• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چوتھا حصہ : مسائل فرائض کی قسمیں (تفہیم الفرائض)

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
نوٹ:- پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : (تیسرا حصہ {ب} : تصحیح)
چوتھا حصہ:مسائل فرائض کی قسمیں

فرائض کے مسائل کی تین قسمیں ہیں:
1 مسئلہ عادلہ 2 مسئلہ عائلہ 3مسئلہ ناقصہ

مسئلہ عادلہ

لغوی معنی:
عادلہ یہ عدل سے ہے، جس کے معنی برابر اور مساوی کے ہیں۔
اصطلاحی معنی:
اگرکسی مسئلہ میں اصحاب الفرائض کے حصوں کا مجموعہ، اصل مسئلہ کی مقدار کے موافق ہو؛ کم یازیادہ نہ ہو تواسے مسئلہ عادلہ کہتے ہیں۔
مثلا ایک عورت فوت ہوئی،اور وارثین میں زوج(شوہر) اور اخت شقیقہ (سگی بہن)ہیں :
Screenshot_1.jpg

اصل مسئلہ (٢) ہے ، یہ کل حصے ہوئے ؛ (١) حصہ زوج (شوہر) کو ملا ، (١) حصہ اخت شقیقہ (سگی بہن ) کوملا ۔یہاں وارثین کے حصوں کا مجموعہ (١١٢) اصل مسئلہ (٢) سے نہ کم ہے نہ زیادہ۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
مسئلہ عائلہ(عول)(Problem of Deficiency)

لغوی معنی:
عائلہ یہ عول سے ہے جس کا معنی بڑھنا ہے۔
اصطلاعی معنی:
اگرکسی مسئلہ میں اصحاب الفرائض کے حصوں کا مجموعہ، اصل مسئلہ کی مقدار سے زیادہ ہوجائے ؛ تو اسے مسئلہ عائلہ(عول) کہتے ہیں۔بعض اسے ''مسئلہ زائدہ ''بھی کہتے ہیں۔
مثلا :ایک عورت فوت ہوئی، وارثین میں شوہر اور دو سگی بہنیں ہیں ۔
Screenshot_2.jpg

اصل مسئلہ (٦) ہے ،یہ کل حصے ہوئے ؛ شوہر کو (٣) حصے مطلوب ہیں ،اور دونوں سگی بہنوں کو (٤) حصے مطلوب ہیں ،یعنی کل مطلوبہ حصے (٧) ہیں، جبکہ اصل مسئلہ میں صرف (٦) حصے بنے ہیں ۔ یعنی وارثین کے حصوں کا مجموعہ (٣٤٧)،اصل مسئلہ (٦) سے بڑھ گیا۔
قاعدہ :
مسئلہ عائلہ میں اصل مسئلہ کو کاٹ کر، اس کی جگہ حصوں کی مجموعی تعداد کو اصل مسئلہ بنادیا جاتا ہے۔
مذکورہ مثال میں اصل مسئلہ (٦)ہے، اسے کاٹ دیں گے اور اس کی جگہ حصوں کی مجموعی تعداد یعنی (٧)کو، اصل مسئلہ بنادیں گے؛اوراسے ''٦بالعول٧''لکھیں گے۔

عول میں چونکہ اصل مسئلہ کے مقابلے میں اصحاب الفرائض کے مطلوبہ حصوں کا مجموعہ بڑھ جاتا ہے، اس لئے اس مجموعے کو اصل مسئلہ بنادیتے ہیں۔ اس طرح ہروارث کے حصہ میں اس کی مقدار کی نسبت سے کچھ کمی ہوجائے گی، اورسب کو اپنے حصے کی نسبت سے کچھ کم مال ملے گا۔
فوائد:ـ جن اصول مسائل میں عول ہوتا ہے ، وہ (٦)،(١٢)اور(٢٤)ہیں۔
٭اصل مسئلہ(٦)ہو تو:(٧)،(٨)،(٩)اور (١٠)تک عول ہوتاہے۔یعنی اصل مسئلہ (٦) یہ (١٠) تک جفت وطاق تمام اعدادمیں عول ہوتاہے۔
٭اصل مسئلہ (١٢)ہو تو: (١٣)،(١٥)اور(١٧) عول ہوتا ہے۔یعنی اصل مسئلہ (١٢) یہ (١٧) تک صرف طاق اعداد میں عول ہوتاہے۔
٭اصل مسئلہ (٢٤)ہو تو: صرف (٢٧) عول ہوسکتا ہے۔

مشق:
٭زوج ، ٢/أخت ش
٭زوج ، ٢/أخت ش ، أخ لأم
٭زوج ، ٢/أخت ش ، ٢/أخ لأم
٭زوج ، ٢/أخت ش ، ٢/اخوة لأم ، أم
٭زوجہ ، ٢/أخت ش ، أخ لأم
٭زوجہ ، ٢/أخت ش ، ٢/اخوہ لأم
٭زوجہ ، ٢/أخت ش ، ٢/اخوہ لأم ، أم
٭زوجہ ، ٢/بنت ، أم ، أب
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
مسئلہ ناقصہ(رد)(Problem of Return)

لغوی معنی :
ناقصہ یہ نقص سے ہے جس کا معنی کم ہونا ہے۔
اصطلاحی معنی:
اگرکسی مسئلہ میں اصحاب الفرائض کے حصوں کا مجموعہ، اصل مسئلہ کی مقدار سے کم ہوجائے؛ تو اسے مسئلہ ناقصہ(رد) کہتے ہیں۔
مثلا:ایک آدمی فوت ہوا ،وارثین میں ماں اور دو ماں شریک بہنیں ہیں۔
Screenshot_3.jpg

اصل مسئلہ (٦) بنا ،یہ کل حصے ہوئے ؛ ماں کو سدس یعنی (١) حصہ ملا ،دونوں ماں شریک بہنوں کو ثلث یعنی (٢) حصے ملے ،(٣) حصے باقی بچ گئے ۔یعنی وارثین کے حصوں کا مجموعہ(١٢٣)،اصل مسئلہ (٦) سے کم ہوگیا۔
قاعدہ :
مسئلہ ناقصہ(رد) میں عول ہی کی طرح اصل مسئلہ کو کاٹ کر، اس کی جگہ حصوں کی مجموعی تعداد کو اصل مسئلہ بنادیا جاتا ہے۔
مذکورہ مثال میں اصل مسئلہ (٦)ہے، اسے کاٹ دیں گے اور اس کی جگہ، حصوں کی مجموعی تعداد یعنی (٣)کو، اصل مسئلہ بنادیں گے؛اوراسے ''٦بالرد٣'' لکھیں گے۔
فائدہ:ـ اگر مسئلہ میں باقی کا حقدار کوئی عصبہ ہوگا تو اس مسئلہ میں رد کی صورت نہیں ہوسکتی، کیونکہ باقی سارے مال کاخصوصی حقدار عصبہ موجود ہوگا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
مسئلہ ناقصہ (رد) میں اہل علم کا اختلاف

مسئلہ ناقصہ میں جو مال بچ جاتا ہے اسے کس کے حوالے کریں گے، اس بارے میں اہل علم کے تین اقوال ہیں۔
ہم تینوں اقوال مع دلائل واشکالات پیش کرتے ہیں، اور ہرقول کے مطابق مسئلہ کو حل کرنے کا طریقہ بھی درج کرتے ہیں:

پہلا قول:
باقی بچے مال کو دوبارہ سارے وارثین میں لوٹا دیں گے ، یہ بہت شاذ قول ہے اور یہی قول عثمان tسے منقول ہے، جیساکہ کتب فقہ میں درج ہے لیکن اس قول کی صحیح سند نہیں مل سکی۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہaنے اپنے بعض فتاوی میں اس موقف کو بھی اپنا یا ہے ۔ دیکھئے:[ مجموع الفتاوی ج:٣١ /٣٣٨]
ماضی قریب کے علماء میں شیخ عبدالرحمن السعدیa،صاحب تفسیر کا بھی یہی موقف ہے کہ باقی مال سارے ورثاء پر لوٹا یاجائے گا ،[ ارشاد أولی البصائر والألباب:ص:٢٤٨ ،٢٤٩]
شیخ ابن عثیمین aنے ایک خاص صورت میں کہ جب مسئلہ میں صرف زوجین میں سے کوئی ہو ،اور ذوی لأرحام میں سے کوئی موجود نہ ہو تو یہ موقف اپنا یا ہے کہ زوجین پر رد کیا جائے گا [ تسہیل الفرائض:ص٧٠]
دلیل:
اس قول کے دو دلائل ہیں:
اول:-اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
من ترک مالا فلورثتہ ، جس میت نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثین کا ہے ۔[ صحیح البخاری،رقم٢٢٩٨]
اس حدیث میں میت کے متروکہ مال پر اس کے تمام وارثین کا حق بتلایا گیا ہے ، اس لئے عام طریقہ تقسیم کے بعد، ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو اس پر سارے وارثین کا حق ہوگا۔
دوم:-کبھی کبھی عام طریقہ تقسیم کے مطابق، حصے دار بڑھ جاتے ہیں اور ترکہ کم پڑجاتا ہے، جسے عول کہتے ہیں ؛ ایسی صورت میں سارے وارثین کے حصوں میں کچھ کم کردیا جاتا ہے؛ توجب ترکہ کم پڑجانے پر سارے وارثین کے حصے کم کردئے جاتے ہیں تو ترکہ بڑھ جانے سے سارے وارثین کے حصوں میں اضافہ بھی ہونا چاہے،یعنی جب خسارہ میں سب شریک ہوتے ہیں تو فائدہ میں بھی سب کو شریک کرنا چاہئے، قیاس کا یہی تقاضا ہے۔
اشکال:
اس موقف پر اشکال یہ ہے کہ اس میں زوجین پر بھی رد کی بات کہی گئی ہے حالانکہ زوجین کو ان کا فرض حصہ دینے کے بعد بچے ہوئے مال سے مزید دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
بلکہ آیت ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [٣٣/احزاب:٦] کے عموم کے تحت ایسی حالات میں صرف رحمی رشتہ دار ہی مستحق ہوں گے۔
طریقہ حل:
اس قول کے مطابق مسئلہ رد کا حل ویسے ہی ہوگا جیسے ماقبل میں پیش کیا گیا ہے۔

دوسرا قول:
باقی بچا پورامال، بیت المال کے حوالے کردیں گے، اور وارثین میں کسی کو بھی دوبارہ نہیں دیں گے ؛ مالکیہ اور شوافع کا یہی موقف ہے۔
دلیل:
میت کے ترکہ میں کس کو کتنی مقدار میں ملنا چاہئے یہ قرآن وحدیث میں بتلادیا گیاہے۔
لہٰذا جب سب کو اپنے حقوق کے مطابق مل گیا، تو پھر باقی بچے مال میں ان کا حق نہیں ہوگا۔لہٰذا باقی مال بیت المال میں جائے گا۔
اشکال:
اس موقف پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ عول کی صورت میں تو وارثین کو اپنے حقوق کے مطابق نہیں ملتا، کیونکہ ترکہ اتنی مقدار میں ہوتا ہی نہیں ، لہذا ایسی صورت میں یہ نہیں کہا جاتا کہ جو کم پڑ رہا ہے اسے بیت المال سے پورا کیا جائے ،بلکہ وارثین ہی کے حقوق کو کم کرکے دیا جاتا ہے ۔ تو جب ترکہ کم پڑجانے کے سبب سارے وارثین کے حقوق میں کمی کردی گئی، اور بیت المال نے اس کی بھرپائی نہیں کی؛ تو پھر ترکہ بڑھ جانے کے سبب اضافی مال پربیت المال کا نہیں بلکہ وارثین ہی کا حق ہونا چاہئے ۔
نیزماقبل میں حدیث گذرچکی ہے کہ میت نے جو مال چھوڑا اس پر وارثین کا حق ہے ۔ اب اگر وارثین کو، ان کے مطلوبہ حصے دینے کی بعد بھی کچھ بچ جاتا ہے، تو حدیث کے عمومی مفہوم کی روشنی میں باقی ترکہ پر بھی وارثین ہی کا حق ہونا چاہئے ۔
علاوہ بریں متعدد احادیث میں اللہ کے نبی ۖ کے سامنے ناقصہ والے مسائل پر بات ہوئی، اور پورا مال ورثاء کو دینے کی بات کہی گئی ،لیکن اللہ کے نبی ۖنے انکار نہیں کیا ؛ بلکہ بعض دفعہ یہی فیصلہ کیا مثلا دیکھئے : [ صحیح مسلم حدیث :١١٤٩]
نوٹ:اس موقف کے قائلین مسئلہ ناقصہ میں باقی مال کو ورثاء پر رد یعنی لوٹانے کے قائل نہیں ہیں لہٰذا یہ حضرات مسئلہ ناقصہ کو ''رد ''کا نام نہیں دیتے ۔
طریقہ حل:
اس قول کے مطابق مسئلہ ناقصہ میں پہلی بار جو اصل مسئلہ بنے گا ،اس کو تبدیل نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ اسی کے مطابق جس وارث کا جو حصہ بنے، وہ اسے دے دیا جائے گا، اورباقی مال بیت المال کے حوالے کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بعد میں مالکیہ اور شوافع نے بیت المال میں بگاڑ کے سبب آنے والے تیسرے قول کے مطابق فتوی دیا ہے۔

تیسرا قول:
باقی بچے مال کو وارثین میں زوجین کے علاوہ دیگر وارثین پر لوٹائیں گے ، احناف اورحنابلہ کا یہی موقف ہے۔اور بعد میں جمہور نے اسی کو اپنایاہے:
دلیل:
﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾
اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے، بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیادہ حق دار ہیں [٣٣/احزاب:٦]
اس آیت سے استدلال کیا گیا کہ رحمی رشتہ دار زیادہ حقدار ہوتے ہیں اور زوجین رحمی رشتہ دار نہیں ہوتے۔
اشکال:
اس موقف پر اشکال یہ ہے کہ مذکورہ آیت کے نزول سے قبل مؤاخات کی بناپر میراث کانظام چل رہا تھا، اس آیت میں اسی نظام کو منسوخ کرتے ہوئے یہ بتلایا گیا کہ رحمی رشتہ دار مؤاخاتی حضرات کی بنسبت زیادہ حقدار ہیں کہ وہ میت کے ترکہ میں وارث بنیں ۔لیکن اس حکم کے آنے کے بعد بھی زوجین کو رحمی رشتہ داروں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ بلکہ بعض رحمی رشتہ داروں سے زوجین کا حصہ زیادہ رکھا ہے ۔مثلا بعض حالات میں زوج کو پورے ترکہ میں سے نصف ملے گا اور باقی نصف رحمی رشتہ داروں کو ملے گا۔
مثلا کوئی عورت فوت ہوئی اور وارثین میں شوہر، ماں ، ایک ماں شریک بھائی اور ایک باپ شریک بھائی ہیں،تو:
Screenshot_4.jpg

اصل مسئلہ (٦) بنا ،یہ کل حصے ہوئے ؛ اس پورے حصہ کاآدھا یعنی (٣)غیر رحمی رشتہ دارشوہر کو ملے گا، اور باقی آدھا یعنی(٣)دیگر تینوں رحمی رشتہ داروں کو ملے گا ، یعنی سب کو (١)حصہ ملا۔
اس مثال میں غور کریں کہ شوہر کو رحمی رشتہ داروں کے مقابلے میں تین گنا مل رہا ہے ، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زوجین گرچہ رحمی رشتہ دار نہیں ہیں، لیکن استحقاق وراثت میں وہ رحمی رشتہ داروں کے ساتھ ہیں، بلکہ بعض پرفوقیت بھی رکھتے ہیں ۔لہٰذا رد کے مسئلہ میں یہ کہہ کرانہیں خارج قرار دینا کہ وہ رحمی رشتہ دار نہیں ،مناسب نہیں۔
مزید یہ کہ میت کا بیٹا یا باپ ہو تو حواشی سے میت کے تمام رحمی رشتہ دار محجوب ہوجاتے ہیں ، جبکہ زوجین میں سے کوئی بھی محجوب نہیں ہوتا ، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ میت کے ترکہ میں زوجین کا استحقاق کافی مضبوط ہے بلکہ بعض رحمی رشتہ داروں سے بھی زیادہ قوی ہے۔
طریقہ حل:
اس قول کے مطابق مسئلہ رد کا حل ،دو مرحلوں میں ہوگا۔

٭پہلا مرحلہ :(مسئلہ زوجیہ کا علیحدہ حل):
زوجین میں سے جو بھی ہوگا، اسے سارے ورثاء سے الگ کرکے اس کے فرض کے نسب نما (Denominator) کو اصل مسئلہ بناکر اسے حصہ دے دیں گے، اور باقی مال اور باقی ورثاء کو الگ کرلیں گے۔
٭دوسرا مرحلہ:(مسئلہ ردیہ کا علیحدہ حل):
الگ کئے ورثاء کے مابین، الگ کئے گئے مال کو اسی طریقے پر تقسیم کریں گے، جو مسئلہ رد کے تحت ماقبل میں بتلایا گیا ہے ۔

مثال:
ایک عورت فوت ہوئی، وارثین میں شوہر ، بیٹی اور ماں ہے۔
شوہرکو ربع ملے گا، بیٹی کونصف ملے گا ، ماں کو سدس ملے گا ، اصل مسئلہ (١٢)ہوگا ، جس میں سے (٣)حصے شوہرکو ملیں گے ، (٦)حصے بیٹی کو ملیں گے اور (٢)حصے ماں کو ملیں گے ۔ (١)حصہ بچ جائے گا یعنی مسئلہ زوجیہ ردیہ ہے۔
پہلامرحلہ :(مسئلہ زوجیہ کا علیحدہ حل)
صرف شوہر کے فرض کے نسب نما(Denominator) کو اصل مسئلہ بنائیں جو (٤)بنے گا، اسے (١)حصہ دے دیں گے؛ باقی (٣)تین حصے، اور دوسرے وارثین یعنی بیٹی اورماں کو الگ کرلیں گے۔
Screenshot_5.jpg

دوسرا مرحلہ (مسئلہ ردیہ کاعلیحدہ حل):
اہل رد یعنی بیٹی اور ماں کے لئے دوبارہ مسئلہ بنائیں گے:
Screenshot_6.jpg

بیٹی کو نصف ملے گا، ماں کو سدس ملے گا ، اصل مسئلہ(٦)بنے گا ، جس میں (٣)حصے بیٹی کو اور ایک (١)حصہ ماں کوملے گا؛پھر (٢)حصے بچ جائیں گے۔
لہٰذا پہلے اصل مسئلہ(٦)کو نظر انداز کردیں گے اور وارثین کے حصوں کی مجموعی تعداد (١٣) یعنی (٤)کو، اصل مسئلہ بنالیں گے ۔
یعنی پہلے مرحلے میں جو (٣)حصے بچے تھے، اسے (٤)حصوں میں بانٹ دیں گے ، پھر (٣)حصے بیٹی کو اور (١)حصہ ماں کو دے دیں گے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
اضافی معلومات

تیسرے قول کے مطابق تقسیم کا جو طریقہ دو مرحلوں کے اعتبار سے بتایا گیا ہے، وہ بہت آسان ہے ، اس لئے بہتر یہی ہے کہ مسئلہ رد میں اگر کسی کے نزدیک تیسرا قول راجح ہو تو وہ اسی طرح تقسیم کرے۔
لیکن اس طریقے میں چونکہ تقسیم کا عمل دو بار ہوتا ہے، اس لئے فرائض کی کتابوں میں اس سلسلے میں ایک دوسرا طریقہ بھی ذکر کیا جاتا ہے ،جس کی مدد سے ایک ہی بار یعنی ایک ہی اصل مسئلہ سے سارے وارثین میں تقسیم کا عمل ہوجاتاہے؛اس مسئلہ کو جامع اصل مسئلہ کہاجاتاہے۔
اس طریقے کے مطابق گرچہ ایک ہی جامع اصل مسئلہ سے تقسیم کا عمل ہوجاتا ہے، لیکن اس جامع اصل مسئلہ کے حصول کے لئے کافی طویل اور دشوار مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس طریقہ سے اجتناب کیا جائے، تاہم اگرکوئی اس طریقہ کو بھی سیکھنا چاہے تو اس کے لئے ذیل میں دو طریقے بیان کئے جاتے ہیں:

پہلا طریقہ ( الگ الگ حل کرکے جامع مسئلہ معلوم کرنا):
اس طریقے کے مطابق مسئلہ زوجیہ، اور مسئلہ ردیہ کو، الگ الگ حل کرنے کے بعد؛ سارے وارثین کے حصوں کو مساوی نسب نما (Denominator)والی کسروں میں تحویل کردیں گے، نسب نما جامع مسئلہ ہوگا ،اور ہروارث کاشمار کنندہ (Numerator)اس کاحصہ ہوگا یعنی:
(الف) زوجین میں سے زوج یا زوجہ کے حصہ کو کسر میں لکھیں گے۔
(ب) اس کے بعد اہل رد میں سے ہر وارث کی، زوجیہ اورردیہ سے، دونوں کسر لکھ کر ضرب کرکے، ایک کسر بنادیں گے۔
(د) اس کے بعد زوج یازوجہ کی کسر کا ،نسب نما(Denominator) مساوی کریں گے ۔
اب نسب نما جامع مسئلہ ہوگا اور ہر وارث کی کسر کا شمار کنندہ (Numerator)اس کا حصہ ہوگا۔

مثال:
ہم اوپر دی گئی مثال ہی کو لیتے ہیں جس میں ایک عورت فوت ہوئی اور، وارثین میں شوہر ، بیٹی اور ماں ہے۔
Screenshot_1.jpg

جامع مسئلہ (١٦) ہوگا ،شوہرکو (٤) حصے ، بیٹی کو (٩) حصے اور ماں کو (٣) حصے ملیں گے۔
نوٹ:ـجو حضرات ریاضی اچھی طرح جانتے ہیں ان کے لئے یہ طریقہ بہت ہی آسان ہے، مگرجو ریاضی نہیں جانتے ان کے لئے شاید مشکل ہو ۔

دوسرا طریقہ ( ایک ہی جگہ حل کرکے جامع مسئلہ معلوم کرنا):
اس طریقے کے مطابق درج ذیل مراحل سے عمل کریں گے۔
❀ پہلا مرحلہ:
صرف احد الزوجین کا حصہ، اور اصل مسئلہ ،معلوم کرکے حصہ دے دیں گے۔
باقی حصے اہل رد کو مشترکہ طورپر دے دیں گے؛اس مسئلہ کو مسئلہ زوجیہ کہتے ہیں۔
❀ دوسرا مرحلہ
اہل رد کا الگ اصل مسئلہ معلوم کریں گے ، اس کے تحت اہل رد کو ملنے والے حصوں کی مجموعی تعداد، اہل رد کانیا اصل مسئلہ ہوگا؛اس مسئلہ کو مسئلہ ردیہ کہتے ہیں۔
❀ تیسرا مرحلہ
زوجیہ میں'' باقی حصوں کی تعداد'' اور ردیہ کے'' اصل مسئلہ'' کی دو نوعیت ہوسکتی ہے:
① دونوں ایک ہی عدد ہو ۔② دونوں الگ الگ عدد ہوں۔

پہلی نوعیت :دونوں ایک عدد ہو :
اگردونوں ایک ہی عدد ہے ، تو زوجیہ کا اصل مسئلہ ہی جامع مسئلہ ہوگا۔اس جامع کے نیچے زوجیہ اور ردیہ میں سے ہرایک کے حصے لکھ دیں گے۔
مثلا:ایک آدمی فوت ہوا، وارثین میں بیوی ، ماں، اورماں شریک بھائی ہے۔حل کرنے کے بعد اس میں رد ہوگا، اس لئے مرحلہ وار دوبارہ عمل کریں گے۔
Screenshot_2.jpg

وضاحت:
٭پہلا مرحلہ:(مسئلہ زوجیہ)
بیوی کو ربع ملے گا ، اصل مسئلہ (٤)ہوگا ۔(١)حصہ بیوی کو ملے گا۔
باقی (٣)حصے مشترکہ طور پر اہل رد کو دیں گے ۔
٭دوسرا مرحلہ:(مسئلہ ردیہ)
اہل رد کا الگ سے اصل مسئلہ (٦)ہوگا ،جو بالرد (٣)بنے گا۔اس طرح ماں کو (٢)اور ماں شریک بھائی کو(١)ملے گا۔
٭تیسرا مرحلہ :(جامع مسئلہ)
زوجیہ میں باقی حصوں کی تعداد (٣)ہے، اور ردیہ کا اصل مسئلہ بھی (٣)ہے ، دونوں عدد ایک ہی ہے، اس لئے زوجیہ کا اصل مسئلہ یعنی (٤)ہی جامع مسئلہ ہوگا۔ اس کے نیچے زوجیہ سے زوج کا حصہ(١)لکھیں گے ، اس کے نیچے رد یہ سے ماں کا حصہ (٢)لکھیں گے، پھر اس کے نیچے ماں شریک بھائی کا حصہ(١)لکھیں گے۔

دوسری نوعیت:دونوں عدد الگ الگ ہوں:
اگر زوجیہ میں ''باقی حصوں کی تعداد'' اور ردیہ کا'' اصل مسئلہ'' الگ الگ عدد ہو تو :
(الف)زوجیہ کے باقی حصوں کے مجموعی تعداد، کو ردیہ کے اصل مسئلہ کے اوپر لکھیں گے؛ اور ردیہ کے اصل مسئلہ، کو زوجیہ کے اصل مسئلہ کے اوپرلکھیں گے۔
(ب)پھر زوجیہ کے اصل مسئلہ کو، اوپر موجود عدد سے ضرب کریں گے، حاصل ضرب جامع مسئلہ ہوگا ؛جسے سب سے بائیں جانب لکھیں گے۔
اس کے بعد زوجیہ کے اوپر لکھے گئے عدد سے، احد الزوجین کے حصہ کو ضرب دیں گے، اورحاصل ضرب جامع مسئلہ کے نیچے لکھیں گے۔
(ج)اس کے بعد ردیہ کے اوپر لکھے گئے عدد سے ،اہل رد کے ہر ایک حصے کو ضرب کرکے حاصل ضرب کو جامع مسئلہ کے نیچے لکھیں گے۔
مثال: ایک عورت فوت ہوئی وارثین میں شوہر ، بیٹی اور ماں ہے۔
Screenshot_3.jpg

وضاحت:
٭پہلا مرحلہ:(مسئلہ زوجیہ)
شوہر کو ربع ملے گا ، اصل مسئلہ (٤)ہوگا ۔(١)حصہ شوہر کو ملے گا۔
باقی (٣)حصے مشترکہ طور پر اہل رد کو دیں گے ۔
٭دوسرا مرحلہ:(مسئلہ ردیہ)
اہل رد کا الگ سے اصل مسئلہ (٦)ہوگا، جو بالرد (٤)بنے گا۔اس طرح بیٹی کو (٣) حصے اور ماں کو(١) حصہ ملے گا۔
٭تیسرا مرحلہ :(جامع مسئلہ)
زوجیہ میں ''باقی حصوں کی تعداد'' (٣)ہے اور ردیہ کا'' اصل مسئلہ'' (٤)ہے،دونوں الگ الگ عدد ہیں،اس لئے :
(الف)زوجیہ کے باقی حصوں کے مجموعی عدد(٣)، کو ردیہ کے اصل مسئلہ(٤) کے اوپر لکھا گیا ؛اور ردیہ کے اصل مسئلہ(٤) کو ، زوجیہ کے اصل مسئلہ (٤)کے اوپرلکھاگیا۔
(ب)پھر زوجیہ کے اصل مسئلہ(٤) کو، اوپر موجود عدد(٤)سے ضرب کیاگیا؛ حاصل ضرب (١٦)آیاجو جامع مسئلہ بنا۔
اس کے بعد زوجیہ کے اوپر لکھے گئے عدد (٤)سے، احد الزوجین یعنی شوہرکے حصہ(١) کو ضرب دیاگیا ؛حاصل ضرب( ٤) کو،جامع مسئلہ کے نیچے لکھاگیا۔
(ج)اس کے بعد ردیہ کے اوپر لکھے گئے عدد (٣)،سے اہل رد کے ہر ایک حصے کو ضرب کرکے حاصل ضرب کو جامع مسئلہ کے نیچے لکھاگیا۔
تنبیہ:
اضافی معلومات کے تحت جو یہ ساری تفصیلات بتلائی گئیں ہیں، ان کا جاننا لازمی نہیں ہے ،آسان طریقہ یہی ہے کہ مسئلہ زوجیہ اور مسئلہ رد یہ کو الگ الگ حل کرکے معاملہ رفع دفع کردیں اورجامع مسئلہ کے چکر میں نہ پڑیں ۔
تاہم کسی کو یہ طریقہ بھی سیکھنا ہو، تو افادہ کے لئے یہ تفصیلات بھی پیش کردی گئی ہیں، اور ان تفصیلات کو بھی انتہائی آسان بناکر پیش کیا گیا ہے ورنہ فرائض کی دیگر کتابوں میں مسئلہ زوجیہ میں جامع مسئلہ کے حصول کے لئے بین العددین نسبتوں کا استعمال بتاکر معاملہ کو کافی الجھا دیا گیاہے۔(حالانکہ اس مسئلہ میںتماثل اورتباین کے علاوہ کسی اور نسبت کے استعمال کی نوبت ہی نہیں آسکتی اور تماثل میں اس نسبت کی ضرورت نہیں اور تباین میں اس کا کوئی فائدہ نہیں )


مشق:
ذیل کے مسائل حل کریں ،مسئلہ زوجیہ کو رد سے متعلق تیسرے قول کے مطابق حل کریں :
٭بنت ، أب ، أم
٭بنت الابن ، أم الأم ، أم الأب
٭أم ، أخت لأم ، أخت لاب
٭زوج ، بنت الابن ، أم
٭زوج ، بنت ، بنت الابن
٭زوج ، ام الأم ، اخت لام
٭زوجہ ، اخت ش ، اخت لأب
٭زوجہ ، بنت ، بنت الابن ، أم
٭زوجہ ، بنت ، أم الأم ، ألأب

نوٹ:- اگلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : (پانچواں حصہ : نادر مسائل {مناسخہ})
 
Top