• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا جمعہ کے دن تین آذانیں دینا جائز ہے؟

شمولیت
مئی 08، 2011
پیغامات
25
ری ایکشن اسکور
156
پوائنٹ
31
السلام علیکم!
کسی نے مجھے یہ سوال بھیجا ہے، اہل علم اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

Sahih Bukhari
Volume 2, Book 13, Number 39:

Narrated Az-Zuhri:

I heard As-Saib bin Yazid, saying, "In the life-time of Allah's Apostle, and Abu Bakr and Umar, the Adhan for the Jumua prayer used to be pronounced after the Imam had taken his seat on the pulpit. But when the people increased in number during the caliphate of 'Uthman, he introduced a third Adhan (on Friday for the Jumua prayer) and it was pronounced at Az-Zaura' and that new state of affairs remained so in the succeeding years.


So did Caliphate Uthman start something new and it became part of deen. What's your view? Btw this is taken from Sahih Bukhari.


والسلام علیکم
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,556
پوائنٹ
641
وعلیکم السلام
اس روایت میں " النداء الثالث" کے الفاظ ہیں یعنی تیسری نداء جسے تیسری آذان بھی کہہ سکتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو ندائیں تھی یعنی ایک آذان اور ایک دوسری اقامت۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دو پر ایک کا اضافہ کیا ہے یعنی دو اذانیں اور ایک اقامت مل کر تین ندائیں ہوئیں۔ پہلی آذان لوگوں کو نماز جمعہ کی تیاری کے لیے متنبہ کرنے کے لیے دی جاتی تھی اور دوسری آذان نماز کے لیے دی جاتی ہے یعنی جب امام صاحب منبر پر خطبہ دینے کے لیے بیٹھ جاتے تھے تو دوسری آذان ہوتی تھی اور اقامت جمعہ کی دو رکعت نماز کھڑی کرتے وقت ہوتی تھی۔

السوال : عندنا مشكلة في الولايات المتحدة في مسجدي وهو أذان الجمعة الأول العثماني هل يكون قبل دخول الوقت أم بعده ؟

الحمد لله
أولا :
يشرع الأذان الأول للجمعة ، وهو ما فعله عثمان رضي الله عنه ، وأقره الصحابة عليه ، كما روى البخاري (912) عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلُهُ إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ . والزَّوْرَاءُ مَوْضِعٌ بِالسُّوقِ بِالْمَدِينَةِ .
وسمّى الأذان الذي زاده عثمان ثالثا ، باعتبار أنه زاده على الأذان والإقامة .
ثانيا :
ينبغي أن يكون الأذان الأول قبل دخول وقت الجمعة ، بنحو نصف ساعة أو ساعة ؛ لتتحقق الفائدة منه وهي تذكير الناس بالجمعة ، وحثهم على التهيؤ والمسارعة إليها .
وقد سئل الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : ما هو الوقت المشروع بين الأذان الأول والثاني للجمعة ؟
فأجاب : "الواقع أننا في نجد نجعل فرقاً بين الأذان الأول والأذان الثاني نحو نصف ساعة أو ساعة إلا ربع وبعض الناس ساعة ، وفي مكة والمدينة لا يجعلون بينهما فرقاً، إذا دخل الوقت وقت الظهر أذن المؤذن الأذان الذي يسمونه الأول ، ثم يؤذن الثاني بعد مجيء الخطيب. والذي يظهر لي أن فعل أهل نجد أصح ؛ لأنه هو الذي يحصل به الفائدة ، أن الناس يستمعون إلى الأذان الأول ثم يتأهبون إلى الصلاة ويأتون إلى المسجد الجامع ، وقد قال أهل العلم رحمهم الله : من سمع النداء الثاني يوم الجمعة لزمه السعي من حين أن يسمع ، ومن كان بيته بعيداً لزمه السعي إلى الجمعة بحيث يصل إليها مع الخطيب. فعمل الناس هنا عندي أقرب إلى الصواب ممن لا يؤذنون الأذان الأول للجمعة إلا إذا دخل وقت الظهر. لكن ليس معنى هذا أن نضلل من خالفنا ، وهذه نقطة مهمة أبثها لطلاب العلم : إذا اختلف الفقهاء في سنة فقال بعضهم : هي سنة، وقال آخرون : ليست بسنة ، فليس لازم قول الذين يقولون : إنها ليست بسنة أن يبدعوا الآخرين، لا يبدعونهم أبداً، لأننا لو بدعنا المخالف لنا في هذه الأمور لزم أن يكون كل الفقهاء في مسائل الخلاف مبتدعة ، لأن الذي يقول لي : أنت مبتدع، أقول له : وأنت مبتدع، فيبقى الفقهاء كلهم في مسائل الخلاف أهل بدعة ، وهذا لا قائل به، فإذا اختلف العلماء رحمهم الله في مسائل لا تتعلق بالعقيدة وليست محدثةً حدثاً واضحاً ، إنما اختلفوا في فهم النصوص ، فهنا نقول : الأمر واسع ، ولا يمكن أن يبدع بعضنا بعضاً " انتهى من "اللقاء الشهري" (69/3)
وسئل الشيخ صالح الفوزان حفظه الله : ما هو الوقت الذي يفصل بين أذان الجمعة الأول والثاني ؟
فأجاب : "الوقت الذي يفصل بين أذان الجمعة الأول والثاني هو الوقت الكافي للناس في أن يتهيئوا لصلاة الجمعة ويذهبوا إليها .
فالأذان الأول لتنبيه الناس على قرب وقت صلاة الجمعة . . . حتى ينتبه الناس وينتهوا من بيعهم وشرائهم وأعمالهم الدنيوية ويتجهوا إلى صلاة الجمعة .
وأما الأذان الثاني ؛ فهذا إنما يكون إعلامًا بدخول وقت الصلاة ، وهو عند دخول الإمام وجلوسه على المنبر ؛ كما كان في وقت النبي صلى الله عليه وسلم" انتهى باختصار من "المنتقى من فتاوى الشيخ الفوزان" (1/101) . وقد ذكرنا نص الفتوى كاملة في جواب السؤال (97888) .
والله أعلم .

الإسلام سؤال وجواب
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
اگر بدعت مردود ہے قابل قبول نہيں تو قرآن مجيد جمع كرنے كے بارہ ميں كيا ہے ؟ اور اسى طرح دوسرى اشياء كا اضافہ مثلا عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا اذان ميں اضافہ كرنا ؟
برائے مہربانى اس كى وضاحت فرمائيں، كيونكہ بعض لوگ بدعت كى تقسيم كرتے ہوئے بدعت حسنہ كو جائز قرار ديتے ہوئے اسے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف منسوب كرتے ہيں، آيا يہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

بدعت كى حقيقتا ور اس كے اصول و ضوابط معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 864 ) اور ( 205 ) اور ( 10843 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

اور آب نے جو يہ ذكر كيا ہے كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے قرآن مجيد جمع كيا تھا، اس كے متعلق گزارش ہے كہ يہ بدعت نہيں بلكہ يہ سنت ہے جس پر لزوم كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم ديتے ہوئے فرمايا:

" تم ميرى اور ميرى بعد خلفاء راشدين المھديين كى سنت كو لازم پكڑو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2676 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4607 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 42 ) اس حديث كو امام ترمذى نے اور امام حاكم ( 1 / 177 ) نے صحيح قرار ديا ہے اور علامہ البانى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 2549 ) ميں صحيح كہا ہے، يہ حديث عرباض بن ساريہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے اور يہ خليفہ راشد ابو بكر الصديق رضى اللہ تعالى عنہ كى سنت ميں سے ہے.

اور بدعت اسے كہا جاتا ہے كہ كسى ايسے عمل سے اللہ تعالى كا تقرب حاصل كيا جائے جس كى مثال پہلے نہ گزرى ہو، قرآن مجيد تو پہلے سے لوگوں كے سينوں ميں اور مختلف تختيوں ميں كئى ايك صحابہ كرام كے پاس جمع تھا، اور اس سارے قرآن مجيد كو ايك ہى جگہ اور ايك كتاب ميں جمع كرنا كوئى منكر كام نہيں.

زيد بن ثابت رضى اللہ تعالى كو جب ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ نے قرآن مجيد جمع كرنے كا حكم ديا تھا تو زيد رضى اللہ تعالى عنہ فرماتے ہيں:

تو ميں قرآن مجيد كو اوراق اور چمڑے اور ہڈيوں اور كھجور كى چھال اور لوگوں كے سينوں وغيرہ سے جمع كرنا شروع كيا.

قاضى ابو بكر الباقلانى نے ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كے اس فعل كى كئى ايك وجوہات بيان كى ہيں ان ميں سب سے اچھى اور بہت يہ پانچ ہيں:

اول:

رسول كريم صلى اللہ وسلم نے مصلحت كى بنا پر ايسا نہيں كيا اور ضرورت كى بنا پر ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے اسے جمع كر ديا.

دوم:

اللہ سبحانہ و تعالى نے خبر دى ہے كہ يہ صحف اولى ميں ہے اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس بھى اس جيسا ہے فرمان بارى تعالى ہے:

{ اللہ تعالى كا رسول پاك صحيفے تلاوت كرے، جن ميں صحيح اور درست احكام ہوں }.

تو يہ اللہ اور اس كے رسول كى اقتداء كرتے ہوئے ہوا.

سوم:

انہوں نے اس اللہ تعالى كے درج ذيل فرمان كو ثابت اور پورا كرنا چاہا:

{ يقينا ہم نے ذكر نازل كيا ہے اور ہم ہى اس كى حفاظت كرنے والے ہيں }.

يہ اس كے پاس محفوظ تھا، اور اللہ نے ہميں بتايا كہ اس كے نزول كے بعد بھى اس كى حفاظت كريگا، اور اس كى حفاظت ميں يہ شامل ہے كہ اللہ تعالى نے اسے جمع كرنا صحابہ كے ليے آسان كر ديا، اور اس كى تقييد اور ضبط ميں ان سب كو جمع فرمايا كسى نے بھى اس ميں اختلاف نہيں كيا.

چہارم:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كاتبين وحى كو قرآن مجيد خود لكھاتے اور اس كى املاء كرواتے تھے، كيا كسى متصور پر اس كے دل ميں صحيح معنى مخفى ہو سكتا ہے كہ يہ اس كى كتابت اور ضبط اور صحيفہ ميں تقييد پر تنبيہ تھى، اگر اللہ كا اس كى حفاظت كا ضامن ہونے ميں امت كا كوئى عمل نہ ہوتا تو اللہ تعالى كا اس كى حفاظت كا ذمہ لينے اور بتا دينے كے بعد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسے نہ لكھواتے، ليكن آپ كے علم ميں تھا كہ اللہ كى حفاظت ميں شامل ہے كہ وہ اسے ہمارے ليے آسان كرے اور اس كى كتابت كى تعليم دے اور ہمارے مابين صحف ميں ضبط كروائے.

پنجم:

يہ ثابت ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دشمن كے علاقے ميں قرآن مجيد لے جانے سے منع فرمايا ہے" يہ اس كى تنبيہ ہے كہ امت ميں قرآن لكھا ہوا ہو گا اور وہ اسے اپنے ساتھ سفروں ميں لے كر جائيں گے.

ابو بكر بن العربى كہتے ہيں:

يہ سب سے واضح وجوہات ہيں.

ديكھيں: احكام القرآن ( 2 / 612 ).

اور آپ كا يہ كہنا كہ: عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اذان ميں كوئى نئى چيز اضافہ كيا تھا، اس كے متعلق ہميں تو كوئى علم نہيں، ليكن شائد آپ كا اس سے مقصد عثمان رضى اللہ تعالى عنہ كا نماز جمعہ كے ليے پہلى اذان كا اضافہ ہے، اور يہ صحيح ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں ايك ہى اذان ہوا كرتى تھى، اور جب عثمان رضى اللہ تعالى عنہ كو خلافت ملى اور مدينہ ميں وسعت ہو چكى تھى اور آبادى پھيل گئى تھى تو عثمان رضى اللہ تعالى عنہ نے ديكھا كہ جمعہ كے ليےوقت سے قبل ايك اذان كہى جائے تا كہ لوگ جمعہ كى تيارى كر ليں اور اسے پہلى اذان كہا جاتا ہے.

سائب بن يزيد بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ابو بكر اور عمر رضى اللہ تعالى عنہما كے دور ميں جمعہ كى پہلى اذان اس وقت ہوتى تھى جب امام منبر پر بيٹھ جاتا، اور جب عثمان رضى اللہ تعالى عنہ كو خلافت ملى اور لوگ زيادہ ہو گئے توانہوں تيسرى اذان كا اضافہ كر ديا.

اور ايك روايت ميں ہے تو عثمان رضى اللہ تعالى عنہ نے پہلى اذان كا حكم ديا، اور ايك روايت ميں ہے دوسرى اذان كا عثمان رضى اللہ نے حكم ديا.

اس ميں كوئى تناقض اور منافاۃ نہيں، اسے تيسرى زيادہ كے اعتبار سے كہا گيا ہے، اور اذان اور اقامت سے مقدم ہونے كى بنا پر پہلى كہا گيا، اور دوسرى حقيقى اذان كے اعتبار سے نہ كہ اقامت ـ يہ زوراء پر كہى جاتى تھى.

ابو عبد اللہ يعنى امام بخارى كہتے ہيں كہ مدينہ كے بازار ميں زوراء نامى ايك جگہ تھى جہاں اذان ہوتى.

صحيح بخارى حديث نمبر ( 870 ).

اور يہ اذان بدعت ميں شامل نہيں ہوتى بلكہ يہ خليفہ راشد عثمان بن عفان رضى اللہ تعالى عنہ كى سنت ميں شامل ہوتى ہے جس كے التزام كا حكم ديتے ہوئے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم ميرى اور ميرے بعد خلفاء راشدين كى سنت كا التزام كرو "

پھر يہ اذان تو ايك معقول علت كے ساتھ معلول ہے اور وہ يہ كہ لوگوں كو نماز قريب ہونے كى تنبيہ كرنا، اور علم كے ليے يہ بھى ہے كہ اس اذان پر كوئى احكام مرتب نہيں ہوتے مثلا خريد و فروخت كى حرمت يا مسجد جانے كا وجوب، اور پھر عثمان رضى اللہ تعالى عنہ كى يہ فقہ ميں تھا كہ انہوں نے اسے مسجد ميں نہيں بلكہ بازار ميں دينے كا حكم ديا، اور اس طرح كى چيز كا زيادہ سے زيادہ صرف لوگوں كو نماز كا وقت قريب ہونے پر متنبہ كرنا، كيونكہ گھروں كى دورى كى بنا پر ايسا ہوا جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے.

اس ليے بيان كيا جاتا ہے كہ على رضى اللہ تعالى عنہ نے كوفہ ميں ضرورت نہ ہونے كى بنا پر اس پر عمل نہيں كيا.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد

Islam Question and Answer - كيا قرآن جمع كرنا اور جمعہ كى پہلى اذان بدعت ہے ؟
 
Top