• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پلیٹ فارم نہیں ملتا تو بنا لیجیے

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,608
ری ایکشن اسکور
31
پوائنٹ
110
ثناءاللہ صادق تیمی
تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ بہت سے ذی علم اور صاحبان فکر ونظر لوگ اس لیے نمایاں نہیں ہوسکے کہ انہیں مناسب پلیٹ فارم نہیں ملا جب کہ بعض کم صلاحیتوں کے لوگ بھی پلیٹ فارم مل جانے کی وجہ سے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ۔ پلیٹ فارم ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی صلاحیتوں کے استعمال کا موقع مل گیا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خود اپنی لیاقتوں سے آشنا ہونے کا موقع مل گیا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر جو وساوس ، مخاوف اور بہت سے اندیشے تھے انہیں مارنے کا موقع مل گیا اور آپ اپنی اہلیتوں کے ساتھ سامنے آ گئے ۔ یوں دنیا کو پتہ چلا کہ آپ کے اندر کیا کیا قوتیں پوشیدہ تھیں اور آپ سے کیا کیا کام لیا جاسکتا ہے ۔
صلاحیتوں کے ساتھ اظہار کے مواقع کی دستیابی بہت معنی رکھتی ہے ۔ وہ دنیا بہت حد تک گزر چکی ہے جب ان مواقع پر چند لوگوں کی اجارہ داری تھی ۔ اخبارات ، میگزین ، ٹیلی ویژن اور دوسرے ذرائع چند لوگوں کے ہاتھوں میں تھے اور وہ فیصلہ کرتے تھے کہ کسے کہاں اور کتنی جگہ دینی ہے ؟
آج بہت حد تک یہ سارے اسپیس اوپین ( جگہیں کھلی ہوئی ) ہیں ۔سوشل میڈیا نے اس میدان میں انقلاب برپا کردیا ہے ۔ لکھنے کے بعد چھپنے کا مرحلہ کچھ ویسا مشکل نہیں رہا ، اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہيں کہ معیار سے سمجھوتہ کیا جائے لیکن اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ اب رکاوٹیں بہت حد تک دور ہوچکی ہیں ۔ صرف فیس بوک کو دیکھ لیجیے تو اس پر علمی نگارشات کے علاوہ آپ ویڈیوز بھی اپلوڈ کرسکتے ہیں ، لائیو پروگرام بھی کرسکتے ہیں ، یہی سہولت یو ٹیوب پر بھی موجود ہے بلکہ زوم اور دوسرے بہت سے ایپس ایسے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر بہت کچھ کیا جاسکتا ہے اور بہت سے لوگ الحمد للہ کر بھی رہے ہیں ۔ ان وسائل نے راہیں ہموار کی ہیں ، اگر ان وسائل کا سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو پلیٹ فارم کے نہ ہونے کی شکایت دور کی جاسکتی ہے اور اپنی پہچان بنائی جاسکتی ہے ۔ کتابیں چھاپ نہیں سکتے تو کوئی بات نہیں پی ڈی ایف بنا کر عام کرنے کی کوشش کیجیے ، آج ویسے بھی بڑی تعداد ایسی ہے جو پی ڈی ایف میں پڑھتی ہے اور استفادہ کرتی ہے ۔
اس لیے ہمیں اس کا رونا نہیں رونا کہ ہمارے پاس اہلیت تو ہےلیکن ہمیں پلیٹ فارم نہيں ملتا ۔ ان کھلے ہوئے پلیٹ فارم اور وسائل کا بحسن وخوبی استعمال کیجیے اور پھر دیکھے کہ دیکھتے دیکھتے کیسے دوسرے پلیٹ فارم بھی آپ کے لیے کھل جاتے ہیں اور جو آپ کو کسی قابل نہیں سمجھتے تھے ان کا زاویہ نگاہ کیسے بدل گيا ہے ۔ ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے کہ ہم وقت کو پیچھے نہیں لے جاسکتے ۔ ٹکنالوجی کی سطح پر آئے دن جس تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اس میں سمجھداری کا تقاضہ یہی ہے کہ حالات کا ساتھ دینے کی کوشش کی جائے ورنہ یہ کارواں تیزی سے آگے بڑھ جائے گا اور ہم راہ میں بھٹکتے رہ جائیں گے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا ۔آج لگ بھگ سارے نیوز چینل ، اخبارات اور جرائد آن لائن موجود ہیں ، فیس بوک پر ان کے صفحات ہیں ، یو ٹیوب پر ان کے چینل ہیں اور ان تمام راستوں سے وہ لوگوں سے جڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہم بطور خود بھی محنت کرکے انہیں وسائل سے اپنی جگہ بھی بناسکتے ہیں ۔ بڑی تعداد میں لوگ اپنی جگہ بنارہے ہیں اور بہت سے بڑے بڑے اداروں سے وابستہ لوگوں سے زیادہ کما بھی رہے ہیں اور مقبولیت بھی حاصل کررہے ہیں ۔
اقبال نے بڑا اچھا ہے
خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں
آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہُنر میں
جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں
جنّت تری پنہاں ہے ترے خُونِ جگر میں
اے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ!

[ ثناہ اللہ صادق تیمی کی فیسبک وال سے ]
 
Top