• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کرامات اولیاء اور احوالِ شیطانی میں فرق

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,532
ری ایکشن اسکور
6,634
پوائنٹ
1,207
کرامات اولیاء اور احوالِ شیطانی میں فرق

اولیاء کی کرامات اور ان احوال شیطانی میں جو کہ کرامات ِ اولیاء سے مشابہ ہوتے ہیں۔ چند امور کا فرق ہے۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ اولیاء کی کرامات کا سبب ایمان و تقویٰ ہوتا ہے اور احوالِ شیطانی کا سبب وہ چیزیں ہیں۔ جن سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۳۳ (الاعراف: ۷؍۳۳)
''اے پیغمبر! ان لوگوں سے کہو کہ میرے پروردگار نے صرف بے حیائی کے کاموں کو منع فرمایا ہے، وہ بے حیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو اور اس بات کو کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار دو، جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور یہ کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں علم نہیں۔''
سو بغیر علم کے اللہ تعالیٰ کی شان میں کچھ کہہ دینا، اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ظلم کرنا اور بے حیائی کے کاموں کا ارتکاب کرنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حرام کر دیا ہے اور اس طرح کے افعال ان کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کرامتوں سے سرفراز کیے جانے کا سبب نہیں بنتے۔ اس لیے جب امورِ خارقہ نماز، ذکر اور قرآن خوانی سے نہیں بلکہ ان چیزوں سے حاصل ہوں جنہیں شیطان پسند کرتا ہے اور ان امور سے حاصل ہوں جن میں شرک ہو۔ مثلاً مخلوق سے فریاد کرنا یا وہ ایسے امور ہوں، جن کے ذریعہ لوگوں پر ظلم کرنے اور بے حیائی کے کام کرنے کی اعانت ہوتی ہو تو یہ احوالِ شیطانیہ میں سے ہیں نہ کہ کرامات ِ رحمانیہ میں سے۔
ان لوگوں میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو سیٹیاں اور تالیاں بجانے کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں اور اس وقت ان پر شیطان اترتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ انہیں ہوا میں اٹھا لیتے اور اسے اس گھر سے نکال لے جاتے ہیں۔ اگر اولیاء اللہ میں سے کوئی آدمی وہاںمل جائے تو وہ اس کے شیطان کو بھگا دیتا ہے اور جس شخص کو وہ اٹھا کر لے جارہے ہوتے ہیں وہ گر پڑتا ہے چنانچہ کئی اشخاص کے ساتھ اس طرح کا ماجرا ہوچکا ہے۔
بعض لوگ مخلوق سے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ حاجتیں مانگتے ہیں اور اس کی بھی کوئی قید نہیں کہ وہ مسلم ہو یا نصرانی یا مشرک تو جس سے حاجت مانگی جاتی ہے۔ شیطان اس کی صورت بنا کر حاجت مانگنے والے کی کوئی حاجت پوری کر دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہی شخص ہے جس سے حاجت مانگی گئی ہے۔ یا وہ فرشتہ ہے جو کہ اس کی صورت بنا کر سامنے آگیا ہے۔ حالانکہ وہ شیطان ہوتا ہے جوکہ اس کو اس لیے گمراہ کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا ہے۔
جس طرح شیاطین بتوں میں داخل ہو کر مشرکین کے ساتھ باتیں کرتے ہیں، بعض کے پاس شیطان خاص صورت میں ظاہر ہو کر کہتا ہے کہ میں خضر ہوں۔
بسا اوقات اسے بعض باتیں بتاتا ہے اور اس کے بعض مقاصد میں اس کی مدد کرتا ہے۔ چنانچہ اس طرح کا ماجرا کئی مسلمانوں ، یہودیوں اور نصرانیوں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ ارضِ مشرق و مغرب کے بہت سے کفار کے ساتھ ایسا واقعہ ہوتا ہے کہ ان کا کوئی آدمی مر جاتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد شیطان اس کی صورت بنا کر آتا ہے اور وہ یہ عقیدہ رکھنے لگتے ہیں کہ یہ وہی میت ہے۔ چنانچہ وہ قرضے ادا کرتا ہے۔ امانتیں واپس کرتا ہے اور وہ تمام کام کرتا ہے جو کہ اس میت کے متعلق ہوتے ہیں۔ اس کی بیوی کے پاس آجاتا ہے اور پھر چلا جاتا ہے حالانکہ بسا اوقات کفارِ ہند کی طرح میت کو آگ سے جلا چکے ہوتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد زندہ ہوگیا ہے۔
مصرمیں ایک شیخ نے اپنے نوکر کو وصیت کی کہ جب میں مرجائوں تو کسی کو اجازت نہ دینا کہ مجھے نہلائے۔ میں خود آئوں گا اور اپنے آپ کو نہلائوں گا۔ جب وہ مر گیا تو اس کے نوکر کو ایک شخص اس کی صورت کا نظر آیا۔ اسے خیال ہوا کہ وہی ہے چنانچہ وہ اندر آیا اور اپنے آپ کو نہلایا۔ جب وہ اندر آنے والا غسل کرچکا یا میت کو غسل دے چکا تو غائب ہوگیا۔ یہ حقیقت میں شیطان تھا۔ جس نے میت کو گمراہ کیا تھا کہ تم مرنے کے بعد آئو گے اور اپنے آپ کو غسل دو گے، سو جب وہ مر گیا تو اس کی صورت بنا کر آیا تاکہ جس طرح اس نے مرنے والے کو گمراہ کیا تھا۔ اسی طرح اب زندوں کو بھی گمراہ کرے۔
کسی آدمی کو ہوا میں تخت نظر آتا ہے، جس پر روشنی ہوتی ہے اور اسے کسی کہنے والے کی یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ میں تیرا رب ہوں۔ اگر کوئی معرفت والا یعنی علم والا ہو تو سمجھ جاتا ہے کہ وہ شیطان ہے اور وہ اسے ڈانٹتا اور اس سے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس پناہ لیتا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔ کسی آدمی کو بیداری ہی کی حالت میں چند اشخاص نظر آتے ہیں اور ان میں سے کوئی نبی یا صدیق یا شیخِ صالح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ واقعہ کئی آدمیوں کیساتھ ہوا ہے۔
کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی قبر کی زیارت کرنے جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ قبر پھٹ گئی اور اس سے کوئی صورت نکلتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ وہ میت ہے (جو قبر میں مدفون ہے) حالانکہ وہ تو جن ہوتا ہے جو وہ صورت اختیار کر لیتا ہے اور کچھ لوگ کسی گھڑسوار کو قبر میں داخل ہوتا یا نکلتا دیکھتے ہیں (وہ بھی انسان نہیں بلکہ) جن ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ اس نے قبر کے پاس اپنی آنکھوں کے ساتھ کسی نبی کو دیکھا ہے (وہ غلط کہتا ہے کیونکہ) وہ تو ایک وہم ہوتا ہے۔
کسی شخص کو خواب میں دکھائی دیتا ہے کہ اکابر اُمت مثلاً سیدناصدیق رضی اللہ عنہ یا ان کے سوا کسی بڑے آدمی نے اس کے بال کاٹے، یا مونڈ ڈالے یا اسے اپنی کلاہ یا کپڑا پہنایا ہے۔ صبح ہوتی ہے تو اس کے سر پر کلاہ رکھا ہوتا ہے اور اس کے بال مونڈے ہوئے یا کترے ہوئے ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ جنوں کی کارستانی ہوتی ہے جو اس کا سر مونڈ ڈالتے ہیں یا بال کاٹ کر چھوٹے کر دیتے ہیں۔ یہ سب احوال شیطانی اسے حاصل ہوتے ہیں جو کتاب و سنت کا باغی ہوجائے ایسے لوگوں کے کئی درجے ہیں۔
جن جنوں کا ان کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ وہ بھی انہی کی جنس سے اور انہی کے مذہب پر ہوتے ہیں۔ جنوں میں کافر، فاسق اور گناہگار بھی ہوتے ہیں۔ اگر انسان کا فریافاسق یا جاہل ہو تو اس کے ساتھ کفر، فسق اور گمراہی میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جب وہ ان کے مرغوبِ خاطر کفریات میں ان کی موافقت کرتا ہے۔ مثلاً جنوں میں جن افراد کی وہ تعظیم کرتے ہیں، ان کی قسمیں دیتا ہے۔ سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص اور آیۃ الکرسی وغیرہ کو الٹ پلٹ کرتا اور ان کو نجاست کے ساتھ لکھتا ہے تو وہ اس کے لیے پانی کو گہرا کر دیتے ہیں اور اسے دوسری جگہ لے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ ان کو اس طرح کی کفریات سے خوش کر دیتا ہے، کبھی وہ اس کی خواہش کی چیزوں یعنی عورت یا لڑکے کو ہوا میں اڑا کر یا دھکیل کر اس کے پاس لے آتے ہیں۔
اس طرح کی اور بہت سی باتیں ہیں، جن کو بیان کرنا موجبِ طوالت ہے اور ان چیزوں پر ایمان لانا ایسا ہی ہے جیسا جبت و طاغوت کے ساتھ ایمان لانا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ (النساء:۴؍۵۱)
''یعنی کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب کا حصہ دیا گیا ہے اور وہ جبت اور طاغوت کے ساتھ ایمان لاتے ہیں۔''
جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان اور بت ہیں۔ اگر انسان اللہ اور رسول کا ظاہر و باطن میں فرمانبردار ہو۔ تو وہ ان کو ایسی باتوں میں اپنے ساتھ مداخلت کرنے کا موقع نہیں دیتا اور نہ ان سے صلح و رواداری کا علاقہ رکھتا ہے۔ چونکہ اہل اسلام کی مشروع عبادت مسجدوں میں ہوتی ہے جو کہ اللہ کے گھر ہیں۔ اس لیے مسجدوں کے آباد کرنے والے احوالِ شیطانیہ سے بعید تر ہوتے ہیں۔ اہلِ شرک و بدعت جو قبروں اور فوت شدگان کے مزارات کی تعظیم کرتے ہیں۔ وہ میت سے دعا مانگتے ہیں۔ یا دعا میں اس کو وسیلہ بناتے ہیں۔ یا یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ دعا ان کے پاس اگر کی جائے تو مستجاب ہوتی ہے۔ اس لیے وہ احوالِ شیطانیہ کے قرب تر ہوتے ہیں۔ صحیحین میں جناب محمد رسول اللہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
لَعَنَ اللہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ۔
''اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ کی جگہیں بنا لیا۔''
(بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی قبرالنبیﷺ و ابی بکر و عمر رقم: ۱۳۹۰ ، و مسلم، کتاب المساجد، باب النہی عن بناء المسجد علی القبور ، رقم: ۱۱۸۴، ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب فی البناء علی القبر، رقم: ۳۲۲۷۔)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,532
ری ایکشن اسکور
6,634
پوائنٹ
1,207
صحیح مسلم میں ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے وفات سے پانچ راتیں پہلے فرمایا۔ صحبت اور سخاوت کے لحاظ سے مجھ پر تمام لوگوں سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگر میں اہلِ زمین میں کسی کو خلیل بناتا تو ضرور ابوبکر ہی کو خلیل بناتا لیکن تمہارا صاحب اللہ کا خلیل ہے۔ مسجد میں جو دروازہ بھی ہو بند کر دیا جائے مگر ابوبکر کا دروازہ کھلا رہے۔ تم سے پہلے لوگ قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے۔ خبردار تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا۔ میں تمہیں اس بات سے منع کرتا ہوں۔
(بخاری، کتاب الصلاۃ، باب فی الخوخہ والممر فی المسجد رقم: ۴۶۷، مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر، رقم: ۶۱۷۰۔)
صحیحین میں ہے کہ نبیﷺبیمار تھے تو ان کے پاس ملک حبشہ کے ایک گرجے کا تذکرہ ہوا لوگوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں موجود تصویروں کا ذکر کیا تو جناب محمد رسول اللہ نے فرمایا ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں تصویریں بنا دیتے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدترین لوگ ہوں گے۔
(بخاری کتاب الصلوٰۃ فی البیعۃ، رقم ۴۳۴، مسلم کتاب الصلوٰۃ باب النھی عن بناء المسجد، رقم: ۱۱۸۱)
مسند اور صحیح ابوحاتم میں نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا لوگوں میں سے بدترین وہ ہوں گے۔ جو زندہ ہوں گے اور قیامت آجائے گی اور جو قبروں کو مسجدیں بنائیں گے۔
(مسند احمد ، ۱؍۴۳۵، ابن ابی شیبہ مجمع الزوائد۔)
صحیح مسلم میں نبیﷺسے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔
(مسلم کتاب الجنائز، باب النہی عن الجلوس علی القبر، رقم: ۲۲۵۰)
موطا میں نبیﷺسے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے دعا کی:
اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثَنًا یُّعْبَدُ اشْتَدَّ غَضَبُ اللہِ عَلٰی قَوْمٍ اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِھِمْ مَّسَاجِدَ۔
(مؤطامالک ،کتاب قصر الصلوۃ،باب جامع الصلوۃ)
''اے اللہ! میری قبر کوبت نہ بنانا کہ اس کی پوجا ہو۔ ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب نازل ہوتا ہے جو اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے ہیں۔''
سنن میں نبیﷺسے روایت ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا تتخذوا قبری عیدا و صلوا علی حیثما کنتم فان صلاتکم تبلغنی
کہ میری قبر پرمیلے نہ رچانا۔ جہاں کہیں تم ہو مجھ پر درود بھیجتے رہنا۔ تمہارا درود مجھے ضرور پہنچے گا۔
(ابوداؤد، کتاب المناسک، باب زیارۃ القبور، رقم: ۲۰۴۲، مسند احمد ۲؍۳۶۸)
ما من رجل یسلم علی الارد اللہ علی روحی حتی ارد علیہ السلام
نبی ﷺنے فرمایا کہ جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ روح کو میری طرف لوٹاتا ہے۔ میں اس شخص کو سلام کا جواب دیتا ہوں۔
(ابوداؤد، کتاب المناسک، باب زیارۃ القبور، رقم: ۲۰۴۱، مسند احمد ۲؍۵۲۸)
نبیﷺنے فرمایا:
ان اللہ وکل بقبری ملائکة یبلغونی عن امتی السلام
کہ اللہ تعالیٰ نے میری قبر پر فرشتے تعینات کر دئیے ہیں جو کہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔
(مجمع الزوائد، ۱۰؍۱۶۲)
نبیﷺنے فرمایا:
کہ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کو مجھ پرکثرت کے ساتھ درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہمارا درود آپ کے سامنے کس طرح پیش ہوگا۔ جب کہ آپﷺکا جسم مبارک چُور چُور ہو چکا ہو گا۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کا گوشت حرام کر دیا ہے۔
(ابوداؤد، کتاب الصلوٰۃ باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، رقم: ۱۰۴۷، نسائی کتاب الجمعۃ باب اکثار الصلوٰۃ علی النبی یوم الجمعۃ رقم: ۱۳۷۵)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,532
ری ایکشن اسکور
6,634
پوائنٹ
1,207
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مجید میں مشرکین قوم نوح کے متعلق فرمایا:
وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ۰ۥۙ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا ۲۳ۚ (نوح: ۷۱؍۲۳)
''اور انہوں نے کہا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نہ ود کو چھوڑنا اور نہ سواع کو نہ یغوث اور یعوق اور نہ نسر کو۔''
ابنِ عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر سلف صالحین کا بیان ہے کہ یہ لوگ قومِ نوح کے نیک مرد تھے۔ جب وہ وفات پاگئے تو لوگوں نے ان کی قبروں پر معتکف ہو کر بیٹھنا شروع کیا۔ ان کی مورتیاں بنا کر پوجنے لگے۔اور یہ تھا آغاز بتوں کی پرستش کا۔
(بخاری، کتاب التفسیر باب سورۃ نوح، رقم: ۴۹۲۰)
سو نبیﷺنے شرک کا دروازہ بند کرنے ہی کے لیے تو قبروں کو مسجدیں بنانے کی ممانعت فرمائی ہے۔
اسی طرح سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کی ممانعت فرمائی کیونکہ اس وقت مشرکین سورج کو پوجا کرتے تھے۔ طلوع و غروب کے وقت شیطان سورج کے ساتھ ہوتا ہے۔
(مسلم کتاب صلاۃ المسافرین،باب لاتتحروا بصلاتکم طلوع الشمس، رقم: ۱۹۳۲، نسائی کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب النہی عن الصلوٰۃ بعد العصر، ۵۷۱)
ازبسکہ ایسے وقت میں نماز پڑھنے سے مشرکین کی پوجا پاٹ سے مشابہت لازم آتی ہے۔ اس لیے اس کا سدِّباب فرما دیا۔ شیطان سے تو جہاں تک بن پڑتا ہے بنی آدم کو گمراہ کرتا ہے۔ سو جو شخص سورج، چاند ستاروں کی پوجا کرتا اور ان سے دعائیں مانگتا ہے۔ جیسا کہ کواکب پرستوں کا شیوہ ہے تو اس پر شیطان نازل ہو کر اس سے مخاطب ہوتا ہے اور بعض امور کے متعلق اسے اطلاعات فراہم کرتا ہے۔ اور اس کا نام رکھتے ہیں ''روحانیت ِ کواکب'' حالانکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔ شیطان اگرچہ انسان کے بعض مقاصد کے حصول میں اس کی مدد کرتا ہے لیکن اس نفع سے کئی گنا زیادہ اسے نقصان پہنچاتا ہے۔ خدا کسی کو توبہ کی توفیق عطا فرما دے تواور بات ہے ورنہ جس نے شیطان کی بات مان لی، اس کا انجام برا ہے۔
اسی طرح بت پرستوں کے ساتھ بھی شیاطین گاہے گاہے باتیں کرتے ہیں اور اس سے بھی باتیں کرتے ہیں، جو میت یا غائب سے حاجتیں مانگے۔ یہی حالت اس شخص کی ہے جو میت سے دعامانگے یا اس کے وسیلے سے دعا مانگے یا یہ خیال کرے کہ اس کی قبر کے پاس دعا کرنا گھروں اور مسجدوں میں دعا کرنے کی بہ نسبت افضل ہے۔ اس قسم کے لوگ ایک حدیث بھی روایت کرتے ہیں، جس کے جھوٹ ہونے پر اہلِ علم کا اتفاق ہے، وہ حدیث ہے:
اِذَا اَعْیَتْکُمُ الْاُمُوْرُ فَعَلَیْکُمْ بِاَصْحَابِ الْقُبُوْرِ۔
''جب مشکلات تمہیں عاجز کر دیں تو قبروں والوں کے پاس جائو۔''
یقینا یہ حدیث شرک کا دروازہ کھولنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ ان کی طرح کے اہلِ بدعت و شرک یعنی بت پرستوں، نصرانیوں اور گمراہ مسلمانوں پر مزارات کے پاس ''حال'' طاری ہوتے ہیں۔ جنہیں وہ کرامات خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ شیاطین کی کرتوت ہوتے ہیں۔ مثلاً پاجامہ قبر کے پاس رکھیں تو اس میں گرہ پڑجاتی ہے۔ آسیب زدہ آدمی کو اس کے پاس رکھا جائے تو ان کو دکھائی دیتا ہے کہ اس کا شیطان اس سے جدا ہوگیا ہے۔ یہ کام شیطان ان کے گمراہ کرنے کے لیے کرتا ہے۔ جب وہاں آیة الکرسی صدق دل کے ساتھ پڑھی جائے تو یہ عمل باطل ہوجاتا ہے کیونکہ توحید شیطان کو بھگا دیتی ہے۔ اسی لیے ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہوا میں اٹھایاگیا اور اس نے {لا الہ الا اللہ}کہا تو وہ نیچے گر پڑا۔ بعض آدمی دیکھتے ہیں کہ قبر پھٹ گئی اور اس سے انسان نکلا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ مردہ نکلا ہے حالانکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع بحث ہے اس مقام پر اس کی گنجائش نہیں۔
چونکہ غاروں اور جنگلوں میں قطعِ تعلقات کر کے رہنا، ان بدعات میں سے ہے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ نے مشروع قرار نہیں دیا تو بہت سے شیاطین نے غاروں اور پہاڑوں میں اڈے جما دئیے۔ مثلاً مغارہ دم جو کہ کوہِ قاسیون میں ہے۔ کوہِ لبنان جو کہ ساحلِ شام کے پاس ہے، کوہ فتح جو اسوان مصر میں ہے، روم و خراسان کے پہاڑ جزیرہ کے پہاڑ کوہِ لکام۔ کوہِ اخیش۔ سولان جو کوہِ اردبیل کے پاس ہے۔
کوہِ شہنک جو کہ تبریز کے پاس ہے۔ کوہِ ماشکو جو کہ اقشوان کے پاس ہے۔ کوہِ نہاوند اور دیگر پہاڑوں کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں صالح آدمی رہتے ہیں۔ان آدمیوں کو وہ رجال غیب کے نام سے مشہور کرتے ہیں حالانکہ وہاں جن مرد ہوتے ہیں اور جس طرح انسانوں میں مرد ہوتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی مرد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَّاَنَّہٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا ۶ۙ (جن: ۷۲؍۶)
''اور آدمیوں میں سے کچھ لوگ جنات کے بعض مردوں کی پناہ پکڑ ا کرتے تھے تو ان آدمیوں نے جنات کو اور بھی زیادہ مغرور کر دیا۔''
ان میں سے بعض آدمی بالوں والے آدمیوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جن کی جلد بکری کی جلد سے مشابہ ہوتی ہے۔ جو شخص ان کو نہیں پہچانتا وہ سمجھتا ہے کہ وہ آدمی ہیں حالانکہ وہ جن ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ متذکرہ بالا پہاڑوں میں سے ہر ایک پہاڑ میں چالیس ابدال ہیں اور جن لوگوں کو وہ ابدال سمجھتے ہیں۔ وہ ان پہاڑوں میں رہنے والے جن ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کئی طریقوں سے معلوم ہے۔ اس باب پر تفصیل کے ساتھ بحث کرنے اور جو کچھ ہمیں معلوم ہے اسے کہہ سنانے کی گنجائش اس مقام میں نہیں ہے۔ ہم نے اس کے متعلق جو دیکھا اور سنا ہے۔ اس کا اس مختصر رسالے میں بیان کرنا باعث ِ طوالت ہوگی۔ یہ رسالہ صرف ان آدمیوں کے لیے لکھا گیا جنہوں نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ ہم اولیاء اللہ کا تذکرہ کریں۔ جس سے اجمالی طور پر ان کی پہچان اور معرفت حاصل ہوجائے۔
خوارقِ عادات کے متعلق تین طرح کے عقائد رائج ہیں۔
ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو انبیاء کے بغیر کسی میں خوارقِ عادات کا وجود مانتے ہی نہیں۔ بسا اوقات وہ ان امور کی اجمالاً تصدیق کرتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے ذکر کیا جائے کہ خوارقِ عادات بہت سے لوگوں سے صادر ہوا کرتے ہیں تو وہ اس امر کی تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی رائے میں وہ اولیاء میں سے نہیں۔
بعض لوگ ایسے ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ وہ تمام لوگ جن سے کسی خرقِ عادت کا ظہور ہوجائے وہ اولیاء اللہ ہیں اور یہ دونوں عقیدے غلط ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ مشرکین اور اہلِ کتاب کو مسلمان کے خلاف لڑائی کرنے کے وقت غیبی مخلوق کی اعانت حاصل ہوا کرتی ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ وہ معاونین اولیاء اللہ میں سے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس پہلا گروہ اس امر کا قائل ہے کہ مشرکین و اہلِ کتاب کے ساتھ کوئی ایسا گروہ ہو ہی نہیں سکتا، جس سے خرقِ عادت کا ظہور ہو۔ صحیح بات یہ تیسری ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ انہی کی جنس سے معاونین ہوتے ہیں۔ نہ کہ اللہ عزوجل کے اولیاء ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ ۰ۘؔ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ۰ۭ (المائدہ: ۵؍۵۱)
''مسلمانو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائو۔ وہ باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم سے جو کوئی ان کو دوست بنائے گا تو بے شک وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔''
یہ عابد و زاہد اللہ تعالیٰ کے متقی اور کتاب و سنت کی پیروی کرنے والوں میں سے نہیں ہیں، ان کے ساتھ شیاطین ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں سے ان کے مناسب ِ حال خوارق ظاہر ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے خوارق ایک دوسرے کے متعارض ہوتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کے اولیاء میں سے کوئی پختہ کار اور متمکن آدمی مل سکے تو وہ ان کے خوارق کو باطل کر سکتا ہے۔ ان لوگوں میں دانستہ یا نادانستہ اس قدر جھوٹ کا موجود ہونا ضروری اور اس درجہ کا گناہ لازمی ہے جو ان کے ساتھی شیاطین کے مناسب ِ حال ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے متقی اولیاء اللہ اور ان اولیاء شیطان کے درمیان جو کہ ان سے بہ ظاہر تشابہ رکھتے ہیں، فرق ظاہر کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ہَلْ اُنَبِّـُٔکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ۔ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ۔ (الشعراء: ۲۷؍۲۲۱،۲۲۲)
''کیا میں تم کو خبر دوں کہ کن لوگوں پر شیطان اترتے ہیں وہ ہر جھوٹے بدکردار پر اترتے ہیں۔'' افاک کے معنی کذاب اور اثیم کے معنی فاجر کے ہیں)-

الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان- امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,619
ری ایکشن اسکور
738
پوائنٹ
290
اللہ اس امت کو ہر فتنہ سے محفوظ رکہے ، دین کا صحیح علم دے اور شیطانی وسوسوں سےبچائے رکہے ۔ شیطان ہم پر سٹپ بائے سٹپ غالب آتا ہے ، اس وقت تک سکون نہیں لیتا جب تک توحید سے دور نہ کر دے ۔ اس لئے اللہ تعالی نے قرآن میں ہمیں تنبیہ کی ہے کہ لا تتبعوا خطوات الشيطان ۔
شیطان نے اللہ سےجو کہا اسےپورا کرنے کیلئے کوششیں کرتا رہتا ہے اور جو انسانوں نے وعدہ کیا ۔۔۔؟
اللہ امت اسلام کو بہترین توفیق دے اور ہمارےدلوں کو توحید سے بہر دے ۔ آمین
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,532
ری ایکشن اسکور
6,634
پوائنٹ
1,207

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964
اردو ترجمہ کی درخواست هے ۔ میرے پاس صرف عربی میں ہے ، 15845 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
1۔ شیطان کا انسان پر غلبہ اسی وقت ہوتا ہے ، جب ان کا ایمان کمزور ہو ، جب ایمان پختہ ہو تو شیطان کی پکڑ ڈھیلی ہوجاتی ہے ۔ جیساکہ اللہ نے قرآن مجید کے اندر فرمایا ہے : شیطان ایمان والوں پر قابو نہیں پاسکتا۔
2۔ شیطان انسان کو گمراہ کرنے سے پہلے اندازہ لگاتا ہے ، کہ ان دونوں کے درمیان کتنی دوری ہے ، اگر نیک و صالح شخص ہو تو اسے مکروہ چیزوں میں مبتلا کرتا ہے ، اگر وہ پہلے ہی ایسا ہو تو اسے ایک قدم آگے صغیرہ گناہوں میں ڈال دیتا ہے اور اسی طرح کبیرہ تک لے آتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس طرف لفظ خطوات ( قدم بہ قدم ) بول کر اشارہ کیا گیا ہے ۔
3۔ شیطان آدمی کو ایک دم برائیوں کی طرف نہیں لے کے آتا ، تاکہ کہیں آدمی یک دم گناہوں کی گندگی سے متنفر نہ ہو جائے ، بلکہ اس اندھیر نگری سے آہستہ آہستہ مانوس کرتا ہے ۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,619
ری ایکشن اسکور
738
پوائنٹ
290
جزاك الله خير خضر بهائی

اللہ ہمارا ایمان قوی تر کر دے تاکہ شیطان ہم پر حملہ نا کر پائے ۔ آمین
 
Top