• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا حلال جانور کے حرام اعضاء سے متعلق یہ روایت صحیح ہے؟

عثمان

مبتدی
شمولیت
فروری 02، 2012
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
0
Moreover, Imam Muhammad ibn al-Hasan al-Shaybani reports from al-Awza’i, from Wasil ibn Abi Jamil that Mujahid (Allah be pleased with them all) said: “The Messenger of Allah (Allah bless him & give him peace) disliked consuming seven things from the sheep: the gall-bladder, the urinary bladder, the glands, the vulva, the penis, the testicles and the blood. The Messenger of Allah (Allah bless him & give him peace) used to like the forepart of sheep and goats.” (Kitab al-Athar, no: 811)
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,951
ری ایکشن اسکور
9,805
پوائنٹ
722
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى:211)نے کہا:
أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا: الدَّمَ، وَالْحَيَا، وَالْأُنْثَيَيْنِ، وَالْغُدَّةَ، وَالذَّكَرَ، وَالْمَثَانَةَ، وَالْمَرَارَةَ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ مِنَ الشَّاةِ مُقَدَّمَهَا "[مصنف عبد الرزاق: 4/ 535 و اخرجہ ابوداؤد فی المراسيل : ص: 326 و أبو شعيب الحرانی فی الفوائد المنتقاة رقم 38 ترقیم الشاملہ، و البیھقی فی السنن الكبرى : 10/ 12 وقال : هذا منقطع وابن عساکر فی تاريخ دمشق 62/ 373 کلھم من طریق الاوزاعی بہ]۔

یہ روایت مرسل یعنی ضعیف ہے ، کیونکہ مجاہد نے اسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا جب کہ یہ صحابی نہیں ہیں ۔
اسی لئے امام ابوداؤد نے اسے مراسیل ص: 326 پر نقل کیا ہے اور

امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
هَذَا مُنْقَطِعٌ[السنن الكبرى للبيهقي: 10/ 13]۔

نیز اس کی سند میں موجود واصل بن ابی جمیل بھی ضعیف ہے۔

اوپر سوال میں یہی مرسل روایت اسی طریق سے امام محمد کی کتاب ’’ الآثار ‘‘ سے نقل کی گئی ہے ، لیکن میرے پاس ’’الآثار ‘‘ کا جو نسخہ ہے اس میں یہ روایت نہیں مل سکی ، واللہ اعلم۔

بعض طرق سے یہ روایت موصولا بھی منقول ہے چنانچہ :
امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
حدثنا وقار، حدثنا أيوب الوزان، حدثنا فهر بن بشر، حدثنا عمر بن موسى عن واصل بن أبي جميل عن مجاهد، عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يكره أكل سبع من الشاة المثانة والمرارة والغدة والأنثيين والذكر والحيا والدم وكان أحب الشاة إليه ذنبها [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 6/ 21 ومن طریقہ اخرجہ البیھقی فی السنن الكبرى : 10/ 13، ومن طریق البیہقی اخرجہ ابن عساکر فی تاريخ دمشق62/ 373 ]۔

یہ روایت سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں موجود عمربن موسی نامی روای حدیث گھڑنے والا ہے، ذیل صرف چند وہ اقول پیش ہیں جن میں اسے کذاب و وضاع کہا گیا ہے۔

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
كذاب ليس بشيء[سؤالات ابن الجنيد لابن معين: ص: 390]۔

أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي، (المتوفى277)نے کہا:
متروك الحديث ذاهب الحديث كان يضع الحديث[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 6/ 133]۔

امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات[المجروحين لابن حبان: 2/ 87]۔

امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
وهو في عداد من يضع الحديث متنا وإسنادا[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 6/ 23]۔

امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
عُمَرُ بْنُ مُوسَى هَذَا مَتْرُوكٌ مَنْسُوبٌ إِلَى الْوَضْعِ[معرفة السنن والآثار للبيهقي: 2/ 40]۔

امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507)نے کہا:
وَعُمَرُ يَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ عَنِ الثِّقَاتِ.[تذكرة الحفاظ لابن القيسراني ص: 116]

معلوم ہوا کہ عمربن موسی کذاب ووضاع راوی ہے لہٰذا اس کا موصول بیان کرنا مردود ہے ، اورصحیح بات یہی ہے کہ یہ روایت مرسل یعنی ضعیف ہے چنانچہ :

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی روایت نقل کرکے کہا:
وَلَا يَصِحُّ وَصْلُهُ [السنن الكبرى للبيهقي: 10/ 13]۔

امام ابن عساکر نے اس کی یہ روایت نقل کرکے کہا:
وصل هذا الحديث غريب [تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 373]۔

تنبیہ:
موصول روایت کا ایک شاہد بھی منقول ہے ، چنانچہ:
امام طبراني رحمه الله (المتوفى360)نے کہا:
حدثنا يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم بن عباد بن العوام الواسطي ، حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني ، نا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم ، عن أبيه ، عن ابن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره من الشاة سبعا : المرارة ، والمثانة ، والمحياة ، والذكر ، والأنثيين ، والغدة ، والدم ، وكان أحب الشاة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مقدمها ، قال : وأتي النبي صلى الله عليه وسلم بطعام ، فأقبل القوم يلقمونه اللحم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن أطيب اللحم لحم الظهر [المعجم الكبير للطبراني 11/ 234، ]۔

لیکن یہ روایت بھی موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں ’’يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم بن عباد بن العوام الواسطي‘‘ ہے ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ ایک مقام پر فرماتے ہیں :
يعقوب هذا ؛ فإني لم أجد له ترجمة [سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 12/ 538]۔

عرض ہے کہ امام أبو بكر الإسماعيلي نے اسے متہم قراردیا ہے ، چنانچہ:

حمزة بن يوسف السهمي (المتوفى: 427 ) نے کہا:
سمعت أبا بكر الإسماعيلي يقول حدثنا يعقوب بن إسحاق العوامي الواسطي وكان متهما فيما يروي[سؤالات حمزة للدارقطني: ص: 258 واسنادہ صحیح]۔


إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني کے مؤلف کہتے ہیں:

قلت: (متهم) [إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني ص: 695]۔

نیز سند میں موجود يحيى بن عبد الحميد الحماني اور عبد الرحمن بن زيد بن أسلم بھی ضعیف ہیں۔
 
Top