• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا دنیا میں واپسی ممکن ہے ؟؟ سن لیں عجیب انداز میں !!

شمولیت
مارچ 14، 2013
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
19
السلام علیکم ۔۔ محترم ابو بصیر بھائی کیا عجیب بات ہے کہ ہم خامیاں ہی تلاش کرتے ہیں،،، ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ الله کی دین کے لئے گرانقدر خدمات ہیں ،،، کیا آپکو وہ نہیں پتا ؟؟؟
اور بیٹھ کر ان لوگوں کی خامیاں بیان کرنا جویہاں موجود بھی نہیں اس دنیا میں ،،کیا ہمارا مذہب یہ تعلیم دیتا ہے ؟؟؟ تنقید کرنا بہت آسان ہے ،،،
پہلے پارے کی آخری آیت....
((تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا یعْمَلُونَ (134) )) (بقرہ)
''وہ لوگ گزر گئے ان کے لیے وہی ہو گا جو انہوں نے کیا اور تمہارے لیے جو تم نے کیا اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے?''
" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو " ۔
{ سنن ابو داود :4900، الادب – سنن الترمذی :1019، الجنائز – مستدرک الحاکم :1/358 ، بروایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما }
الله ہمیں
شکریہ ابو بصیر بھائی۔
ہدایت دے ،،آمین
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
ابو بصیر بھائی - یہ بھی بتا دیں کہ اس میں عجیب بات کیا ہے -
اس بات کو میں نے جب سنا تھا تو یہ مجھے بھی قابلِ اعتراض لگی تھی، ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ "مانگو اللہ سے وہ چاہے تو کسی فرشتے کے ذریعے، کسی فوت شدہ ولی اللہ کی روح کے ذریعے سے یا چاہے تو ڈائریکٹ دے دے" یہ جملہ قابلِ اعتراض ہے، ہمارا ماننا ہے اور یہ بات ہمارے عقیدے میں شامل ہے کہ صرف اللہ سے مانگو اور وہی دینے والا ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ، ہم سب اس کے محتاج ہیں، وہ سب کی براہ راست دعائیں سنتا ہے اور چاہے تو قبول فرماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴿٦٠﴾۔۔۔سورة الغافر
ترجمه: اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے
اور
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ﴿١٨٦﴾۔۔۔سورة البقرة
ترجمه: جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے
اور
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ﴿١٦﴾۔۔۔سورة ق
ترجمه: ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں
لہذا ڈاکٹر صاحب کی یہ بات بے بنیاد ہے، اگر کسی کو ڈاکٹر صاحب کے نظریے سے اتفاق ہے تو وہ دلیل ذکر کرے؟
 
شمولیت
مارچ 14، 2013
پیغامات
22
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
19
کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا۔۔ نہ کوئی ایسا علم ہے جس سے کسی کو اختلاف نہ رہا ہو اور اس پر جرح کی گئی ہو۔۔۔سلف و صالحین میں بھی مختلف موضوعات پرتھوڑے بہت اختلاف رہے لیکن وہ تو لڑتےجھگڑتے نہ تھے۔۔اور آج سب اختلافات میں لڑتے رہتے ہیں.۔۔ اصل مقصد اقامت دین ہے۔۔۔خلافت کا نفاذ۔۔۔ اس کی طرف توجہ کوئی نہیں دے رہے فرقہ پرستی میں مسلم امہ پسرہی ہے جس کا فائدہ اسلام دشمنوں کو ہو رہا ہے.۔۔ مسلمان مولی گاجر کی طرح کاٹے جا رہے ہیں ۔۔۔ امّت لہو لہان ہے ۔۔۔ خدارا سب مل کر الله کی رسی کو تھام کر اکٹھے ہو جائیں ،،، اپنے اختلافات قرآن وسنّت کی طرف لوٹا دیں ۔۔۔جو گزر گئے الله انکی لغزشوں کو معاف فرماے اور ان کے درجات کو بلند فرماے۔۔ آمین
اسلام ہمیں کیا سکھاتا ہے
((وَالَّذِینَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ یقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالْإِیمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِی قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِیمٌ (10) ) (الحشر)
''اور وہ لوگ جو بعد میں آتے ہیں ان کو کہنا چاہیے اے ہمارے پروردگار! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو حالت ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کو بخش دے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے بغض نہ بھرنا کیونکہ تو بہت ہی مہربان رحم کرنے والا ہے۔''
آیت مذکور کو کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو اسلام ہمیں ایک ہی چیز کی تربیت دیتا ہے اور وہ ہے کہ گزر جانے والے لوگوں کے لیے گنہگار ہوں یا اولیاء اللہ.... سب کے لیے دعا گو رہنا چاہیے نہ کہ جب وہ زندہ ہوں تو ان سے گفتگو کرتے وقت پسینے چھوٹتے رہیں گفتگو تو کجا کبھی ملاقات بھی نہ کریں لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے کچھ عقائد ونظریات کی وجہ سے انہیں گمراہ اور کافر قرار دیں-
الله ہمیں ہدایت دے ۔۔آمین !
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا۔۔ نہ کوئی ایسا علم ہے جس سے کسی کو اختلاف نہ رہا ہو اور اس پر جرح کی گئی ہو۔۔۔سلف و صالحین میں بھی مختلف موضوعات پرتھوڑے بہت اختلاف رہے لیکن وہ تو لڑتےجھگڑتے نہ تھے۔۔اور آج سب اختلافات میں لڑتے رہتے ہیں.۔۔ اصل مقصد اقامت دین ہے۔۔۔خلافت کا نفاذ۔۔۔ اس کی طرف توجہ کوئی نہیں دے رہے فرقہ پرستی میں مسلم امہ پسرہی ہے جس کا فائدہ اسلام دشمنوں کو ہو رہا ہے.۔۔ مسلمان مولی گاجر کی طرح کاٹے جا رہے ہیں ۔۔۔ امّت لہو لہان ہے ۔۔۔ خدارا سب مل کر الله کی رسی کو تھام کر اکٹھے ہو جائیں ،،، اپنے اختلافات قرآن وسنّت کی طرف لوٹا دیں ۔۔۔جو گزر گئے الله انکی لغزشوں کو معاف فرماے اور ان کے درجات کو بلند فرماے۔۔ آمین
اسلام ہمیں کیا سکھاتا ہے
((وَالَّذِینَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ یقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالْإِیمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِی قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِیمٌ (10) ) (الحشر)
''اور وہ لوگ جو بعد میں آتے ہیں ان کو کہنا چاہیے اے ہمارے پروردگار! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو حالت ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کو بخش دے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے بغض نہ بھرنا کیونکہ تو بہت ہی مہربان رحم کرنے والا ہے۔''
آیت مذکور کو کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو اسلام ہمیں ایک ہی چیز کی تربیت دیتا ہے اور وہ ہے کہ گزر جانے والے لوگوں کے لیے گنہگار ہوں یا اولیاء اللہ.... سب کے لیے دعا گو رہنا چاہیے نہ کہ جب وہ زندہ ہوں تو ان سے گفتگو کرتے وقت پسینے چھوٹتے رہیں گفتگو تو کجا کبھی ملاقات بھی نہ کریں لیکن ان کی وفات کے بعد ان کے کچھ عقائد ونظریات کی وجہ سے انہیں گمراہ اور کافر قرار دیں-
الله ہمیں ہدایت دے ۔۔آمین !
عقائد کی غلطیاں چھوٹی غلطیاں نہیں ہوتی، آخرت کی نجات کا انحصار عقائد کی درستگی پر ہے، جو شخص عقیدے کا بہتر ہو، امید ہے وہ اللہ کی رحمت سے نجات پا جائے گا ان شاءاللہ، لیکن عقائد میں بگاڑ تمام اعمال کی بربادی کا سبب ہے، اس کو محض معمولی سی غلط سمجھنا اور قابلِ تنقید نہ سمجھنا بھی ایک غلطی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ تَأْمُرُوٓنِّىٓ أَعْبُدُ أَيُّهَا ٱلْجَٰهِلُونَ ﴿64﴾وَلَقَدْ أُوحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ ﴿65﴾
ترجمہ: کہہ دو اے جاہلو کیا مجھے الله کے سوا اور کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہو اور بے شک آپ کی طرف اور ان کی طرف وحی کیا جا چکا ہے جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں کہ اگرتم نے شرک کیا تو ضرور تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے (سورۃ الزمر،آیت 64-65)
اور
وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ ٱلرِّيحُ فِى مَكَانٍۢ سَحِيقٍۢ﴿31﴾
ترجمہ: اور جو الله کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے (سورۃ الحج،آیت31)
اور
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ ﴿113﴾
ترجمہ: پیغمبراور مسلمانوں کو یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں جب کہ ان پر ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ دوزخی ہیں (سورۃ التوبہ،آیت13)
اور
وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ﴿72﴾
ترجمہ: اور کہا مسیح (علیہ السلام ) نے اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (سورۃ المائدہ،آیت72)
اور
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ ٱلْبَرِيَّةِ ﴿٦﴾
ترجمہ: بے شک جو لوگ اہلِ کتاب میں سے منکر ہوئے اور مشرکین وہ دوزخ کی آگ میں ہوں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے یہی لوگ بدترین مخلوقات ہیں (سورۃ البینہ،آیت6)
اور
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ ﴿113﴾
ترجمہ: پیغمبراور مسلمانوں کو یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں جب کہ ان پر ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ دوزخی ہی (سورۃ التوبہ،آیت 113)
اور
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا﴿116﴾
ترجمہ: اللہ اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک بنایا پس تحقیق دور کی گمراہی میں جا پڑا(سورۃ النساء،آیت116)
اور
إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ﴿72﴾
ترجمہ: جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (سورۃ المائدہ،آیت72)
اور سورہ انعام میں انبیائے کرام علیھم السلام کی مقدس جماعت حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت اسحق علیہ السلام،حضرت یعقوب علیہ السلام،حضرت نوح علیہ السلام،حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام،حضرت ایوب علیہ السلام،حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت موسی علیہ السلام،حضرت ہارون علیہ السلام،حضرت زکریا علیہ السلام،حضرت یحیی علیہ السلام،حضرت اسماعیل علیہ السلام،حضرت یسع علیہ السلام،حضرت یونس علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر خیر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَلَوْ أَشْرَكُوا۟ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴿٨٨﴾
ترجمہ: اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے (سورۃ انعام،آیت 88)
شرک کی مذمت میں قرآن مجید کی دیگر آیات ملاحظہ ہوں:
وَلَقَدْ أُوحِىَ إِلَيْكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ ﴿65﴾
ترجمہ: اور بے شک آپ کی طرف اور ان کی طرف وحی کیا جا چکا ہے جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں کہ اگرتم نے شرک کیا تو ضرور تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے (سورۃ الزمر،آیت 65)
لہذا عقیدے کا بگاڑ کوئی معمولی غلطی نہیں، کتاب و سنت پر اکٹھا ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ سب سے پہلے اپنا عقیدہ کتاب و سنت کے مطابق بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
السلام علیکم ۔۔ محترم ابو بصیر بھائی کیا عجیب بات ہے کہ ہم خامیاں ہی تلاش کرتے ہیں،،، ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ الله کی دین کے لئے گرانقدر خدمات ہیں ،،، کیا آپکو وہ نہیں پتا ؟؟؟
اور بیٹھ کر ان لوگوں کی خامیاں بیان کرنا جویہاں موجود بھی نہیں اس دنیا میں ،،کیا ہمارا مذہب یہ تعلیم دیتا ہے ؟؟؟ تنقید کرنا بہت آسان ہے ،،،
پہلے پارے کی آخری آیت....
((تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا یعْمَلُونَ (134) )) (بقرہ)
''وہ لوگ گزر گئے ان کے لیے وہی ہو گا جو انہوں نے کیا اور تمہارے لیے جو تم نے کیا اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے?''
" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو " ۔
{ سنن ابو داود :4900، الادب – سنن الترمذی :1019، الجنائز – مستدرک الحاکم :1/358 ، بروایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما }
الله ہمیں

ہدایت دے ،،آمین

السلام علیکم و رحمت الله -

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈا کٹر اسرار صاحب کی اسلام اور پاکستانی عوام کے لئے دینی خدمات بہت زیادہ ہیں - لیکن ڈا کٹر اسرار بہر حال نبی نہیں تھےکہ ان سے غلطی نہیں ہو سکتی -اور یہ ایک فطری امر ہے کہ جب انسان کسی کا معتقد ہو جاتا ہے تو اس کی ہر ہر بات یا عقیدہ اس کو صحیح لگنے لگتا ہے -ان کے معتقدین جو ہمارے ملک میں ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں یہ ان کے لئے ایک خطرناک چیز ہے -

اور یہ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی جانتا ہوں کہ جب تک انسان کا عقیدہ قرآن و سنّت کے مطابق نہ ہو اس کا بڑے سے بڑا نیک عمل بھی الله کی بارگاہ میں کاغذ کی راکھ کے برابر نہیں ہے - شرک وہ گناہ ہے جس کی کوئی معافی نہیں- (جیسا کہ ارسلان بھائی نے اپنی پوسٹ میں شرک کا انجام واضح کردیا ہے- الله ان کو جزا دے آمین)

عوام کو صرف ان کے باطل عقیدے سے خبردار کرنے کے لئے ایسی پوسٹ کی جاتی ہیں - کیوں کہ ان کے معتقدین کےایک بڑی تعداد یہاں موجود ہے -یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمیں ان سے کوئی ذاتی عناد نہیں ہے - اسلام کے لئے ان کی بہت سے مثبت کوششیں قابل ستائش بھی ہیں -(واللہ اعلم)-

الله ہم سب کو اپنی ہدایت سے نوازے (آمین )
 
Top