• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کفار کا خوف

شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
259
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
85
کفار کا خوف

آئیے آج ایک ویڈیو فلم دکھاتا ہوں جسے میں نے ایک خاص انداز سے فلمایا ہے تاکہ آج ڈر اور خوف میں مبتلا امتِ مسلمہ کے دلوں سے دشمنوں کا خوف دور ہو‘ تاریخ نے اس قصے کو پچھلے قریب 1425سالوں سے سنبھال رکھا ہے۔تو اپنے آپ کو 1425سال پیچھے لے جائیے اور تصور میں کھو جائیے‘ میں ویڈیو آن کرتا ہوں۔۔۔۔۔
یہ رومی سلطنت کا فرمانرواں ’’ قیصر ‘‘ دنیا کا سپر پاور کہلانے والے کا دربار ہے۔ سونے ، ہیرے و جواہرات سے جڑے تخت شاہی آنکھوں کو آنکھو کو خِیرہکیئے دے رہی ہے۔ وزراء و شرفاء دیدہ زیب لباس زیب تن کئیے ہوئے ہیں۔ ننگی تلواریں لئے سپاہی مستعد کھڑے ہیں۔
قیصر روم اپنے پورے جاہ وحشم کے ساتھ تخت شاہی پہ جلوہ افروز ہے۔ اور اُسکے سامنے سادگی کا مظہر ایک جفاکش عرب مسلم سپاہی قیدی بنے کھڑا ہے جس کا نام ہے حضرت عبداللہ بن حذافہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور کنیت ہےابو حذافہ ۔
شاہ روم قیصرحضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ کو منظر غائر دیکھا اور کہنے لگا: ’’ میری ایک تجویز ہے۔‘‘
ابو حذافہ ؓ : ’’ وہ کیا ‘‘
قیصر روم : میری تجویز یہ ہے کہ آپ عیسائیت قبول کر لیں۔ آپ کو میری یہ تجویز منظور ہے تو میں آپ کو آزاد کر دوں گا اور آپ کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ روا رکھوں گا۔
حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے عزم و جرأت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یہ ممکن نہیں ‘ جس شے کی طرف آپ مجھے دعوت دے رہے ہیں اس سے ہزار درجہ بہتر میں مر جانا پسند کروں گا۔
قیصر نے کہا: آپ مجھے بہادر انسان معلوم ہوتے ہیں‘ آپ میری یہ تجویز قبول کر لیں تو میں آپ کو اپنی آدھی سلطنت دینے پر بھی تیار ہوں۔
عزم و جراءت کا مجسم بیڑیوں میں جکڑا ہوا یہ قیدی مسکرایا اور گویا ہوا : اللہ کی قسم ! آپ مجھے اپنی ساری سلطنت اور پورے عرب کی حکمرانی دے کر بھی یہ اُمید نہ رکھیں کہ میں دین محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک لمحہ کے لئے بھی منحرف ہو جاوٴں۔
قیصر غضبناک ہو کر کہا : میں تمہیں قتل کر دوں گا۔
ابو حذافہ ؓ نے فرمایا : آپ جو چاہیں کر دیکھیں۔
تب قیصر نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کو صلیب پر باندھ دیا جائے اور تیر اندازوں کو حکم دیا کہ اس كے ہاتھوں اور پیروں کے قریب قریب تیر چلاؤ ۔ شاید کہ ڈر کر ہی یہ عیسائیت قبول کرلے۔
اس نازک اور تکلیف دہ موقعہ پر قیصر نے ابو حذافہ ؓ کو تیسری دفعہ عیسائیت قبول کرنے کی دعوت دی لیکن آپؓ نے صاف انکار کر دیا۔
جب قیصر نے دیکھا کہ یہ کسی طرح بھی ماننے والا نہیں ہے اس نے حکم دیا کہ ایک بڑی دیگ لا کر اس میں تیل ڈال کر گرم کیا جائے جب تیل ابلنے لگا تو قیصر نے مسلمانوں کے دو قیدیوں کو یکے بعد دیگرے اس میں پھینکوا دیا ، وہ دونوں دیکھتے ہی دیکھتے جل کر کوئلہ بن گئے پھر ابو حذافہ ؓ کی طرف متوجہ ہو کر کہا :
عیسائیت قبول کر لو ورنہ تمہارا بھی یہی حال ہوگا۔
لیکن رسولِ کریم ﷺ کے تربیت یافتہ صحابی سیدنا عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ جن کا یقین ہے کہ
’ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی ( اللہ) کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور وه ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘

لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورة الحديد: آیت ۲)
وہ اس دنیا کی ایک چھوٹی سی ٹکرے کے عارضی بادشاہ قیصر روم کے ایک دو آدمی کو زندہ جلا کر مار دینے سے کیا ڈرتے۔
ابو حذافہ ؓ نے پہلے سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ اُسکی عیسائیت کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان:
الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِۚ(سورة المائدة: آیت ۳)
" آج کفار تمہارے دین سے نا امید ہو گئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا "
ابو حذافہ ؓنے کفار کو مایوس کیا اور یہ ثابت کیا کہ اللہ کے سوا وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں۔
پھر جب قیصر روم حد درجہ مایوس ہوگیا تو چار و ناچار انہیں بھی کھولتے ہوئے تیل میں پھینکنے کا حکم دیا۔
رومی سپاہی جب ابو حذافہ ؓ کو تیل کے پاس لے گئے تو آپؓ کے آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے‘ قیصر کے حواریوں نے جب یہ دیکھا تو عرض کی ’’ یہ تو سچ مچ رو رہا ہے‘‘انہوں نے گمان کیا کہ شاید اس تکلیف سے گھبرا گیا ہے۔
قیصر نے کہا : اسے میرے قریب لاؤ اور اس موقعے پہ پھرآپؓ کو عیسائیت کے سامنے سر جھکانے کی دعوت دی‘ آپؓ نے اس بار بھی انکار کر دیا۔
اس نے تعجب سے پوجھا ! ’’ ارے پھر کیوں رو رہے ہو ! ‘‘
تو انہوں نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ کر رو رہا ہوں کہ ”کاش میرے پاس ایک جان کی بجائے میرے جسم کے بالوں کے برابر جانیں ہوتیں اور میں سب کو اس کھولتے ہوئے تیل میں ڈال کر اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا ۔ “
یہ سن کر قیصرِ روم ان کی بہادری اور جرأت مندی پر بہت حیران ہوا اور کہنے لگا اگر تم میرے سر کا بوسہ لے لو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔
ابو حذافہ ؓ نے پوچھا : کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو بھی رہا کر دوگے؟
اسنے کہا : ’’ ہاں! میں تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر دوں گا۔
تو آپؓ اس کے قریب آئے اور اس کے سر کا بوسہ لیا۔
قیصر روم نے حسب وعدہ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓکو تمام مسلمان قیدیوں کے ساتھ رہا کر دیا۔
جب یہ لشکر واپس مدینہ پہنچا اور سیدنا حضرت عمر ؓ کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا تو سیدنا عمر ؓ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے :
حق علی کل مسلم ان یقبل رأس عبد اللہ بن حذافہ و أنا أبدأ بہ
’’ ہر مسلمان پر یہ ضروری ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ ؓ كے سر کا بوسہ لے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔‘‘
پھر سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ان کے سر کا بوسہ لیا۔
**** ** ****** ****** ****** ******

اب اس تصور کے دنیا سے باہر آئیے ۔ آج کے مسلمانوں پر نظر دوڈائیے۔
مسلمان! کیا حکمراں ہوں کیا رعایا ۔۔۔آج ہر کسی میں کفار کا خوف ہی خوف ہے ۔ آج کا مسلمان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علاوہ ہر کسی سے ڈرتا ہے۔
حالانکہ آج کے سپر پاور کہلانے مل کے سربراہ (اوباما وغیرہ ) قیصر روم کے مقابلے میں کوئی طاقت ہی نہیں رکھتے، وہ کسی شخص کو منٹوں میں کھولتے ہوےٴ تیل میں ڈال کر کوئلہ نہیں بنا سکتے۔ لیکن اس کے با وجود اُن (اوباما وغیرہ ) کا ایک فون کال آتے ہی مسلمان ملکوں کے سربراہ اپنے آپ کو موت کی وادی میں گم ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔
دنیا کی بہترین قدرتی وسائل سے مالا مال‘ اہم زمینی‘ فضائی اور بحری دفائی نقطۂ نظر سے مزین‘ دولت و ثروت میں ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے ہونے کے باوجود پچاس سے زیادہ مسلم اکثریتی (اسلامی ) ممالک کے خوف کا یہ عالم ہے کہ امریکہ کے مظالم پر زبان کھولنے کو تیار نہیں ہیں۔
دنیا کی محبت اور موت کے خوف میں ہمارا یہ حال ہوگیا ہے کہ کافر کی موت سے بھی ہمارے دل لرز جاتے ہیں لیکن ہمارے اپنے چاہے کتنے ہی مار دیئے جائیں ہمارے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
اُمت مسلمہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو بھلا کر دنیا کی چکاچوند میں کھو گئی ہے ۔ اپنے
نصب العین
سے ہٹ کر یہ اُمت مردہ ہو چکی ہے اور جس طرح گدھ مردار پر ٹوٹتے ہیں‘ آج سارے کفار اس پر اسی طرح ٹوٹ پڑیں ہیں۔اور کیوں نا ٹوٹ پڑیں کہ ان کے دلوں میں ’’ وھن ‘‘ ہو گیا ہے۔
اور ’’ وھن ‘‘ کیا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ قریب ہے کہ (گمراہ) قومیں تمہارے خلاف اس طرح یلغار کریں گی جس طرح کھانے والے کھانے کھانے پہ ٹوٹ پڑتے ہیں ۔‘‘
کسی نے عرض کیا: ’’اس روز ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوگا؟‘

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ نہیں ، بلکہ اس روز تم زیادہ ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو گے، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دل میں ’’ وھن ‘‘ ڈال دے گا۔‘‘
کسی نے عرض کیا، اللہ کے رسول: ’’ وھن کیا ہے؟ ‘‘
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔‘‘۔ (رواه أبو داود ۴۲۹۷)

کیا ہم اس حدیث کو سن کر بس خاموش ہو جائیں ‘ چپ سادھ لیں یا اس ’’ وھن ‘‘ کی بیماری سے امت مسلمہ کو نجات دلانے کی فکر کریں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو ہمیں ہمارے رب کا پیغام بھی دیا ہے:
إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُ وا مَا بِأَنفُسِهِمْ(سورة الرعد: آیت ۱۱)
’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔“
تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق اس ’’ وھن ‘‘ کے مرض میں مبتلا اُمت مسلمہ کی نجات کے لئے کیا ہم کچھ کر

رہے ہیں ؟ اور اگر نہیں کر رہے ہیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وعیدبھی سن لیں:
وَ إِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ (سورة الرعد: آیت ۱۱)
’’ اور جب اللہ کسی قوم کی سزا کا اراده کر لیتا ہے تو وه بدلا نہیں کرتا ‘ نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہو سکتا ہے ۔ ‘‘
تو آئیے بہت دیر ہونے سے پہلے ، قرآن و سنت کی تعلیمات پہ عمل کرکے قرآن کا کردار بنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم چلتے پھرتے قرآن تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو قرآن کا کردار بنا دیا تھا ۔ جب مومن قرآن کا کردار بن جاتا ہے تو اس میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ پاوٴں میں جوتے اور تن پہ پورے کپڑے کے بغیر بھی دنیا میں سپر پاور کہلانے والے ملک کے سربراہ / حکمراں کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے‘ اُسے اللہ کے سوا کویٴ ڈرا نہیں سکتا جیسا کہ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں۔

تو آئیے ہم بھی قرآن کا کردار بنیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں کو اپنائیں اور صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلیں تاکہ ہمارے دلوں سے’’وھن‘‘ یعنی حُبُّ الدُنيا وكراهيةُ الموت دور ہو۔
ہم توحید باری تعالیٰ کو سیکھیں‘ سمجھیں اور اپنائیں تاکہ ہمارے قلوب صرف اللہ کی وحدانیت سےمعمور ہو‘ اس میں شرک نہ ہو۔
ہم صرف اپنے رب واحد کی فرمابرداری کریں تاکہ ہمارے دلوں سے کفار کا خوف نکلے اور ہمارے اسلاف کی طرح کفار کے دلوں میں بھی ہماری ہیبت طاری ہو ۔۔۔ ہم بھی اپنے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں گے ۔۔
پھر اللہ رب العزت بھی اپنے وعدے کے مطابق ہماری حالت بدل دے گا‘ہماری خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا۔
۔۔۔ اور اللہ احکم الحاکمین خود ہی اپنے وعدے کے مطابق ہمیں دنیا کا حاکم و وارث بنا دے گا۔
جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے خود ہی (سورة النور آیت نمبر 55 ) میں وعدہ کیا ہے:


وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٥٥﴾

’’ تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ وعده فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ / حاکم / جانشین بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ / حاکم / جانشین بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وه پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا، وه میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وه یقیناً فاسق ہیں ‘‘
۔
اور آئیے دعا کریں:

اے اللہ ہم گناہ گار ہیں لیکن تیرے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے اُمتی ہیں ‘ ہمارے حال پر رحم فرما ۔ آج اغیار ہم پہ ہر طرف سے ٹوٹ پڑیں ہیں کیونکہہ ہم ’’حُبُّ الدُنيا وكراهيةُ الموت‘‘ میں مست ہیں اور نبی ﷺ کے فرمان کے مظابق ہمارے دلوں میں ’’ وھن ‘‘ پیدا ہوگیا ہے ۔
اے اللہ ہمیں اس حالت سے نکالنے والا صرف تو ہے ‘ ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکالنے والا تیرے سوا کویٴ نہیں اور موت کا خوف بھی ہم سے دور کرنے والا تیرے سوا کویٴ نہیں ۔
ا اللہ ہم سب کوششیں کر رہے ہیں۔اے اللہ ہمیں کامیابی سے ہم کنار کر۔آمین یا رب العالمین


اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

” اے ہمارے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر رحمت بھیج۔ جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت بھیجی تھی۔ بے شک تو تعریف کیا گیا پاک ہے۔ اے ہمارے اللہ ! محمد اور آلِ محمد پر برکتیں بھیج۔ جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں بھیجی تھیں۔ بے شک تو تعریف کیا گیا پاک ہے ۔ “
نوٹ نمبر1:
اس کی تیاری میں مندرجہ ذیل سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے:
کتاب :جرنیل صحابہ رضی اللہ عنہم از محمود احمد غضنفر
مجلہ :اسوۂ حسنہ کراچی ۔ فروری ۲۰۱۲… سفیران محمدی از شیخ فضلالرحمن
 
Top