• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کا سورہ غافر آیت 46 سے استدلال

جلال Salafi

مبتدی
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
54
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
22
Tital.jpg

دعوہ:
ڈاکٹر عثمانی کا دعوی 1.jpg

آیت سے استدلال:
ڈاکٹر عثمانی کا دعوی 2.jpg

نوٹ:
جب میں نے موصوف کی مندرجہ ذیل عبارات کی تحقیق کی تو میرے سامنے یہ بات روشن ہو گئی کہ موصوف کا درج ذیل آیت سے جسم دیے جانے والا استدلال باطل ہے۔نیز موصوف نے اپنی عقل کی بنیاد پر عذاب قبر کی صحیح احادیث کا رد کیا ہے۔
فقیر کی تحقیق درج ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا ۚ وَيَوْمَ تَـقُوْمُ السَّاعَةُ ۣ اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46؀؎
ترجمہ: (وہ عذاب ) آگ ہے وہ پیش کیے جاتے ہیں اس پر صبح وشام اور جس دن قیامت قائم ہوگی (کہا جائے گا ) داخل کرو آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں۔
لفظ با لفظ ترجمہ:
اَلنَّارُ ( (وہ عذاب ) آگ ( ہے) ) يُعْرَضُوْنَ ( وہ سب پیش کیے جاتے ہیں ) عَلَيْ هَا (اس پر) غُدُوًّا ( صبح ) وَّعَشِـيًّا ( اور شام (کو) ) وَيَوْمَ ( اور (جس) دن ) تَـقُوْمُ ( قائم ہوگی ) السَّاعَ ةُ (قیامت ) اَدْخِلُوْٓا ( تم داخل کرو ) اٰلَ فِرْعَوْنَ (آل فرعون کو) اَ شَدَّ ( زیادہ سخت) الْعَذَابِ (عذاب میں )
(تفسیر روح القران ۔ ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب ۔ (1433ھ—2012ء
(جہنم کی) آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو۔ )
سُوْٓئُ الْعَذَابِ کی وضاحت
گزشتہ آیت کریمہ میں جس عذاب کو سُوْٓئُ الْعَذَابِ قرار دیا گیا ہے وہ بحرقلزم میں غرقابی کے ساتھ ساتھ برزخ کا عذاب بھی ہے جس سے یہ لوگ دوچار ہوں گے ۔ برزخی زندگی میں فرعون اور آل فرعون صبح و شام دوزخ کے عذاب پر پیش کیے جائیں گے۔ یعنی ہر صبح اور ہر شام انھیں اس عذاب کا مشاہدہ کرایا جائے گا جس عذاب میں وہ قیامت کے روز ڈالے جائیں گے۔ تاکہ وہ دیکھتے رہیں کہ وہ اصل ٹھکانا کونسا ہے جس سے قیامت کے دن انھیں واسطہ پڑنے والا ہے۔ اس آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی مرنے والوں کو عذاب ہوگا۔ اور یہ وہ عذاب ہے جو ہلکا عذاب ہے کہ کافروں کو صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جائے گا جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے کہ یہ ہے وہ دوزخ جس میں آخرکار ہمیں جانا ہے۔ لیکن جب قیامت آجائے گی تو پھر اصلی اور بڑے عذاب میں مبتلا کردیئے جائیں گے۔ اور یہ وہ قیامت کا عذاب ہوگا جس کا نظارہ انھیں صبح و شام عالم برزخ میں کرایا جاتا رہا۔ اور یہ معاملہ صرف فرعون اور آل فرعون کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں تمام کفار بھی شریک ہیں اور مسلمان بھی۔ باعمل مسلمانوں کو ان کا وہ ٹھکانا دکھایا جاتا رہے گا جو قیامت کے دن جنت میں ان کو دیا جائے گا۔ اور کافروں کو وہ ٹھکانا دکھایا جائے گا جو جہنم میں ان کا منتظر ہے۔ بخاری، مسلم اور مسنداحمد میں حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کی روایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی مرتا ہے اسے صبح و شام اس کی آخری قیام گاہ دکھائی جاتی ہے، خواہ وہ جنتی ہو یا دوزخی۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تعالیٰ تجھے قیامت کے روز دوبارہ اٹھا کر اپنے حضور بلائے گا۔

(تفسیر ذخیرۃ الجنان۔ مفسر: مولانا سرفراز خان صفدر صاحب (1419ھ - 1998ء
فرعونیوں کا انجام :
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں النار یعرضون علیھا آگ ہے جس پر وہ پیش کیے جاتے ہیں غدواوعشیا پہلے پہر اور پچھلے پہر یعنی صبح شام آگ میں ہیں صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک عذاب میں ہیں بظاہر تو فرعون اور اس کا وزیر اعظم ہامان اور اس کا سارا لشکر بحرقلزم میں غرق ہوا لیکن حقیقت میں سیدھے دوزخ میں گئے اس سے عذاب قبر کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ آخرت کے عذاب کا ذکر آگے آرہا ہے ویوم تقوم الساعۃ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیں گے ادخلوا ال فرعون اشد العذاب داخل کرو فرعونیوں کو سخت عذاب میں تو قیامت کا عذاب علیحدہ ہے اور مرنے کے بعد جو عذاب ہے اسی کو قبر برزخ کا عذاب کہتے ہیں۔ مرنے والا جہاں بھی ہوچا ہے اس کو مچھلیاں کھا گئی ہوں، درندے کھا گئے ہوں ، دفن کردیا گیا ہو، آگ میں جلادیا گیا ہو اگر وہ سزا یافتہ ہے تو اس کو عذاب ضرور ہوگا۔
حدیث پاک میں آتا ہے کہ دفن کردینے کے بعد اگر وہ کافر ہے تو پہلے اس کے لیے جنت کی کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ اس کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ میرے لیے جنت کی کھڑکی کھولی گئی ہے حالانکہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اگر مومن ہوتے تو یہ ٹھکانا تھا ۔ پھر فوراً حکم ہوتا ہے کہ اب دوزخ کی کھڑکی کھول دو اور کہا جاتا ہے کہ اب تمہارا یہ ٹھکانا ہے۔ اگر مومن ہوتا ہے تو اس کے لیے دوزخ کی کھڑکی کھولی جاتی ہے تاکہ اس کو علم ہوجائے کہ اگر ایمان نہ ہوتا تو یہ ٹھکانا تھا ۔ پھر فوراً جنت کی کھڑکی کھول جاتی ہے تاکہ اس کو علم ہوجائے کہ اگر ایمان نہ ہوتا تو یہ ٹھکانا تھا۔ پھر فوراً جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے کہ اب تمہارا یہ ٹھکانا ہے۔ تو مرنے کے بعد عذاب ثواب شروع ہوجاتا ہے اور قیامت تک رہتا ہے۔

حدیث: سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4268
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرنے والا قبر میں جاتا ہے، نیک آدمی تو اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے، نہ کوئی خوف ہوتا ہے نہ دل پریشان ہوتا ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں اسلام پر تھا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ وہ کہتا ہے: یہ محمد اللہ کے رسول ہیں، یہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھلا کون دیکھ سکتا ہے؟ پھر اس کے لیے ایک کھڑکی جہنم کی جانب کھولی جاتی ہے، وہ اس کی شدت اشتعال کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے: دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اس سے بچا لیا ہے، پھر ایک دوسرا دریچہ جنت کی طرف کھولا جاتا ہے، وہ اس کی تازگی اور لطافت کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تو یقین پر تھا، یقین پر ہی مرا، اور یقین پر ہی اٹھے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اور برا آدمی اپنی قبر میں پریشان اور گھبرایا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہا، اس کے لیے جنت کا ایک دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی لطافت و تازگی کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھ! اس سے اللہ تعالیٰ نے تجھے محروم کیا، پھر جہنم کا دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی شدت اور ہولناکی کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، تو شک پر تھا، شک پر ہی مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا“۔
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13387، ومصباح الزجاجة: 1527)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/140، 364، 6/139) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

(تفسیر تفہیم القرآن مولانا سید ابوالاعلی مودودی صاحب (1368ھ—1949ء
یہ آیت اس عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے جس کا ذکر بکثرت احادیث میں عذاب قبر کے عنوان سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہاں صاف الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر فرما رہا ہے، ایک کم تر درجے کا عذاب جو قیامت کے آنے سے پہلے فرعون اور آل فرعون کو اب دیا جا رہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انھیں صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہتے ہیں کہ یہ ہے وہ دوزخ جس میں آخر کار ہمیں جانا ہے۔ اس کے بعد جب قیامت آجائے گی تو انھیں وہ اصلی اور بڑی سزا دی جائے گی جو ان کے لیے مقدر ہے، یعنی وہ اسی دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے جس کا نظارہ انھیں غرقاب ہوجانے کے وقت سے آج تک کرایا جا رہا ہے اور قیامت کی گھڑی تک کرایا جاتا رہے گا۔ اور یہ معاملہ صرف فرعون و آل فرعون کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے۔ تمام مجرموں کو موت کی ساعت سے لے کر قیامت تک وہ انجام بد نظر آتا رہتا ہے جو ان کا انتظار کر رہا ہے، اور تمام نیک لوگوں کو اس انجام نیک کی حسین تصویر دکھائی جاتی رہتی ہے جو اللہ نے ان کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔ بخاری، مسلم اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " ان احدکم اذا مات عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ و العشی، ان کان من اھل الجنۃ فمن اھل الجنۃ، وان کان من اھل النار فمن اھل النار، فیقال ھٰذا مقعدک حتیٰ یبعثک اللہ عزوجل الیہ یوم القیٰمۃ " تم میں سے جو شخص بھی مرتا ہے اسے صبح و شام اس کی آخری قیام گاہ دکھائی جاتی رہتی ہے، خواہ وہ جنتی ہو یا دوزخی۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تجھے قیامت کے روز دوبارہ اٹھا کر اپنے حضور بلائے گا۔ " (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، صفحہ 386 ۔ جلد دوم، ص 150 ۔ 535 تا 538 ۔ جلد سوم، ص 299 ۔ 300 ۔ جلد چہارم، سورة یٰسٓ، حاشیہ 22 ۔ 23)
حدیث صحیح البخاری
کتاب: جنازے کے احکام و مسائل


. بَابُ الْمَيِّتِ يُعْرَضُ عَلَيْهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ:

89. باب: مردے کو دونوں وقت صبح اور شام اس کا ٹھکانا بتلایا جاتا ہے۔

حدیث نمبر: 1379
حدثنا إسماعيل , قال: حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم , قال:" إن احدكم إذا مات عرض عليه مقعده بالغداة , والعشي، إن كان من اهل الجنة فمن اهل الجنة، وإن كان من اهل النار فمن اهل النار، فيقال هذا مقعدك حتى يبعثك الله يوم القيامة".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔

شرح: شیخ الحدیث مولانا محمد داؤد راز
مطلب یہ ہے کہ اگر جنتی ہے تو صبح وشام اس پر جنت پیش کرکے اس کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب تو اس قبر سے اٹھے گا تو تیرا آخری ٹھکانا یہ جنت ہوگی اور اسی طرح دوزخی کو دوزخ دکھلائی جاتی ہے کہ وہ اپنے آخری انجام پر آگاہ رہے۔ ممکن ہے کہ یہ عرض کرنا صرف روح پر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ روح اور جسم ہردو پر ہو۔ صبح اور شام سے ان کے اوقات مراد ہیں جب کہ عالم برزخ میں ان کے لیے نہ صبح کا وجود ہے نہ شام کا ویحتمل ان یقال ان فائدۃ العرض فی حقہم تبشیرا رواحہم باستقرار ہافی الجنۃ مقترنۃ باجسادہا ( فتح ) یعنی اس پیش کرنے کا فائدہ مومن کے لیے ان کے حق میں ان کی روحوں کو یہ بشارت دینا ہے کہ ان کا آخری مقام قرار ان کے جسموں سمیت جنت ہے۔ اسی طرح دوزخیوں کو ڈرانا کہ ان کا آخری ٹھکانا ان کے جسموں سمیت دوزخ ہے۔ قبرمیں عذاب وثواب کی صورت یہ بھی ہے کہ جنتی کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس سے اس کو جنت کی تروتازگی حاصل ہوتی رہتی ہے اور دوزخی کے لیے دوزخ کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے جس سے اس کو دوزخ کی گرم گرم ہوائیں پہنچتی رہتی ہیں۔ صبح وشام ان ہی کھڑکیوں سے ان کو جنت ودوزخ کے کامل نظارے کرائے جاتے ہیں۔ یا اللہ! اپنے فضل وکرم سے ناشر بخاری شریف مترجم اردو کو اس کے والدین واساتذہ وجملہ معاونین کرام وشائقین عظام کو قبر میں جنت کی طرف سے تروتازگی نصیب فرمائیو اور قیامت کے دن جنت میں داخل فرمائیو اور دوزخ سے ہم سب کو محفوظ رکھیو۔ آمین۔
 
Top