• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

چکن

شمولیت
جنوری 23، 2015
پیغامات
63
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
79
فارمی چکن

چکن آج امیر غریب ، چھوٹے بڑے سب کی پسندیدہ غذا ہے۔ دو ڈھائی عشروں میں ہی اس کا رواج بڑھا ہے۔ اصل میں یہ چوزے یعنی Chicks ہیں ۔ اس لئے ان کے گوشت کو Chicken کہا جاتا ہے۔ مرغی تو Cock یا Hen ہے۔

اس چکن کی افزائش پہ اگر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فارمی چوزہ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل مرغی کے سائز کا ہو جاتا ہے۔آخر کیوں ؟

جبکہ دیسی چوزہ تو چھ ماہ میں مرغی جیسا ہوتا ہے مکمل مرغی تو وہ سال میں بنتا ہے۔اس فارمی چوزے کو جو غذا دی جاتی ہے اس میں ایسے ہارمونز Steroids اور کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جو ان کی افزائش کو غیر فطری بڑھا دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی فیڈ میں مختلف جانوروں کا خون جو مذبح خانوں سے مل جاتا ہے ، جانوروں کی آلائش ، مردار جانوروں کا گوشت اس فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک نجی ٹی وی چینل نے لاہور کے مذبح خانوں پر ایک دستاویزی فلم پیش کی تھی جس میں ان فارمی مرغیوں کی خوراک کے بارے میں بھی دکھایا گیا تھا۔اس خوراک کا بیشتر حصہ خون ،آنتیں اور دیکر فضلات پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہ فیڈ کھا کر یہ نومولود چوزے 6 سے 8 ہفتوں میں ہمارے پیٹ میں پہنچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ یہ چوزے بڑے ہونے کے باوجود بھاگنے اڑنے سے قاصر ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کا جسم پھولا اور سوجا ہوا ہوتا ہے۔ جو کہ اسٹئرائڈز کا کمال ہوتا ہے۔ اسطرح کے اسٹئرائڈز باڈی بلڈر اور پہلوان استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آخری عمر بستر پہ گذرتی ہے۔

اس فارمی مرغی کے مقابلے میں دیسی چوزہ جوکہ 6۔8 مہینوں تک چوزہ ہی رہتا ہے کو پکڑنا چاہیں تو بڑے آدمی کو بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے جبکہ فارمی مرغی کو ایک بچہ بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔

یہ فارمی چکن ہمارے معاشرے میں “ ہائی پروٹین ، کولیسٹرول فری گوشت ” کے نام سے رواج پاگیا ہے۔ حتٰی کہ ڈاکٹر حضرات بھی سارے گوشت بند کرکے فارمی چکن ہی تجویز کرتے ہیں۔ جوکہ خود بیماریوں کی وجہ ہے۔
آئیے اب اس ہائی پروٹین والے سفید گوشت کے نقصانات دیکھتے ہیں۔

♦1 : موٹاپا ، جسم پر چربی خاص طور پہ گردوں اور جگر پر۔
♦2: جوروں کا درد ، خاص طور پہ ہڈیوں کا بھر بھرا ہوجانا۔
♦3: بچے بچیوں میں جلد بلوغت کے آثار۔
♦4 : اسٹیرائزڈ مرغیوں کا گوشت کھانے کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام کا شدید کمزورپڑجانا جس کی وجہ سے آئے دن بیمار رہنا۔
♦5: مردوں میں کمزوری اور خواتین میں ایام کی بے قاعدگی کی شکایت۔

یہ چند چیدہ چیدہ نقصانات ہیں جو کسی میں جلد اور کسی میں کچھ عرصے بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ زبان کا ذائقہ اور جلد پک جانے کی سہولت اس کے نقصانات کے مقابلے میں بہت ہی حقیر فائدے ہیں۔

جیسی غذا ہم کھاتے ہیں ویسی ہی صحت ہم پاتے ہیں۔ غذا میں دالوں سبزیوں کا استعمال بڑھائیں ۔

گوشت میں بلترتیب مچھلی ، بکرے یا دنبہ ، اونٹ اور آخر میں بڑے کے گوشت کی افادیت ہے۔

آیئے اپنے لئے اپنی آئیندہ صحت مند نسلوں کے لئے ہم اپنی خوراک پہ نظر ثانی کریں۔

Sent from my ASUS_Z010D using Tapatalk
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,418
پوائنٹ
521
السلام علیکم

بکرا، دنبہ اور گائے کا گوشت، جسے ریڈ میٹ کہتے ہیں، کچھ لوگ اس کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں جس بعد میں ایک مہلک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں جس پر بچنے کے لئے انہیں ریڈ میٹ منع ہو جاتا ہے، اس لئے ڈاکٹرز وائٹ میٹ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، جیسے مچھلی۔، مرغی اور وہ برائلر ہی ہوتی ہیں مگر نقصان نہیں۔ باقی سبزیاں دالیں بہت بہتر ہیں۔

والسلام
 
Top