• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا رسول اللہﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا گالی دی تھی ۔ملحدوں کےا عتراض کا جواب درکار ہے

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
حدثنا سليمان بن حرب، ‏‏‏‏حدثنا شعبة، ‏‏‏‏عن الحكم، ‏‏‏‏عن إبراهيم، ‏‏‏‏عن الأسود، ‏‏‏‏عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت لما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينفر إذا صفية على باب خبائها كئيبة، ‏‏‏‏فقال لها ‏"‏ عقرى ـ أو حلقى ـ إنك لحابستنا أكنت أفضت يوم النحر ‏"‏‏.‏ قالت نعم‏.‏ قال ‏"‏ فانفري إذا ‏"‏‏.‏

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دوگی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
ملحد نے ان الفاظ کو گالی کہا ہے

”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے
 

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
426
پوائنٹ
198
حدثنا سليمان بن حرب، ‏‏‏‏حدثنا شعبة، ‏‏‏‏عن الحكم، ‏‏‏‏عن إبراهيم، ‏‏‏‏عن الأسود، ‏‏‏‏عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت لما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينفر إذا صفية على باب خبائها كئيبة، ‏‏‏‏فقال لها ‏"‏ عقرى ـ أو حلقى ـ إنك لحابستنا أكنت أفضت يوم النحر ‏"‏‏.‏ قالت نعم‏.‏ قال ‏"‏ فانفري إذا ‏"‏‏.‏

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دوگی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
ملحد نے ان الفاظ کو گالی کہا ہے

”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے
@اسحاق سلفی
@خضر حیات
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,532
پوائنٹ
791
حدثنا سليمان بن حرب، ‏‏‏‏حدثنا شعبة، ‏‏‏‏عن الحكم، ‏‏‏‏عن إبراهيم، ‏‏‏‏عن الأسود، ‏‏‏‏عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت لما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينفر إذا صفية على باب خبائها كئيبة، ‏‏‏‏فقال لها ‏"‏ عقرى ـ أو حلقى ـ إنك لحابستنا أكنت أفضت يوم النحر ‏"‏‏.‏ قالت نعم‏.‏ قال ‏"‏ فانفري إذا ‏"‏‏.‏

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دوگی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
ملحد نے ان الفاظ کو گالی کہا ہے

”عقریٰ“ یا (فرمایا راوی کو شک تھا) ”حلقٰی“ معلوم ہوتا ہے
بھائی پہلے یہ حدیث اور اس کا ترجمہ دیکھ لیں ،

عن عائشة رضي الله عنها قالت:‏‏‏‏"اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان ينفر فراى صفية على باب خبائها كئيبة حزينة لانها حاضت فقال:‏‏‏‏ عقرى حلقى ، لغة لقريش إنك لحابستنا ثم قال:‏‏‏‏ اكنت افضت يوم النحر يعني الطواف قالت:‏‏‏‏ نعم قال:‏‏‏‏ فانفري إذا".(صحیح البخاری :حدیث نمبر: 6157 )

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج سے) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا «عقرى حلقى» (یہ قریش کا محاورہ ہے) اب تم ہمیں روکو گی! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر چلو۔‘‘
اس میں کوئی گالی کی بات نہیں ، صرف «عقرى » کہا (تو بانجھ ہو ۔۔ جو بظاہر بد دعا ،ہے ۔۔لیکن فی الحقیقت بد دعاء نہیں۔۔اور اہل عرب کے ہاں یہ بات معروف ہے ‘‘
علامہ ابن الاثیر ۔۔النہایہ فی غریب الحدیث ‘‘ میں اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
ومنه حديث صفية «لما قيل له: إنها حائض، فقال: عقرى حلقى» أي عقرها الله وأصابها بعقر في جسدها. وظاهره الدعاء عليها، وليس بدعاء في الحقيقة، وهو في مذهبهم معروف.
 

نواز

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 26، 2021
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
عقرى حلقى
(۱) ثكلتك امك: تمہاری ماں تمہیں روئے یا تجھے تیری ماں گم پائے
(۲) لامك الويل: تیری ماں برباد ہو یا تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ۔
یہ الفاظ تو کتب احادیث میں بے شمار صحابہ کے لیے استعمال کیے گئے ہیں جس یہ بات سمجھ آتی ہے کہ یہ ایک محاورے کہ طور پر استعمال ہوا کرتا تھا ۔
لیکن “ لا اشبع الله بطنه “ اللہ اس کا پیٹ ہی نہ بھرے ۔ یہ محاوہ صرف معاویہ ہی کے لیے استعمال کیوں استعمال ہوا؟؟
 
Top