گیا- ہمارے ہاں کے زیادہ تر مسلمان پاکستان بننے سے پہلے ہندووں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہندو ثقافت سے متاثر تھے اور اب بھی ہیں اور ہندوں کی بھی قدیم عبادات کے دوران ٹوپی سے سر ڈھانپنا لازم و ملزوم سمجھا جاتا رہا ہے - اس لئے برصغیر کے مسلمانوں نے سر پر ٹوپی رکھنا واجب سمجھ لیا - بلکہ انڈیا کے اکثرکٹر دیوبندی تو نماز اور دوسری عبادات کے علاوہ بھی ٹوپی سر سے اتارنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں- اور اپنی اولاد کو ہر وقت ٹوپی پہنے رہنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں-

جب کہ صحیح احادیث نبوی میں صرف بالغ عورت کو سرڈھانپنے کی تلقین کی گئی ہے

- نا بالغ بچی اور مرد حضرات اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں-
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !۔۔۔۔۔بالغ عورت کے سر ڈھانپنے سے متعلق حدیث تحریر کر دیں۔میرے خیال میں یہ نماز کے لیے حکم ہے۔نہ کہ ہر جگہ یا ہر وقت۔واللہ اعلم!
 
Top