1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں"

'شعر' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوحتف, ‏مئی 03، 2012۔

  1. ‏مئی 03، 2012 #1
    ابوحتف

    ابوحتف مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2012
    پیغامات:
    87
    موصول شکریہ جات:
    300
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
    کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

    طرب آشنائے خروش ہو تو نوائے محرمِ گوش ہو
    وہ سرود کیا کہ چھُپا ہوا ہو سکوتِ پردۂ ساز میں

    تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
    جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

    دمِ طوف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اثَرِ کہن
    نہ تری حکایتِ سوز میں، نہ مری حدیثِ گداز میں

    نہ کہیں‌ جہاں ‌میں‌ اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں‌ ملی
    مرے جرمِ خانہ خراب کو، ترے عفوِ بندہ نواز میں

    نہ وہ عشق میں رہِیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہِیں‌ شوخیاں
    نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خَم ہے زلفِ ایاز میں

    جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں ‌سے آنے لگی صدا
    ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

    (ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ)

     
  2. ‏مئی 03، 2012 #2
    allahkabanda

    allahkabanda مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    174
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    توحید یا شرک ؟
     
  3. ‏مئی 04، 2012 #3
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,510
    موصول شکریہ جات:
    6,014
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    ابو حتف بھائی اس کی تشریح کردیں۔ کیونکہ مجھے اقبال کے یہ اشعار ڈوٹ ایبل لگ رہے ہیں۔
     
  4. ‏مئی 13، 2012 #4
    ابوحتف

    ابوحتف مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2012
    پیغامات:
    87
    موصول شکریہ جات:
    300
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔
    یقینا اللہ سب سے بڑی حقیقت اور سچائی ہے اور اسکا دیدار بھی حق ہے ۔
    اس نظم میں شاعر ، اللہ تعالی کو مخاطب کرکے اسکے دیدار کی التماس کر رہا ہے ۔
    شاعر نے اگر اللہ تعالی سے اسکے دیدار کا مطالبہ کیا تو اس میں کونسا شرک آگیا
    یا اس میں کیا ڈاوَٹ ہے ؟
    آپ لوگوں کو جس شعر میں شرک یا ڈاوَٹ نظر آ رہا ہے اسکی نشان دہی کر دیں ۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
  5. ‏مئی 13، 2012 #5
    allahkabanda

    allahkabanda مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    174
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    کیا لباس مجاز میں کا مطلب انسانی شکل نہیں ؟
     
  6. ‏مئی 13، 2012 #6
    ابوحتف

    ابوحتف مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2012
    پیغامات:
    87
    موصول شکریہ جات:
    300
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ :
    شاعر یقینا یہ بات جانتا ہے کہ باری تعالی کا گقیقی دیدار اس دنیا میں تو ممکن نہیں ، لیکن مجازی طور پر دیدار ہو سکتا ہے ۔
    نشانات قدرت میں بھی خالق کی جھلک نظر آتی ہے ؛ و فی انفسکم افلا تبصرون ؛
    اگر دیکھیں تو ؛ فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا و خر موسی صعقا ؛ میں بھی کچھ نہ کچھ دیدار تو ہوا ہو گا ؟
    باقی ، ماشاء اللہ اس فورم میں اہل علم کی کثیر تعداد موجود ہے اگر میری غلطی پر مجھے آگاہ کریں گے تو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ممنون بھی ہونگا ۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
  7. ‏مئی 14، 2012 #7
    allahkabanda

    allahkabanda مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    174
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    سرفراز فیضی حفظہ اللہ سے درخواست ہے کہ اپنی عالمانہ رائے دیں
     
  8. ‏اگست 01، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 01، 2012 #9
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں

    اللہ کے لیے لباس مجاز کا لفظ استعمال کرنا ہی صریح گستاخی ہے ۔
    پھر ہندووں میں اوتار اور عیسائیوں میں حضرت عیسیٰ کے انسانی شکل میں نزول کا بھی یہی مفہوم بیان کیا جاتا ہےکہ خدا انسانی شکل میں اس زمین پر ظہور پذیر ہوا۔
    عیسائی اقبال کے اس شعر کو کیسے استعمال کرتے ہیں دیکھیے:
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏اکتوبر 12، 2014 #10
    احمد فرید

    احمد فرید مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 12، 2014
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
    ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں