• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا شرعی دم اور سنگی لگانے کیلئے دکان کھولنا جائز ہے؟

غفران

رکن
شمولیت
دسمبر 12، 2017
پیغامات
14
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
32
دم کرنا کوئی دینی کام نہیں ہے. نہ یہ فرض ہے, نی واجب, نہ سنت اور نہ مستحب.
حضرت آپ کیا کہ رہے ہیں ذرا خود سوچیں ایک طرف آپ دم کرنا سنت سے ثابت ہے بتا رہے ہے نبی کی سنت ہے دوسری طرف آپ کہہ رہا ہے ہے یہ سنت نہیں
 

غفران

رکن
شمولیت
دسمبر 12، 2017
پیغامات
14
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
32
رقیہ شرى اعتبار سے کرے تو جائز ہے بحث اس بات پہ ہو رہی ہے کی کیا کوئی اپنے آپ کو اس علم کے لیے مخصوص کرے یہ سینٹر کھولے جو کی یہ عمل نہ نبی سے نہ صحابہ کی جماعت سے نہ سلف میں سے ملتا ہے اپنے تو رقیہ کرنے کے عمل کو ہی دین سے خارج کر دیا
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,393
ری ایکشن اسکور
2,721
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ان احادیث پر غور کریں!
ترجمة الباب: قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ: «مِنْ كُلِّ مَا ضَاقَ عَلَى النَّاسِ»
ترجمۃ الباب : ربیع بن خثیم تابعی نے بیان کیا کہ مراد ہے کہ تمام انسانی مشکلات میں اللہ پر بھروسہ اختیار کرے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ الجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لاَ يَسْتَرْقُونَ، وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار انسان حساب وکتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے اور نہ شگون لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پرہی بھروسا کرتے ہیں۔“
مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابٌ {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} [الطلاق: 3])

صحیح بخاری: کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں (باب: جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ بھی اس کے لئے کافی ہوگا)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ»، قَالُوا: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَامَ عُكَّاشَةُ، فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ»، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، ادْعُ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»
محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت عمران ﷜ نے مجھے یہ حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’میری امت کے ستر ہزا اشخاص حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ صحابہ کرام نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا:’’وہ ایسے لوگ ہیں جو داغنے کے عمل سے علاج نہیں کراتے، نہ دم ہی کراتے ہیں اور اپنے رب پر کامل بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘ عکاشہ﷜ کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان میں (شامل) کر دے۔آپ نے فرمایا:’’تم ان میں سے ہو ۔‘‘(عمران ﷜نے) کہا: پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا او رکہنے لگا: اے اللہ کے نبی ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے (بھی) ان میں (شامل) کر دے ، آپ نے فرمایا :’’اس میں عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ۔‘‘
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ)
صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: اس بات کی دلیل کہ مسلمانوں میں سے بعض گروہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ»، قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»
حکم بن اعرج نے حضرت عمران بن حصین﷜ سے حدیث سنائی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ صحابہ کرام نے پوچھا:ا ے اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا:’’وہ ایسے لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے ،شگون نہیں لیتے ،داغنے کے ذریعے سے علاج نہیں کرواتے او راپنے رب پر پورا بھروسہ کرتے ہیں ۔‘‘
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ)
صحیح مسلم: کتاب: ایمان کا بیان (باب: اس بات کی دلیل کہ مسلمانوں میں سے بعض گروہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،کہا : ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ ﷺ نے فر ما یا :" اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کو ئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔"
مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

صحيح مسلم: كِتَابُ السَّلَامِ (بَابُ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ)
صحیح مسلم: کتاب: سلامتی اور صحت کابیان (باب: دم جھا ڑ میں کو ئی حرج نہیں ،جب تک اس میں شرک نہ ہو)

@غفران بھائی! اب بتلائیے کہ کسی اور پر دم کرنے اور کسی سے دم کروانے کا معاملہ یعنی رقیہ کا معاملہ امور عبادات میں سے ہے، یا امور معاملات میں سے؟​
 
Last edited:
Top