• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چاند کی تسخیر

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
٭٭٭ سائنس پرستوں کا سائنسی خدا، امریکہ ڈوب گیا٭٭٭
٭٭ سائنس کے نام پہ بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کا الزام درست نکلا٭٭
٭ چاند کی تسخیر کا دعویٰ 'جعلی' تھا، امریکی فلم ڈائریکٹر نے بھانڈا پھوڑ دیا ٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالی ووڈ کے مایہ ناز فلم ڈائریکٹر سٹینلے کبرک (Stanley Kubrick) کی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے چاند پر مشن بھیجنے کا دعویٰ جعلی اور جھوٹ پر مبنی تھا۔ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے اس جھوٹ کو فلم بند کیا تھا۔ آج تک کوئی انسان چاند کو تسخیر ہی نہیں کر سکا ہے۔
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) دنیا بھر کے افراد نے وہ منظر یقینا دیکھا ہوگا جب چاند پر بھیجے گئے امریکی مشن اپالو 11 میں شامل نیل آرمسٹرانگ نے اس سیارے پر پہلا قدم رکھا تھا۔ برسوں گزر جانے کے بعد بھی اس مشن پر سوالیہ نشانات ہیں کہ کوئی انسان کبھی چاند پر گیا ہی نہیں تھا۔ اب پتا چلا ہے کہ یہ سب کچھ جعلی تھا جو ہالی ووڈ کے ایک سٹوڈیو میں تیار کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک خفیہ ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ہالی ووڈ کے آنجہانی ہدایتکار سٹینلے کبرک نے تسلیم کیا ہے کہ 1969ء میں چاند پر کوئی مشن نہیں گیا تھا بلکہ انہوں نے اس کی فلم بندی کی تھی۔ ہالی ووڈ کے ہدایتکار کی اس خفیہ ویڈیو کو 15 سال قبل فلم بند کیا گیا تھا۔ ان کی ویڈیو بنانے والے رپورٹر نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ویڈیو کو ان کی وفات کے 15 سال بعد افشاء کرے گا۔ اس کے چند ہی دن بعد سٹینلے کبرک کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس خفیہ ویڈیو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ چاند کی تسخیر پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات درست ہیں۔ یہ سب کچھ امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی حکومت کی ایماء پر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو اس تمام معاملے کا علم تھا۔
سٹینلے کبرک کا کہنا تھا کہ وہ امریکی عوام سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ انہوں نے ان سے دھوکہ دہی کی ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے امریکی حکومت اور ناسا کے کہنے پر مصنوعی چاند پر فلم بندی کی تھی۔ میں اس فراڈ پر امریکی عوام کے سامنے شرمسار ہوں۔
لنک

٭٭٭ سائنس پرستوں کا سائنسی خدا، امریکہ ڈوب گیا٭٭٭
٭٭ سائنس کے نام پہ بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کا الزام درست نکلا٭٭
٭ چاند کی تسخیر کا دعویٰ 'جعلی' تھا، امریکی فلم ڈائریکٹر نے بھانڈا پھوڑ دیا ٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالی ووڈ کے مایہ ناز فلم ڈائریکٹر سٹینلے کبرک (Stanley Kubrick) کی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے چاند پر مشن بھیجنے کا دعویٰ جعلی اور جھوٹ پر مبنی تھا۔ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے اس جھوٹ کو فلم بند کیا تھا۔ آج تک کوئی انسان چاند کو تسخیر ہی نہیں کر سکا ہے۔
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) دنیا بھر کے افراد نے وہ منظر یقینا دیکھا ہوگا جب چاند پر بھیجے گئے امریکی مشن اپالو 11 میں شامل نیل آرمسٹرانگ نے اس سیارے پر پہلا قدم رکھا تھا۔ برسوں گزر جانے کے بعد بھی اس مشن پر سوالیہ نشانات ہیں کہ کوئی انسان کبھی چاند پر گیا ہی نہیں تھا۔ اب پتا چلا ہے کہ یہ سب کچھ جعلی تھا جو ہالی ووڈ کے ایک سٹوڈیو میں تیار کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک خفیہ ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ہالی ووڈ کے آنجہانی ہدایتکار سٹینلے کبرک نے تسلیم کیا ہے کہ 1969ء میں چاند پر کوئی مشن نہیں گیا تھا بلکہ انہوں نے اس کی فلم بندی کی تھی۔ ہالی ووڈ کے ہدایتکار کی اس خفیہ ویڈیو کو 15 سال قبل فلم بند کیا گیا تھا۔ ان کی ویڈیو بنانے والے رپورٹر نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ویڈیو کو ان کی وفات کے 15 سال بعد افشاء کرے گا۔ اس کے چند ہی دن بعد سٹینلے کبرک کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس خفیہ ویڈیو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ چاند کی تسخیر پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات درست ہیں۔ یہ سب کچھ امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی حکومت کی ایماء پر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو اس تمام معاملے کا علم تھا۔
سٹینلے کبرک کا کہنا تھا کہ وہ امریکی عوام سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ انہوں نے ان سے دھوکہ دہی کی ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے امریکی حکومت اور ناسا کے کہنے پر مصنوعی چاند پر فلم بندی کی تھی۔ میں اس فراڈ پر امریکی عوام کے سامنے شرمسار ہوں۔
 
شمولیت
نومبر 27، 2014
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
60
پوائنٹ
49
’’ایمان‘‘ کی تعریف اس واقعے کے تناظر میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
آج کی دنیا سائنس ٹیکنالوجی کے ساتھ پروپیگنڈے کی دنیا ہے ۔ اس میں ڈومیننٹ قوم کوئی نظریہ پیش کرے تو لوگ مرعوب ہو کر اس کا اثر قبول کرلیتے ہیں ۔
ایتھیئسٹ یعنی ملحد لوگ بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ا یک طرف تو وہ دین کی مختلف چیزوں پر سوال اٹھاتے ہیں ۔ اور اس کا مٹیریل ایویڈنس مانگتے ہیں ۔ لیکن عجیب بات ہے سائنس سے متعلق واقعات پر بن دیکھے ایمان لے آتے ہیں ۔نظریہ ارتقا ، چاند کی تسخیر ،وغیرہ اسی مرعوبیت کی مثالیں ہیں ۔
ہمارے حواس خمسہ جب دنیا کی چیزوں کو اس طرح دیکھیں تو مرعوب کیوں نہ ہوں ۔ اب چاند کی تسخیر کے ثبوت کے دو ہی طریقے ہیں عام آدمی کے لئے ۔ یا وہ خود گیاہو ۔عین الیقین۔
یا علم الیقین ۔ یعنی کسی ایسے پر جس پر اس کو کامل اعتماد ہو ۔اس کے کہنے پر یقین کرلے ۔ جیسے ہم امریکہ نہیں گئے ۔ لیکن یقین ہے کہ وہ موجود ہے ۔
میری ذاتی رائے میں اس فارمولے کے تحت جس بات کا ثبوت مجھ تک پہنچ گیا ہے ۔ اتنا مجھے یقین ہے ۔یعنی زمین سے باہر گئے ہیں ۔اس کی دلیل میں گوگل ارتھ یا سیٹلائٹ ورلڈ میپ کو پیش کیا جاسکتا ہے ۔ چاند پر پہنچے ہیں کہ نہیں ۔ کوئی پتا نہیں ۔ہوسکتا ہے پہنچے ہوں ۔ہو سکتا ہے نہ پہنچے ہوں ۔
کاش ہم لوگ اللہ اور اس کی باتوں کا اتنا تذکرہ کریں اور دنیا کے سب سے بڑے مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کے بھروسے پر یقین کریں۔جس کا نام ایمان ہے ۔ اور اس سے مرعوب ہوں ۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
زمین سے چاند کا فاصلہ تقریباً 384500 کلو میٹر ہے۔
آواز کی رفتار (سطح سمندر جتنی کثافت پر) تقریباً 1230 کلو میٹر ہے۔
آواز سے تقریباً 6 گنا زیادہ رفتار والے راکٹ بن چکے ہیں جن کا عملی مظاہرہ کیا جاچکا ہے۔
راکٹ کی رفتار تقریباً 6500 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔
اس رفتار سے چاند پر پہنچنے میں تقریباً 60 گھنٹے کا وقت درکار ہوگا۔
 
Top