• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے؟

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
304
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
53
کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے؟

انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو جواب

تحریر : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر


انجینیئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ کے تیسرے باب میں ص 14 پر، حدیث نمبر 27 کے تحت لکھتے ہیں ’’یعنی صحابیت کے سوا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نقل نہیں ہوئی ہے۔‘‘

سنن الترمذی کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: ’’اللَّهمّ اجعله هاديا مهديّا، واهد به.‘‘ اے اللہ، انہیں ہادی بھی بنا اور مہدی بھی، یعنی ہدایت کا رستہ دکھانے والا بھی، اور وہ بھی کہ جسے ہدایت کا رستہ دکھایا گیا ہو، اور ان کے ذریعے خلق خدا کو ہدایت دے۔ امام بخاری بھی اس روایت کو اپنی کتاب ’’التاریخ الکبیر‘‘ میں لے کر آئے ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو ’’حسن‘‘ کہا ہے۔ علامہ الجورقانی نے کہا کہ یہ روایت ’’حسن‘‘ ہے۔ امام ذہبی نے کہا کہ اس کی سند ’’قوی‘‘ ہے۔ ابن حجر الہیثمی نے اسے ’’حسن‘‘ کہا ہے۔ علامہ آلوسی نے بھی ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ علامہ البانی نے بھی ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔

دوسری روایت المعجم الکبیر للطبرانی اور مسند احمد وغیرہ کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللَّهمّ علّمه الكتاب والحساب، وقه العذاب۔‘‘ اے اللہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب اور فرائض کا علم سکھا اور انہیں عذاب سے بچا۔ اس رواٰیت کے پہلے حصے کو سنن ابو داود اور سنن النسائی نے بھی نقل کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس روایت کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ بعض معاصر محققین نے اس روایت کو مسلم کی شرط پر ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔

مرزا صاحب نے اپنے کتابچے میں امام اسحاق بن راہویہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی ایک روایت بھی صحیح ثابت نہیں ہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قول ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کب سے ’’بابی‘‘ یعنی بابوں کو ماننے والے ہو گئے؟ ان کا تو نعرہ ہی یہی ہے: ’’نہ میں وہابی، نہ میں بابی، میں ہوں مسلم، علمی کتابی‘‘۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرزا صاحب سے بڑھ کر کوئی ’’بابی‘‘ نہیں ہے۔

باقیوں کے ہاں تو پھر ’’بابوں‘‘ کو نقل کرنے کا کوئی ضابطہ ہے جو انہوں نے بنا رکھا ہے لیکن یہاں تو وہ بھی نہیں ہے۔ مرزا صاحب جب چاہتے ہیں، اپنے مقصد کے لیے بابوں کو نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس کتابچے میں اپنے موقف کی دلیل کے طور پر بابوں کے بیسیوں اقوال جمع کر دیے ہیں۔ اور جب چاہتے ہیں، بابوں پر نقد شروع کر دیتے ہیں جبکہ وہ ان کے موقف کے خلاف جا رہے ہوں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں ’’بابوں‘‘ کو اس لیے نقل کرتا ہوں کہ یہ لوگ ’’بابوں‘‘ کو مانتے ہیں۔ تو بھئی، پھر یہاں بھی علامہ البانی کو نقل کرو ناں اپنے کتابچے میں کہ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی روایت ’’اللَّهمّ اجعله هاديا مهديّا، واهد به.‘‘ کو ’’صحیح‘‘ کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ جن کے لیے آپ بابوں کو نقل کرتے ہیں، یہاں علامہ البانی کو نہیں مانتے؟

تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرزا صاحب اپنی تحقیق میں ’’خائن‘‘ ہیں، حق بات کو چھپاتے ہیں، تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہر منفی بات، جہاں سے انہیں ملی، بھلے تاریخ کی کتابوں سے، اپنے کتابچے میں جمع کر دی ہے جبکہ ان کے بارے ہر مثبت بات چھپا لی ہے، بھلے حدیث کی کتابوں میں موجود ہو۔ تو اسے غیر جانبدارانہ تحقیق کہتے ہیں؟ رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل، تو وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہیں، اپنے مناقب میں بھی اور درجات میں بھی، اور یہ سب صحیح روایات سے ثابت ہے۔
 

عدیل سلفی

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 21، 2014
پیغامات
1,718
ری ایکشن اسکور
423
پوائنٹ
197
کیا حضرت معاویہ ؓ کی فضیلت میں کوئی بھی حدیث ثابت نہیں؟

"امام اسحاق ابن راھویہ ؒ کے قول کی تحقیق"
لا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في فضل معاوية شيء

اس روایت کو ابن جوزی ؒ نے اپنی کتاب الموضوعات:۲۴/۲ امام سیوطی ؒ نے كتاب اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:۳۸۸/۱ ابن عراق الکنانی نے اپنی کتاب كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۷/۲ امام شوکانی ؒ نے اپنی کتاب كتاب الفوائد المجموعة:۴۰۷ پر بیان کیا ہے! امام اسحاق بن راھویہ ؒ کے اس قول کی سند ثابت نہیں، کیونکہ محدث ابوالعباس محمد بن یعقوب الاصم کے والد یعقوب بن الفضل کی توثیق کسی محدث سے ثابت نہیں۔ امام خطیب بغدادی ؒ ان کا تذکرہ اپنی کتاب تاریخ بغداد کی جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۷ پر کیا ہے: يعقوب بن يوسف بن معقل أبوالفضل النيسابوري قدم بغداد وحدث بها عن إسحاق بن راهويه روى عنه محمد بن مخلد اس قول میں توثیق کا لفظ موجود نہیں، امام بن عساکر ؒ نے امام اسحاق ؒ کے قول کو رد کیا ہے اور لکھا ہے: وأصح ما روي في فضل معاوية حديث أبي حمزة عن ابن عباس أنه كاتب النبي (صلى الله عليه وسلم) فقد أخرجه مسلم في صحيحه وبعده حديث العرباض اللهم علمه الكتاب وبعده حديث ابن أبي عميرة اللهم اجعله هاديا مهديا اور صحیح حضرت معاویہ ؓ کی فضیلت میں وہ روایت ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے حضرت معاویہ ؓ کے کاتب ہونے کے بارے میں صحیح مسلم میں موجود ہے، اس کے بعد حدیث العرباض: اللھم علم الکتاب اور اس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن ابی عمیرہ کی حدیث: الھم ھادیا مھدیا۔ [كتاب تاريخ دمشق لابن عساكر:۱۰۶/۵۹] بالفرض امام اسحاق بن راھویہ ؒ کا یہ قول مان بھی لیا جائے تو یہ اسحاق بن راھویہ ؒ کے اپنے تتبع سے فیصلہ ہے کہ انہیں صحیح حدیث نہیں ملی اس کا یہ مطلب نہیں کہ حدیث صحیح موجود ہی نہیں ہے، اسی بات کا اشارہ ابن عساکر ؒ نے بھی کیا ہے۔

کچھ روافض کی طرف سے اس قول کو صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔

جواب: امام اسحاق بن راھویہ ؒ کی طرف اس قول کی نسبت پر بعض علماء نے کلام کیا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کی سند میں راوی ہیں یعقوب بن یوسف معقل ہیں جو امام اسحاق بن راھویہ سے روایت کرتے ہیں اور یعقوب سے ان کے بیٹے ابو العباس محمد بن یعقوب روایت کرتے ہیں، ابو العباس محمد بن یعقوب تو ثقہ ضابط راوی ہیں لیکن ابو الفضل یعقوب بن یوسف کے بارے میں بعض معاصرین نے لکھا کہ یہ مجہول الحال ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کا ترجمہ یعنی حالات زندگی انتہائی اختصار کے ساتھ ملتے ہیں، خطیب بغدادیؒ نے فقط اتنا لکھا: قدم بغداد وحدث بها عن إسحاق بن راهويه روى عنه محمد بن مخلد، جبکہ امام ذہبی ؒ نے تاریخ اسلام میں کے بعض اساتذہ اور بعض تلامذہ کا تذکرہ کیا اور اتنا لکھا: لوگوں میں سب سے بہترین خط ان کا تھا اور اجرت پر بکثرت لکھا کرتے تھے،اسی طرح علامہ ابن منظور نے مختصر تاریخ دمشق میں ان کے خط کے بہرتین ہونے کو حاکم کے حوالے سے لکھا ہے اور حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اتنا لکھا یہ اپنے بیٹے محمد بن یعقوب کی مسموعات کو محفوظ رکھا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے حافظ ابن حجر ہیتمی نے تطہیر الجنان میں اسحاق بن راھویہ کی طرف اس قول کی نسبت میں ان الفاظ کے ساتھ شک کا اظہار کیا ہے۔ [تطہیر الجنان ص ۳۳] امام ذہبی ؒ کے یہ الفاظ جو ان کے بیٹے محمد بن یعقوب کے نسب کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھے "ولد المحدث الحافظ" نیر آخر میں یہ الفاظ لکھے ہیں: وكان ذا معرفة وفهم [سیر اعلام النبلا :ج ۱۵ ص ۴۵۳ رقم ۲۵۸] یہ الفاظ تو معاصرین کی نظر سے گزرے نہیں یا پھر ان کے نزدیک تعدیل نہیں کیونکہ یعقوب بن یوسف کے معاصرین یا قریبی آئمہ میں سے کسی سے ان کے بارے میں جرح و تعدیل نہیں ملی۔ امام اسحاق بن راھویہؒ جو امیر المومنین فی الحدیث ہیں، ان کی جلالت علمی یقینا حیرت انگیز ہے لیکن ان تمام باتوں کے ساتھ محدثین نے لکھا ہے کہ آپ آخر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، آئمہ نے اس کی تصریح کی ہے اور حافظ صلاح الدین علائی ؒ نے اپنی کتاب المختلطین میں آپ کو ذکری کیا ہے۔ [کتاب المختلطین:۹] آپ کا سن وفات ۲۳۸ھ ہے، جبکہ ابوالفضل یعقوب بن یوسف کا سن وفات ۲۷۷ھ ہے یعنی انہوں نے کم ازکم اپنے انتقال سے ۳۹ سال قبل امام اسحاق بن راھویہ ؒ سے سماعت کی ہوگی، کل عمر ان کی تقریبا ۶۰ سال تھی، اس صورت میں جس وقت انہوں نے امام اسحاق بن راھویہ ؒ سے سماعت کی اس وقت ان کی عمر زیادہ سے زیادہ اکیس سال ہونی چاہیے، پھر انہوں نے اپنے شہر نیشاپور سے بغداد آکر امام اسحاق بن راھویہؒ سے سماعت کی ہے، اب یہاں اس بات کی صراحت بھی نہیں کہ انہوں نے قبل اختلاط اس بات کی سماعت کی یا بعد، عمر کے اعتبار سے قوی امکان اختلاط کے ایام میں سماعت کے ہیں۔

لہذا کئی اعتبار سے سندا یہ قول ہی مخدوش ہے۔
 
Top