1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چار آسمانی کتابوں کے بارے میں

'کتب وصحائف' میں موضوعات آغاز کردہ از طارق بن زیاد, ‏دسمبر 25، 2011۔

  1. ‏دسمبر 25، 2011 #1
    طارق بن زیاد

    طارق بن زیاد مشہور رکن
    جگہ:
    saudi arabia
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2011
    پیغامات:
    324
    موصول شکریہ جات:
    1,718
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    []بسـم الله الرحمن الـرحيم
    []السلام وعلیکم
    [میرے ذہن میں چند دنوں سے اک سوال کھٹک رہا تھا سونچا آپ اہل علم حضرات سے پوچھ کر تشفی حاصل کرلوں۔
    موسی علیہ السلام کو تورات ۔ یہود
    عیسی علیہ السلام کو انجیل ۔ عیسائی
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن - مسلم
    لیکن داود علیہ السلام کو زبور ۔ ؟ انکی قوم کہاں ہے؟ اگر پچھلے زمانے میں تھی تو وہ کونسی قوم تھی؟ اور زبور کیا آج بھی موجود ہے؟
    اور آسمانی کتابیں کتنی ہیں؟
     
  2. ‏دسمبر 26، 2011 #2
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    مورخین کے ایک اندازے کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ ۲۴ یا ۲۵ سو قبل مسیح بتلایا جاتا ہے یعنی آج سے تقریبا ۴۵ سو سال پہلے کا ہے۔ انہوں اپنے ایک بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ میں آباد کیا اور ان کی نسل سے صرف ایک ہی نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور دونوں کے مابین تقریبا ۳ ہزار سال کا زمانی وقفہ موجود ہے۔ دوسری طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دوسری بیوی سے اپنے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو سرزمین فلسطین میں آباد کیا اور پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب کو نبوت عطا ہوئی اور مورخین کے مطابق وہ شام کے علاقے کنعان میں تھے۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹوں میں صحف ابراہیم کی ہی شریعت لاگو تھی۔ واللہ اعلم بالصواب، اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی کتاب میں چار آسمانی کتب تورات،انجیل، زبور اور قرآن مجید کے علاوہ صحف ابراہیم کا بھی ذکر کیا ہے لیکن صحف ابراہیم کا کوئی تحریف شدہ ورژن بھی اس وقت موجود نہیں ہے البتہ دور جاہلیت میں اہل مکہ کے مشرکین میں صحف ابراہیم کی مسخ شدہ تعلیمات پر عمل موجود تھا جیسا کہ حج وغیرہ۔

    حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یوسف علیہ السلام کا قصہ تفصیل سے قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اور اس قصے کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین اور بھائیوں کو شام سے مصر میں بلوا لیا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں مصر پر چرواہے بادشاہوں کی حکومت تھی جو مصر کے گردا گرد کے صحرا کے بدو قبائل تھے اور انہوں نے مصر کی مقامی آبادی یعنی قبطیوں کو غلام بنا رکھا تھا۔ بعد ازاں حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے کافی عرصہ بعد مصر کی مقامی آبادی یعنی قبطیوں نے چرواہے بادشاہوں کے خلاف بغاوت کر دی اور ان کو مار بھگایا اور ان کے چہیتوں یعنی بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا۔ اس وقت سے بنی اسرائیل قبطیوں کے غلام چلے آ رہے ہیں۔

    اس کے بعد اللہ تعالی نے اولاد یعقوب علیہ السلام یعنی بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی اور ان کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے حضرت موسی علیہ السلام کو مبعوث کیا اور ان پر تورات نازل کی گئی۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر ایک بہت بڑا صحرائے سینا عبور کرتے ہوئے فلسطین لے گئے اور اس واقعے کی تفصیلات قرآن مجید میں موجود ہیں۔ اس صحرائے سینا کے رستے میں کوہ طور پر تورات نازل کی گئی۔ صحرا میں من و سلوی کھانے کو ملا اور بادلوں نے صحرا کی دھوپ سے سایہ کیا۔ چٹان سے پانی کے چشمے جاری ہوئے۔ مورخین کے ایک اندازے کے مطابق مصر سے فلسطین کی طرف اس ہجرت میں بنی اسرائیل کی تعداد تقریبا ۶ لاکھ تھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی اندازے بیان کیے گئے ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام کا زمانہ ۱۵ سو قبل مسیح یعنی آج سے ۳۵ سو سال پہلے کا بتلایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم

    فلسطین میں مشرکین کی حکومت تھی اور بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین کو فتح کیا اور فلسطین پر بنی اسرائیل کی حکومت یا خلافت قائم ہو گئی اور اس خلافت کا نقطہ عروج حضرت داود علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کی خلافت ہے۔ حضرت داود علیہ السلام کا زمانہ تقریبا ایک ہزار قبل مسیح بتلایا جاتا ہے یعنی آج سے ۳ ہزار سال پہلے کا ہے۔ حضرت داود پر زبور کتاب نازل ہوئی جو اللہ کی حمد کے ترانوں پر مشتمل تھی نہ کہ کوئی علیحدہ سے شریعت یا قانون تھی کیونکہ حضرت داود بھی بنی اسرائیل ہی کے ایک پیغمبر تھے کہ ان کی شریعت بھی تورات ہی تھی۔

    پھر بنی اسرائیل ہی کی اصلاح کے لیے ان میں ایک آخری پیغمبر عیسی علیہ السلام بھیجے گئے جن کی شریعت بھی تورات ہی تھی اور ان پر جو کتاب نازل ہوئی ہے یعنی انجیل اس کا موضوع تو تزکیہ نفس، اخلاق کی اصلاح اور حکمت کا بیان ہے کیونکہ یہود کے علما میں جو بگاڑ پیدا ہوا تھا وہ اخلاقی تھا، قانون یا شریعت کی تو وہ خوب بال کی کھال اتارتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد آج سے تقریبا ۲ ہزار سال پہلے ہوئی ہے۔ اس کے بعد نبوت بنی اسرائیل میں ختم ہوگئی اور وہاں سے نبوت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل میں منتقل ہو گئی۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے شدید مخالف اور دشمن ہیں کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنو اسماعیل میں آمد سے ان کی خاندانی مذہبی قیادت و سیادت یعنی بنو یعقوب کی قیادت ختم ہو گئی اور امت مسلمہ کا ٹائٹل بنی اسرائیل سے بنو اسماعیل کی طرف منتقل ہو گیا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 12
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 26، 2011 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا ابوالحسن علوی بھائی
     
  4. ‏دسمبر 26، 2011 #4
    طارق بن زیاد

    طارق بن زیاد مشہور رکن
    جگہ:
    saudi arabia
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2011
    پیغامات:
    324
    موصول شکریہ جات:
    1,718
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء شیخ محترم۔
    الحمدللہ معلومات میں کافی اضافہ ہوا۔
     
  5. ‏دسمبر 26، 2011 #5
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک اللہ خیرا جناب
     
  6. ‏اپریل 05، 2012 #6
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم۔

    اللہ کی کتاب کے مطابق آپ کے سوال میں کئی سنگین غلطیاں ہیں، جن کو درست کرنا بہت ضروری ھے۔


    موسٰی علیہ سلام کو "الکتاب" ۔ مسلم



    عیسٰی علیہ سلام کو " الکتاب ، الحکمہ ، التوراۃ اور الانجیل۔۔۔۔۔ مسلم


    محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ الکتاب ، قرآن۔۔۔۔ مسلم۔



    داؤد علیہ سلام کو الکتاب، زبور۔۔۔۔۔۔ مسلم۔


    اللہ کی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ اللہ نے آسمان سے کتاب نازل کی ھے۔


    یاد رکھیں انبیاء کے متعلق صرف وہی لکھیں جو حق ھے۔ جو اللہ کی کتاب میں لکھا ہوا ھے۔
     
  7. ‏فروری 17، 2018 #7
    Zahid Mian

    Zahid Mian مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

     
  8. ‏فروری 17، 2018 #8
    Zahid Mian

    Zahid Mian مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    یہ بات تو درست ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنو یعقوب کے آخری نبی تھے، مگر ایک خلش جو میرے ذہن میں ہے۔ "آپ کے مطابق انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی ، دراصل تورات کا ہی تسلسل ہے، مگر اللہ نے قُرآن میں یہودیوں اور عیسائیوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے مخاطب کیا ہے اور پھر یہ دونوں بھی خود کو ایک نہیں مانتے۔ آپ کیا کہتے ہیں
     
  9. ‏مئی 23، 2018 #9
    صمیم طارق

    صمیم طارق مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2017
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    یہود یا بنی اسرائیل کے دو قبائیل بنی یہودہ و بنیا امین نے تو حضرت عیسیٰ کی نبوت و تعلیمات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ انکے بعد پال نے دعوای کیا کے حضرت عیسیٰ انسے ملے ہیں اور انکو تعلیمات سیکھائی ہیں٬ اور انکی تبلیغ پر بھی یہود نے کوئی کان نہیں دھرا اور آخر میں پال نے اپنی تعلیمات کو غیر یہودیوں میں پھیلانا شروع کردیا جو بعد میں عیسائیت کہلائی اور پال کی تعلیمات پر چلنے والے مسیحی یا عیسائی۔
     
  10. ‏ستمبر 26، 2018 #10
    عالی جاہ

    عالی جاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2018
    پیغامات:
    14
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    لیکن اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تورات وہی کتاب ہے جو موسیٰ ؑ پر اتری تھی؟؟؟؟
    یا اس کتاب کا نام تورات ہے؟؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں