• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پانچواں حصہ : نادر مسائل {مناسخہ} (تفہیم الفرائض)

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
نوٹ:- پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : (چوتھا حصہ : مسائل فرائض کی قسمیں)

پانچواں حصہ:نادر مسائل

باب المناسخہ(Running Property)
لغوی معنی :
مناسخہ، باب مفاعلہ کا مصدر ہے جو نسخ سے مشتق ہے ، اس کے کئی معانی ہوتے ہیں سب میں بنیادی طور پرنقل و تغیر کا مفہوم پایا جاتاہے۔
اصطلاحی معنی:
میت کے ترکہ کی تقسیم سے قبل اس کے وارثین میں سے ایک یا ایک سے زائد افراد فوت ہوجائیں ،تو بعد میں فوت ہونے والے فرد کے حصے کو اس کے وارثین میں تقسیم کرنے کو ''مناسخہ'' کہتے ہیں۔
مسئلہ مناسخہ کوحل کرنے کے طریقے:

✿ پہلا طریقہ: (تتابع یعنی الگ الگ حل کرنا):
مناسخہ کے مسئلہ کو حل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ بالترتیب وفات پانے والے ہر میت کے مسئلہ کو الگ الگ حل کیا جائے ۔اس طرح ہرمیت کا مسئلہ عام مسئلوں کی طرح حل ہوجائے گا اورکسی بھی نئی معلومات کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
مثال:ـ ایک شخص فوت ہوا وارثین میں بیوی ،دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
تقسیم ترکہ سے قبل ہی بیوی کاانتقال ہوگیا ، اس کے وارثین میں مذکورہ دوبیٹے اوربیٹی کے علاوہ باپ بھی ہے۔اوراس کے کچھ دن بعد ہی ایک بیٹے کا بھی انتقال ہوگیا ۔اس کے وارثین مین مذکورہ سگے بھائی بہن کے علاوہ ایک بیوی بھی ہے۔
حل:ـ اس مسئلہ میں یکے بعد دیگرے تین افراد کی موت ہوئی ہے اسی ترتیب سے الگ الگ سب میں ترکہ تقسیم کریں گے۔

❀ اولا:(پہلے نمبر پرفوت ہونے والے کا مسئلہ)
پہلے نمبر پرفوت ہونے والے کے وارثین میںبیوی ،دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
Screenshot_1.jpg

بیوی کو ثمن ملے گا ، اور باقی اس کی اولاد میں﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾کے تحت تقسیم ہوگا۔

❀ ثانیا:(دوسرے نمبر پرفوت ہونے والے کامسئلہ)
دوسرے نمبر پر پہلی میت کی بیوی کا انتقال ہوا ہے ، اسے پہلی میت سے جو ثمن ملا ہے اسی کو اس کے وارثین میں تقسیم کریں گے ، وارثین میں باپ ، دو بیٹے ، اورایک بیٹی ہے۔
Screenshot_2.jpg

باپ کو سدس ملے گا، اسے سدس دینے کے بعد باقی مال ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ کے تحت اس کی اولاد میں تقسیم ہوگا۔

❀ ثالثا:(تیسرے نمبرپرفوت ہونے والے کامسئلہ)
تیسرے نمبر پر پہلی میت کے ایک بیٹے کا انتقال ہوا ہے اس کے وارثین میں بیوی ، ایک سگابھائی اور ایک سگی بہن ہے۔
Screenshot_3.jpg

بیوی کو ربع ملے گا ، اسے ربع دینے کے بعد باقی مال سگے بھائی بہن میں ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾کے تحت تقسم ہوگا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
اضافی معلومات

مناسخہ کے مسئلہ کو حل کرنے کا مذکورہ طریقہ ہی سب سے آسان ہے ،اسے طریقہ تتابع کہتے ہیں؛ اس کے علاوہ جو دوسراطریقہ ہے وہ کافی پریشان کن اور دشوار ہے ، اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس پہلے طریقے ہی کو ذہن میں بٹھا لیا جائے ۔اس طریقہ کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ دوسری میت کا جو اپنا علیحدہ ترکہ ہے اسے بھی متقدم میت کے ترکہ سے ملنے والے حصہ کے ساتھ ملا کر بانٹ سکتے ہیں۔
اس پہلے طریقہ میں چونکہ ترکہ باربار تقسیم کیا جاتا ہے یعنی ہرمیت کے ترکہ کو الگ الگ تقسیم کرنا پڑتا ہے ، اس لئے فرائض دانوں نے ایک دوسرے طریقہ کو بیان کیا ہے جس کی مدد سے ترکہ کو ایک بار تقسیم کرکے سارے وارثین کو ان کے حصے دئے جاسکتے ہیں ، اس طریقے پر ترکہ کی تقسیم گرچہ ایک ہی بار ہوگی، لیکن اس طریقے کو عملی شکل دیتے وقت جو دشواریاں اور پریشانیاںپیش آتی ہیں ،وہ ترکہ کو بار بار تقسیم کرنے سے کہیں بڑھ کرہیں ۔ مزید یہ کہ متاخر میت کا جو اپنا علیحدہ ترکہ ہوتا ہے اسے الگ سے بانٹنا ہی پڑتا ہے، اس لئے اس دوسرے طریقے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔
تاہم اگر کوئی دوسرے طریقے کو بھی سیکھنا چاہے تو آگے اس کا بھی تذکرہ کیا جارہاہے۔

✿ دوسرا طریقہ: (ایک ہی جامع مسئلہ سے حل کرنا):
دوسرے طریقہ کا مقصد، ترکہ تقسیم کرنے کے لئے ایسا اصل مسئلہ دریافت کرنا ہے جس سے ایک ہی دفعہ سارے وارثین کے حصے تقسیم ہوجائیں، اس لئے اس اصل مسئلہ کو ''جامع مسئلہ'' کہتے ہیں ۔
اس دوسرے طریقہ میں یہی جامع مسئلہ معلوم کیا جاتا ہے اور اس کے مطابق سارے وارثین کے حصے معلوم کئے جاتے ہیں۔یہ طریقہ تقریبا وہی ہے جس کا تذکرہ رد کی بحث میں مسئلہ زوجیہ کے تحت آخر میں ذکر کیا گیا ہے ۔

حصول جامع کا بنیادی طریقہ:
یہاں اس سلسلے میں بنیادی عمل درج ذیل مراحل سے ہوتا ہے :
❀ پہلا مرحلہ:
سب سے قبل، پہلی میت کے مسئلہ کو حل کرکے اس کا اصل مسئلہ معلوم کریں گے، اور اس اصل مسئلہ سے ہروارث کو بشمول دوسری میت ان کے حصے دیں گے۔عول ، رد کی صورت میں اصل مسئلہ تبدیل کریں گے، اور تصحیح کی ضرورت ہوئی تو تصحیح کردیں گے۔اس کے بعد دوسری میت کے مسئلہ کو اسی طرح حل کریں گے ۔
❀ دوسرا مرحلہ:
دوسری میت کے حصہ کو، اس کے اصل مسئلہ کے اوپر لکھیں گے؛ اور دوسری میت کے اصل مسئلہ کو، پہلی میت کے اصل مسئلہ کے اوپرلکھیں گے۔
❀ تیسرا مرحلہ:
پھر پہلی میت کے اصل مسئلہ کو، اوپر موجود عدد سے ضرب کریں گے؛ حاصل ضرب جامع مسئلہ ہوگا جسے سب سے بائیں جانب لکھیں گے۔
اس کے بعد پہلی میت کے وارثین کے حصوں کو، اوپر کے عدد سے ضرب دیں گے؛ اورحاصل ضرب جامع مسئلہ کے نیچے لکھیں گے۔
❀ چوتھا مرحلہ:
اس کے بعد دوسری میت کے اوپر لکھی گئی عدد سے، دوسری میت کے وارثین کے ہر ایک حصے کو ضرب دیں گے؛حاصل ضرب کو جامع مسئلہ کے نیچے لکھیں گے۔
❀ پانچواں مرحلہ:
جس وارث کو ایک ہی مسئلہ میں حصہ ملا ہے اس کا وہی حصہ لکھ دیں گے، جسے دونوں مسئلوں میں حصہ ملا ہے اس کے دونوں حصوں کو جمع کرکے حاصل جمع کو جامع کے نیچے لکھ دیں گے ۔اب جامع مسئلہ اور اس کے تحت ہروارث کو ملنے والا حصہ معلوم ہوچکا ہے۔
مثال:
ایک آدمی فوت ہوا ، وارثین میںام( ماں) ، اخت لام (ماں شریک بہن) اور(عم ش)سگاچچا ہے۔ترکہ کی تقسیم سے قبل اخت لام( ماں شریک بہن) فوت ہوگئی اس کے وارثین میں مذکورہ ماں کے علاوہ اس کا ابن (بیٹا) بھی ہے۔
حل:
Screenshot_1.jpg

وضاحت:
٭پہلا مرحلہ:
پہلی میت کا اصل مسئلہ (٦) بنا ، یہ کل حصے ہوئے ؛ ماں کو ثلث یعنی (٢) حصے ملے ،ماں شریک بہن کوسدس یعنی (١)حصہ ملا،باقی بچے (٣) حصے جو سگے چچا کو ملے۔
دوسری میت کااصل مسئلہ (٦) بنا،یہ کل حصے ہوئے ؛ ماں کوسدس یعنی (١) حصہ ملا ، باقی بچے (٥)حصے جوبیٹے کو ملے۔
٭دوسرامرحلہ:
دوسری میت کے حصے (١) کو، دوسری میت کے اصل مسئلہ(٦)کے اوپر لکھا گیا؛ دوسری میت کے اصل مسئلہ (٦) کو، پہلی میت کے اصل مسئلہ (٦)کے اوپرلکھاگیا۔
٭تیسرامرحلہ
پہلی میت کے اصل مسئلہ (٦)کو، اوپر موجود عدد (٦)سے ضرب دیا؛حاصل ضرب(٣٦)آیا،یہ جامع مسئلہ ہوا جسے بائیں طرف لکھاگیا۔
پہلی میت کے وارثین کے حصوں کو، اوپر کے عدد (٦)سے ضرب دیا ؛ ماں کا حصہ(٢) تھا اسے اوپر کے عدد (٦)سے ضرب دیا،حاصل ضرب (١٢)آیا ؛جسے جامع کے نیچے لکھا گیا۔سگے چچا کا حصہ(٣)تھا اسے اوپر کے عدد (٦)سے ضرب دیا ، حاصل ضرب(١٨)آیا جسے جامع کے نیچے لکھاگیا۔
٭چوتھا مرحلہ:
اب دوسری میت کے وارثین کے حصوں کو، اوپر موجود عدد (١)سے ضرب دیں گے؛ماں کاحصہ (١) تھا، اسے اوپر کے عدد(١)سے ضرب دیا ؛ حاصل ضرب (١) آیا اسے جامع کے نیچے لکھا گیا ۔بیٹے کاحصہ (٥)تھا، اسے اوپر کے عدد(١) سے ضرب دیا؛حاصل ضرب (٥) آیا اسے جامع کے نیچے لکھا گیا۔
پانچواں مرحلہ:
ماں کو پہلے مسئلہ میں (١٢) حصے اور دوسرے مسئلہ میں(١) حصہ ملا ، دونوں کو جمع (١١٢)کیا گیا،حاصل جمع (١٣) آیا؛جسے جامع کے نیچے لکھاگیا ۔ پہلی میت کے سگے چچا کو صرف پہلے مسئلہ میں (١٨) حصے ملے ہیں ،اسے جامع کے نیچے لکھاگیا ۔دوسری میت کے بیٹے کو دوسرے مسئلہ میں (٥) حصے ملے ہیں ،اسے جامع کے نیچے لکھا گیا ۔
اب جامع مسئلہ(٣٦) ہے، اسی سے سارے وارثین کو وہ حصہ دیا جائے گا جو جامع کے تحت آیا ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
مذکورہ طریقہ میں مزید آسانی

مذکورہ طریقہ وہ بنیادی طریقہ ہے جس سے جامع مسئلہ معلوم کیا جاتا ہے، لیکن اس طریقے میں ضرب کے عمل سے اعداد بہت بڑے ہوجاتے ہیں، اس لئے بین العددین نسبتوں کا سہارا لیا جاتاہے، تاکہ حتی الامکان بڑے اعداد کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔اب آگے ان نسبتوں کا تعارف اور ان کے استعمال کا طریقہ درج کیا جاتا ہے۔
بین العددین نسبتیں:
جامع مسئلہ میں تقسیم کو کسی حد تک آسان بنانے کی لئے بین العددین نسبتوں کا سہارا لیا جاتا ہے، اس لئے سب سے پہلے ان نسبتوں کو سمجھ لیں ۔
دو اعداد میں درج ذیل چار نسبتوں میں سے کوئی ایک نسبت ہوگی ۔
✿ تماثل :
اگر دو عدد بالکل یکساں ہو جیسے(٢)اور (٢)،یا (٣)اور(٣)،وغیرہ۔ تو ان دو اعداد کے مابین نسبت کو'' تماثل'' کہا جاتا ہے۔
✿ تباین :
اگر دو اعداد ایسے ہوں کہ دونوں میں سے کوئی ایک عدد دوسرے عدد کو برابر برابر تقسیم نہ کرسکے ،اور نہ ہی کوئی تیسرا عدد ان دونوں میں سے ہر ایک کو برابر تقسیم کرسکے ،تو ایسے دو اعداد کے مابین نسبت کو'' تباین'' کہتے ہیں ، جیسے (٥)اور (٧)۔
✿ توافق :
اگر دو اعداد ایسے ہوں کہ دونوں میں سے کوئی ایک عدد دوسرے عدد کو برابر برابر تقسیم نہ کرسکے ،لیکن ایک تیسرا عدد ان دونوں میں سے ہر ایک کو برابر تقسیم کردے ،تو ایسے دو اعداد کے مابین نسبت کو'' توافق'' کہتے ہیں ، جیسے(٤)اور(٦)، ان میں سے کوئی عدد دوسرے عدد کو برابر برابر تقسیم نہیں کرسکتا، لیکن ایک تیسرا عدد (٢)ان دونوں میں سے ہر ایک کو برابر برابرتقسیم کردیتاہے۔
تیسرا عدد دونوں میں سے کسی ایک کو جس عددپر تقسیم کرتا ہے اسے اس عدد کا وفق کہا جاتا ہے ، مذکورہ مثال میں تیسرا عدد(٢)،یہ عدد (٤)کو، (٢)پر تقسیم کرتا ہے؛ اس لئے (٢)،یہ(٤) کا وفق ہے ۔
اسی طرح تیسرا عدد (٢)،یہ عدد (٦)کو، (٣)پر تقسیم کرتا ہے؛ اس لئے(٣)،یہ(٦) کا وفق ہے۔
اگر تیسرا قاسم عدد ،(٢)ہو تو توافق بالنصف کہتے ہیں، اور (٣)ہو تو توافق بالثلث کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
✿ تداخل:
اگردو اعداد ایسے ہوں کہ دونوں میں کوئی ایک عدد دوسرے عدد کو برابر تقسیم کردے، تو ایسے دو اعداد کے مابین نسبت کو'' تداخل ''کہتے ہیں جیسے (٢)اور (٤)، ان میں (٢)کا عدد،(٤) کے عدد کو برابر تقسیم کردیتاہے۔
یادرہے کہ توافق کی طرح اس میں بھی دونوں عدد کا وفق ہوتا ہے ، مذکورہ مثال میں:
پہلا عدد(٢)،دوسرے عدد (٤)کو، (٢)پر تقسیم کرتا ہے؛ اس لئے(٢)کو، دوسرے عدد (٤) کا وفق کہتے ہیں ۔
اسی طرح پہلا عدد(٢)،خود کو(١)پر تقسیم کرتا ہے؛ اس لئے(١)کو ،پہلے عدد (٢)کا وفق کہتے ہیں۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
مسئلہ مناسخہ میں نسبتوں کے ذریعہ جامع مسئلہ معلوم کرنا

ماقبل میں جامع مسئلہ معلوم کرنے کا جو طریقہ بتایا گیا ہے اسی طریقہ پر عمل کرتے ہوئے دوسری میت کے حصہ اور دوسری میت کے اصل مسئلہ میں مذکورہ نسبتیں دیکھی جاتی ہیں ۔
یا درہے کہ یہ نسبتیں دیکھے بغیر، اگر مذکورہ اصل طریقے پر عمل کو آگے بڑھا دیا جائے تو بھی نتیجہ درست ہی آئے گا ،لیکن عمل کے دوران بڑے بڑے اعداد کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے حساب میں دشواری ہوگی، اسی مشکل کو آسان کرنے کے لئے نسبتوں کاسہارا لیا جاتا ہے۔
بہرحال دوسری میت کے حصہ، اور دوسری میت کے اصل مسئلہ، میں دیکھیں گے کہ کون سی نسبت ہے ۔

✿ تماثل کی نسبت:
اگرتماثل کی نسبت ہے تو پہلی میت کا اصل مسئلہ ہی جامع ہوگا ۔لہٰذا مزید آگے کوئی عمل نہ کرتے ہوئے اس جامع کو بائیں طرف لکھ دیں گے اور ہر میت کا حصہ اس کے نیچے درج کردیں گے۔
مثال:
ایک عورت فوت ہوئی، وارثین میں شوہر ، ماں اور سگاچچا ہے ، ترکہ کی تقسیم سے قبل شوہر کا انتقال ہوا اوراس شوہر کے وارثین میں اس کے تین سگے بھائی ہیں۔
حل:
Screenshot_1.jpg

وضاحت:
پہلی میت کا اصل مسئلہ (٦)بنا ، یہ کل حصے ہوئے ؛ شوہر کو نصف یعنی (٣) حصے ملے ، ماں کو ثلث یعنی (٢) حصے ملے ،باقی بچا (١) حصہ جو سگے چچا کو ملا۔
دوسری میت کا اصل مسئلہ(٣)ہے ، ہر بھائی کو (١)حصہ ملا۔
یہاں دوسری میت یعنی شوہر کو پہلی میت سے جو حصہ ملا ہے وہ (٣)ہے، نیز دوسری میت کا اصل مسئلہ بھی (٣)ہے ، دونوں میں تماثل کی نسبت ہے لہٰذا جامع مسئلہ پہلی میت کا اصل مسئلہ(٦)ہی ہوا۔اب اسی کے تحت سارے وارثین کو حصے دئے گئے ۔

✿ توافق یا تداخل کی نسبت:
اگر نسبت توافق یا تداخل کی ہے تو دوسری میت کے حصہ کے وفق کو،اس کے اصل مسئلہ کے اوپر لکھیں گے؛ اور دوسری میت کے اصل مسئلہ کے وفق کو، پہلی میت کے اصل مسئلہ کے اوپرلکھیں گے؛اورپھر اصل طریقہ پر ضرب کا عمل کریں گے۔

توافق کی مثال:
ایک آدمی فوت ہوا ، وارثین میں بیوی ، ایک بیٹی ، اور ایک سگابھائی ہے، ترکہ کی تقسیم سے قبل بیٹی فوت ہوگئی ، اس کے وارثین میں اس کی ماں ، اور سگے چچا کے علاوہ اس کا شوہر بھی ہے ۔
حل:
Screenshot_2.jpg

وضاحت:
پہلی میت کا اصل مسئلہ (٨)بنا ،یہ کل حصے ہوئے ؛بیوی کو ثمن یعنی (١)حصہ ملا ، بیٹی کو نصف یعنی (٤)حصے ملے ، باقی بچے (٣)حصے جو سگے بھائی کو ملے ۔
دوسری میت کا اصل مسئلہ(٦) بنا، یہ کل حصے ہوئے ؛ ماں کو ثلث یعنی (٢)حصے ملے،شوہرکو نصف یعنی (٣) حصے ملے ، باقی بچا(١)حصہ جوسگے چچا کو ملا۔
یہاں دوسری میت یعنی بیٹی کو، پہلی میت سے جو حصہ ملا ہے وہ (٤)ہے ،اوراس کا اصل مسئلہ (٦)ہے؛دونوں میں توافق بالنصف کی نسبت ہے (٤)کا وفق (٢)ہے اور (٦) کا وفق(٣) ہے۔
دوسری میت کے حصہ کے وفق (٢)کو ،اس کے اصل مسئلہ(٦) کے اوپر لکھاگیا؛ اور اس کے اصل مسئلہ(٦) کے وفق(٣)کو، پہلی میت کے اصل مسئلہ (٨)کے اوپر لکھا گیا ؛اس کے بعد انہیں دو اعداد کو لیکر سابق اصل طریقہ پر ضرب کرکے باقی عمل کیا گیا۔

تداخل کی مثال:
ایک آدمی فوت ہوا وارثین میں سگی بہن ، نانی ، اور سگا چچا ہے۔ترکہ کی تقسیم سے قبل سگا چچا فوت ہوگیا اس کے وارثین میں ، بیوی ،اورایک باپ شریک بھائی ہے۔
حل:
Screenshot_3.jpg

وضاحت:
پہلی میت کا اصل مسئلہ (٦) بنا ،یہ کل حصے ہوئے؛سگی بہن کو نصف یعنی (٣) حصے ملے ، نانی کوسدس یعنی(١)حصہ ملا ،باقی بچے (٢)حصے یہ سگے چچا کو ملے ۔
دوسری میت کا اصل مسئلہ(٤) بنا، یہ کل حصے ہوئے ؛ بیوی کو ربع یعنی(١)حصہ ملا ،باقی بچے (٣) حصے جو باپ شریک بھائی کو ملے ۔
یہاں دوسری میت یعنی سگے چچا کو، پہلی میت سے جو حصہ ملا ہے وہ (٢)ہے، اوراس کا اصل مسئلہ (٤)ہے؛دونوں میں (٢)کا عدد ،دوسرے عدد(٤) کو پورے طور سے تقسیم کردیتاہے یعنی تداخل کی نسبت ہے ،لیکن ہرتداخل میں توافق کی بھی نسبت ہوتی ہے یہاں توافق بالنصف کی نسبت ہے، (٢)کا وفق (١)ہے اور (٤)کا وفق (٢)ہے۔
دوسری میت کے حصہ کے وفق (١)کو، اس کے اصل مسئلہ (٤)کے اوپرلکھاگیا، اور اس کے اصل مسئلہ کے وفق (٢)کو، پہلی میت کے اصل مسئلہ(٦) کے اوپرلکھا گیا، اس کے بعد انہیں دو اعداد کو لیکر سابق اصل طریقہ پر ضرب کرکے باقی عمل کیا گیا۔

تباین کی مثال:
اگر نسبت تباین کی ہو تواس میں مزید آسانی ممکن نہیں ہے، اس لئے ایسی صورت میں جو اصل طریقہ ہے اسی کے مطابق عمل کریں گے ،شروع میں اصل طریقہ بتلاتے ہوئے جو مثال دی گئی ہے وہ تباین ہی کی مثال ہے۔
نوٹ:-
اگرمناسخہ میں دو سے زائد میت کا انتقال ہوگیا ہو، تو پہلی دو میت کا جامع معلوم کریں گے؛ پھر اسے ایک میت کا مسئلہ مان کر، دوسری میت کا مسئلہ حل کرکے ان دونوں کا جامع معلوم کریں گے اسی طرح آگے عمل کرتے رہیں جب تک کہ سارے وارثین کا مسئلہ حل نہ ہوجائے۔
تنبیہ:
جیساکہ شروع میں بتایاجاچکا ہے کہ مناسخہ کے مسئلہ میں ہرمیت کے ترکہ کو الگ الگ تقسیم کرنے کا طریقہ سب سے آسان ہے، لہٰذا مناسخہ کے مسائل کواسی آسان طریقے پر ہی حل کرنا چاہئے۔
تاہم شائقین اورحساب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ دوسرا طریقہ بھی آسان سے آسان اسلوب میں سمجھا دیا گیا ہے۔


مشق:
ذیل کے مسائل کوبتائے ہوئے طریقہ کے مطابق حل کریں۔
(الف) طریقہ تتابع کے ذریعہ حل کریں ۔
٭ایک آدمی فوت ہوا ، وارثین میں بیوی ،تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ،تقسیم ترکہ سے قبل بیٹی بھی فوت ہوگئی۔اس کے وارثین میں مذکورہ افرادکے علاوہ ایک بیٹی بھی ہے۔
٭ایک عورت فوت ہوئی ،وارثین میں شوہر ،بیٹی ،ماں اورایک سگی بہن ہے،تقسیم ترکہ سے قبل سگی بہن فوت ہوگئی اس کے وارثین میں مذکورہ ماں کے علاوہ اس کا ایک بیٹا بھی ہے۔
(ب) جامع مسئلہ کے ذریعہ حل کریں۔
٭ایک آدمی فوت ہواوارثین میں بیوی ، دوسری متوفی بیوی سے ایک بیٹا ،اورماں باپ ہیں، تقسیم ترکہ سے قبل بیوی فوت ہوگئی اس کے وارثین میں دوسرے شوہر سے تین بیٹے ہیں ۔
٭ایک عور ت فوت ہوئی ،وارثین میں شوہر ، ماں ،ایک ماں شریک بھائی اورایک ماں شریک بہن ہے۔تقسیم ترکہ سے قبل ماں شریک بہن فوت ہوگئی اس کے وارثین میں مذکورہ ماں اور بھائی کے علاوہ ایک بیٹابھی ہے۔
(ج) ذیل کی مثال کو بین العددین نسبتوں کااستعمال کرتے ہوئے جامع مسئلہ کے ذریعہ حل کریں۔
٭ایک آدمی فوت ہوا وارثین میں ماں ،باپ اور ایک بیٹا ہے،تقسیم ترکہ سے قبل بیٹا بھی فوت ہوگیا اس کے وارثین میں مذکورہ افرادکے علاوہ ایک بیٹا بھی ہے۔

نوٹ:- اگلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : (میراث المفقود/Lost Person)
 
Top