• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اللّٰہ نے صرف قرآن ہی کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے؟

شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,003
پوائنٹ
97

اعتراض:


''مگر (الحمدللہ) اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے اوپر فرض کر لی ہے۔''
جواب:

محترم قارئین! پورا قرآن پڑھ جایئے صرف قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں اٹھائی بلکہ قرآن اور حدیث دونوں کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اٹھائی ہے۔خود اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتا ہے:
﴿ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَھ۫ لَحٰفِظُوْنَﭘ﴾ (الحجر: ۹)
ترجمہ: ''یقیناً ہم نے ہی اترا ہے نصیحت کو اور بے شک ہم ہی خود اس کے نگہبان ہیں۔''
اللہ تعالیٰ نے یہاں جو لفظ استعمال فرمایا ہے وہ (الذکر) ہے ، یعنی نصیحت۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی فرما سکتے تھے کہ (اًلقرآن) لیکن صرف قرآن ہی پر وحی کا دارو مدار نہیں بلکہ وحی کا دارو مدار قرآن اور سنت دونوں پر ہے، اور جب دونوں ہی وحی ہیں تو پھر ایک کی حفاظت کی جائے اور دوسری کو لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے! یہ کیسے ممکن ہے؟ بلکہ خود قرآن کریم میں صراحت ہے کہ:
﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰیﭒﺚ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰیﭓﺫ ﴾ (نجم:۳-۴)
ترجمہ: ''اور نہیں بولتا وہ (محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی خواہشات سے۔ مگر یہ تو ایک وحی ہے جو ان پر کی جاتی ہے۔''
واضح ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان وحی ہے۔
ایک اور مثال کے ذریعے اس بات کو سمجھیے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَاﺆ وَمَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرٰٓی اِلَّا وَاَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَﮊ ﴾ (القصص:۵۹)
ترجمہ: ''تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے جو انھیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ وہاں والے ظلم و ستم پر کمر کس لیں۔''
آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ اور قانون بتایا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی قوم کو تباہ برباد نہیں کرتا، جب تک اس قوم میں کوئی نبی اور رسول نہ بھیجے اور وہ نبی اور رسول ان میں اللہ تعالیٰ کی آیتیں نہ پڑھ کر سنائیں ، لیکن ان آیتوں سے کچھ پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ سلام کا ذکر کیا۔
﴿ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ مِنْۭ بَعْدِ مَآ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی بَصَا۬ئِرَ لِلنَّاسِ وَھُدًی وَّرَحْمَةً لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَﭺ ﴾ (القصص:۴۳)
ترجمہ: '' اور ان اگلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب عنایت فرمائی جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت و رحمت ہو کر آئی تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کر لیں۔ ''
یعنی یہ آیت مبارکہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کو نیست و نابود کرنے کے بعد موسیٰ علیہ سلام کو توراة عطا فرمائی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ سلام کو کتاب تو فرعون کے لشکر کو تباہ کرنے کے بعد ملی تو موسیٰ علیہ سلام نے کس چیز سے ڈرایا؟ آخر وہ کیا چیز تھی جس کے ذریعے سے فرعون اور اس کے لشکر پر حجت کو پورا کیا گیا؟ لازماً جس چیز سے موسیٰ علیہ سلام نے ان کو ڈرایا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی آیات ہی تھیں یہ بات بھی واضح طور پر معلوم ہوئی کہ وحی کا اطلاق صرف قرآن کریم پر نہیں ہوتا بلکہ کسی اور چیز پر بھی ہوتا ہے جس کو ہم وحی خفی کہتے ہیں ۔ جو سورة حجر میں اللہ تعالیٰ نے (ذکر) کا لفظ فرمایا ہے اس سے مراد قرآن اور صحیح حدیث دونوں ہیں۔ عصر حاضر کے عظیم محدث الشیخ ناصر الدین البانی رحمت اللہ علیہ اپنی کتاب ''الحدیث حجة بنفسہ'' صفحہ نمبر ۲۲ میں لکھتے ہیں:
''ومن الا دلة علی حفظہ السنة قولہ تبارک وتعالیٰ : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَھ۫ لَحٰفِظُوْنَ)''
ترجمہ: ''حفاظت سنت کے دلائل میں سے ایک دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ] کہ ہم نے اس ذکر (قرآن) و سنت[ کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔''
''ففی ھذہ الایة الکریمة وعد قاطع من اللہ تعالیٰ بحفظ الذکر فما ھو الذکر لا شک انہ یشمل اوّل ما یشمل القرآن الکریم ولکنہ عند التامل والتدقیق یشمل ایضا السنة النبویة الشریفة والی ھذا ذھب عدد من العلماء المحققین منھم الامام ابو محمد علی بن حزم رحمت اللہ علیہفقد عقد فصلا طویلا ممتعا فی کتابہ القیم'' (الاحکام فی اصول الحکام۱۲۲-۱۰۹/۱)
ترجمہ: ''اس آیت کریمہ میں اللہ کی طرف سے پکا وعدہ ہے کہ وہ اس ذکر کی حفاظت کرے گا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ذکر سے مراد قرآن کریم ہے ، لیکن جب غور و فکر کریں تو اس سے مراد سنت رسول بھی ہے اور یہی متعدد محققین علما کا مذہب ہے، جن میں سے ایک امام ابن حزم ہیں۔ جنھوں نے اس مسئلہ پر کافی و شافی بحث کی ہے۔''
''وساق فیہ ادلة قویة وبراھین مفحمة للتدلیل علی ان السنة من الذکر وانھا محفوظة کالقرآن وان خبر الا حادیفید العلم'' (ص۱۱۰-۱۰۹)
ترجمہ: ''اور انھوں نے اس کتاب میں قوی اور واضح دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ذکر میں سنت بھی شامل ہے اور وہ قرآن کی طرح محفوظ ہے اور خبر واحد علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے۔''
مزید حافظ ابن حزم فرماتے ہیں:
''ومما قالہ لا خلاف بین احد من اھل اللغة والشریعة فی ان کل وحی نزل من عنداللہ تعالیٰ فھو ذکر منزل فالو حی کلہ محفوظ بحفظ اللہ تعالیٰ لہ بیقین'' (الاحکام :۱۴۰/۱)
ترجمہ: ''اہل لغت اور شریعت اس امر پر متفق ہیں کہ وحی کی تمام اقسام ذکر ہیں اور تمام وحی کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے لیا ہے۔''
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰیﭒﺚ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰیﭓﺫ ﴾ (نجم:۳-۴)
ترجمہ: ''اور آپ نہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔ وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔''
قرآن کریم کی صراحت سے ہی یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسوہ قرار دیا اور آپ کے دل مبارک پر قرآن نازل فرمایا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال کی حفاظت کو غیر ضروری قرار دیا؟ نہیں بلکہ دونوں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کتاب اللہ ہیں۔ امام محمد بن ابی بکر الرازی مسائل الرازی میں فرماتے ہیں:
(بارہ مہینوں کی گنتی کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ گنتی کتاب اللہ میں ہے) تو وضاحت کرتے ہوئے راقم ہیں:
''وانما ھوا امر انزلہ اللّٰہ فی کتبہ علی السنة رسولہ'' (مسائل الرازی، ص۱۱۴)
ترجمہ: یقیناً یہ حکم اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک پر اتارا۔''
امام ابن حزم ناسخ و منسوخ کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے ہیں:
''ومن وجوب الطاعة لما جاء عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوب الطاعاة لما جاء فی القرآن ولا فرق وان کل ذٰلک من عنداللہ'' (الاحکام فی اصول الحکام، ج۴، ص۵۹۷)
ترجمہ: ''نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی اطاعت بھی ایسے ہی ہے جیسے قرآن کی اطاعت اور ان دونوں میں (بحیثیت حکم) کوئی فرق نہیں اور یہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔''
جب دونوں کا نزول ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو پھر تفریق کس چیز کی اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس تفریق کو مٹانے کی وضاحت فرمائی:
''الا انی اوتیت القرآن ومثلہ معہ'' (سنن ابی داؤد مع عون، رقم۴۵۹۳)
ترجمہ: ''مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور بھی چیز دی گئی ہے۔(یعنی احادیث)''
لہٰذا پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہدایت کا سر چشمہ صرف قرآن نہیں بلکہ صحیح احادیث بھی ہیں۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
''ان اصح الطریق فی ذٰلک ان یفسر القرآن بالقرآن فما اجمل فی مکان فانہ قد بسط فی موضع اٰخر فان اعیاک ذالک فعلیک بالسنة فانھا شارحة للقرآن وموضحة لہ'' (تفسیر ابن کثیر، ج۱، ص۶)
ترجمہ: ''تفسیر قرآن کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر بذریعہ قرآن ہی کی جائے اور اگر قرآن میں کسی جگہ اجمال ہو تو سنت سے مدد لی جائے یقیناً سنت قرآن مجید کی تشریح اور اس کی وضاحت ہے۔''
امام ابن حزم فرماتے ہیں:
''والقرآن والخبر الصحیح بعضھا مضاف الی بعض۔ وھما شیئ واحد فی انھما من عنداللہ وحکمھا حکم واحد فی باب وجوب الطاعة'' (الاحکام فی اصول الاحکام ، ص۱۱۷)
ترجمہ: ''قرآن اور حدیث ایک دوسرے سے مضاف ہیں اور ایک ہی چیز ہیں، اس بات میں کہ وہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں اور فرضیت اطاعت میں ان دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔''
ان ائمہ اور ماہرین اصول حدیث کی صراحت سے یہ بات عیاں ہوئی کہ قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث بھی ماخذ شریعت ہے۔ دراصل انکار حدیث کا یہ وہ گندا بیج ہے جسے منکرین حدیث نے بویا اور آج اس قسم کے لوگ اسی عقائد باطلہ کی آبیاری کر رہے ہیں اور لوگوں کو قرآن کا نام لے کر قرآن سے کوسوں دور کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مجلسوں میں بڑے دھڑلے سے قرآن کی حفاظت کا دعویٰ کیا جاتا ہے جب احادیث کی باری آتی ہے تو اسے غیر معتبر کہہ کر یا اسے انسانی کاوش کا نمونہ قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے، یا یوں کہہ دیا جاتا ہے کہ احادیث کی جمع و تدوین انسانی کاوشوں پر منحصر ہے۔ اس میں غلطی اور صحت کے ہزار ہا امکان موجود ہیں اور اسی کے ضمن میں یہ بات بھی بڑے شور سے کہی جاتی ہے کہ دیکھو یہاں قرآن میں تو کوئی بھی آیت ضعیف نہیں ہے، کیونکہ اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور احادیث کی ہر کتاب میں ضعیف اور موضوع کا انبار لگا ہوا ہے تو ایسے انبار میں حفاظت کہا سے آئی۔
یہ وہ لفاظی ہے جس نے سینکڑوں کیا ہزاروں ایمان والوں کا گلا گھونٹا ہے۔ واللہ میں حدیث کا ادنی طالب علم ہوں میں اس بات کا دعویٰ کرتا ہوں کہ قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث صحیحہ کی بھی حفاظت اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ اگر آپ یوں کہیں گے کہ احادیث میں ضعیف روایات ہیں اور قرآن میں نہیں تو اس کا جواب بھی سن لیں۔
ہاں ! جب احادیث کے خلاف سازشیں ہوئیں تو من گھڑت اور جعلی روایتوں کو صحیح احادیث میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن اس بات میں ایک اور نکتہ بھی نقل کرتا چلوں کہ قارئین کرام! اگر احادیث کا تصور ہی نہ ہوتا تو جعل سازوں کو جعلی حدیث بنانے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ لازمی سی بات ہے کہ صحیح احادیث کو ماخذ شریعت مانا جا رہا تھا اس کے ذریعے سے فیصلے ہو رہے تھے۔ یعنی احادیث مکمل طور پر رائج تھیں اسی وجہ سے واضعین نے احادیث گھڑیں۔ مثلاً:
کیا آپ نے کبھی ۱۰،۰۰۰ (دس ہزار) کا نقلی نوٹ دیکھا ہے؟ نہیں! کیوں؟ اس لیے کہ مارکیٹ میں دس ہزار کا نوٹ ہی موجود نہیں ہے، اس کے برعکس اگر میں آپ سے یوں کہوں کہ کیا آپ نے ۱۰۰۰ (ایک ہزار) کا نقلی نوٹ دیکھا ہے تو آپ ضرور کہیں گے کہ ہاں۔ کیونکہ ۱۰۰۰ (ایک ہزار) کا اصلی نوٹ مارکیٹ میں موجود ہے۔
بالکل اس مثال کو سمجھتے ہوئے اس بات کو بھی سمجھ لیں کہ احادیث اس دور میں بھی ماخذ شریعت تھیں ، تب ہی جعلی روایتوں کو پھیلایا گیا۔ لیکن محافظ تو اللہ تعالیٰ ہے۔ جب ان اسلام کے دشمنوں نے حدیث کے خلاف کام کیا تو اللہ تعالیٰ نے محدثین کی ایسی جماعت کو پیدا فرمایا جنھوں نے حدیث کی محنت کا حق ادا کر دیا اور اپنا تن ،من ،دھن سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث پر قربان کر دیا اور ایسے قانون وضع فرمائے کہ اس معیار سے گزرنے کے بعد
تمام کی تمام ضعیف ، کمزور اور من گھڑت روایتیں صحیح حدیث سے الگ ہوگئیں اور اسی طریقے سے اللہ تعالیٰ نے احادیث کی حفاظت کے وعدے کو پورا فرمایا۔موضوع اور ضعیف روایات کی پہچان کے لیے اہل علم نے کئی کتب تحریر کی ہیں۔ مثلاً امام شوکانی نے الفوائد المجموعة، ملا علی قاری نے الموضوعات الکبری، العجولی نے کشف الخفاء، امام سیوطی نے اللّائی المضوعة، ابن جوزی نے کتاب الموضوعات، موجودہ دور میں شیخ الالبانی رحمہم اللہ نے سلسلة الاحادیث الضعیفہ کے نام سے کتب لکھیں ہیں۔ اب بات رہی قرآن کریم کی تو اس چیز کو بھی یاد رکھا جائے کہ دشمنان اسلام نے قرآن پاک کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اگر کئی سالوں پہلے احادیث کے خلاف کام ہوا تو کچھ عرصے قبل قرآن کریم پر بھی تابڑ توڑ حملے کیے گئے۔ لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والی ایک بڑی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ جبرئیل علیہ سلام ۱۷۰۰۰ آیات لے کر آئے تھے۔ لیکن اب صرف ۶۶۶۶ رہ گئیں ہیں۔ (دیکھیے اصول کافی، ج۵، ص۳۱۷)
حال ہی میں ایک ویب سائٹ لانچ ہوئی ہے جس میں ۷۷ جعلی سورتوں کا اضافہ کیا گیا ہے، اور اس جعلی کتاب کا نام رکھا ہے (TRUE FURQAN)۔ اس جعلی کتاب میں جہاد کے تصور کو خارج کیا گیا ہے اور مزید اس سورت سے پہلے بسم اللہ کی جگہ عیسائیت کے عقائد کو شامل کیا گیا ہے۔ جن کی تفصیل ہم بیان کیے دیتے ہیں:
نمبر نام سورۃ انگریزی نام آیات
١ سورة الفاتحہ The opening ٧ آيات
٢ سورة المحبة Love ١٠ آيات
٣ سورة النور Light ٧ آيات
٤ سورة السلام Peace ١٥ آيات
٥ سورة الایمان Faith ٨آيات
٦ سورة الحق Truth ١٠ آيات
٧ سورة التوحید Oneness ١٤ آيات
٨ سورة المسیح The Messiah ٢٧ آيات
٩ سورة الصلب The Crucifixion ١٤ آيات
١٠ سورة الروح The Sprit ٧ آيات
١١ سورة الفرقان The True Furqan ٢٧ آيات
١٢ سورة الثالوث The Triune God ٣١ آيات
١٣ سورة الموعظة The Sermon ٧ آيات
١٤ سورة الحوارین The Disciples ١٤ آيات
١٥ سورة الاعجاز The Chalenge ١٣ آيات
١٦ سورة القدر Predestination ١١ آيات
١٧ سورة المارقین The Apostates ١٥ آيات
١٨ سورة المؤمنین The Belivers ٧ آيات
١٩ سورة التوبة Repentance ٧آيات
٢٠ سورة الصلاح Righteousness ١٧آيات
٢١ سورة الطہر The Purification ١٣آيات
٢٢ سورة الغرانیق The Idols ١٥آيات
٢٣ سورة العطاء Charity ١٤ آيات
٢٤ سورة النساء Women ١٦آيات
٢٥ سورة الزواج Marriage ٧آيات
٢٦ سورة الطلاق Divorce ١٢آيات
٢٧ سورة الزنی Adultery ١٣آيات
٢٨ سورة المائدہ The Tablespread ٥آيات
٢٩ سورة المعجزات The Miracles ٨آيات
٣٠ سورة المنافقین The Hypocrites ١٧آيات
٣١ سورة القتل Murder ١٥آيات
٣٢ سورة الجزیة The Trubute ١٤ آيات
٣٣ سورة الافک Lying ١٨آيات
٣٤ سورة الضالین The Lost ٩آيات
٣٥ سورة الاخاء Brotherhood ١٥آيات
٣٦ سورة الصیام Fasting ٩آيات
٣٧ سورة الکنز The Treasure ٦آيات
٣٨ سورة الانبیاء The Prophets ١٨آيات
٣٩ سورة الماکرین The Conspirators ٢٠آيات
٤٠ سورة الامین The Illiterates ١٢آيات
٤١ سورة المفترین The Slanderes ٧آيات
٤٢ سورة الصلاة Prayer ١٠آيات
٤٣ سورة الملوک The Kings ٨آيات
٤٤ سورة الطاغوت The Evil One ١٢آيات
٤٥ سورة النسخ Abrogation ١٤ آيات
٤٦ سورة الرعاة The Shepherd ٦ آيات
٤٧ سورة الشھادة The Testimony ٧ آيات
٤٨ سورة الھدیٰ The Guidance ١١آيات
٤٩ سورة الانجیل The Gospel ٦آيات
٥٠ سورة المشرکین The Polytheists ٣٠آيات
٥١ سورة الحکیم The Judgment ١٤آيات
٥٢ سورة الوعید The Threat ٧آيات
٥٣ سورة الکبائر The Atrocities ١٥آيات
٥٤ سورة الاضحی The Secrifice ١٠آيات
٥٥ سورة الاساطیر Fairy Tales ٦آيات
٥٦ سورة الجنة Paradise ١٥آيات
٥٧ سورة المحرضین The Instigarors ١٦آيات
٥٨ سورة البھتان False Witness ١٢آيات
٥٩ سورة الیسر Prosperity ٨آيات
٦٠ سورة الفقراء The Poor ٨آيات
٦١ سورة الوحی Inspiration ١٨آيات
٦٢ سورة المہتدین The Rightly-Guided ٨آيات
٦٣ سورة طوبیٰ The Beatitudes ١٤آيات
٦٤ سورة الالیاء The Allies ١٢آيات
٦٥ سورة اقراٴ The Recitation ١٤آيات
٦٦ سورة الکافرون The Infidels ١٢آيات
٦٧ سورة الخاتم The Seal ١٤آيات
٦٨ سورة الاصرار The Assertion ١١آيات
٦٩ سورة التنزیل Revelation ٨آيات
٧٠ سورة التحریف Plagiarism ٨آيات
٧١ سورة العاملین The Diligent ١٣آيات
٧٢ سورة الآلاء The Marvels ١٠آيات
٧٣ سورة المحاجة The Arguments ٨آيات
٧٤ سورة المیزان The Scale ١٥آيات
٧٥ سورة القبس The Spark Of Intelligence ٨آيات
٧٦ سورة الاسماء The Excellent Names ٢٥آيات
٧٧ سورة الشھید The Martyr ٨آيات
قارئین کرام!یہ وہ سورتیں ہیں جو ۱۰۰ فیصد بناوٹی اور جعلی ہیں ، جن کو قرآن مجید کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور قرآن مجید کے چیلنج کو قبول کیا جا رہا ہے۔ ان بناوٹی سورتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کے ساتھ ساتھ اس جعلی کتاب کو نہ ماننے والوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایسی خرافات اس کتاب میں ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسلام دشمنوں کی سازش ہے، جسے وہ اپنے بھوکے کتوں کے پیٹ کے مانند بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس پیٹ کو سوائے آگ کے اور کوئی شے نہ بھر سکے گی۔
کتاب فصل الخطاب میں لکھتا ہے:
''صحیح، صریح اور متواتر دلائل سے ثابت ہے کہ قرآن مجید میں تحریف ہوئی ہے۔''
(فصل الخطاب فی اثبات تحریف کلام رب الارباب، ص۳۰)
قارئین کرام! بتایئے اب آپ کیا کہیں گے کہ نعوذ باللہ کیا قرآن مجید میں بھی تحریف ہو چکی ہے؟ نہیں ! ہر گز نہیں! جب اسلام کے دشمنوں نے دین حق کے خلاف سازشیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشوں کو بیکار کر دیا ۔ اس لیے کہ قرآن اور صحیح حدیث حق ہیں۔ اس کے سوا تمام کے تمام عقائد، مذاہب اور فرقے سب باطل ہیں اور جب باطل حق سے ٹکراتا ہے تو باطل کا ستیاناس ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُھ۫ فَاِذَا ھُوَ زَاھِقٌﺚ وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَﭡ ﴾ (الانبیاء: ۱۸)
ترجمہ: ''بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں ، پس سچ جھوٹ کا توڑ ہوتا ہے اور وہ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے۔''
حق کی حفاظت اور اسے قیامت تک جاری رکھنا یہ رب العالمین کا وعدہ ہے۔ امام ابن جوزی اپنی کتاب کشف المشکل جلد ۱ صفحہ ۱۱ پر فرماتے ہیں:
''فان اللہ عزوجل حفظ کتابنا بما لم یحفظ کتاباً قبلہ فقال عزوجل فی الامم المقتدمة'' (بما استحفظوا من کتاب اللہ ۴۴/۵ فی کتابنا وانا لہ لحافظون ۹/۱۵)
ترجمہ: ''یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب (قرآن و صحیح حدیث) کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور ان سے پہلے کسی کتاب کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:( کیونکہ انھیں اللہ تعالیی کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے) اور ہماری کتاب (قرآن و حدیث) کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس ذکر کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں)۔''
بلکہ خود قرآن کریم نے مزید مقامات پر دعویٰ کیا ہے کہ کوئی اس جیسی سورت تو بنا دے۔ الحمدللہ اس چیلنج کو آج تک کسی نے قبول نہیں کیا اور نہ ہی کوئی اس چیلنج کو قبول کر سکتا ہے۔ بظاہر تو سورتیں بنا لی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا چیلنج اپنی جگہ پر قائم ہے ، کیونکہ:
قرآن کریم کے حفاظ لاکھوں کی تعداد میں ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ (100,000,00) سے زیادہ حفاظ اس دنیا میں موجو دہیں۔
قرآن میں نہ نقطوں کی تحریف ہوگی اور نہ ہی کسی آیت کی۔
قرآن پر ہر دور میں عمل کرنے والے موجود ہوں گے۔
اور قرآن کریم ہر دور میں پڑھا جائے گا۔ (اس کے برعکس ان جعلی سورتوں کو کوئی نہیں جانتا اور جعلی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہی یہی ہے کہ یہ جعلی اور بنڈل ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورتیں اتاری ہیں وہ ایک سو چودہ ۱۱۴ سورتیں ہیں، جس کا واضح اشارہ خود قرآن کریم ہی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ اَفَغَیْرَ اللہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا وَّھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلًاﺚ وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّھ۫ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ﯁﴾ (الانعام:۱۱۴)
ترجمہ: ''کیا میں اللہ کے سوا کسی اور منصف کی تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمھاری طرف کتاب نازل کی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب آپ کے رب کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا آپ شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں۔''
غور طلب بات یہ ہے کہ آیت مبارکہ میں کتاب کو مفصل قرار دیا اور یہ سورة الانعام کی آیت نمبر ۱۱۴ ہے ۔ یعنی ۱۱۴ سورتیں اللہ کی طرف سے ہیں اس کے بعد اگر کتنی ہی جعلی سورتیں بنائی جائیں اسے بنڈل ہی کہا جائے گا۔
اس کے معجزے اور آیات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یعنی تمام آیات اپنی جگہ پر اٹل ہیں کوئی طاقت نہ اس میں کمی کر سکے گی اور نہ اس میں زیادتی۔ کیونکہ ان کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
امام بغوی رحمت اللہ علیہ اپنی تفسیر میں راقم ہیں:
''نحفظ القرآن من الشیاطین ان یزیدوا فیہ او ینقصوا منہ او یبدلوا بغیرہ''
(تفصیر البغوی، ج۳، ص۳۷)
''ہم قرآن کی حفاظت شیاطین سے اس طرح کریں گے کہ وہ نہ اس میں زیادتی کر سکیں گے اور نہ کمی اور نہ ہی اسے کسی اور شے سے بدل سکیں گے۔ ''
امام رازی رحمت اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں حفاظت قرآن کو ثابت کرنے کے لیے ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے:
انطاکیہ کے رہنے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ قرآن کریم میں موسیٰ اور خضر کا جو قصہ ہے کہ ایک بستی والوں کے ہاں گئے تو انھوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا۔ قرآن کریم یوں ذکر فرماتا ہے:
﴿ فَانْطَلَقَاﺅ حثج اِذَآ اَتَیَآ اَھْلَ قَرْیَةِ اۨسْتَطْعَمَآ اَھْلَھَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْھُمَا فَوَجَدَا فِیْھَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَھ۫ﺚ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَیْھِ اَجْرًاﮜ ﴾ (الکھف:۷۷)
ترجمہ: ''پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آکر ان سے کھانا طلب کیا، انھوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا۔''
قرآن کریم نے یہاں لفظ (فَاَبَوْا) استعمال فرمایا ہے۔ (فَاَبَوْا) یعنی انکار کر دیا۔ یہ لوگ انطاکیہ کے رہنے والے تھے اور انھوں نے مہمان نوازی سے صاف انکار کر دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں اسی قوم کے افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی:
''وجاء واالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحمل من الذھب وقالوا یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نشتری بھذالذھب ان تجعل الباء تاء حتی تصیر القراٴةھکذا۔۔۔۔۔ فامتنع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقال ان تغییر ھذہ النقطة یوجب دخول الکذب فی کلام اللہ۔۔۔۔'' (تفسیر الکبیر، ج۲۱، ص۱۳۴)
ترجمہ:'یعنی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید میں جو جملہ ہے '''' پس 'انکار کیا یہاں ''با'' کو ہٹا کر ''تا'' کر دیجیے (تاکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہمانوازی کی) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا یہ نقطہ کی تبدیلی کلام اللہ میں تحریف کے مانند ہے۔''
سورتیں اللہ کی طرف سے ہیں ، اس کے بعد اگر کتنی ہی جعلی سورتیں بنا لی جائیں اسے بنڈل ہی کہا جائے گا۔ اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ حق تعالیٰ شانہ نے قرآن کی حفاظت کا ایسا وعدہ فرمایا کہ کوئی ایک نقطہ بھی آگے پیچھے نہیں کر سکتا اور یہ چیلنج تا قیامت تک رہے گا۔ بلکہ یہی حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کا ہے، سینکڑوں فتنے صحیح احادیث کے خلاف پیدا ہوئے، لیکن یہ گلدستہ احادیث آج تک اپنی جگہ پر مہک رہا ہے اور اپنی اصل حالت میں قائم و دائم ہے۔ مولانا محمد علی جوہر صاحب نے سچ فرمایا تھا کہ ''قرآن پاک تو قرآن پاک ہے، دوسرے صحائف ہماری کتب حدیث کی تحقیق اور صحت و حفاظت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔'' (خالص اسلام ، ص۱۴۵)
لہٰذا قرآن و صحیح احادیث دونوں بحرین ہیں، جو ایک دوسرے کے ساتھ رواں دواں ہیں۔ قیامت تک ان کو کوئی جدا نہیں کر سکتا اور ہدایت بھی ان میں ضم کر دی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
''عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہقال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انی قد ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما: کتاب اللہ وسنتی'' (المستدرک الحاکم، ج۱، رقم الحدیث ۳۱۹)
ترجمہ: '' یقیناً میں تم میں دو بڑی چیزوں کو چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامو تو کبھی گمراہ نہ ہوو گے کتاب اللہ اور میری سنت (طریقہ )۔''
 
Top