• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا قبر میں سوالات عربی زبان میں ہوں گے؟

شمولیت
اپریل 21، 2011
پیغامات
36
ری ایکشن اسکور
147
پوائنٹ
71
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!
کیا قبر میں سوالات عربی زبان میں ہوں گے؟ اور کیا اہل جنت کی زبان عربی ہوگی؟ اس بات کی دلیل احادیث سے درکار ہے۔
جزاک اللہ خیرا
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
اس سوال کا جواب تو محترم شیخ دیں گے ہی، لیکن میں آپ کی توجہ مسئلہ کے ایک دوسرے پہلو کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔

یاد رکھئے کہ ہم اس دھرتی پر پیدا ہونے سے پہلے بھی (عالم ارواح میں) ”موجود“ تھے اور بعد از مرگ بھی (عالم برزخ میں) ”موجود“ رہیں گے۔ ہمارے یہ ”تینوں جنم“ ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ ہمارا یہ ”دنیوی جنم“ بہت ہی ”محدود“ ہے، بہ نسبت ہمارے پچھلے اور اگلے ”جنم“ کے ۔ اس دنیوی جنم میں ہماری صلاحیتیں، ہمارے اختیارات، ہمارے حواس، ہمارے جملہ خصوصیات انتہائی محدود ہیں۔

مرنے کے بعد ملنے والی زندگی، اس دنیوی زندگی سے بہت زیادہ ”وسیع“ ہوگی۔ چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ جو زبان (زبانیں) بولنے پر ہم اس دنیا میں قادر ہیں، مرنے کے بعد بھی صرف وہی زبان بول سکیں گے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ”کمیونیکیشن“ کے لئے ہم کسی زبان ہی کے محتاج ہوں۔ آخرت کی زندگی کو اس دنیوی زندگی جیسا نہ سمجھئے۔

لہٰذا ہمیں اس کی فکر نہیں ہونی چاہئے کہ قبر و حشر میں ہم سے سوال و جواب کس زبان میں (یا کسی اور ”میڈیم“ میں) ہوگا۔ ہمیں اصل فکر یہ ہونی چاہئے کہ جو سوال ہم سے پوچھا جائے گا، ان کے جوابات کی تیاری ہم نے کر لی ہے یا نہیں۔

اس کی ایک چھوٹی سی مثال اس طرح بھی دی جاسکتی ہے کہ فرض کریں اقوام متحدہ کے جنرل باڈی اجلاس میں دنیا کے کسی فرد کو طلب کیا جانے والا ہو تاکہ وہ وہاں اپنی ”کارکردگی“ بیان کرسکے اور اس کارکردگی سے متعلق دنیا بھر کے لوگوں کے سوالات یا اعتراضات کا جواب دے سکے۔ اب ایسے فرد کو ساری توجہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر دینی چاہئے۔ یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ میں وہاں کس زبان میں اپنی رپورٹ پیش کروں گا۔ اگر کسی نے فرنچ، عربی، انگلش یا کسی اور زبان میں کچھ پوچھ لیا تو میں کیا کروں گا کہ مجھے تو یہ زبانیں آتی ہیں نہیں۔ اقوام متحدہ کے فورم میں زبانوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ آپ چاہے کسی بھی زبان میں بولیں، ہر زبان کے مترجمین ”لائیو“ ترجمہ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اسی طرح آپ کسی کی تقریر صرف اسی کی زبان میں نہیں بلکہ مترجمین کے توسط سے اپنی پسند کے زبان میں لائیو سن سکتے ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,695
ری ایکشن اسکور
757
پوائنٹ
290
اللہ ، خالق السموات والارض کی قدرت پر سوال هے ، رب العالمین یا تو مردے کو وقت سوال قدرت عطاء کرے گا کے وہ سوالات کا صحیح مفهوم سمجهکر اسکا جواب دے پائے یا تو سوالات کرنے پر معمور ملائکہ کو قدرت عطاء کرے گا کہ وہ مردے کی اپنی زبان میں سوال کرے نیز مردے کے جوابات کو سمجهیں ۔ عدل اللہ کا ازل سے دستور هے ۔
جناب یوسف کی پوسٹ سے اتفاق بهی هے کہ همارا کام جب تک هم زندہ هیں اپنے اعمال کی درستگی کرتے رهیں ۔ اپنی غلطیوں کی معافی طلب کرتے رهیں ۔ اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرتے رهیں ۔
اللہ همیں اپنے پسندیدہ دین پر قائم رکهے اور همارا خاتمہ اسلام پر کرے ۔ قبر کے عذابوں سے بچائے اور دنیا کے تمام فتنوں سے محفوظ رکهے ۔ روز حساب هم پر اپنا انتہائی کرم فرمائے ۔
آمین یا رب العالمین ، یا غفور ، یا کریم
 
شمولیت
اپریل 21، 2011
پیغامات
36
ری ایکشن اسکور
147
پوائنٹ
71
لہٰذا ہمیں اس کی فکر نہیں ہونی چاہئے کہ قبر و حشر میں ہم سے سوال و جواب کس زبان میں (یا کسی اور ”میڈیم“ میں) ہوگا۔ ہمیں اصل فکر یہ ہونی چاہئے کہ جو سوال ہم سے پوچھا جائے گا، ان کے جوابات کی تیاری ہم نے کر لی ہے یا نہیں۔
جزاک اللہ خیرا بھائی۔ بہت خوبصورت نصیحت ہے۔ اللہ ہم سب کے لئے اس منزل میں آسانی پیدا فرمائے۔ آمین
لیکن میرے سوال کا ایک خاص پس منظر ہے۔ جسکی وجہ سے حوالے کی درخواست کی ہے۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,535
پوائنٹ
791
یاد دہانی۔ جزاک اللہ خیرا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ :
( وَأما سُؤال الْملكَيْنِ فَظَاهر الحَدِيث الصَّحِيح أَنه بالعربي لِأَن فِيهِ أَنَّهُمَا يَقُولَانِ لَهُ مَا علمك بِهَذَا الرجل إِلَى آخر الحَدِيث وَيحْتَمل مَعَ ذَلِك أَن يكون خطاب كل أحد بِلِسَانِهِ ) ( الإمتاع بالأربعين المتباينة السماع ص ۱۲۲)
یعنی بظاہر صحیح حدیث سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ قبر میں فرشتوں کے سوال عربی زبان میں ہونگے ۔کیونکہ اس حدیث میں دونوں فرشتے اس سے کہیں گے :تجھے اس شخصیت کے بارے کیسے علم ہوا ۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ ہر شخص سے اس کی زبان میں خطاب ہو ۔انتہی ۔۔الإمتاع بالأربعين المتباينة
اور اس سے دو سطر پہلے لکھتے ہیں :فَلَا أعرف فِيهِ نقلا إِلَّا أَن الَّذِي يقطع بِهِ أَن الحافظين يعرفان لِسَان من وكلا بِهِ ‘‘
اس موضوع پر میں کوئی واضح چیز منقول نہیں جانتا ،ہاں یہ بات طے ہے کہ کراما کاتبین جس آدمی کے ساتھ ہوتے ہیں اس کی زبان جانتے ہیں ‘‘انتہی
اور فتوی اسلام ویب سائیٹ پر اس سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ :
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:
فإن سؤال الملكين من الغيب الذي يجب الإيمان به، ولم يرد في شيء من نصوص الوحي حسب علمنا بيان اللغة التي يسأل الملكان بها أهل القبور، والله قادر على أن يجعل وسيلة للتفاهم بين صاحب القبر وبين الملائكة كما يشاء فهو الفعال لما يريد لا يعجزه شيء في السماوات ولا في الأرض.
وراجع للبسط في الموضوع الفتاوى ذات الأرقام التالية: 20318، 37319، 73960، 99144.
والله أعلم.

یعنی قبر میں فرشتوں کے سوال ایسا غیب ہے جس پر ایمان رکھنا ضروری ہے ۔
اور ہمارے علم کے مطابق وحی (یعنی قرآن و حدیث کی )کوئی نص اس پر وارد نہیں ،کہ قبر میں فرشتے کس زبان میں سوال کریں گے ۔البتہ اللہ تعالی اس بات پر قادر ہے کہ سائل و مسئول کے درمیان سمجھنے سمجھانے کی کوئی صورت بنادے۔اور اللہ کسی چیز سے عاجز نہیں ،وہ جو چاہتا ہے اسے اچھی طرح کر گزرتا ہے ۔انتہی
اور علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
" قال بعض العلماء : يُسأل بالسريانية ، سبحان الله ! السريانية لغة النصارى ، والظاهر - والله أعلم - أن هذا القول مأخوذٌ من النصارى ؛ لأجل أن يفتخروا ويقولوا لغتنا لغة السؤال في القبر لكل ميت .
والذي يظهر أنه يُسأل بما يفهم : إن كان من العرب فباللغة العربية ، إن كان من غير العرب فبلغته " انتهى .
"شرح العقيدة السفارينية" (ص/435) ط :دار الوطن

یعنی بعض علماء کا کہنا ہے کہ :سوال سریانی میں ہونگے ،سبحان اللہ ! سریانی تو نصاری کی بولی ہے ،اور یہ قول بھی نصاری سے ماخوذ ہے ،اور نصاری کا یہ کہنا اس لئے ہے تاکہ وہ فخر کرسکیں اوربتاسکیں کہ ہماری زبان تو قبر سوالات کی زبان ہوگی ۔
شیخ فرماتے ہیں : ظاہر بات یہ ہے کہ قبر میں میت سے اس کی زبان میں سوالات ہونگے،اگر عرب ہے تو سوال عربی میں ۔۔اور غیر عرب ہے تو اس کی اپنی زبان میں ‘‘
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,535
پوائنٹ
791
اور کیا اہل جنت کی زبان عربی ہوگی؟
اس ب ارے میں بھی کوئی واضح نص جو صحیح بھی موجود نہیں؛
اس سوال کا جواب درج ذیل فتوی میں دیا گیا ہے :
هل اللغة العربية هي لغة أهل الجنة
نريد أن نعرف ما هي لغة أهل الجنة وهل هي العربية ؟.


الجواب :

الحمد لله
لم يرد في القرآن أو في السنة الصحيحة – فيما نعلم - بيان اللغة التي يتكلم بها أهل الجنة ، والوارد في ذلك حديث لا يصح عن نبينا صلى الله عليه وسلم ، وبعض الآثار .

یعنی جہاں تک ہم جانتے ہیں قرآن و سنت میں ایسی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ،جو ثابت کرتی ہو کہ اہل جنت کی زبان کون سی ہوگی ۔اس موضوع پر وارد حدیث صحیح نہیں ،جو درج ذیل ہے :
فقد روى الطبراني في الأوسط والحاكم والبيهقي في شعب الإيمان وغيرهم عن ابن عباس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( أحبوا العرب لثلاث لأني عربي ، والقرآن عربي ، وكلام أهل الجنة عربي ) .
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :عرب سے تین وجہ محبت کرو ، ایک تو اسلئے کہ میں عربی ہوں ،دوسرا اسلئے کہ قرآن عربی میں ہے ،تیسری وجہ یہ کہ اہل جنت عربی میں کلام کریں گے ۔(اسے طبرانی ،بیہقی ،اور حاکم نے روایت کیا ہے ۔
وهذا الحديث حكم عليه ابن الجوزي بالوضع ، وقال الذهبي : أظن الحديث موضوعا ، وقال الألباني في السلسة الضعيفة (رقم 160) : موضوع .
لیکن اس حدیث پر امام ابن الجوزی اور امام الذہبی رحمہما اللہ نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے،اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے ۔

قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله : " وكذلك روى أبو جعفر محمد بن عبد الله الحافظ الكوفي المعروف بمطين حدثنا العلاء بن عمرو الحنفي حدثنا يحيى بن زيد الأشعري حدثنا ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( أحب العرب لثلاث : لأنه عربي ، والقرآن عربي ، ولسان أهل الجنة عربي ) قال الحافظ السلفي : هذا حديث حسن . فما أدري أراد حسن إسناده على طريقة المحدثين ، أو حسن متنه على الاصطلاح العام ، وأبو الفرج بن الجوزي ذكر هذا الحديث في الموضوعات ، وقال : قال الثعلبي : لا أصل له ، وقال ابن حبان : يحيى بن زيد يروي المقلوبات عن الأثبات ، فبطل الاحتجاج به ، والله أعلم " انتهى من "اقتضاء الصراط المستقيم" (1/158) .

وروى الطبراني في الأوسط عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( أنا عربي ، والقرآن عربي ، ولسان أهل الجنة عربي ) .

قال الألباني في السلسلة الضعيفة رقم 161 : موضوع .

والحاصل أنه لم يرد دليل صحيح يبين اللغة التي يتكلم بها أهل الجنة ، ولهذا يتعين السكوت عن هذه المسألة وعدم الخوض فيها وتفويض علمها إلى الله تعالى ؛ والانشغال بما يترتب عليه عمل ينفع في تلك الدار .

سئل شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله : بماذا يخاطب الناس يوم البعث ؟ وهل يخاطبهم الله تعالى بلسان العرب ؟ وهل صح أن لسان أهل النار الفارسية وأن لسان أهل الجنة العربية ؟

فأجاب : " الحمد لله رب العالمين لا يُعلم بأي لغة يتكلم الناس يومئذ ، ولا بأي لغة يسمعون خطاب الرب جل وعلا ؛ لأن الله تعالى لم يخبرنا بشيء من ذلك ولا رسوله عليه الصلاة والسلام ، ولم يصح أن الفارسية لغة الجهنميين ، ولا أن العربية لغة أهل النعيم الأبدي ، ولا نعلم نزاعا في ذلك بين الصحابة رضي الله عنهم ، بل كلهم يكفون عن ذلك لأن الكلام في مثل هذا من فضول القول ... ولكن حدث في ذلك خلاف بين المتأخرين ، فقال ناس : يتخاطبون بالعربية ، وقال آخرون : إلا أهل النار فإنهم يجيبون بالفارسية ، وهى لغتهم في النار . وقال آخرون : يتخاطبون بالسريانية لأنها لغة آدم وعنها تفرعت اللغات . وقال آخرون : إلا أهل الجنة فإنهم يتكلمون بالعربية . وكل هذه الأقوال لا حجة لأربابها لا من طريق عقلٍ ولا نقل بل هي دعاوى عارية عن الأدلة والله سبحانه وتعالى أعلم وأحكم " انتهى من "مجموع الفتاوى" (4/299).


والله أعلم .
الإسلام سؤال وجواب
 
Top