• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اصل نام بتائے بغیر نکاح ہوجاتاہے

شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
32
پوائنٹ
54
ایک بھائی نے سوال پوچھا ہے کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے جس کے لیے اس کی پہلی بیوی بھی راضی ہے۔ لیکن نکاح کے وقت نکاح خواں کو وہ اپنا اصل نام نہیں بتائے گا بلکہ اس کی جگہ دوسرا نام بتائے گا۔اس کے بعد وہ اپنی دوسری بیوی کو اپنا اصل نام ہی بتائے گا۔ دوسری بیوی کو اصل نام کا بھی پتہ ہے۔ کیا اس طرح نکاح ہوجائے گا؟ علما کرام کے فتوی سے اگر کوئی بھائی واقف ہوتو راہنمائی فرمائے۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
فتویٰ تو علمائے کرام ہی دیں گے۔ شیوخ کے جواب تلک میری ذاتی رائے حاضر ہے

۱۔ آج کل کے نکاح خواں، نکاح خوان کے ساتھ ساتھ "سرکاری نکاح رجسٹرار" بھی ہوتے ہیں جو نکاح پڑھانے کے علاوہ سرکاری نکاح نامہ بھی پر کرکے سرکاری دفتر میں جمع کرتے ہیں۔ اگر آپ نے نکاح خواں کو غلط نام بتلایا تو وہ اسی غلط نام سے آپ کا نکاح نامہ بنوائے گا۔ جو سرکاری فراڈ ہوگا۔ پھر نکاح نامہ کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی بھی جمع ہوتی ہے۔ گواہان کی شناختی کارڈ کی کاپیاں بھی جمع ہوتی ہیں۔ کیا یہ سب لوگ آپ کو آپ کے اصل نام سے نہیں جانتے ہوں گے۔ آج کل نام بدل کر سرکاری قواعد و ضوابط کے تحت نکاح کرنا تقریبا ناممکن ہے۔

۲۔ اگر نکاح کے وقت دلہا دلہن آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھ کر قاضی کے سامنے ایجاب و قبول کرلیں۔ اور اس ایجاب و قبول کے وقت دو گواہان بھی موجود ہوں، مہر بھی طے کیا جائے تب تو (میری رائے میں) شرعی طور پر نکاح منعقد ہوجائے گا۔ خواہ اصلی نام سے نکاح ہو یا فرضی نام سے۔ لیکن ایسا نکاح سرکاری طور پر رجسٹر کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اور آپ دونوں کبھی بھی قانونی طور پر، دستاویزات کی رو سے میاں بیوی نہیں کہلائیں گے۔

۳۔ اگر مسئلہ صرف نکاح خواں کا ہے۔ اور نام اس سے ہی چھپانا مقصود ہے تو کسی دوسرے نکاح خواں کا بندوبست کیجئے جس سے ایسا مسئلہ نہ ہو

واللہ اعلم بالصواب
 
Last edited:

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,419
پوائنٹ
521
السلام علیکم

شریعت کیا کہتی ہے اس پر تو مشائخ کرام ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔

نمبر1: دوست نے دوسرے نام سے نکاح کا سوچا نکاح تو اس کا ہو جائے گا اور رجسٹرڈ ہی ہو جائے گا مگر بعد میں پیش ہونے والی بہت سی مشکلات پر شائد آپکو تجربہ نہیں اس لئے ان پر نہ تو آپ سوچ پائے اور نہ دیکھ پائے۔

دوسرا نکاح بغیر آئی ڈی کارڈ کے بھی ہو جائے گا اور رجسٹرڈ بھی، پھر اس کے بعد نشونما پر آپ کیا کریں گے، جیسے بچہ کا برتھ سرٹیفکیٹ کمپیوٹرائیزڈ میاں بیوی دونوں کے آئی ڈی کارڈ کے بغیر نہیں بنتا، بچہ کا ب فارم کمپیوٹرائیزڈ بنوانے کے لئے بھی آئی ڈی کارڈ چاہئے۔ سکول میں اب داخلہ کمپیوٹرائیزڈ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم کے بغیر نہیں ہوتا۔

مثال سے نادرا پر آپ اپنا دوسرے نام کا اوریجنل آئی ڈی کارڈ نہیں بنوا سکتے اور نہ ہی بنے گا آپکے فنگر پرنٹس اصل نام باہر نکال دیں گے، اگر آپ فیک آئی ڈی کارڈ بنوا بھی لیتے ہیں تب بھی یہ کارڈ نہ تو کارآمد ہو گا اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی حیثیت ہو گی۔

نمبر2: دوسرے نام سے نکاح پڑھوانا اس پر کوئی سچائی نظر نہیں آ رہی اگر شادی صرف شوق کے لئے ہے جیسے چند ماہ یا چند سال اور ہر قسم کی روک تھام، تب اس دوران اگر کسی بھی قسم کا کوئی انسیڈنٹ ہو جاتا ہے جیسے کہیں سیر کرتے ہوئے اپنی شناخت بھی کروانی پڑ جاتی ہے تب پہلے آئی ڈی کارڈ پر دوسری بیوی غیر ہی کہلائے گی جس پر مشکل میں پڑ سکتے ہیں اس جیسے بہت سے حادثات ہیں جن کا ایک ایک کر کے ذکر کرنا ضروری نہیں اگر ایسا ہوا تو خود ہی جان جائیں گے۔

والسلام
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
نکاح میں اصل نام چھپانا بلکہ غلط نام بتانا یہ واضح جھوٹ ہے ۔ شریعت میں اس کی اجازت نہیں ۔ اگر کوئی عذر یا مجبوری ہو تو اس کے مطابق استثنائی حکم ہو گا ۔ ورنہ جھوٹ اور دھوکہ کی حیثیت شریعت میں واضح ہے۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
ایک بھائی نے سوال پوچھا ہے کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے جس کے لیے اس کی پہلی بیوی بھی راضی ہے۔ لیکن نکاح کے وقت نکاح خواں کو وہ اپنا اصل نام نہیں بتائے گا بلکہ اس کی جگہ دوسرا نام بتائے گا۔اس کے بعد وہ اپنی دوسری بیوی کو اپنا اصل نام ہی بتائے گا۔ دوسری بیوی کو اصل نام کا بھی پتہ ہے۔ کیا اس طرح نکاح ہوجائے گا؟ علما کرام کے فتوی سے اگر کوئی بھائی واقف ہوتو راہنمائی فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عقد نکاح کے صحیح ہونے کیلئے دیگر شرائط کے ساتھ ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ زوجین ایک دوسرے کیلئے " متعین " ہوں، یعنی ان کی تعیین ہو ،
واما شروط صحة النكاح فهي :
صحت نکاح کی شروط :
أولا : تعيين كل من الزوجين بالإشارة أو التسمية أو الوصف ونحو ذلك .
زوجین کی تعیین : چاہے یہ تعیین اشارہ یا نام یا پھر صفت بیان کرکے کی جائے ۔

يشترط لصحة النكاح تعيين الزوجين ، والمرأة تتعين بذكر اسمها أو صفتها كالصغرى أو الكبرى أو بالإشارة إليها ، إذا كانت حاضرة للعقد ، فإذا قال وليها : زوجتك هذه ، وأشار إليها ، صح العقد .
صحت نکاح کیلئے یہ شرط ہے کہ زوجین کی تعیین ہو ،اور عورت کی تعیین اس کے نام یو صفت سے ہوگی ، جیسے صغریٰ، کبریٰ ، یا اگر مجلس نکاح میں موجود ہے تواس کی طرف اشارہ سےبھی ہوسکتی ہے ، مثلاً اگر ولی اس کی طرف اشارہ کرکے کہے کہ میں " اس " کو تمہارے نکاح میں دیا (تو ایسا کرنا صحت نکاح کیلئے کافی ہوگا )
امام ابن قدامہؒ المغنی میں فرماتے ہیں :
[فصل من شرط صحة النكاح تعيين الزوجين]
قال ابن قدامة رحمه الله في "المغني" (7/96) : " مِن شرط صحة النكاح تعيين الزوجين ; لأن كل عاقد ومعقود عليه يجب تعيينهما ، كالمشتري والمبيع , ثم ينظر ، فإن كانت المرأة حاضرة ، فقال : زوجتك هذه صح ، فإن الإشارة تكفي في التعيين ، فإن زاد على ذلك ، فقال : بنتي هذه ، أو هذه فلانة كان تأكيدا .
وإن كانت غائبة فقال : زوجتك بنتي وليس له سواها جاز ، فإن سماها باسمها مع ذلك ، كان تأكيدا .
فإن كان له ابنتان أو أكثر ، فقال : زوجتك ابنتي لم يصح حتى يضم إلى ذلك ما تتميز به ، من اسم أو صفة ، فيقول : زوجتك ابنتي الكبرى أو الوسطى أو الصغرى فإن سماها مع ذلك كان تأكيدا " انتهى

امام أبو محمد موفق الدين عبد الله بن أحمد بن محمد بن قدامة المتوفی 620ھ فرماتے ہیں :
صحت نکاح کیلئے یہ شرط ہے کہ زوجین کی تعیین ہو ،کیونکہ شرعاً عاقد و معقود دونوں کا ایک دوسرے کیلئے متعین ہونا واجب ہے ، جیسے خریدار اور فروخت کنندہ کیلئے متعین ہوتا ہے ، اور پھر ایک صورت یہ بھی ہے کہ
عورت وہاں موجود ہے اور (ولی شرعی ) کہے کہ میں نے ۔۔ اس کو ۔۔ تیری زوجیت میں دے دیا تو اس طرح بھی نکاح صحیح ہوگا ،کیونکہ تعیین کیلئے اشارہ کافی ہے (اگر اشارہ واضح سمجھ آرہاہو )
اور اگر اشارہ کے ساتھ مزید کہے مثلاً (( میری بیٹی ) یا اس طرح کی اور کوئی قابل فہم نشاندہی تاکیداً۔
اور اگر بیٹی دینے والا اپنی اکلوتی بیٹی کے متعلق عقد نکاح میں کہے کہ میں نے اپنی بیٹی تیری زوجیت میں دی تو یہ بھی جائز و صحیح ہے ،اور اگر اس کے ساتھ اس کا نام بھی بتائے تو یہ تاکیداً ہوگا ۔
اور اگر اسکی دو یا دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو ایجاب میں صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ " میں نے اپنی بیٹی تیری زوجیت میں دی ، جب تک اپنی بیٹیوں میں کسی ایک کی (نام کے ساتھ یا اس کی کسی صفت سے تمییز نہیں کرتا "
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تو جس طرح شادی کرنے والے مرد کیلئے اس کی دلہن کی تعیین ضروری ہے ، اسی طرح دلہن کیلئے دولہا کا تعین ضروری ہے ،
اور ولی اور گواہوں کیلئے بھی دونوں متعین ہونا لازم ہیں ،
لڑکی کا ولی ایجاب میں کہہ رہا ہو کہ میں اپنی بیٹی محمد عبداللہ کی زوجیت میں دی ، جبکہ حقیقت میں وہ محمد افضل کو اپنی بیٹی دے رہا ہے !
اسی طرح گواہوں کا معاملہ ہے ۔
اس لیئے نام اور دیگر ضروری شناخت چھپانا بالکل جائز نہیں ،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ​
 
Top