• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کسی پر لعنت کرنا کیسا هے ؟

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
کسی معین فرد پر لعنت کرنا کیسا ہے ؟


اسلام و علیکم

شیخ ہم اہک مسنجر پر جاتے وہاں کہا جاتا ہے ..
اگر تم قادیانی نہیں ہو تو مائیک پر آ کر مرزا پر لعنت کرو
جب کو ہمیں پتا ہے قادیانی کافر ہے

جب ان کو روکا جاتا ہے تو وہ قران کی ایات دہتے ہیں

لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾ۙ
﴿سورة البَقَرَة:159﴾
لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۷۸﴾
﴿سورة المَائدة:078
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1436 حدیث مرفوع مکررات 3 بدون مکرر
داؤد بن امیہ، معاذ، ابن ہشام، یحیی، بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں کہا خدا کی قسم میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز پڑھاؤں ابوسلمہ کہتے ہیں ابوہریرہ ظہر اور عشاء اور فجر کی آخری رکعت میں دعا قنوت پڑھتے مسلمانوں کے لیے دعا کرتے تھے اور کافروں پر لعنت کرتے
سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 311 حدیث مرفوع مکررات 17
احمد بن یونس، زہیر، اسماعیل، عامر، حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے لعنت فرمائی ہے حلالہ کرنے والے پر اور اس پر جس کے لیے حلالہ کیا جائے۔
میں ان کو یہ حدیث دیتا ہوں
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 991 حدیث مرفوع مکررات 2
محمد بن سنان، فلیح بن سلیمان، ہلال بن علی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گوئی کرنے والے اور لعنت کرنے اور گالی گلوچ کرنے والے نہ تھے اور جب کبھی ناراض ہوتے تو صرف اس قدر فرماتے کہ اس کو کیا ہوگیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
ذرا تفصیل سے اس مسئلے کی وضاحت کر دہیں
جزک ﷲ خیرا
فی امان اﷲ

جواب: لعنت کرنا کیسا ہے

مؤمن گالی گلوچ کرنے والا یا لعن طعن کرنے والا نہیں ہوتا ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بھی ایسے کاموں سے اجتناب فرماتے تھے :
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا، وَلاَ فَحَّاشًا، وَلاَ لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ المَعْتِبَةِ: «مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ»
صحیح بخاری کتاب الأدب باب لم یکن النبی صلى اللہ علیہ وسلم فاحشا ولا متفحشا ح 6031
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گوئی کرنے والے اور لعنت کرنے اور گالی گلوچ کرنے والے نہ تھے اور جب کبھی ناراض ہوتے تو صرف اس قدر فرماتے کہ اس کو کیا ہوگیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔

اور پھر فاسق کو معین کرکے لعنت کرنا سنت نبوی ﷺ میں موجود نہیں البتہ عام لعنت وارد ہے۔ مثلاً نبی ﷺ نے فرمایا:

لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ
صحیح البخاری، الحدود، باب لعن السارق إذا لم یسم، ح:۶۷۸۳ وصحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ ونصابہا، ح:۱۶۸۷

"چور پر اللہ کی لعنت کہ ایک انڈے پر اپنا ہاتھ کٹوا دیتا ہے۔"
فرمایا:

فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ
صحیح البخاری، الجزیۃ والموادعۃ ، باب إثم من عاھد ثم غدر، ح:۳۱۷۹
"جو بدعت نکالے یا بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ کی لعنت۔"
یامثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص شراب پیتا تھا اور باربار نبی ﷺ کے پاس پکڑا آتا تھا یہاں تک کہ کئی پھیرے ہوچکے تو ایک شخص نے کہا:

اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ
"اس پر اللہ کی لعنت کہ باربار پکڑ کر دربار رسالت میں پیش کیا جاتا ہے۔"
آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا:

لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
صحیح البخاری، الحدود، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر۔۔۔، ح: ۶۷۸۰
حالانکہ آپ نے عام طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے مگر اللہ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنے والے کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں اور معلوم ہے کہ ہر مومن اللہ اور رسول سے ضرور محبت رکھتا ہے۔

اسی طرح فوت شدگان کو لعن طعن کرنے سے بھی نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے :

لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا
صحیح البخاری، الجنائز، باب ما ینہی من سب الأموات، ح:۱۳۹۳

"مردوں کو گالی مت دو کیونکہ وہ اپنے کیے کو پہنچ گئے۔"
بلکہ جب لوگوں نے ابو جہل جیسے کفار کو گالیاں دینی شروع کیں تو انہیں منع کیا اور فرمایا:

لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا
سنن النسائی، القسامۃ، القود من اللطمۃ، ح:۴۷۷۹

"ہمارے مرے ہوؤں کو گالیاں مت دو کیونکہ اس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔"
یہ اس لیے کہ قدرتی طور پر ان کے مسلمان رشتہ دار برا مانتے تھے۔

امام احمد بن حنبل سے ان کے بیٹے صالح نے کہا ألا تلعن یزید؟ آپ یزید کو لعنت کیوں نہیں کرتے؟ حضرت امام نے جواب دیا: متیٰ رأیت أباک یلعن أحداً "تو نے اپنے باپ کو کسی پر بھی لعنت کرتے کب دیکھا تھا۔"

یعنی دین اسلام کسی معین کافر کو بھی گالی گلوچ اور لعن طعن کرنے سے منع کرتا ہے ۔ البتہ مطلقا لعنت کا جواز موجود ہے لیکن وہ بھی صرف جواز ہے ۔ اور اسے عادت بنا لینا ممنوع و ناجائز ہے ۔

یقینا مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعوى کرکے ایک انتہائی قبیح وشنیع کام کیا ہے ۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اس پر معینا لعن طعن کرنے کو عادت بنانا درست نہیں ۔ اور یاد رہے کہ اس طرح سے لعن طعن کا آغاز روافض نے کیا ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو اسے اپنا شعار بنا لیا ہے ۔

http://www.ahlulhdeeth.com/vb/showthread.php?t=96&page=1&s=0b26e31d31fb473d0e06f3d8020639d6#.UqlP6tKBk7o

«« دستخط رفیق طاھر »»
 

محمد فراز

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 26، 2015
پیغامات
536
ری ایکشن اسکور
145
پوائنٹ
116
کسی پر لعنت کرنا کیسا هے ؟


3520 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة: إسناده ضعيف ¤ نمران بن عتبة الذماري : مجهول (التحرير:7188)
امام البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف کہا
4850 -[39] (ضَعِيف)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَفَإِنْ كَانَت لِذَلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

الكتاب: مشكاة المصابيح
 
Top