• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے؟

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
304
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
53
کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی تھے؟

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

تحریر : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر


انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں تیسرے باب کے ذیل میں، ص 13 پر، صحیح مسلم کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں یہ ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین درخواستیں کیں؛ ایک یہ کہ میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیں، دوسرا یہ کہ میرے بیٹے معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب رکھ لیں، اور تیسرا یہ کہ مجھے کفار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیں جیسا کہ میں مسلمانوں سے لڑتا رہا۔ اس حدیث کے راوی ابو زمیل، جو کہ تابعی ہیں، کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی سوال کیا جاتا تو آپ انکار نہ فرماتے تھے لہذا اسی وجہ سے آپ نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو انکار نہیں فرمایا۔

مرزا صاحب نے ابو زمیل راوی کے تبصرے کو بنیاد بناتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بھی اس قابل نہ تھیں کہ ازواج مطہرات میں شامل ہوتیں اور نہ ہی معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بننے کے لائق تھے۔ بس یہ کام سفارش سفارش میں ہو گیا ہے اور اس میں بھی زیادہ عمل دخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کا ہے کہ آپ کو ناں کرنی نہیں آتی تھی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مرزا صاحب جب چاہتے ہیں، ’’بابوں‘‘ کو دلیل بنا لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں، ان پر برسنا شروع کر دیتے ہیں۔ مرزا صاحب کے اس کتابچے کے ہر صفحہ پر جو ہیڈر چل رہا ہے، اس کے عنوان میں یہ ہے کہ صرف ’’قرآن اور صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں‘‘۔ اب راوی کا فہم کب سے حدیث ہو گیا؟ اسے تو اصطلاح میں ’’ادراج‘‘ کہتے ہیں یعنی راوی کا حدیث میں اپنی طرف سے اضافہ۔ اور وہ کوئی دلیل نہیں ہے۔

تو ابو زمیل راوی کی یہ بات درست نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو مانگا جاتا، آپ وہ عطا کر دیتے تھے۔ اب صحیح مسلم میں ہر بات تو حدیث نہیں ہے لہذا یہ کہنا کہ یہ صحیح مسلم میں ہے، کوئی دلیل نہیں ہے۔ پہلے دیکھنا پڑے گا کہ صحیح مسلم میں وہ بات کس حیثیت میں نقل ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی صحابہ کرام، ائمہ دین اور راویوں کے اقوال اور فہم بھی منقول ہے جو کہ حدیث نہیں ہے۔ تو صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے عہدہ مانگنے پر انہیں عہدہ دینے سے انکار کر دیا تھا حالانکہ وہ متقی ترین اصحاب میں سے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مانگنے پر کچھ عنایت نہیں کرتے تھے بلکہ صلاحیت اور استعداد دیکھ کر فیصلہ فرماتے تھے۔ پس حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی رکھنے کا فیصلہ ان کی صلاحیت اور استعداد کی بنیاد پر ہوا تھا۔

اسی طرح صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نکاح کے لیے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک نظر دیکھ کر انکار کر دیا اور قرآن سکھانے کے حق مہر کے عوض اپنے ایک دوسرے صحابی سے اس عورت کا نکاح کر دیا۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار کرنا آتا تھا اور آپ کرتے بھی تھے۔ تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو نکاح میں کسی میرٹ پر قبول کیا گیا اور وہ ان کا حسن وجمال اور خاندانی وجاہت تھی کہ صحیح مسلم ہی کی روایت میں ہے کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے رشتہ پیش کرتے وقت کہا تھا کہ میری بیٹی ’’أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ‘‘ یعنی عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں سے ہے۔

دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں تو ’’کاتب رسول‘‘ کے الفاظ ہیں نہ کہ ’’کاتب وحی‘‘ کے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی بھی لکھتے تھے اور خطوط بھی لکھا کرتے تھے۔ امام بیہقی جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کو ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں اپنی سند سے نقل کرتے ہیں تو اس میں وحی کے الفاظ کی صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’فَقَالَ: «اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ»، وَكَانَ يَكْتُبُ الْوَحْيَ‘‘ ترجمہ: جاؤ، معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ، اور وہ وحی لکھا کرتے تھے۔ یہ الفاظ کہ وہ وحی لکھا کرتے تھے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ہیں لیکن یہ ایک بہت بڑی شہادت ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔

اسی طرح سے تیسرا اعتراض یہ ہے جو کہ مرزا صاحب کی طرف سے کیا گیا ہے اور ان کی ذیل کی ویڈیو میں 13:01 سے 14:00 کے دورانیے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور فتح مکہ کے بعد کون سی وحی نازل ہوئی ہے جسے وہ لکھا کرتے تھے؟ 99.99 فی صد وحی تو نازل ہو چکی تھی، اب کون سی وحی معاویہ رضی اللہ عنہ لکھا کرتے تھے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ جس انسان کی جہالت یا تعصب حد سے بڑھا ہو تو اس کے اول فول کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا۔ ویسے اور کچھ نہ سہی، اس ایک منٹ میں ذرا حضرت کی ٹون اور ایکٹنگ ضرور ملاحظہ فرمائیں، ناظرین کے لیے دلچسپی کا بہت کچھ سامان موجود ہے۔

تو فتح مکہ رمضان 8 ہجری میں ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 11 ہجری میں ہوئی۔ درمیان میں اڑھائی سال کا وقفہ ہے اور اس میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، دین، اڑھائی سال پہلے مکمل ہو چکا تھا، کمال ہے بھئی، اتنے اعتماد سے اتنی لمبی چھوڑی کیسے جا سکتی ہے، یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے! اور نہ سہی غزوہ تبوک کو ہی لے لیں جو فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں ہوا اور ایک پارے سے زائد پر مشتمل سورۃ التوبہ ہے جو اس غزوے کو تفصیل سے بیان کر رہی ہے۔ سورۃ التوبہ کے علاوہ سورۃ المائدۃ ہے جو ایک پارے سے زائد پر مشتمل ہے اور فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کے علاوہ سورۃ البقرۃ کی سود کی آیات ہیں یا دیگر وہ آیات ہیں کہ جن کے بارے شان نزول کی روایات میں یہ تصریح موجود ہے کہ وہ آخر میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہیں۔

تو یہ سب مل کر ہی اڑھائی پارے تو بن ہی جاتے ہیں جو دسواں حصہ یعنی 10 فی صد قرآن مجید بن جاتا ہے۔ اب مرزا صاحب کا دعوی ہے کہ فتح مکہ کے بعد 0.01 فی صد نازل ہوا ہے جبکہ حقیقت میں کوئی تقریبا 10 فی صد نازل ہوا ہے۔ اور دونوں میں فرق 1000 کا ہوا، یہ تو ایک بات ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا ایسا شخص جو کسی بات میں سو بھی نہیں بلکہ ہزار فی صد جھوٹ بولے تو اسے اصطلاح میں ’’کذاب‘‘ کہا جا سکتا ہے؟ باقی ہم مرزا صاحب کو ’’کذاب‘‘ نہیں کہہ رہے، ہم تو ایک عمومی سوال کر رہے ہیں کہ اتنا اتنا بڑا جھوٹ بولنے والے پر کسی بھی شخص پر ’’کذاب‘‘ کا اطلاق ہو سکتا ہے کیا؟ شاید سب کے نزدیک ہو سکتا ہو، واللہ اعلم۔
 
Top