• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بدعتی تھے؟

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
304
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
53
کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بدعتی تھے؟

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

تحریر : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر


انجینیئر محمد علی مرزا صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں جا بجا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سنت کو ختم کر کے اپنی بدعات کو رواج دینے کے لیے کوشاں تھے۔ مرزا صاحب اپنے اس کتابچے کے تیسرے باپ میں، ص 14 پر، حدیث نمبر 29 اور 30 کے تحت دو حدیثیں بیان کرتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فطرانہ ایک صاع نکالا کرتے تھے یہاں تک امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کے تشریف لائے تو انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شامی گندم کے دو مد یعنی نصف صاع، ایک صاع کھجور کے برابر ہے۔ اس پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو اسی طرح فطرانہ نکالتا رہوں گا جیسا کہ پہلے نکالتا رہا ہوں۔ اس روایت کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے بھی مرزا صاحب نے بریکٹس میں ایسے اضافے کیے ہیں کہ جن سے یہ تاثر دیا کہ لوگ سنت کو چھوڑ کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کرتے تھے حالانکہ عربی متن میں ایسے کچھ الفاظ نقل نہیں ہوئے ہیں۔

بہرحال یہ سنت کی مخالفت نہیں ہے بلکہ سنت کا معنی متعین کرنے کے لیے ایک اجتہاد ہے جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا جیسا کہ بہت سے فقہا اور ائمہ، سنت کا معنی متعین کرنے کے لیے اجتہاد کرتے ہیں اور بعض دوسرے علما جو سنت کے ظاہر کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں تو وہ انہیں بعض اوقات سنت کو ترک کرنے کا طعنہ بھی دے دیتے ہیں جبکہ امر واقعہ میں ایسا نہیں ہوتا کہ انہوں نے سنت کو ترک کیا ہو بلکہ وہ سنت کا ایک گہرا مفہوم متعین کر کے اس کی پیروی کی دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔

تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کو اس طرح سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کے نزدیک فطرانے میں اصل پیمانہ نہیں بلکہ قیمت ہے۔ مدینہ میں کھجور عام تھی لہذا سستی تھی، گندم کم تھی لہذا مہنگی تھی اور شامی گندم تو ویسے ہی نایاب شیئ تھی۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری نظر میں اگر کوئی شخص شامی گندم کا نصف صاع بھی ادا کر دے تو وہ چونکہ قیمت میں مدینہ کی کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے لہذا فطرانہ ادا ہو جائے گا کیونکہ قیمت اصل ہے نہ کہ پیمانہ۔ دوسری توجیہ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر پیمانے کو اصل بنایا جائے تو یہاں حجازی اور شامی صاع کے فرق کا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لحاظ کیا ہے کہ شامی صاع، حجازی صاع سے بڑا تھا تو کہا کہ اس کا نصف بھی، حجازی صاع کے مقابلے میں کفایت کرے گا۔

دوسری روایت بھی صحیح مسلم کی ہے کہ جس کے مطابق عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو بعض مہمات میں چاندی کے برتن حاصل ہوئے تو امیر معاویہ رضی الہ عنہ نے کہا کہ ان برتنوں کو لوگوں کی تنخواہوں کے عوض فروخت کر دیا جائے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی مخالفت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو سونے، چاندی کو چاندی، گندم کو گندم، جو کو جو، کھجور کو کھجور اور نمک کو نمک کے بدلے برابر برابر لینے دینے کا حکم دیا ہے اور کمی بیشی سے منع کیا ہے اور کمی بیشی کو سود قرار دیا ہے۔

اصل میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذمہ لوگوں کی تنخواہیں تھیں۔ اور تنخواہ درہم کی صورت ادا ہوتی تھی جو کہ چاندی کا سکہ تھا اور اس کا ایک خاص وزن ہوتا تھا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ان کی تنخواہ یعنی چاندی کے سکوں کے عوض چاندی کے برتنوں کی پیشکش کی اور اس میں وزن کی برابری کا لحاظ نہ کیا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ چاندی کا سکہ اور چاندی کا برتن یہ دو اجناس بن جاتی ہیں کہ جن میں کمی بیشی جائز ہے اور سنت کے خلاف نہیں ہے۔ آج بھی سنارے پلین گولڈ اور زیورات کی صورت میں جو گولڈ ہوتا ہے، اس کی قیمت میں فرق کرتے ہیں، چاہے وزن برابر ہی کیوں نہ ہو، یعنی میکنگ، پالشنگ وغیرہ کے پیسے لگائے جاتے ہیں۔

تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اجتہاد سے آپ کو اختلاف ہے، ضرور اختلاف رکھیں کہ صحابہ نے خود ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے، لیکن ان کی اجتہادی آرا کو سنت کی خلاف ورزی قرار دے کر اپنے قارئین اور فالوورز کو ان کے بدعتی ہونے کا تاثر نہ دیں کہ وہ سنت کے مقابلے میں اپنی رائے کی تنفیذ کرتے تھے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ ہمارے علما نے تو ائمہ کے بارے ایسے طعن سے منع کیا ہے چہ جائیکہ کہ صحابہ کے بارے کیا جائے۔
 
Top