• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا اللہ کے رسولﷺ اللہ کے ذاتی نور سے ہیں؟

شمولیت
جنوری 29، 2016
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
18
الجواب:
(الف)
اہل الشرک نے محسوس کیا کہ ’’حیاۃ النبی ‘‘ کے عقیدے سے بات نہیں چل سکتی۔ تو اس سے بھی خبیث ترین عقیدہ گھڑلیا۔ اس عقیدہ میں انہوں نے یہود و نصاریٰ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ عقیدہ گھڑ نے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی تاکہ ’’وفات النبی کے تمام دلائل کا رَد ہو سکے۔ ‘‘
سوال یہ ہے کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر کیوں ہوئے؟یہ اس لیے کیونکہ انکو بشریت حقیر لگتی ہے مگرمیں یہاں عرض کردوں کہ بشریت کو سب سے پہلے جس نے حقیر جانا وہ ابلیس تھا۔ جب اسکو سجدے کا حکم ہوا تو وہ بولا۔
اَنَاخَیْرٌمِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍوَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ(سورۃ الاعراف آیت نمبر 12)
(میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسکو مٹی سے پیدا کیا )
اور کہا:
قَالَ لَمْ اَکُنْ لَّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ(سورۃ الحجر، آیت نمبر33)
(اس نے کہا میرا یہ کام نہیں کہ میں اُس بشر کو سجدہ کرو ںجسے تو نے مٹی کے سیاہ گارے سے پیدا کیا)
معلوم ہوا کہ اہل الشرک یہاں پر ابلیس کی تقلید کرتے ہیں۔
……٭٭٭……
قرآن سے دلیل
۱) اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الکہف آیت نمبر 110اور سورۃ فصلت آیت نمبر 6میں فرماتا ہے :
قُلْ اِنَّمَآاَنَابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ
(کہہ دیجئے میں تم ہی جیسا بشر ہوں)
غور فرمایئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کروا یا جاتا ہے کہ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح بشر (انسان ) ہی ہوں ۔ مگر فرق یہ ہے کہ مجھے اللہ نے وحی کے لئے چن لیا ہے۔ اب اہل الشرک کا جواب بھی سن لیجئے: احمد یار خان نعیمی اپنی کتاب جاء الحق(جو اصل میں جاء الباطل ہے) میں لکھتا ہے:
’’شکاری ،جانوروں کی سی آواز نکال کر شکار کرتا ہے۔ اس سے کفار کو اپنی طرف مائل کرنا مقصود ہے۔‘‘
(جاء الباطل حصہ ۱ص۱۶۷)
یعنی نعوذ باللہ جس طرح ایک شکاری دھوکہ دے کر شکار کو اپنے جال میں پھنساتا ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جملہ کہہ کر کفار کو دھوکہ میں رکھتا تھا۔یہ سراسر گستاخی ہے لعنت ہو ایسی فرقہ پرستی پر کہ فرقہ بچانے کے لئے نبی کریم ﷺ کی عزت سے کھیلا جائے۔ (نعوذ باللہ)
دوسرا اعتراض یہ کہ یہاں’’قُلْ‘‘ کہا گیا ہے نہ کہ’’قُوْلُوْا‘‘ ۔ مطلب یہ کہ ایسا جملہ صرف نبی ﷺ کہہ سکتا ہے ہم نہیں۔ (جاء الباطل حصہ ۱ص۱۶۶)
تو عرض ہے کہ قرآن میں لفظ’’ قُلْ‘‘ صرف ایک ہی جگہ نہیں بلکہ تقریباً ۳۳۰ بار آیا ہے۔ ان جگہوں کا کیا ہوگا۔ کیا ’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ کہنا صرف نبی کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں؟!
[اس سے پہلے کہ اہل الشرک بشر کا معنی ہی بدل دیں ، ہم عرض کریں گے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بھی بشر ہی کہا ہے:اللہ تعالیٰ سورۃ الروم آیت نمبر ۲۰ میں فرماتا ہے:
وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ
(اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیںمٹی سے پیدا کیا، پھر یکایک تم ’’بشر‘‘ ہوکر [زمین پر ] پھیلتے جارہے ہو)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم آیت نمبر 26میں مریم علیہا السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
فَاِمَّاتَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحْدًا۔۔۔۔الخ
(پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو کہہ دینا کہ یقینا میں نے تو اللہ کے لئے روزہ کی منت مان رکھی ہے)
اسی طرح سورۃ المدثر آیت نمبر 31میںقرآن کے بارے میں فرمایا:
وَمَاھِیَ اِلَّا ذِکْرَیٰ لِلْبَشَرِ (یہ تو کُل انسانوںکے لئے سراسر نصیحت ہے)
آگے آیت نمبر 36میں فرمایا:
نَذِیْرًا لّلْبَشَرِ(انسانوں کو ڈرانے والی)
یہاں پر بھی بشر کے معنی واضح ہوگئے۔والحمدللہ]
۲) اللہ تعالیٰ سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 93 میں فرماتا ہے:
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًارَّسُوْلًا
(آپ کہہ دیجئے کہ پاک ہے میرا رب! میں تو صرف ایک انسان ہی ہوں جو رسول بنایا گیا ہوں )
۳)آگے سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 95 میںفرمایا:
قُلْ لَّوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَاعَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکًا رَّسُوْلًا
(آپ ان لوگوں سے کہئے اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم آسمان سے ان کے لئے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے)
یعنی زمین پر تو انسان آباد ہیں پھر ان میں رسول بھی انسان ہی ہونا چاہئے۔ اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے تو ان میں فرشتے ہی رسول بنا کر بھیجے جاتے۔
حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
اَیْ : مِنْ جِنْسِھِمْ ، وَلَمَّا کُنْتُمْ اَنْتُمْ بَشَرًا ، بَعَثْنَا فِیْکُمْ رُسُلَنَا ، مِنْکُمْ لُطْفًا وَرَحْمَۃً
(مراد یہ ہے کہ ان فرشتوں کی جنس سے [فرشتے رسول بھیج دیتے] لیکن جبکہ تم بشر تھے تو ہم نے اپنے فضل و کرم سے تمہاری طرف تمہاری جنس سے [بشر]رسول بھیج دیا۔)
درج بالا آیت میں اصل میں اس بات پر تعجب تھا کہ ہمارے جیسا ہی آدمی رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان آیت نمبر 7میں ارشاد فرماتا ہے:
وَقَالُوْامَالِ ھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ لَوْلآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا o
(لوگ کہنے لگے کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا بن جاتا )
۴) اللہ تعالیٰ سورۃ ابراہیم آیت نمبر 11میں فرماتا ہیں:
قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ
(اُن کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے)
دوستو! یہ ہے پچھلے انبیاء کا اعترافِ بشریت۔
۵)اسی طرح سورۃ آلِ عمران آیت نمبر 164میں فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ
(بلا شُبہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے، جب ان میں ایک رسول ’’انہیں میں سے ‘‘بھیجا)
ظاہر ہے کہ’’اَنْفُسِھِمْ‘‘ سے مراد انہی کی نسل اور جنس میں سے۔
۶)اسی طرح سورۃ التوبہ آیت نمبر 128 میں فرمایا:
لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ
(بے شک تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے،جو تمہاری جنس سے ہے)
گواُس وقت کی جملہ عوام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے قائل تھے۔ کسی ایک نے بھی ان کی بشریت کا انکار نہ کیا بلکہ ان کی بشریت پر سب کا اتفاق تھا ۔ ہاں اُن میں کفار کا اعتراض یہ تھا کہ بشرکیوں اور کیسے نبی ہوگا اور آج کل کے کلمہ گوان کی نبوت اور رسالت کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے بشریت سے انکاری ہیں تو کیا نبی اور رسول ہونے کی وجہ سے ہی وہ بشریت سے نکل جائیں گے؟
[فائدہ: مشہور مفسر امام ابن کثیر رحمہ اللہ، سورۃ الجن آیت نمبر 21کی تشریح کرکے فرماتے ہیں:
اَیْ :اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوْحَی اِلَیَّ ، وَعَبْدٌ مَنْ عِبَادِ اللہِ لَیْسَ اِلَیَّ مِنْ الْاَمْرِ شَیْءٍ فِیْ ھِدَایَتِکُمْ وَلَاغَوَایَتِکُمْ (یعنی میں تو تم جیسا ہی بشر ہوں ہاں میری طرف وحی آتی ہے، اور میں اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں، تمہاری ہدایت و ضلالت کا مختار و محتاج نہیں ہوں )]
احادیث سے دلیل
۱)صحیح بخاری شریف، کتاب الجزیۃ و الموادعۃ حدیث نمبر 3159 میں جُبیر بن حَیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کی فوج کے سامنے یہ اعلان کردیا:
بَعَثَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْاَرْضِیْنَ تَعَالٰی ذِکْرُہٗ وَجَلَّتْ عَظَمَتُہٗ اِلَیْنَانَبِیًّا مِنْ اَنْفُسِنَا نَعْرِفُ اَبَاہُ وَاُمَّہُ
(آسمانوں اور زمینوں کے رب نے ، جس کا ذِکر اپنی تمام عظمت و جلال کے ساتھ بلند ہے،ہماری طرف ہم ہی میں سے ایک نبی بھیجاہم ان کے ماں باپ کو جانتے ہیں)
۲) صحیح مسلم ،کتاب البروالصلۃ والادب حدیث نمبر6622 اور مسند امام احمد حدیث نمبر7309 میں سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّمَااَنَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ یَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ
(اے اللہ! بیشک محمدایک بشر ہے ، اس کو غصہ آجاتا ہے ، جس طرح ایک بشر کو غصہ آجاتا ہے)ﷺ
۳) صحیح بخاری شریف ،کتاب الصلوٰۃ حدیث نمبر401 اور مسند امام احمد حدیث نمبر 3983میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ سلام پھیرنے کے بعد ہم نے عرض کی۔ یا رسول اللہ! [صلی اللہ علیہ وسلم]کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے۔ آپ نے اس پر دو سجدئے سہو کئے اور سلام پھیر دی اور فرمایا : اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ اَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ (بیشک میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جیسے تم بھُولتے ہو) اسلئے مجھے یاد دلایا کرو۔ [مفہوماً]
۴) سنن ابی داؤد، کتاب الطھارہ حدیث نمبر 234 ،صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر 1629اور مسند امام احمد حدیث نمبر 20691 میں سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا اور تکبیر کہنی چاہی کہ صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو ، پھر گھر تشریف لے گئے ، جب باہر آئے تو سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، پھر نماز پڑھائی اور فرمایا :
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَاِنِّیْ کُنْتُ جُنُبًا
(بیشک میں بشر ہوں اور میں حالتِ جنابت میں تھا)[الفاظ مسند امام احمد کے ہیں]
۵)صحیح بخاری شریف ، کتاب الاحکام حدیث نمبر 7169 اور صحیح مسلم ، کتاب الاقضیۃ حدیث نمبر 4475 میں سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ…الخ
(بلاشُبہ میں ایک بشر ہوں ، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو۔ ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کردوں تو جس شخص کے لئے میں اس کے بھائی کا کوئی حق دلادوں ۔ چاہیئے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں)[الفاظ صحیح بخاری شریف کے ہیں]
۶)صحیح مسلم شریف، کتاب الفضائل حدیث نمبر 6225،مسندامام احمد حدیث نمبر 19479اور صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر2357میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے اجتماع سے خطاب کرکے فرمایا:
اَلَا اَیُّھَاالنَّاسُ فَاِنَّمَآ اَنَابَشَرٌ یُّوْشِکُ اَنْ یَاْتِیَ رَسُوْلُ رَبِّیْ فَاُجِیْبُ
(خبردار! اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ۔ قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا[موت کا فرشتہ] آئے اور میں اسکی دعوت قبول کروں)
۷) مسند امام احمد حدیث نمبر 7109 میں سیدنا ابو رِمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میری نظر جب ان پر پڑی تووالد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو یہ کون ہیں؟ میں نے کہا نہیں، والد صاحب نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔فَاقْشَعْرَرْتُ حِیْنَ قَالَ ذَاکَ وَکُنْتُ أَظُنُّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا لَا یَشْبِہُ النَّاسَ فَاِذَا بَشَرٌ…الخ
(یعنی یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی چیز سمجھتا تھا جو انسانوں کے مشابہہ نہ ہو ، لیکن وہ تو ایک بشر تھے )
۸)صحیح مسلم شریف کتاب الفضائل ،حدیث نمبر 6127اور صحیح ابن حِبَّان ،حدیث نمبر 23میں سیدنا رافع بن خَدِیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور لوگ کھجور کے درختوں کی پیوند کاری کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا : ہم اسی طرح کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید بہتر ہو! لوگوں نے پیوند کاری چھوڑدی تو اس سال [کھجور کی ] فصل تھوڑی ہوئی ۔ لوگوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : اَنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرَکُمْ بِشَیْءٍ مِّنْ أَمْرِ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیئٍ مِنْ رَأْیٍِ فَاِنَّمَاأَنَا بَشَرٌ (یعنی میں تو ایک بشر ہوں ، اگر میں تمہیں دین کا کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور اگر اپنی رائے سے کوئی بات کروں تو میں ایک بشر ہوں)
۹) مسند امام احمد، حدیث نمبر 26724اور شمائل ترمذی شریف ، باب تواضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حدیث نمبر341 میں عمرہ بنتِ عبدالرحمن رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہاسے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کام کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا: کَانَ بَشَرًا مِنْ الْبَشَرِ یَفْلِیْ ثَوْبَہُ وَیَحْلُبُ شَاتَہُ وَیَخْدُمُ نَفْسَہُ(یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسانوں میں ایک انسان تھے ،آپ اپنے کپڑوں میں خود جوئیں تلاش کرتے، بکری کا دودھ دوہتے اور اپنے کام خود کرتے)
[نوٹ: آپ نہایت پاکیزہ تھے اسکے باوجود جوئیں دیکھنا اس وجہ سے تھا کہ کہیں سے لگ نہ گئی ہو۔ جویں تو بدبودار پسینے کی وجہ سے لگتی ہیں، لیکن میرے محبوب کا پسینہ مبارک تو گلاب سے بھی زیادہ خشبودار تھا]
۱۰) طبقات ابن سعد، جلد نمبر 1صفحہ 111[عربی اور جلد1 صفحہ131 اردو] میں ہے:
’’جب آپ کے فرزند سیدناابراہیم [رضی اللہ عنہ] فوت ہوگئے تو آپ کی آنکھیں آنسوں بہانے لگیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ کے رسول ہوکر رورہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اِنَّمَااَنَا بَشَرٌ یقیناً میں بشر ہی ہوں، میری آنکھیں بہہ رہی ہیں دل دہل رہا ہے، لیکن ہم ایسی بات نہیں کہیں گے ، جو رب کو ناراض کرے۔
وَاللہِ یَااِبْرَاہِیْمُ ! اَنَابِکَ لَمَحْزُوْنُوْنَ ۔اللہ کی قسم! اے ابراہیم ! ہم تیری وجہ سے غمگین ہیں۔‘‘
[مترجم نے بشر والا جملہ حذف کردیا ہے یا ترجمہ بھول گیا ہے]
۱۱) نور اور نیند :اللہ تعالیٰ اپنی ذاتِ مبارک کے بارے میں فرماتے ہیں: لَا تَاْ خُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ (یعنی نہ اسے اونگ آتی ہے اورنہ نیند) جبکہ بہت سی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم شریف ،کتاب الفضا ئل حدیث نمبر 6230(ترقیم) میں اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔
آپ فرماتی ہیں کہ ’’ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور نیند اچاٹ ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے‘‘۔ اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اتنے میں ہم کو ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے!؟ آواز آئی سعد بن ابی وقاص ہوں یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہرہ دینے کے لئے۔ اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’خراٹے کی آواز ‘‘سنی۔
اس حدیث میں ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سونا ثابت ہوا ،ساتھ ہی خراٹیں لینے کا ذکر بھی ہوا۔ ظاہر ہے یہ صرف بشری تقاضا ہی ہے۔اگر آپ اللہ کے نور ہوتے تو اللہ کی طرح نیند نہ آتی۔ کیونکہ اللہ نے اپنے بارے میں فرمایا ہے: لَا تَأْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَلَا نَوْمٌ (نہ اسے اونگ آتی ہے نہ نیند)
۱۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے پیتے بھی تھے جس کا ثبوت سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ جیسا کہ پہلے گذر گیا آپ پر مشرکین مکہ اسی وجہ سے اعتراض کرتے تھے۔
چونکہ آج اہل الشرک مکہ کے مشرکین ہی کی تقلید کرتے ہیں۔ اسلئے فطری بات ہے کہ یہ لوگ بھی وہی کہیں گے جو مکہ کے مشرکین کہتے تھے۔ دنیا کتنی بھی ترقی کرلے ،ان کی سوچ وہی چودہ سوسال پرانی ہی ہے۔ اس میں ذرہ برابر بھی ترقی نہ ہوئی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ابوجہل نے کچھ کتابوں میں جہالت اور ہٹ دھرمی کے اصول مرتب کئے تھے جو آج کے اہل الشرک کے امام کے ہاتھ لگ گئے۔ اب انہی سے پڑھ پڑھ کر یہ لوگ توحید پرااعتراضات کرتے رہتے ہیں۔

فہمِ سلف
[۱] قاضی عیاض [۵۴۴ھ]کتاب الشفاء صفحہ486[مترجم] پر لکھتے ہیں:
’’ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی انبیاء علیہم السلام انسان ہیںوہ لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو لوگ ان کے مقابلہ و لڑائی کی طاقت نہ رکھتے۔نہ ان کی باتیں قبول کرتے نہ ان سے ملتے۔‘‘
[۲]حافظ ذہبی[۷۴۷ھ]میزان الاعتدال ،جلدنمبر2صفحہ 649ترجمہ نمبر 5183 پر لکھتے ہیں:
’’بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدالبشر تھے، آپ بشر تھے، کھاتے تھے، پیتے تھے، سوتے تھے، قضایئے حاجت کرتے تھے، بیمار ہوتے تھے، دوائی استعمال کرتے تھے اور اپنے منہ کو صاف کرنے کے لئے مسواک استعمال کرتے تھے۔ان سب کاموں میں آپ بشر تھے۔میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! جب آپ فوت ہوئے تو آپ کے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا ، جو بشر کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی آپ کو غسل دیا گیا ، کفن دیا گیا ، لحد کھودی گئی اور دفن کیا گیا…‘‘
[۳] ملا علی القاری حنفی[۱۰۱۴ھ] مرقاۃ المفاتیح، جلد 1صفحہ 485تحت حدیث 279 لکھتے ہیں:
’’طیبی کہتے ہیں کہ یہ ایسے ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قُلْ اِنَّمَا اَنَّابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ [اے نبی! کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں]یعنی میرا تمہاری طرح بشر ہونا میرے فوت ہونے کی علت ہے کہ میں ہمیشہ نہیں رہوں گا…‘‘
[۴]علامہ قسطلانی [۹۲۳ھ]کا کمر توڑ فتویٰ:
’’اگر آپ یہ کہیں کہ کیا اس بات کا جاننا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے اور آپ کا تعلق عرب سے ہے، ایمان کی صحت کے لئے شرط ہے یا فرض کفایہ ہے؟ تو شیخ ولی الدین العراقی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ ایمان کی صحت کے لئے شرط ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوںکہ سیدنا محمد صلی ا للہ علیہ وسلم تمام مخلوقات کے لئے رسول بن کر آئے ہیں، لیکن میں یہ نہیں جانتا آپ بشر تھے، فرشتہ تھے یا جن تھے یا یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ کا تعلق عرب سے ہے یا عجم سے؟ تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں رہا، کیونکہ اس نے قرآنِ مجید کی تکذیب کی ہے اور ایسی چیزوں کا انکار کیا ہے، جو بعد والے اپنے اسلاف سے سیکھتے چلے آئے ہیں۔ یہ بات تو خاص و عام کے نزدیک یقینی طور پر معلوم ہوچکی ہے۔ مجھے اس کے اختلاف کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ اگر کوئی غبی شخص ایسا کہے تو اس کو اس بات (آپ کی بشریت اور آپ کے عربی ہونے ) کی تعلیم دینا واجب ہے اور اس نے پھر بھی اس کا انکار کردیا تو ہم اس پر کافر ہونے کا حکم لگائیں گے…‘‘ (المواہب اللدنیہ ،جلد 2 صفحہ533/ روح المعانی، جلد 2صفحہ325،تحت سورۃآل عمران164)
گھر کی خبر بھی نہیں :
[۱]بدنام زمانہ ٔ فرنگیت میں لکھی گئی بریلوی فقہ کی کتاب’’بہارِ شریعت‘‘میں لکھا ہے:
’’عقیدہ: نبی اس ’’بشر‘‘کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے وحی بھیجی ہو۔ اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں۔‘‘
’’عقیدہ:انبیاء سب ’بشر‘ تھے اور مرد، نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت‘‘
(بہار ِ شریعت،حصہ اول،ص۷عقائد متعلقۂ نبوت۔)
نوٹ: اس کتاب کے پہلے چھ [6] حصے رضا خان بریلوی نے حرفاً حرفاً پڑھے ہے اور کہا کہ ’’الحمدللہ مسائل صحیحہ رجیحہ محققہ منقحہ پر مشتمل پایا‘‘ دیکھئے شروع کتاب ص ۲(د)
[۲] نعیم الدین مراد آبادی بریلوی، خزائن العرفان فی تفسیرالقرآن میں سورۃ ھود آیت 27 کی تفسیر میں لکھتا ہے:
’’[بشر کو نبی نہ ماننا:ناقل]اس گمراہی میں بہت سی امتیں گمراہ ہوکر اسلام سے محروم رہیں۔ قرآنِ پاک میں جابجا ان کے تذکرے ہیں ۔اس امت میں بھی بہت سے بدنصیب سید الانبیاء کی بشریت کا انکار کرتے اور قرآن و حدیث کے منکر ہیں۔ ‘‘
(تنبیہ بلیغ: ظالموں نے جدید اڈیشنوں میں اس عبارت کو بدل دیا ہے)
……٭٭٭……
عقلی دلائل
۱)الضربۃُ القاضیۃ؛ اس غلط عقیدے کے رد میں ٹھوس عقلی دلیل موجود ہے۔ اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین بھی نورانی ہونے چاہئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بھی نورانی ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ انسانی نسل سے نور کی نسل کیسے پیدا ہوگی؟ اسی طرح نورانی نسل سے انسانی نسل کیسے پیدا ہو سکتی ہے ؟
یا تو کہا جائے کہ آپ نے جنم ہی نہیں لیا اور آپ آسمان سے آئے ہیں اور اہل بیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہی نہیں ہے تب آپ نورانی ہو سکتے ہیں یا پھر کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہی نہیں تھے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین اور اولاد ممکن ہیں۔
……٭٭٭……
(ب)
اول اول تو اہل الشرک نے صرف یہی عقیدہ ظاہر کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں۔ پھر جب بات نہ بنی تو جُرأت کر کے یہ کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں اللہ کے نور (نور من نور اللہ ) ہیں (نعوذباللہ ) یہ بات جس مشرک نے بھی کہی ہوگی ۔ یقینا یا تو نشے کی حالت میں کہی ہوگی یا پھر وہ پاگل ہوگا۔ کیونکہ عقلمند سے اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔
کیونکہ یہود نے عُزیر علیہ السلام اور نصاری نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوا اور سختی سے اس عقیدے کی تردیدفرمائی ۔ چنانچہ :
سورۃ مریم آیت نمبر 88 سے آیت نمبر 92 تک فرمایا:
وَقَالُوااتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَدًاo لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًااِدًّاo تَکَاد ُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّالْجِبَالُ ھَدًّاo اَنْ دَعَوْالِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا o وَمَایَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاo
(ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمان نے بھی اولاد اختیار کی ہے۔ یقینا تم بہت بُری اور بھاری چیز لائے ہو۔ قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑوں کے ریزے ریزے ہو جائیں کہ تم اللہ رحمان کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو۔ شانِ رحمن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔)
مگر ان نامُرادوں نے تو یہودونصاری سے بھی بڑی گالی دی ۔ وہ یہ کہ انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کا حصّہ ہی بنا لیا اس خبیث عقیدے پر ذرا بھی غور کریں تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک گستاخ لکھتا ہے:
’’جس وقت حق تعالیٰ نے آدم صفی اللہ کو پیدا کیا نور محمد مصطفیٰ نے حضرت آدم ؑ کی پیشانی پر ظہور کیا ۔۔۔۔۔ اس کے بعد نسلًا بہ نسلًا عبد المناف تک پہونچا۔۔۔۔تب عبداللہ اپنے گھر میں جا کے اپنی بی بی آمنہؓ سے ہمبستر ہوئے تب وہ نور عبداللہ سے منتقل ہوکر آمنہؓ کے رحم میں آیا اور آمنہ ؓ حضرتؐ کی والدہ حاملہ ہوئیں ‘‘{قصص الانبیاء ،صفحہ340 342- مولوی غلام نبی ابن عنایت اللہ کمر لی ، فرید بُکڈپو (پرائیویٹ) لمٹیڈ دہلی}
اب آدم علیہ السلام سے پہلے روح محمدی کہاں تھی؟ اسکے بارے میں بھی سنئے!کہتا ہے ’’۔۔۔۔موافق اس حدیث کے اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللّٰہِ وَالْخَلْقُ کُلُّھُمْ مِنْ نُوْرِیْ ترجمہ حضرتؐ نے فرمایا میں پیدا ہوا ہوں اللہ کے نور سے اور میرے نور سے ساری مخلوق ہے‘‘(صفحہ 7)
’’حق تعالیٰ نے اس نور کو چار قسم کرکے ایک قسم سے عرش کو پیدا کیا دوسرے قسم سے قلم، تیسرے قسم سے بہشت اور چوتھے قسم سے عالم ارواح اور ساری مخلوق کوخلق کیا اور ان چار میں سے چار قسم نکال کے تین قسموں سے عقل اور شرم اور عشق پیدا کیا اور قسم اول سے عزیز و مکرم تر میرے تئین پیدا کیا کہ رسول اسکا ہوں‘‘(یعنی میری ذات پیدا کی) (صفحہ 6اور7)
گویا انکے نزدیک یہ کائنات اصل میں اللہ کا نور ہے۔ یا اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کا نور آدم سے حوا (علیہما السلام ) کے رحم مادر میں منتقل ہوا پھر وہ رحم مادر میں نو ماہ رہ کر جنم لیتا ہے پھر اس بچہ میں وہ نور منتقل ہوتا ہے اسی طرح یہ نور نسل درنسل بذریعہ مباشرت عورتوں کے ارحام میں داخل ہوتا گیا یہاں تک کہ عبداللہ سے آمنہ میں داخل ہو ا پھر جنم لیا پھر (اللہ کے ایک حصے نے )کفار و مشرکین کے مظالم سہے، پھر ان پر موت آئی اور پھر وہ وہیںعرش پر جاکر اس ذات سے جاملے جس سے نکالے گئے تھے۔
؎ شرم تم کو مگر نہیں آتی
یہی عقیدہ نصارٰی کا ہے۔ شیخ الاسلام ثانی امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’یہود ونصاریٰ تاریخ کے آئینے میں ‘‘ کے صفحہ ۳۵۸ پر رقم طراز ہیں : (یہ کتاب دراصل عربی میں ’’ھدایۃ الحیاری فی اجوبۃ الیھود والنصارٰی ‘‘ کے نام سے چھپی ہے۔ جسکا اردو ترجمہ الدار السلفیہ ممبئی (دار العلم ممبئی) نے ’’مولانا زبیر احمد سلفی کے قلم سے شائع کیا ہے)۔
’’غرضیکہ ان (نصاریٰ)کا کہنا ہے کہ جو آسمان وزمین کا خالق ہے اسی کو مریم نے جَنا اور نوماہ پیٹ میں رکھا پھر اس نے دودھ پیا اور چھوڑا، کھانا کھایا، پانی پیا، پیشاب پاـئخانہ کیا ۔ پھر گرفتار کیا گیا، سولی دیا گیا، رسی سے باندھا گیا، اور اس کے ہاتھوں پر کیلیں نصب کی گئیں، یہی اللہ، ابن اللہ اور کلمۃُ اللہ ہے جس کو تمام لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ‘‘۔ (نعوذ باللہ)
دور حاضر کا ایک مشرک اسی عقیدے کی عکاسی کرتے ہوئے کہتا ہے:
؎ وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر
اُتر پڑا مدینے میں مصطفی ہو کر
در اصل انکا عقیدہ ایک ملی جلی سرکار کی طرح ہے۔ جہاں چند عقائد یہودیت سے، چندنصرانیت سے ، چند ہندو دھرم سے اور باقی باقی ادیان سے جمع کئے ہوئے ہیں ۔پھر لطف یہ کہ اوپر سے ’’اہل سنت والجماعۃ‘‘ کا نام لگا یا جائے۔ مگر دنیا جانتی ہے کہ زہر کی بوتل پر آبِ زم زم کا لیبل (Label) لگا یا جائے تو وہ آب زم زم نہیں بنتا۔ وہ زہر ہی رہے گا۔
……٭٭٭……
شرک کی یلغار اور توحید کی دیوار
حملہ نمبر ۱:۔ ا بو جہل بھی تو بشر تھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل ہی کی طرح بشر تھے؟
دفاع:۔ یہ اعتراض میں نے خود ایک مشرک کی تقریر سے سنا ۔اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ ان مشرکین (جن میں ابولہب ، ابوجہل وغیرہ بھی شامل تھے) سے کہہ دیجئے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح ایک بشرہوں۔ (سورۃ الکہف آیت نمبر 110 )۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو ابوجہل سے تشبیہ دینے کی جُرات تو میں نہیں کر سکتا مگر یہاں یہ بات کہہ دوں کہ ابوجہل کی دو آنکھیں، دوکان، دوہاتھ دوپیر ایک سر وغیرہ، اور اس مشرک کی بھی (جو یہ اعتراض کرتا ہے) دو آنکھیں، دوکان، دوہاتھ، دوپیر ایک سر وغیرہ ۔ گویا دونوں جسمانی طور پر برابر ہیں۔ پھر اعتقادی ، عقلی ، فعلی بھی تو ابوجہل ہی کا چیلہ ہے۔
اب میں اہل الشرک سے پوچھتا ہوں کہ پھر صحابہ کرام کی بشریت کے بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے۔ اگروہ بشر تھے تو کیا وہ ابوجہل کی طرح بشر تھے؟ پھر کس کس کو بشریت کے لباس سے نکالو گے؟۔
حملہ نمبر ۲: کیا سورۃ المائدہ آیت نمبر 15 : قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌo (تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے) میں نور سے مراد نبی ہے؟
دفاع:۔ اس اعتراض کے جواب سے پہلے ہم عرض کرے چلیں کہ یہ معترض کی جہالت کا بیّن ثبوت ہے۔ اس طرح قرآن سمجھنا سلف صالحین کے ہاں نظر نہیں آتا۔ اگر یہی طریقہ اپنا یا جائے تو قرآن کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
اللہ تعالیٰ سورۃ الماعون آیت نمبر 4میں فرماتا ہے:
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ o
{پس نماز پڑھنے والوں کے لئے ویل (خرابی)ہے}
دوسری جگہ سورۃ النسا ء آیت نمبر 43 میں فرمایا :
لَا تَقْرَبُواالصَّلٰوۃَ {نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو}
ان دونوں آیتوں سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز پڑھنا ثواب نہیں بلکہ گناہ اور باعث عذاب ہے۔مگر یہ اور اس قسم کی تفہیم تحریف کہلاتی ہے۔ جسکا ارتکاب بنی اسرائیل نے کیا اور لعنت کے مستحق ہوگئے۔
اب ان آیات کے مفہوم پر غور کریں ۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الماعون آیت نمبر 4 اور 5 میں فرماتا ہے۔
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ o الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ o
{پس ویل ہے (ان) نماز پڑھنے والوں پر جو اپنی نمازوں کے ساتھ غفلت برتتے ہیں}
معلوم ہوا کہ یہ نمازیوں کی دوسری قسم ہے۔
اسی طرح فرمایا : لَاتَقْرَبُواالصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ{نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو اس حال میں کہ تم نشے میں ہو یہاں تک کہ تم وہ کچھ سمجھ سکو جو کہہ رہے ہو…}
کہنے کامطلب یہ ہے کہ قرآن سے کوئی دلیل لی جائے تو مکمل لی جائے ورنہ اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔
اب اصل موضوع پر غور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے‘‘۔
پھر اگلی آیت میں فرمایا :یَّھْدِیْ بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ …الخ
{یعنی ’’جس‘‘کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے طلب گار ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے}
اس آیت میں ’’یَھْدِی‘‘ کے بعد ’’بِہِ‘‘ کے معنی ہے ’’اس (واحد) سے‘‘۔ پہلے نور اور پھر کتاب کا ذکر کرکے ’’بِہِ‘‘ کی ضمیر استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں در اصل ایک ہی چیز ہیں۔یہاں ’’واوِ مفسر‘‘ استعمال ہوا ہے۔ ’’نور اور کتاب کوئی الگ الگ چیز نہیں ۔ اگر یہ الگ الگ دو ہوتے تو بِہِ کے بجائے ’’بِھِمَا‘‘ ہوتا (یعنی ان دو سے) ثابت ہوا کہ نور سے مراد کتاب ہی ہے نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت نمبر 91 میں ’’توراۃ‘‘ کو بھی ’’نور‘‘ کہا ہے۔
قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّھُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَھَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًا…الخ
( آپ یہ کہیے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ علیہ السلام لائے تھے۔ جس کی کیفیت یہ ہے کہ ’’وہ نور ہے‘‘اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت جس کو تم نے متفرق اور اق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ظاہر کر دیتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو)
اسی طرح اسلام کو بھی نور کہا گیا
اللہ نے سورۃ النور آیت نمبر 35 میں فرمایا :
یِھْدِی اللہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ
{اللہ تعالیٰ اپنے نور سے جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے}
ثابت ہو گیا کہ نور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں بلکہ سِیاق وسباق کے اعتبار سے ہی معنی کیا جاتا ہے۔
………٭٭٭٭………
خلاصہ کلام
نور مِن نور اللہ کا عقیدہ رکھنے والا کُھلم کھلا کافر ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الزخرف آیت نمبر 15 میں ارشاد فرماتا ہے:
وَجَعَلُوْالَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْءً ا اِنَّ الاِْ نْسَانَ لَکَفُوْرٌمُّبِیْنٌ o
{اور انہوں نے اللہ کے بندوں میں سے اسکا حصَّہ (ٹکڑا ) قرار دیا ۔ بیشک یہ انسان کھلم کُھلا کافر ہے}
اس عقیدے پر غورکیجیے ۔یہ بدترین اور باطل عقیدہ ہی نہیں بلکہ زہر ہے جو کھاتے ہی انسان کے ایمان کو ختم کر دے گا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ قرآن اصل میںنور ہدایت ہے اور اسکا معلم بھی ہدایت کے نور سے مالا مال ہے۔ آپ بشر توہیں مگر افضلُ البشر اور سیدُ البشر۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ’’اَنَا سَیْدُ اَوْلَادِ آدَم ‘‘ (میں اولاد آدم کا سردار ہوں)
اہل الشرک نور من نورِ اللہ کو ثابت کرنے میں جس قدر بھی احادیث لائیںگے یاتو ان کی کوئی اصل ہی نہ ہوگی یا پھر وہ ان میں تحریف و تاویل کر رہے ہونگے۔قارئین کرام سے گذارش ہے کہ آپ کے پاس جو بھی اس طرح کی کوئی حدیث لائے گا تو آپ اس کی خوب جانچ پڑتال کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات آیت نمبر 6 میں فرماتا ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓااِنْ جَآءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا … الخ {اے ایمان والو! جب تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر (حدیث ) لے کر آئے تو اس کی خوب چھان بین کرو}
یا د رہے یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اگر اس میں کوئی خامی رہی تو کَل محشر میں کوئی عذر قبول نہ کیا جائے گا۔ ابھی زندگی ہے میرے بھائی! تحقیق کرلے۔بناسپتی مولویوںکی خوش بیانی پر نہ جا۔اُنہیں تو پیٹ کی پریشانی ہے،لیکن تیرے توعقیدے کا مسئلہ ہے۔ اگر تجھے جنت مطلوب ہے تو آو قرآن کی طرف، آو مصطفٰیﷺکے فرمان کی طرف۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس شرک کی خباثت سے بچائے… آمین
……٭٭٭……
ماخوذ :شرک کی یلغار اور توحید کی دیوار
از: عبدالرؤف ہانجی السلفی
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
123
پوائنٹ
90
محترم عبد الروف صاحب

السلام علیکم
شب معراج میں شق صدراور ایک اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صوم وصا ل رکھنے والوں سے کہنا تم میں کون میری مثل ہے مجھے میرا رب کھلاتا پلا تا ہے کہ کیا تشریح ہوگی ۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
123
پوائنٹ
90
الجواب:
(الف)
اہل الشرک نے محسوس کیا کہ ’’حیاۃ النبی ‘‘ کے عقیدے سے بات نہیں چل سکتی۔ تو اس سے بھی خبیث ترین عقیدہ گھڑلیا۔ اس عقیدہ میں انہوں نے یہود و نصاریٰ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ عقیدہ گھڑ نے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی تاکہ ’’وفات النبی کے تمام دلائل کا رَد ہو سکے۔ ‘‘
سوال یہ ہے کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر کیوں ہوئے؟یہ اس لیے کیونکہ انکو بشریت حقیر لگتی ہے مگرمیں یہاں عرض کردوں کہ بشریت کو سب سے پہلے جس نے حقیر جانا وہ ابلیس تھا۔ جب اسکو سجدے کا حکم ہوا تو وہ بولا۔
اَنَاخَیْرٌمِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍوَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ(سورۃ الاعراف آیت نمبر 12)
(میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسکو مٹی سے پیدا کیا )
اور کہا:
قَالَ لَمْ اَکُنْ لَّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ(سورۃ الحجر، آیت نمبر33)
(اس نے کہا میرا یہ کام نہیں کہ میں اُس بشر کو سجدہ کرو ںجسے تو نے مٹی کے سیاہ گارے سے پیدا کیا)
معلوم ہوا کہ اہل الشرک یہاں پر ابلیس کی تقلید کرتے ہیں۔
……٭٭٭……
قرآن سے دلیل
۱) اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الکہف آیت نمبر 110اور سورۃ فصلت آیت نمبر 6میں فرماتا ہے :
قُلْ اِنَّمَآاَنَابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ
(کہہ دیجئے میں تم ہی جیسا بشر ہوں)
غور فرمایئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کروا یا جاتا ہے کہ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح بشر (انسان ) ہی ہوں ۔ مگر فرق یہ ہے کہ مجھے اللہ نے وحی کے لئے چن لیا ہے۔ اب اہل الشرک کا جواب بھی سن لیجئے: احمد یار خان نعیمی اپنی کتاب جاء الحق(جو اصل میں جاء الباطل ہے) میں لکھتا ہے:
’’شکاری ،جانوروں کی سی آواز نکال کر شکار کرتا ہے۔ اس سے کفار کو اپنی طرف مائل کرنا مقصود ہے۔‘‘
(جاء الباطل حصہ ۱ص۱۶۷)
یعنی نعوذ باللہ جس طرح ایک شکاری دھوکہ دے کر شکار کو اپنے جال میں پھنساتا ہے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جملہ کہہ کر کفار کو دھوکہ میں رکھتا تھا۔یہ سراسر گستاخی ہے لعنت ہو ایسی فرقہ پرستی پر کہ فرقہ بچانے کے لئے نبی کریم ﷺ کی عزت سے کھیلا جائے۔ (نعوذ باللہ)
دوسرا اعتراض یہ کہ یہاں’’قُلْ‘‘ کہا گیا ہے نہ کہ’’قُوْلُوْا‘‘ ۔ مطلب یہ کہ ایسا جملہ صرف نبی ﷺ کہہ سکتا ہے ہم نہیں۔ (جاء الباطل حصہ ۱ص۱۶۶)
تو عرض ہے کہ قرآن میں لفظ’’ قُلْ‘‘ صرف ایک ہی جگہ نہیں بلکہ تقریباً ۳۳۰ بار آیا ہے۔ ان جگہوں کا کیا ہوگا۔ کیا ’’قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ کہنا صرف نبی کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں؟!
[اس سے پہلے کہ اہل الشرک بشر کا معنی ہی بدل دیں ، ہم عرض کریں گے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بھی بشر ہی کہا ہے:اللہ تعالیٰ سورۃ الروم آیت نمبر ۲۰ میں فرماتا ہے:
وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ
(اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیںمٹی سے پیدا کیا، پھر یکایک تم ’’بشر‘‘ ہوکر [زمین پر ] پھیلتے جارہے ہو)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم آیت نمبر 26میں مریم علیہا السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
فَاِمَّاتَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحْدًا۔۔۔۔الخ
(پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو کہہ دینا کہ یقینا میں نے تو اللہ کے لئے روزہ کی منت مان رکھی ہے)
اسی طرح سورۃ المدثر آیت نمبر 31میںقرآن کے بارے میں فرمایا:
وَمَاھِیَ اِلَّا ذِکْرَیٰ لِلْبَشَرِ (یہ تو کُل انسانوںکے لئے سراسر نصیحت ہے)
آگے آیت نمبر 36میں فرمایا:
نَذِیْرًا لّلْبَشَرِ(انسانوں کو ڈرانے والی)
یہاں پر بھی بشر کے معنی واضح ہوگئے۔والحمدللہ]
۲) اللہ تعالیٰ سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 93 میں فرماتا ہے:
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًارَّسُوْلًا
(آپ کہہ دیجئے کہ پاک ہے میرا رب! میں تو صرف ایک انسان ہی ہوں جو رسول بنایا گیا ہوں )
۳)آگے سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 95 میںفرمایا:
قُلْ لَّوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَاعَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکًا رَّسُوْلًا
(آپ ان لوگوں سے کہئے اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم آسمان سے ان کے لئے کوئی فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے)
یعنی زمین پر تو انسان آباد ہیں پھر ان میں رسول بھی انسان ہی ہونا چاہئے۔ اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے تو ان میں فرشتے ہی رسول بنا کر بھیجے جاتے۔
حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
اَیْ : مِنْ جِنْسِھِمْ ، وَلَمَّا کُنْتُمْ اَنْتُمْ بَشَرًا ، بَعَثْنَا فِیْکُمْ رُسُلَنَا ، مِنْکُمْ لُطْفًا وَرَحْمَۃً
(مراد یہ ہے کہ ان فرشتوں کی جنس سے [فرشتے رسول بھیج دیتے] لیکن جبکہ تم بشر تھے تو ہم نے اپنے فضل و کرم سے تمہاری طرف تمہاری جنس سے [بشر]رسول بھیج دیا۔)
درج بالا آیت میں اصل میں اس بات پر تعجب تھا کہ ہمارے جیسا ہی آدمی رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان آیت نمبر 7میں ارشاد فرماتا ہے:
وَقَالُوْامَالِ ھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ لَوْلآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا o
(لوگ کہنے لگے کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا بن جاتا )
۴) اللہ تعالیٰ سورۃ ابراہیم آیت نمبر 11میں فرماتا ہیں:
قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ
(اُن کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہی ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے)
دوستو! یہ ہے پچھلے انبیاء کا اعترافِ بشریت۔
۵)اسی طرح سورۃ آلِ عمران آیت نمبر 164میں فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ
(بلا شُبہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے، جب ان میں ایک رسول ’’انہیں میں سے ‘‘بھیجا)
ظاہر ہے کہ’’اَنْفُسِھِمْ‘‘ سے مراد انہی کی نسل اور جنس میں سے۔
۶)اسی طرح سورۃ التوبہ آیت نمبر 128 میں فرمایا:
لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ
(بے شک تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے،جو تمہاری جنس سے ہے)
گواُس وقت کی جملہ عوام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے قائل تھے۔ کسی ایک نے بھی ان کی بشریت کا انکار نہ کیا بلکہ ان کی بشریت پر سب کا اتفاق تھا ۔ ہاں اُن میں کفار کا اعتراض یہ تھا کہ بشرکیوں اور کیسے نبی ہوگا اور آج کل کے کلمہ گوان کی نبوت اور رسالت کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے بشریت سے انکاری ہیں تو کیا نبی اور رسول ہونے کی وجہ سے ہی وہ بشریت سے نکل جائیں گے؟
[فائدہ: مشہور مفسر امام ابن کثیر رحمہ اللہ، سورۃ الجن آیت نمبر 21کی تشریح کرکے فرماتے ہیں:
اَیْ :اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوْحَی اِلَیَّ ، وَعَبْدٌ مَنْ عِبَادِ اللہِ لَیْسَ اِلَیَّ مِنْ الْاَمْرِ شَیْءٍ فِیْ ھِدَایَتِکُمْ وَلَاغَوَایَتِکُمْ (یعنی میں تو تم جیسا ہی بشر ہوں ہاں میری طرف وحی آتی ہے، اور میں اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں، تمہاری ہدایت و ضلالت کا مختار و محتاج نہیں ہوں )]
احادیث سے دلیل
۱)صحیح بخاری شریف، کتاب الجزیۃ و الموادعۃ حدیث نمبر 3159 میں جُبیر بن حَیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کی فوج کے سامنے یہ اعلان کردیا:
بَعَثَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْاَرْضِیْنَ تَعَالٰی ذِکْرُہٗ وَجَلَّتْ عَظَمَتُہٗ اِلَیْنَانَبِیًّا مِنْ اَنْفُسِنَا نَعْرِفُ اَبَاہُ وَاُمَّہُ
(آسمانوں اور زمینوں کے رب نے ، جس کا ذِکر اپنی تمام عظمت و جلال کے ساتھ بلند ہے،ہماری طرف ہم ہی میں سے ایک نبی بھیجاہم ان کے ماں باپ کو جانتے ہیں)
۲) صحیح مسلم ،کتاب البروالصلۃ والادب حدیث نمبر6622 اور مسند امام احمد حدیث نمبر7309 میں سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّمَااَنَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ یَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ
(اے اللہ! بیشک محمدایک بشر ہے ، اس کو غصہ آجاتا ہے ، جس طرح ایک بشر کو غصہ آجاتا ہے)ﷺ
۳) صحیح بخاری شریف ،کتاب الصلوٰۃ حدیث نمبر401 اور مسند امام احمد حدیث نمبر 3983میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ سلام پھیرنے کے بعد ہم نے عرض کی۔ یا رسول اللہ! [صلی اللہ علیہ وسلم]کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے۔ آپ نے اس پر دو سجدئے سہو کئے اور سلام پھیر دی اور فرمایا : اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ اَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ (بیشک میں تمہاری طرح بشر ہوں۔ میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں جیسے تم بھُولتے ہو) اسلئے مجھے یاد دلایا کرو۔ [مفہوماً]
۴) سنن ابی داؤد، کتاب الطھارہ حدیث نمبر 234 ،صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر 1629اور مسند امام احمد حدیث نمبر 20691 میں سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا اور تکبیر کہنی چاہی کہ صحابہ کو اشارہ سے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو ، پھر گھر تشریف لے گئے ، جب باہر آئے تو سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، پھر نماز پڑھائی اور فرمایا :
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَاِنِّیْ کُنْتُ جُنُبًا
(بیشک میں بشر ہوں اور میں حالتِ جنابت میں تھا)[الفاظ مسند امام احمد کے ہیں]
۵)صحیح بخاری شریف ، کتاب الاحکام حدیث نمبر 7169 اور صحیح مسلم ، کتاب الاقضیۃ حدیث نمبر 4475 میں سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ…الخ
(بلاشُبہ میں ایک بشر ہوں ، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو۔ ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کردوں تو جس شخص کے لئے میں اس کے بھائی کا کوئی حق دلادوں ۔ چاہیئے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں)[الفاظ صحیح بخاری شریف کے ہیں]
۶)صحیح مسلم شریف، کتاب الفضائل حدیث نمبر 6225،مسندامام احمد حدیث نمبر 19479اور صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر2357میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے اجتماع سے خطاب کرکے فرمایا:
اَلَا اَیُّھَاالنَّاسُ فَاِنَّمَآ اَنَابَشَرٌ یُّوْشِکُ اَنْ یَاْتِیَ رَسُوْلُ رَبِّیْ فَاُجِیْبُ
(خبردار! اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ۔ قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا[موت کا فرشتہ] آئے اور میں اسکی دعوت قبول کروں)
۷) مسند امام احمد حدیث نمبر 7109 میں سیدنا ابو رِمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میری نظر جب ان پر پڑی تووالد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو یہ کون ہیں؟ میں نے کہا نہیں، والد صاحب نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔فَاقْشَعْرَرْتُ حِیْنَ قَالَ ذَاکَ وَکُنْتُ أَظُنُّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا لَا یَشْبِہُ النَّاسَ فَاِذَا بَشَرٌ…الخ
(یعنی یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی چیز سمجھتا تھا جو انسانوں کے مشابہہ نہ ہو ، لیکن وہ تو ایک بشر تھے )
۸)صحیح مسلم شریف کتاب الفضائل ،حدیث نمبر 6127اور صحیح ابن حِبَّان ،حدیث نمبر 23میں سیدنا رافع بن خَدِیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور لوگ کھجور کے درختوں کی پیوند کاری کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا : ہم اسی طرح کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید بہتر ہو! لوگوں نے پیوند کاری چھوڑدی تو اس سال [کھجور کی ] فصل تھوڑی ہوئی ۔ لوگوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : اَنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرَکُمْ بِشَیْءٍ مِّنْ أَمْرِ دِیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیئٍ مِنْ رَأْیٍِ فَاِنَّمَاأَنَا بَشَرٌ (یعنی میں تو ایک بشر ہوں ، اگر میں تمہیں دین کا کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور اگر اپنی رائے سے کوئی بات کروں تو میں ایک بشر ہوں)
۹) مسند امام احمد، حدیث نمبر 26724اور شمائل ترمذی شریف ، باب تواضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حدیث نمبر341 میں عمرہ بنتِ عبدالرحمن رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہاسے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کام کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا: کَانَ بَشَرًا مِنْ الْبَشَرِ یَفْلِیْ ثَوْبَہُ وَیَحْلُبُ شَاتَہُ وَیَخْدُمُ نَفْسَہُ(یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی انسانوں میں ایک انسان تھے ،آپ اپنے کپڑوں میں خود جوئیں تلاش کرتے، بکری کا دودھ دوہتے اور اپنے کام خود کرتے)
[نوٹ: آپ نہایت پاکیزہ تھے اسکے باوجود جوئیں دیکھنا اس وجہ سے تھا کہ کہیں سے لگ نہ گئی ہو۔ جویں تو بدبودار پسینے کی وجہ سے لگتی ہیں، لیکن میرے محبوب کا پسینہ مبارک تو گلاب سے بھی زیادہ خشبودار تھا]
۱۰) طبقات ابن سعد، جلد نمبر 1صفحہ 111[عربی اور جلد1 صفحہ131 اردو] میں ہے:
’’جب آپ کے فرزند سیدناابراہیم [رضی اللہ عنہ] فوت ہوگئے تو آپ کی آنکھیں آنسوں بہانے لگیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی ، اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ کے رسول ہوکر رورہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اِنَّمَااَنَا بَشَرٌ یقیناً میں بشر ہی ہوں، میری آنکھیں بہہ رہی ہیں دل دہل رہا ہے، لیکن ہم ایسی بات نہیں کہیں گے ، جو رب کو ناراض کرے۔
وَاللہِ یَااِبْرَاہِیْمُ ! اَنَابِکَ لَمَحْزُوْنُوْنَ ۔اللہ کی قسم! اے ابراہیم ! ہم تیری وجہ سے غمگین ہیں۔‘‘
[مترجم نے بشر والا جملہ حذف کردیا ہے یا ترجمہ بھول گیا ہے]
۱۱) نور اور نیند :اللہ تعالیٰ اپنی ذاتِ مبارک کے بارے میں فرماتے ہیں: لَا تَاْ خُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ (یعنی نہ اسے اونگ آتی ہے اورنہ نیند) جبکہ بہت سی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم شریف ،کتاب الفضا ئل حدیث نمبر 6230(ترقیم) میں اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔
آپ فرماتی ہیں کہ ’’ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور نیند اچاٹ ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے‘‘۔ اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اتنے میں ہم کو ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے!؟ آواز آئی سعد بن ابی وقاص ہوں یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہرہ دینے کے لئے۔ اُمی جان سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’خراٹے کی آواز ‘‘سنی۔
اس حدیث میں ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سونا ثابت ہوا ،ساتھ ہی خراٹیں لینے کا ذکر بھی ہوا۔ ظاہر ہے یہ صرف بشری تقاضا ہی ہے۔اگر آپ اللہ کے نور ہوتے تو اللہ کی طرح نیند نہ آتی۔ کیونکہ اللہ نے اپنے بارے میں فرمایا ہے: لَا تَأْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَلَا نَوْمٌ (نہ اسے اونگ آتی ہے نہ نیند)
۱۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے پیتے بھی تھے جس کا ثبوت سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ جیسا کہ پہلے گذر گیا آپ پر مشرکین مکہ اسی وجہ سے اعتراض کرتے تھے۔
چونکہ آج اہل الشرک مکہ کے مشرکین ہی کی تقلید کرتے ہیں۔ اسلئے فطری بات ہے کہ یہ لوگ بھی وہی کہیں گے جو مکہ کے مشرکین کہتے تھے۔ دنیا کتنی بھی ترقی کرلے ،ان کی سوچ وہی چودہ سوسال پرانی ہی ہے۔ اس میں ذرہ برابر بھی ترقی نہ ہوئی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ابوجہل نے کچھ کتابوں میں جہالت اور ہٹ دھرمی کے اصول مرتب کئے تھے جو آج کے اہل الشرک کے امام کے ہاتھ لگ گئے۔ اب انہی سے پڑھ پڑھ کر یہ لوگ توحید پرااعتراضات کرتے رہتے ہیں۔

فہمِ سلف
[۱] قاضی عیاض [۵۴۴ھ]کتاب الشفاء صفحہ486[مترجم] پر لکھتے ہیں:
’’ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی انبیاء علیہم السلام انسان ہیںوہ لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو لوگ ان کے مقابلہ و لڑائی کی طاقت نہ رکھتے۔نہ ان کی باتیں قبول کرتے نہ ان سے ملتے۔‘‘
[۲]حافظ ذہبی[۷۴۷ھ]میزان الاعتدال ،جلدنمبر2صفحہ 649ترجمہ نمبر 5183 پر لکھتے ہیں:
’’بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدالبشر تھے، آپ بشر تھے، کھاتے تھے، پیتے تھے، سوتے تھے، قضایئے حاجت کرتے تھے، بیمار ہوتے تھے، دوائی استعمال کرتے تھے اور اپنے منہ کو صاف کرنے کے لئے مسواک استعمال کرتے تھے۔ان سب کاموں میں آپ بشر تھے۔میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! جب آپ فوت ہوئے تو آپ کے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا ، جو بشر کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی آپ کو غسل دیا گیا ، کفن دیا گیا ، لحد کھودی گئی اور دفن کیا گیا…‘‘
[۳] ملا علی القاری حنفی[۱۰۱۴ھ] مرقاۃ المفاتیح، جلد 1صفحہ 485تحت حدیث 279 لکھتے ہیں:
’’طیبی کہتے ہیں کہ یہ ایسے ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قُلْ اِنَّمَا اَنَّابَشَرٌ مِّثْلُکُمْ [اے نبی! کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں]یعنی میرا تمہاری طرح بشر ہونا میرے فوت ہونے کی علت ہے کہ میں ہمیشہ نہیں رہوں گا…‘‘
[۴]علامہ قسطلانی [۹۲۳ھ]کا کمر توڑ فتویٰ:
’’اگر آپ یہ کہیں کہ کیا اس بات کا جاننا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے اور آپ کا تعلق عرب سے ہے، ایمان کی صحت کے لئے شرط ہے یا فرض کفایہ ہے؟ تو شیخ ولی الدین العراقی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ ایمان کی صحت کے لئے شرط ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوںکہ سیدنا محمد صلی ا للہ علیہ وسلم تمام مخلوقات کے لئے رسول بن کر آئے ہیں، لیکن میں یہ نہیں جانتا آپ بشر تھے، فرشتہ تھے یا جن تھے یا یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ کا تعلق عرب سے ہے یا عجم سے؟ تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں رہا، کیونکہ اس نے قرآنِ مجید کی تکذیب کی ہے اور ایسی چیزوں کا انکار کیا ہے، جو بعد والے اپنے اسلاف سے سیکھتے چلے آئے ہیں۔ یہ بات تو خاص و عام کے نزدیک یقینی طور پر معلوم ہوچکی ہے۔ مجھے اس کے اختلاف کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ اگر کوئی غبی شخص ایسا کہے تو اس کو اس بات (آپ کی بشریت اور آپ کے عربی ہونے ) کی تعلیم دینا واجب ہے اور اس نے پھر بھی اس کا انکار کردیا تو ہم اس پر کافر ہونے کا حکم لگائیں گے…‘‘ (المواہب اللدنیہ ،جلد 2 صفحہ533/ روح المعانی، جلد 2صفحہ325،تحت سورۃآل عمران164)
گھر کی خبر بھی نہیں :
[۱]بدنام زمانہ ٔ فرنگیت میں لکھی گئی بریلوی فقہ کی کتاب’’بہارِ شریعت‘‘میں لکھا ہے:
’’عقیدہ: نبی اس ’’بشر‘‘کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لئے وحی بھیجی ہو۔ اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں۔‘‘
’’عقیدہ:انبیاء سب ’بشر‘ تھے اور مرد، نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت‘‘
(بہار ِ شریعت،حصہ اول،ص۷عقائد متعلقۂ نبوت۔)
نوٹ: اس کتاب کے پہلے چھ [6] حصے رضا خان بریلوی نے حرفاً حرفاً پڑھے ہے اور کہا کہ ’’الحمدللہ مسائل صحیحہ رجیحہ محققہ منقحہ پر مشتمل پایا‘‘ دیکھئے شروع کتاب ص ۲(د)
[۲] نعیم الدین مراد آبادی بریلوی، خزائن العرفان فی تفسیرالقرآن میں سورۃ ھود آیت 27 کی تفسیر میں لکھتا ہے:
’’[بشر کو نبی نہ ماننا:ناقل]اس گمراہی میں بہت سی امتیں گمراہ ہوکر اسلام سے محروم رہیں۔ قرآنِ پاک میں جابجا ان کے تذکرے ہیں ۔اس امت میں بھی بہت سے بدنصیب سید الانبیاء کی بشریت کا انکار کرتے اور قرآن و حدیث کے منکر ہیں۔ ‘‘
(تنبیہ بلیغ: ظالموں نے جدید اڈیشنوں میں اس عبارت کو بدل دیا ہے)
……٭٭٭……
عقلی دلائل
۱)الضربۃُ القاضیۃ؛ اس غلط عقیدے کے رد میں ٹھوس عقلی دلیل موجود ہے۔ اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین بھی نورانی ہونے چاہئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بھی نورانی ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ انسانی نسل سے نور کی نسل کیسے پیدا ہوگی؟ اسی طرح نورانی نسل سے انسانی نسل کیسے پیدا ہو سکتی ہے ؟
یا تو کہا جائے کہ آپ نے جنم ہی نہیں لیا اور آپ آسمان سے آئے ہیں اور اہل بیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہی نہیں ہے تب آپ نورانی ہو سکتے ہیں یا پھر کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہی نہیں تھے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین اور اولاد ممکن ہیں۔
……٭٭٭……
(ب)
اول اول تو اہل الشرک نے صرف یہی عقیدہ ظاہر کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں۔ پھر جب بات نہ بنی تو جُرأت کر کے یہ کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں اللہ کے نور (نور من نور اللہ ) ہیں (نعوذباللہ ) یہ بات جس مشرک نے بھی کہی ہوگی ۔ یقینا یا تو نشے کی حالت میں کہی ہوگی یا پھر وہ پاگل ہوگا۔ کیونکہ عقلمند سے اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔
کیونکہ یہود نے عُزیر علیہ السلام اور نصاری نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوا اور سختی سے اس عقیدے کی تردیدفرمائی ۔ چنانچہ :
سورۃ مریم آیت نمبر 88 سے آیت نمبر 92 تک فرمایا:
وَقَالُوااتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَدًاo لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًااِدًّاo تَکَاد ُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّالْجِبَالُ ھَدًّاo اَنْ دَعَوْالِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا o وَمَایَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاo
(ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمان نے بھی اولاد اختیار کی ہے۔ یقینا تم بہت بُری اور بھاری چیز لائے ہو۔ قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑوں کے ریزے ریزے ہو جائیں کہ تم اللہ رحمان کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ہو۔ شانِ رحمن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔)
مگر ان نامُرادوں نے تو یہودونصاری سے بھی بڑی گالی دی ۔ وہ یہ کہ انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کا حصّہ ہی بنا لیا اس خبیث عقیدے پر ذرا بھی غور کریں تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک گستاخ لکھتا ہے:
’’جس وقت حق تعالیٰ نے آدم صفی اللہ کو پیدا کیا نور محمد مصطفیٰ نے حضرت آدم ؑ کی پیشانی پر ظہور کیا ۔۔۔۔۔ اس کے بعد نسلًا بہ نسلًا عبد المناف تک پہونچا۔۔۔۔تب عبداللہ اپنے گھر میں جا کے اپنی بی بی آمنہؓ سے ہمبستر ہوئے تب وہ نور عبداللہ سے منتقل ہوکر آمنہؓ کے رحم میں آیا اور آمنہ ؓ حضرتؐ کی والدہ حاملہ ہوئیں ‘‘{قصص الانبیاء ،صفحہ340 342- مولوی غلام نبی ابن عنایت اللہ کمر لی ، فرید بُکڈپو (پرائیویٹ) لمٹیڈ دہلی}
اب آدم علیہ السلام سے پہلے روح محمدی کہاں تھی؟ اسکے بارے میں بھی سنئے!کہتا ہے ’’۔۔۔۔موافق اس حدیث کے اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللّٰہِ وَالْخَلْقُ کُلُّھُمْ مِنْ نُوْرِیْ ترجمہ حضرتؐ نے فرمایا میں پیدا ہوا ہوں اللہ کے نور سے اور میرے نور سے ساری مخلوق ہے‘‘(صفحہ 7)
’’حق تعالیٰ نے اس نور کو چار قسم کرکے ایک قسم سے عرش کو پیدا کیا دوسرے قسم سے قلم، تیسرے قسم سے بہشت اور چوتھے قسم سے عالم ارواح اور ساری مخلوق کوخلق کیا اور ان چار میں سے چار قسم نکال کے تین قسموں سے عقل اور شرم اور عشق پیدا کیا اور قسم اول سے عزیز و مکرم تر میرے تئین پیدا کیا کہ رسول اسکا ہوں‘‘(یعنی میری ذات پیدا کی) (صفحہ 6اور7)
گویا انکے نزدیک یہ کائنات اصل میں اللہ کا نور ہے۔ یا اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کا نور آدم سے حوا (علیہما السلام ) کے رحم مادر میں منتقل ہوا پھر وہ رحم مادر میں نو ماہ رہ کر جنم لیتا ہے پھر اس بچہ میں وہ نور منتقل ہوتا ہے اسی طرح یہ نور نسل درنسل بذریعہ مباشرت عورتوں کے ارحام میں داخل ہوتا گیا یہاں تک کہ عبداللہ سے آمنہ میں داخل ہو ا پھر جنم لیا پھر (اللہ کے ایک حصے نے )کفار و مشرکین کے مظالم سہے، پھر ان پر موت آئی اور پھر وہ وہیںعرش پر جاکر اس ذات سے جاملے جس سے نکالے گئے تھے۔
؎ شرم تم کو مگر نہیں آتی
یہی عقیدہ نصارٰی کا ہے۔ شیخ الاسلام ثانی امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’یہود ونصاریٰ تاریخ کے آئینے میں ‘‘ کے صفحہ ۳۵۸ پر رقم طراز ہیں : (یہ کتاب دراصل عربی میں ’’ھدایۃ الحیاری فی اجوبۃ الیھود والنصارٰی ‘‘ کے نام سے چھپی ہے۔ جسکا اردو ترجمہ الدار السلفیہ ممبئی (دار العلم ممبئی) نے ’’مولانا زبیر احمد سلفی کے قلم سے شائع کیا ہے)۔
’’غرضیکہ ان (نصاریٰ)کا کہنا ہے کہ جو آسمان وزمین کا خالق ہے اسی کو مریم نے جَنا اور نوماہ پیٹ میں رکھا پھر اس نے دودھ پیا اور چھوڑا، کھانا کھایا، پانی پیا، پیشاب پاـئخانہ کیا ۔ پھر گرفتار کیا گیا، سولی دیا گیا، رسی سے باندھا گیا، اور اس کے ہاتھوں پر کیلیں نصب کی گئیں، یہی اللہ، ابن اللہ اور کلمۃُ اللہ ہے جس کو تمام لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ‘‘۔ (نعوذ باللہ)
دور حاضر کا ایک مشرک اسی عقیدے کی عکاسی کرتے ہوئے کہتا ہے:
؎ وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر
اُتر پڑا مدینے میں مصطفی ہو کر
در اصل انکا عقیدہ ایک ملی جلی سرکار کی طرح ہے۔ جہاں چند عقائد یہودیت سے، چندنصرانیت سے ، چند ہندو دھرم سے اور باقی باقی ادیان سے جمع کئے ہوئے ہیں ۔پھر لطف یہ کہ اوپر سے ’’اہل سنت والجماعۃ‘‘ کا نام لگا یا جائے۔ مگر دنیا جانتی ہے کہ زہر کی بوتل پر آبِ زم زم کا لیبل (Label) لگا یا جائے تو وہ آب زم زم نہیں بنتا۔ وہ زہر ہی رہے گا۔
……٭٭٭……
شرک کی یلغار اور توحید کی دیوار
حملہ نمبر ۱:۔ ا بو جہل بھی تو بشر تھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل ہی کی طرح بشر تھے؟
دفاع:۔ یہ اعتراض میں نے خود ایک مشرک کی تقریر سے سنا ۔اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ ان مشرکین (جن میں ابولہب ، ابوجہل وغیرہ بھی شامل تھے) سے کہہ دیجئے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح ایک بشرہوں۔ (سورۃ الکہف آیت نمبر 110 )۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو ابوجہل سے تشبیہ دینے کی جُرات تو میں نہیں کر سکتا مگر یہاں یہ بات کہہ دوں کہ ابوجہل کی دو آنکھیں، دوکان، دوہاتھ دوپیر ایک سر وغیرہ، اور اس مشرک کی بھی (جو یہ اعتراض کرتا ہے) دو آنکھیں، دوکان، دوہاتھ، دوپیر ایک سر وغیرہ ۔ گویا دونوں جسمانی طور پر برابر ہیں۔ پھر اعتقادی ، عقلی ، فعلی بھی تو ابوجہل ہی کا چیلہ ہے۔
اب میں اہل الشرک سے پوچھتا ہوں کہ پھر صحابہ کرام کی بشریت کے بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے۔ اگروہ بشر تھے تو کیا وہ ابوجہل کی طرح بشر تھے؟ پھر کس کس کو بشریت کے لباس سے نکالو گے؟۔
حملہ نمبر ۲: کیا سورۃ المائدہ آیت نمبر 15 : قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌo (تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے) میں نور سے مراد نبی ہے؟
دفاع:۔ اس اعتراض کے جواب سے پہلے ہم عرض کرے چلیں کہ یہ معترض کی جہالت کا بیّن ثبوت ہے۔ اس طرح قرآن سمجھنا سلف صالحین کے ہاں نظر نہیں آتا۔ اگر یہی طریقہ اپنا یا جائے تو قرآن کا اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
اللہ تعالیٰ سورۃ الماعون آیت نمبر 4میں فرماتا ہے:
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ o
{پس نماز پڑھنے والوں کے لئے ویل (خرابی)ہے}
دوسری جگہ سورۃ النسا ء آیت نمبر 43 میں فرمایا :
لَا تَقْرَبُواالصَّلٰوۃَ {نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو}
ان دونوں آیتوں سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز پڑھنا ثواب نہیں بلکہ گناہ اور باعث عذاب ہے۔مگر یہ اور اس قسم کی تفہیم تحریف کہلاتی ہے۔ جسکا ارتکاب بنی اسرائیل نے کیا اور لعنت کے مستحق ہوگئے۔
اب ان آیات کے مفہوم پر غور کریں ۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الماعون آیت نمبر 4 اور 5 میں فرماتا ہے۔
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ o الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ o
{پس ویل ہے (ان) نماز پڑھنے والوں پر جو اپنی نمازوں کے ساتھ غفلت برتتے ہیں}
معلوم ہوا کہ یہ نمازیوں کی دوسری قسم ہے۔
اسی طرح فرمایا : لَاتَقْرَبُواالصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ{نماز کے قریب بھی نہ پھٹکو اس حال میں کہ تم نشے میں ہو یہاں تک کہ تم وہ کچھ سمجھ سکو جو کہہ رہے ہو…}
کہنے کامطلب یہ ہے کہ قرآن سے کوئی دلیل لی جائے تو مکمل لی جائے ورنہ اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔
اب اصل موضوع پر غور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے‘‘۔
پھر اگلی آیت میں فرمایا :یَّھْدِیْ بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ …الخ
{یعنی ’’جس‘‘کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے طلب گار ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے}
اس آیت میں ’’یَھْدِی‘‘ کے بعد ’’بِہِ‘‘ کے معنی ہے ’’اس (واحد) سے‘‘۔ پہلے نور اور پھر کتاب کا ذکر کرکے ’’بِہِ‘‘ کی ضمیر استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں در اصل ایک ہی چیز ہیں۔یہاں ’’واوِ مفسر‘‘ استعمال ہوا ہے۔ ’’نور اور کتاب کوئی الگ الگ چیز نہیں ۔ اگر یہ الگ الگ دو ہوتے تو بِہِ کے بجائے ’’بِھِمَا‘‘ ہوتا (یعنی ان دو سے) ثابت ہوا کہ نور سے مراد کتاب ہی ہے نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت نمبر 91 میں ’’توراۃ‘‘ کو بھی ’’نور‘‘ کہا ہے۔
قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّھُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَھَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًا…الخ
( آپ یہ کہیے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ علیہ السلام لائے تھے۔ جس کی کیفیت یہ ہے کہ ’’وہ نور ہے‘‘اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت جس کو تم نے متفرق اور اق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ظاہر کر دیتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو)
اسی طرح اسلام کو بھی نور کہا گیا
اللہ نے سورۃ النور آیت نمبر 35 میں فرمایا :
یِھْدِی اللہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ
{اللہ تعالیٰ اپنے نور سے جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے}
ثابت ہو گیا کہ نور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں بلکہ سِیاق وسباق کے اعتبار سے ہی معنی کیا جاتا ہے۔
………٭٭٭٭………
خلاصہ کلام
نور مِن نور اللہ کا عقیدہ رکھنے والا کُھلم کھلا کافر ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الزخرف آیت نمبر 15 میں ارشاد فرماتا ہے:
وَجَعَلُوْالَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْءً ا اِنَّ الاِْ نْسَانَ لَکَفُوْرٌمُّبِیْنٌ o
{اور انہوں نے اللہ کے بندوں میں سے اسکا حصَّہ (ٹکڑا ) قرار دیا ۔ بیشک یہ انسان کھلم کُھلا کافر ہے}
اس عقیدے پر غورکیجیے ۔یہ بدترین اور باطل عقیدہ ہی نہیں بلکہ زہر ہے جو کھاتے ہی انسان کے ایمان کو ختم کر دے گا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ قرآن اصل میںنور ہدایت ہے اور اسکا معلم بھی ہدایت کے نور سے مالا مال ہے۔ آپ بشر توہیں مگر افضلُ البشر اور سیدُ البشر۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ’’اَنَا سَیْدُ اَوْلَادِ آدَم ‘‘ (میں اولاد آدم کا سردار ہوں)
اہل الشرک نور من نورِ اللہ کو ثابت کرنے میں جس قدر بھی احادیث لائیںگے یاتو ان کی کوئی اصل ہی نہ ہوگی یا پھر وہ ان میں تحریف و تاویل کر رہے ہونگے۔قارئین کرام سے گذارش ہے کہ آپ کے پاس جو بھی اس طرح کی کوئی حدیث لائے گا تو آپ اس کی خوب جانچ پڑتال کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات آیت نمبر 6 میں فرماتا ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓااِنْ جَآءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا … الخ {اے ایمان والو! جب تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر (حدیث ) لے کر آئے تو اس کی خوب چھان بین کرو}
یا د رہے یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اگر اس میں کوئی خامی رہی تو کَل محشر میں کوئی عذر قبول نہ کیا جائے گا۔ ابھی زندگی ہے میرے بھائی! تحقیق کرلے۔بناسپتی مولویوںکی خوش بیانی پر نہ جا۔اُنہیں تو پیٹ کی پریشانی ہے،لیکن تیرے توعقیدے کا مسئلہ ہے۔ اگر تجھے جنت مطلوب ہے تو آو قرآن کی طرف، آو مصطفٰیﷺکے فرمان کی طرف۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس شرک کی خباثت سے بچائے… آمین
……٭٭٭……
ماخوذ :شرک کی یلغار اور توحید کی دیوار
از: عبدالرؤف ہانجی السلفی
@عبدالرؤف ہانجی
 

عدیل سلفی

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 21، 2014
پیغامات
1,676
ری ایکشن اسکور
448
پوائنٹ
197
Top