• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امام الشافعی نے کہا وہ رافضی ہیں ؟

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,451
پوائنٹ
964
ابن عدی کہتے ہیں حمله شدة تشيعه اس پر شیعیت کا حملہ ہے
قال ابن عدي: حمله شدة تشيعه أن أخرج إلينا نسخةً قريبًا من ألف حديث عن موسى بن إسماعيل بن موسى بن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده إلى أن ينتهي إلى علي والنبي - صلى الله عليه وسلم -، عامتها مناكير.
’ اس کا کٹر شیعہ ہونا اس بات کا سبب بنا ۔۔۔ ‘ کا ترجمہ ’ اس پر شیعت کا حملہ ہے ‘ کرنا انتہائی عجیب و غریب ہے ۔ علوم وفنون کے ساتھ یہ ’ زیادتی ‘ شاید کبھی نہ ہوئی ہوگی ۔ اسی لیے نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں ۔ اور وہ مسائل اور عبارات جو تیرہ صدیاں کسی کو کھٹکے تک نہیں ، آج وہ اس طرح کے اعتراض کی شکل اختیار کر گئے ہیں گویا تکاد السموات یتفطرن منہ و تنشق الارض و تخر الجبال ہدا ۔
 

محمد فراز

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 26، 2015
پیغامات
536
ری ایکشن اسکور
146
پوائنٹ
116
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں
" مائة والحاكم أجل قدرا وأعظم خطرا وأكبر ذكرا من أن يذكر في الضعفاء لكن قيل في الأعتذار عنه أنه عند تصنيفه للمستدرك كان في أواخر عمره وذكر بعضهم أنه حصل له تغير وغفلة في آخر عمره ويدل على ذلك أنه ذكر جماعة في كتاب الضعفاء له وقطع بترك الرواية عنهم ومنع من الاحتجاج بهم ثم أخرج أحاديث بعضهم في مستدركه وصححها من ذلك أنه أخرج حديثا لعبد الرحمن بن زيد بن أسلم وكان قد ذكره في الضعفاء فقال: أنه روى عن أبيه أحاديث موضوعة لا تخفى على من تأملها من أهل الصنعة أن الحمل فيها عليه وقال في آخر الكتاب فهؤلاء الذين ذكرتهم في هذا الكتاب ثبت عندي صدقهم لأنني لا استحل الجرح إلا مبينا ولا أجيزه تقليدا والذي اختار لطالب العلم أن لا يكتب حديث هؤلاء أصلا.
لسان الميزان (5/ 233)
 
شمولیت
ستمبر 07، 2020
پیغامات
41
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
16
الربیع بن سلیمان سے اس قول کو نقل کرنے والے:
1- محمد بن محمد بن الاشعث الکوفی
2- جعفر بن محمد بن احمد الرواس
3- ابو عمارۃ حمزۃ بن علی الجوہری
جناب محمد بن محمد الاشعت الکوفی کے کذاب ھونے کی جرح ھے۔ یعنی تو معلوم ھوا یہ روایت گھڑی ھوئی ھے۔ کیونکہ اسی الاشعت کے بارے میں امام الدارقطنی نے کہا۔ کہ اس نے علی رضی پر کتاب العلویات گھڑی۔ اور ابن عدی نے کہا کٹر شیعہ تھا۔
اور یہی شیعہ کذاب راوی، ربیع بن سلیمان سے یہ اشعار بیان کر رھا ھے۔۔
اور اِس شیعہ کے علاوہ جتنی بھی اِس روایت کی سندیں ھیں سب میں مجھول راوی ھیں۔
کتاب الشافعین کی سند میں محمد بن احمد الرواس کو ثقہ مان لیں تو بھی اُس سند میں "حسین بن علی بن محمد بن اسحاق الحلبی" مجھول ھے۔
اور اسی حسین بن علی کے دادا محمد بن سحاق الحلبی کا ترجمہ بھی مجھے نہیں ملا۔
۔
لہذا عین ممکن ھے کہ اِن مجھول رایوں نے محمد الاشعت جیسے کذاب سے سُن کر یہ اشعار روایت کئے ھوں۔
کیونکہ ان مجھولوں کے علاوہ ربیع بن سلیمان کا کوئی خاص یا عام (ثقة صدوق) شاگرد یہ اشعار نقل ھی نہیں کر رھا۔ یہ تعجب کی بات ھے۔
 
شمولیت
ستمبر 07، 2020
پیغامات
41
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
16
اور اس لسٹ میں ایک نام اور بھی ہے:
4- ظفر بن الداعی العلوی (مجمع الآداب فی معجم الالقاب: 3:544)
كمال الدين ابن الفوطي نے معجم الآداب میں اس طرح یہ قول زکر کیا
ذكره الحافظ أبو طاهر أحمد بن محمد السلفي في كتابه وقال: رأيته بالري وروى لنا عن أبي الفضل [ظفر] بن الداعي بن مهدي العلوي (1) وأنشد عنه للشافعي
[معجم الآداب لابن الفوطی: ج3، ص544]
۔
اور تو سند مکمل نہیں۔ اور روایت کرنے والا ظفر بھی مجھول ھی ھے"۔
۔
الأسم : ظفر بن الداعي بن مهدي بن حسن
الشهرة : ظفر بن الداعي العلوي , الكنيه: أبو الفضل
النسب : الإستراباذي, العلوي, العمري
الرتبة : مجهول الحال
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
155
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
کیا امام الشافعی نے کہا وہ رافضی ہیں ؟


کتاب مناقب الشافعي للبيهقي میں اس کی سند ہے

أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزّكِّي حدثنا الزبير بن عبد الواحد الحافظ أخبرني محمد بن محمد بن الأشعث، حدثنا الربيع قال:

أنشدنا الشافعي رضي الله عنه:

يا راكباً قِف بالمُحَصَّبِ من مِنى … واهتف بقاعد خِيفها والناهِض
سَحَراً إذا فاض الحجيجُ إلى مِنى … فَيضاً كمُلْتَطم الفُرَاتِ الفائض
إن كان رَفْضاً حبُّ آلِ محمدٍ … فَلْيَشْهَدِ الثقلانِ أني رافضي


اگر ال محمد سے محبت رفض ہے تو ثقلان گواہ ہیں میں رافضی ہوں

اس کی سند میں محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي ہے جس پر دارقطنی کہتے ہیں کہ یہ
قال السهمى: سألت الدارقطني عنه، فقال: آية من آيات الله، وضع ذاك الكتاب – يعنى العلويات.

الله کی نشانیوں میں سے ایک ہے جس نے اس کتاب کو گھڑا یعنی العلویات

یعنی اس نے علی کی منقبت میں روایات اور اشعار گھڑے

ابن عدی کہتے ہیں حمله شدة تشيعه اس پر شیعیت کا حملہ ہے

کتاب ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين میں الذھبی کہتے ہیں

محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي: بمصر، شيعي جلد، اتهمه ابن عدي مصری کھلا شیعہ ہے

یعنی یہ اشعار امام الشافعی پر جھوٹ گھڑا کیا گیا ہے

کتاب طبقات الشافعيين از ابن کثیر کے مطابق سند ہے

وقال الحافظ أبو القاسم ابن عساكر: أخبرنا أبو الحسن الموازيني، قراءة عليه، عن أبي عبد الله القضاعي، قال: قرأت على أبي عبد الله محمد بن أحمد بن محمد، حدثنا الحسين بن علي بن محمد بن إسحاق الحلبي، حدثني جدي محمد وأحمد ابنا إسحاق بن محمد، قالا: سمعنا جعفر بن محمد بن أحمد الرواس، بدمشق، يقول: سمعت الربيع،

اس سند میں جعفر بن محمد مجھول ہے

کتاب تاریخ الدمشق میں إسماعيل بن علي بن الحسين ابن بندار بن المثنى أبو سعد الاستراباذي الواعظ کے ترجمہ میں ابن عساکر لکھتے ہیں

قال الخطيب: ولم يكن موثوقاً في الرواية.
وأنشد، بسنده عن الربيع بن سليمان، أنشدنا الشافعي: من الكامل؟ يا راكباً قف بالمحصب من منى واهتف بقاطن خيفها والناهض
سحراً إذا فاض الحجيج إلى منى … فيضاً كملتطم الفرات الفائض
إن كان رفضاً حب آل محمدٍ فليشهد الثقلان أني رافضي قال حمد الرهاوي: لما ظهر لأصحابنا كذب إسماعيل بن المثنى أحضروا جميع ما كتبوا عنه وشققوه ورموا به بين يديه


خطیب بغدادی نے کہا یہ روایت میں موثق نہیں ہے اور شعر عن الربيع بن سليمان، أنشدنا الشافعي کی سند سے بتائے … ان كان رفضاً حب آل محمدٍ فليشهد الثقلان أني رافضي

حمد الرهاوي نے کہا کہ جب إسماعيل بن المثنى الاستراباذي کا یہ کذب ظاہر ہوا ہم نے جو لکھا اس کو جمع کیا اور اپنے سامنے مٹایا


تاریخ الاسلام میں امام الذھبی نے اس کی سند دی ہے

قَالَ الحاكم: أخبرني الزُّبَيْر بن عبد الواحد الحافظ، قال: أخبرنا أبو عمارة حمزة بن علي الجوهري، قال: حدثنا الربيع بْن سليمان قَالَ: حَجَجْنا مَعَ الشّافعيّ، فما ارتقى شُرُفًا، ولا هبط واديًا، إلّا وهو يبكي وينشد:
يا راكبًا قفْ بالمُحَصَّبِ من منى … واهتف بقاعد خيفنا والنّاهضِ
سَحَرًا إذا فاض الحَجيجُ إلى مِنَى … فَيْضًا كمُلْتَطَم الفُرات الفائضِ
إنّ كَانَ رفضًا حُبُّ آلِ محمّدٍ … فلْيَشْهَد الثَّقَلان أنّي رافضي


اس کی سند میں أبو عمارة حمزة بن علي الجوهري لا معلوم ہے

اس کی اسناد میں کوئی بھی ثابت نہیں ہے

رفض کا مطلب علی رضی الله عنہ کو ابی بکر اور عمر رضی الله عنہم سے ایسا بلند کرنا ہے جو شیخین کی تنقیص بنے یہ امام الشافعی نے کبھی بھی نہیں کیا- رفض کا تعلق حب اہل بیت سے ہے ہی نہیں-

جبکہ امام الشافعی کا قول تو یہ ہے-

قَالَ البُوَيْطِيُّ: سَأَلْتُ الشَّافِعِيَّ: أُصَلِّي خَلْفَ الرَّافِضِيِّ؟ قَالَ: لاَ تُصَلِّ خَلْفَ الرَّافِضِيِّ

کیا رافضی کے پیچھے نماز پڑھ لیں کہا نہیں پڑھو

الكتاب: الإمام الشافعي وموقفه من الرافضة

المؤلف: أبو عبد البر محمد كاوا

کچھ لوگوں کا اعترض ہوتا ہے کہ امام حاکم کو بھی رافضی کہا گیا - تو اس کا جواب یہ ہے کہ

امام حاکم کو رافضی کہا گیا کیونکہ انہوں نے عجیب روایات اپنی کتاب مستدرک میں شامل کیں اور اس کی وجہ ان کی دماغی حالت تھی

ابن حجر لسان الميزان مين کہتے ہیں
والحاكم أجل قدرا وأعظم خطرا وأكبر ذكرا من أن يذكر في الضعفاء لكن قيل في الأعتذار عنه أنه عند تصنيفه للمستدرك كان في أواخر عمره وذكر بعضهم أنه حصل له تغير وغفلة في آخر عمره

حاکم پر آخری عمر میں تغیر ہوا اور غفلت آئی

متقدمین کی جو کتابیں ہم تک آئی ہیں وہ سند سے ہی آئیں ہیں جس میں ناقل سے لے کر مولف تک سند ہوتی ہے اور اس بنیاد پر اس کتاب کو اس عالم سے ثابت مانا جاتا ہے یہ بات تمام اہل علم جانتے ہیں اب اس دیوان کو دیکھیں اس کی کوئی سند نہیں ہے لہذا یہ ثابت نہیں

صالح المنجد کی بھی اس منسوب دیوان کے بارے ،میں یہی رائے ہے



فلو كان عنده عن الشافعي – وهو من أعلم الناس به وبنصوصه – لرواه عنه .
وأما ما يسمى بـ “ديوان الشافعي” ففيه كثير من الشعر المنحول عليه ، والذي لا تصح نسبته
للإمام رحمه الله ، بل فيها كثير من الأقوال المخالفة التي يتنزه الإمام عن مثلها .


اگر یہ شافعی کے اشعار ہوتے اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ نص کو جانتے تھے اور جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے تو اس میں اکثر اشعار ان پر ڈالے گئے ہیں اور اس کی نسبت ان سے صحیح نہیں بلکہ بہت سے ان کے اقوال کے خلاف ہیں-

حوالہ
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا جزء رفع الیدین کی سند صحیح ہے؟ جس میں محمود بن اسحاق کی کوئی توثیق ہی نہیں یعنی کسی نے اس کے بارے میں ثقاہت و ضوف کا کلام ہی نہیں کیا۔۔تو یہ مجہول ہوا نا۔۔۔سند میں مجہول راوی کا ہونا محدثین کے اصول کے نزدیک کیسا ہے؟ دوسرا راوی ابن طبرزد ہے جس پر نہ صرف ضعف کا کلام ہے بلکہ یہ نماز جو کہ دین کا رکن ہے کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔۔براہ مہربانی اصول ایک ہی رکھیں اسکو اپنی پسند ناپسند پر نہ لیں اور جزء رفع الیدین کتاب کو بھی بخاری کی کتاب نہ مانیں۔۔۔۔اس عبارت پر بے جا تنقید کرنے سے پہلے دیوان الشافعی کے بارے میں میرا موقف بھی سن لیں کہ میں اسے سنداً امام شافعی کی کتاب نہیں مانتا اور نہ مذکورہ اشعار کو امام شافعی کے اشعار مانتا ہوں۔۔اور بالفرض یہ اشعار امام شافعی کے ہیں بھی تو یہ بات اہل علم کو معلوم ہے کہ امام شافعی نے شاعری تو اپنی اول زندگی میں کی جب آپ فقہ و حدیث کے علوم سے زیادہ وابستگی نہیں رکھتے تھے اس لئے ان اشعار کی کوئی اہمیت نہیں۔
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
155
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
جناب محمد بن محمد الاشعت الکوفی کے کذاب ھونے کی جرح ھے۔ یعنی تو معلوم ھوا یہ روایت گھڑی ھوئی ھے۔ کیونکہ اسی الاشعت کے بارے میں امام الدارقطنی نے کہا۔ کہ اس نے علی رضی پر کتاب العلویات گھڑی۔ اور ابن عدی نے کہا کٹر شیعہ تھا۔
اور یہی شیعہ کذاب راوی، ربیع بن سلیمان سے یہ اشعار بیان کر رھا ھے۔۔
اور اِس شیعہ کے علاوہ جتنی بھی اِس روایت کی سندیں ھیں سب میں مجھول راوی ھیں۔
کتاب الشافعین کی سند میں محمد بن احمد الرواس کو ثقہ مان لیں تو بھی اُس سند میں "حسین بن علی بن محمد بن اسحاق الحلبی" مجھول ھے۔
اور اسی حسین بن علی کے دادا محمد بن سحاق الحلبی کا ترجمہ بھی مجھے نہیں ملا۔
۔
لہذا عین ممکن ھے کہ اِن مجھول رایوں نے محمد الاشعت جیسے کذاب سے سُن کر یہ اشعار روایت کئے ھوں۔
کیونکہ ان مجھولوں کے علاوہ ربیع بن سلیمان کا کوئی خاص یا عام (ثقة صدوق) شاگرد یہ اشعار نقل ھی نہیں کر رھا۔ یہ تعجب کی بات ھے۔
 

saeedimranx2

رکن
شمولیت
مارچ 07، 2017
پیغامات
155
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
71
اس جگہ بھی یہ ذکر کیا گیا کہ فلاں راوی مجہول ہے یعنی اس کا ذکر نہیں ملا۔۔تو بتادیں کہ محمود بن اسحاق کے بارے میں کوئی جرح و تعدیل کا کلام موجود ہے کیا؟؟تلخیص الحبیر سے ابن حجر والا جواب مت دیجئیے گا ابن حجر نے محمود بن اسحاق والی حدیث کو حسن کہا ہے وگرنہ اس کا ایسا جواب موجود ہے کہ سب کو چپ لگ جائے گی
 

عدیل سلفی

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 21، 2014
پیغامات
1,718
ری ایکشن اسکور
423
پوائنٹ
197
اس جگہ بھی یہ ذکر کیا گیا کہ فلاں راوی مجہول ہے یعنی اس کا ذکر نہیں ملا۔۔تو بتادیں کہ محمود بن اسحاق کے بارے میں کوئی جرح و تعدیل کا کلام موجود ہے کیا؟؟تلخیص الحبیر سے ابن حجر والا جواب مت دیجئیے گا ابن حجر نے محمود بن اسحاق والی حدیث کو حسن کہا ہے وگرنہ اس کا ایسا جواب موجود ہے کہ سب کو چپ لگ جائے گی
جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں جناب !

اس فورم پر تلاش کرلیں آپ کے اس چپ کرانے والے اعتراض کا جواب مل جائے گا۔
 
Top