• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی 861 نئی شکایات

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی 861 نئی شکایات​
[SUP]
آخری وقت اشاعت: جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 12:53 GMT 17:53 PST[/SUP]

پاکستان میں جبری گمشدگیوں پر حقوق انسانی کی مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کرنے والےحکومتی کمیشن کا کہنا ہے کہ انہیں دو برس میں ملک سے مزید آٹھ سو اکسٹھ افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد ایسے معاملات کی تعداد 999 تک پہنچ گئی ہے۔

کمیشن کے مطابق یہ نئی شکایات یکم فروی دو ہزار گیارہ سے اٹھائیس فروری دو ہزار تیرہ کے دوران موصول ہوئیں جبکہ اس سے قبل یکم جنوری دو ہزار گیارہ تک ایسی شکایات کی تعداد 138 تھی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والے کمیشن کی جانب سے جمعہ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کل 999 شکایات میں سے تین سو اٹھہتر کو نمٹا دیا گیا ہے اور اس وقت چھ سو اکیس شکایات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

کمیشن کے مطابق لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے اسے سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے اور کمیشن نے فروری 2013 میں انیس لاپتہ افراد کو تلاش کیا جن میں سے دو افراد کی لاشیں ملیں۔

ادھر پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی صرف کمیشن کو درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان درخواستوں کی جانچ پڑتال کرنا باقی ہے کہ ان میں جبری گمشدگیوں کے الزامات درست ہیں کہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’درجنوں کی تعداد میں ایسی درخواستیں موصول ہوتی ہیں کہ ان کے پیاروں کو ریاستی سکیورٹی ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں لیکن بعد میں کئی کیسز میں ایسا ہوا کہ لاپتہ فرد بیرون ملک روزگار کے لیے افغانستان، دبئی، سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں روز گار کے لیے جا چکا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ صرف صحیح درخواستوں اور جانچ پڑتال کے بعد لاپتہ افراد کے بارے میں حکومت پاکستان کو آگاہ کرتی ہے اور اس کی جانب سے اب تک ایک سو نو لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن میں سے پندرہ معاملات کو حل کر لیا گیا جبکہ 94 کے بارے میں ابھی کام جاری ہے۔

موجودہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں لاپتہ افراد کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انسانی حقوق کے مشیر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مثبت سمت پیش رفت جاری ہے۔

حکومتی اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے کمیشن کو قائم کرنا، کمشین سے تعاون کرنا، اقوام متحدہ کے ورکنگ کمیشن کو بلانا، پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں لاپتہ افراد کے بارے میں قائمہ کمیٹیاں سرگرم ہیں اور اس کے علاوہ سرگرم عدالتی موجود ہے اور یہ ایک خوش آئندہ بات ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی اپنے عزیزوں کی گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں

پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ نیا نہیں اور جہاں ان جبری گمشدگیوں پر حقوق انسانی کی مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں وہیں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس مسئلے پر اکثر آواز بلند کی جاتی ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی اپنے عزیزوں کی گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں اور وہ ملک کے سکیورٹی اداروں کو ان افراد کی گمشدگیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں جبری گمشدگیوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے بھی پاکستان کا دس روزہ دورہ کیا تھا اور حکومتِ پاکستان اور عدلیہ پر لاپتہ افراد کے معاملے سے نمٹنے پر زور دیا تھا۔

اس کے بعد رواں سال جنوری میں حکومت نے سپریم کورٹ میں پہلی بار تسلیم کیا تھا کہ سات سو کے قریب مشتبہ شدت پسندوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

اب حکومتی کمیشن کی جانب سے یہ تازہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اور گذشتہ دو ماہ کے دوران شہر ایسی سات لاشیں مل چکی ہیں۔

اس سے پہلے صوبہ بلوچستان کے اکثر علاقوں اور صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقوں سے لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اس کمیشن کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔

لاپتہ افراد سے متعلق عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے گزشتہ سال جون میں کوئٹہ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس مسئلے کو چار سے چھ ماہ میں حل کر لیا جائےگا۔

پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپنی سفارشات میں تجویز کیا تھا کہ انٹیلیجنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو ضابطے میں لایا جائے اور ان کی پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

ح
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
تین بھائی لاپتہ، دورانِ حراست ایک ہلاک

تین بھائی لاپتہ، دورانِ حراست ایک ہلاک​

[SUP]شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 9 مارچ 2013 ,‭ 20:24 GMT 01:24 PST[/SUP]

مفتی عبدالباعث کے تین بھائی گُزشتہ پانچ سال سے حساس اداروں کی تحویل میں ہیں اور ان میں سے ایک بھائی عبدالصبور مبینہ طور پر دوران حراست ہلاک ہو چکے ہیں۔

اُن کے اہلخانہ کے مطابق عبدالصبور کی لاش سڑک کے کنارے ایک ایمبولینس سے ملی جس کی بمشکل شناخت ہو سکی۔

پہلے یہ لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل تھے بعدازاں اٹارنی جنرل عرفان قادر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اُن سمیت سات سو افراد فرنٹیر کرائم ریگولیشن یعنی ایف سی آر قانون کے تحت قبائلی علاقوں کی پولٹیکل انتظامیہ اور فوج کی تحویل میں ہیں تاہم اُنہوں نے عدالت میں اُن افراد کی فہرست جمع نہیں کروائی جو پولیٹیکل انتظامیہ یا فو ج کی تحویل میں ہیں۔

عبدالباعث کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے بعد جب اُنہوں نے اپنے بھائی کو دیکھا تو ایک شخص جس نے چوبیس سال میرے ساتھ گُزارے اس کے باوجود میں اُس کو نہیں پہچان سکا۔

انہوں نے کہا کہ اُن کے بھائی کے جسم میں گوشت ختم ہو چکا تھا اور اب صرف کھال اور ہڈیاں رہ گئی تھیں۔

’میں نے ماتھے سے پہچانا کہ وہ میرے بھائی ہیں۔ پھر بھی مجھے شک رہا۔ آخر کار جب اُن کو غسل دینے لگے تو اُن کے پاؤں پر چوٹ کا نشان تھا جس سے میں نے انہیں پہچانا اور یقین ہوا کہ وہ میرے بھائی ہیں۔‘

عبدالباعث کے تین بھائیوں سمیت گیارہ افراد کو مئی 2010 میں اڈیالہ جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ان افراد کو اوجڑی کیمپ اور آئی ایس آئی کی بس پر خودکش حملہ کرنے کےالزام میں گرفتار کیا گیا تھا جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا تھا۔

لاپتہ افراد سے متعلق فوج کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا ہے کہ جتنے افراد بھی پولیٹیکل انتظامیہ کی تحویل میں ہیں وہ مبینہ طور پر شدت پسندی کی وارداتوں میں ملوث ہیں یا پھر اُن کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ بھی حراستی مرکز میں ہیں اُن میں سے کوئی بھی معصوم نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران اگر کسی بھی شخص کے خلاف کوئی شواہد نہ ملے ہوں تو اُس کو رہا کر دیا جاتا ہے۔

حکومت کی طرف سے بنائے گئے کمیشن میں سب سے زیادہ درخواستیں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے حوالے سے آئی ہیں۔

ان لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والے عبدالقدیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ دو ہزار ایک سے لے کر اب تک پندرہ ہزار بلوچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ اُن میں سے سات سو افراد کو قتل کر دیا گیا ہے جبکہ چار سو ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری دور میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج طارق محمود کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو فوج کے سپہ سالار کو بُلا کر لاپتہ افراد کے معاملے کو قانون کے مطابق حل کرنے پر بات کرنی چاہیے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں قانون موجود ہے آئین میں اُس کو تحفظ ہے کہ کسی شخص کو جب قانون نافذ کرنے والے ادارے پکڑیں گے تو چوبیس گھنٹے سے زیادہ اُس کو حراست میں نہیں رکھا جا سکتا ہے ۔

اُنہوں نے کہا کہ’ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسا نہیں کرتے تو اس کی وجوہات بتانا ہوگی اور کسی بھی شخص کو تین ماہ سے زائد حراست میں نہیں رکھا جاسکتا اور اس کے بعد اُسے کورٹ آف لاء میں پیش کرنا ہوگا۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ عدالتی اقدامات کی وجہ سے کچھ لا پتہ افراد کی بازیابی تو ممکن ہو سکی ہے لیکن اب بھی ایک بہت بڑی تعداد لاپتہ ہے۔ اُن کی بازیابی کے لیے عدالت ریاست اور حکومت کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ح
 
Top