• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا قرآن کی صرف ایک قراءت درست ہے؟

عمران اسلم

رکن نگران سیکشن
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
1,607
پوائنٹ
204
مجھے یاد ہے دوران تعلیم ہمارے ایک استاد نے، جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا، ہمیں ایک سرائیکی لفظ ’ ݙاݙا ‘ (جسے ہم اپنی زبان میں ’دادا‘ بولتے ہیں) سرائیکی تلفظ کے ساتھ بولنے کا چیلنج دیا تھا، جسے ہم لوگ کوشش کے باوجود درست تلفظ کے ساتھ نہیں بول پائے تھے۔ برسوں پرانی یہ بات تب یاد آئی جب غامدی صاحب کے قریبی شاگرد حسن الیاس صاحب کی یوٹیوب پر وہ ویڈیوز دیکھیں جس میں انھوں نے وراثت کے موضوع پر غامدی صاحب کا موقف قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔
سورۃ نساء کی آیت 12 اور 176 میں اللہ تعالیٰ نے مختلف ورثاء کے حصے بیان کیے ہیں۔ آیت 12 میں بھی بہن کے حصہ کا تذکرہ ہے اور 176 میں بھی۔ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ آیت 12 میں أخت سے ماں شریک یعنی اخیافی بہن مراد ہے، کیونکہ حقیقی بہنوں کا حصہ آیت 176 میں بیان ہوا ہے۔ اس بات کی تائید ایک دوسری قراءت سے بھی ہوتی ہے، جس میں "أخت من أم" کا اضافہ ہے۔ حسن الیاس صاحب نے اس ضمن میں غامدی صاحب کا موقف بیان کرتے ہوئے ایک قراءت کے علاوہ باقی تمام قراءات کا سختی سے رد کیا ہے۔ ان کے بقول قراءات قرآنیہ کو ماننے کا مطلب ہے کہ قرآن کے ایک سے زیادہ ورژن موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’ پوری امت کے پاس ایک قرآن موجود ہے، جو مراکش سے لے کے انڈونیشیا تک پڑھا پڑھایا جاتا ہے۔ چھاپا جاتا، یاد کیا جاتا ہے۔‘‘
موصوف نے جو دعویٰ کیا ہے کہ مراکش سے ملائیشیا تک ایک ہی قراءت (یعنی روایت حفص) پڑھی جاتی ہے تو ان کو چاہیے ذرا مراکش کے لوگوں کی تلاوت سننے کی زحمت فرمائیں وہاں کے بے شمار لوگ روایت ورش پڑھتے ہیں اور کوشش کے باوجود ’روایت حفص‘ میں تلاوت کرنا ان کے لیے خاصا مشکل ہے۔ غامدی صاحب اور حسن صاحب اس وقت امریکہ میں ہیں، جہاں شمالی افریقہ کے بھی ہزاروں مسلمان موجود ہوں گے، ذرا ان سے تلاوت قرآن سن کے دیکھیں اور انھیں ’ہماری قراءت‘ کے مطابق تلاوت کی تلقین کریں۔اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ قرآن صرف وہ ہے جس کو پوری امت پڑھتی ہے، تو اس وقت امت میں چار روایات: حفص، ورش، قالون اور دوری پڑھی جا رہی ہیں۔ دنیا کے تقریباً چالیس ممالک میں روایت ورش پڑھی جا رہی ہے۔ ایک سے زائد قراءات قرآنیہ کو قولی تواتر بھی حاصل ہے اور عملی بھی۔ کہ دنیا کے کروڑوں مسلمان صدیوں سے مختلف قراءات میں قرآن پڑھتے پڑھاتے چلے آ رہے ہیں۔ فرض کیجئے اگر یہ روایات نہ بھی پڑھی جا رہی ہوتیں، پھر بھی ان قراءات کو درست سمجھنا ضروری ہوتا، کیونکہ اہل علم متفق ہیں کہ عشرہ ائمہ کی قراءات قطعی و یقینی سند سے اللہ کے رسولﷺ سے ثابت ہیں۔ لہٰذا یہ سب قراءات امت کے اجماع سے ثابت ہوئی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جس قراءت کو آپ ’ہماری قراءت‘ کہہ رہے ہیں۔ وہ آپ تک پہنچنے کا ذریعہ کیا ہے؟ جن ذرائع سے روایت حفص(جسے غامدی صاحب قراءت عامہ کا نام دیتے ہیں) آپ تک پہنچی ہے، بالکل انھی ذرائع سے دیگر قراءات ہم تک پہنچی ہیں۔یہ قراءات صحابہ و تابعین سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں اور رسم عثمانی کے حدود کے اندر ہیں۔کیا کروڑوں کی تعداد میں یہ مسلمان غیر قرآن کو قرآن سمجھے بیٹھے ہیں؟
اگر ایک سے زیادہ قراءات غامدی صاحب اور حسن صاحب کو قرآن کے ایک سے زیادہ ورژن معلوم پڑتے ہیں تو اطلاعاً عرض ہے کہ خود روایت ِحفص میں بھی قرآنِ مجید کے کئی الفاظ کی دو دو قراء تیں درست ہیں ۔ جیسے:
سورۃ الطورکی آیت نمبر ۳۷میں ہے: ﴿اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمْ ھُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ﴾یہاں لفظ الْمُصَیْطِرُوْنَ کو الْمُسَیْطِرُوْنَ بھی پڑھا جاتا ہے۔ روایت حفص میں ’ص‘ اور ’س‘ دونوں طرح منقول ہے۔
سورۃ الروم کی آیت نمبر۵۴ میں ﴿خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ﴾ میں لفظ ضُعْفٍ کی ض کو زبر اور پیش دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ تو کیا اس کو بھی موصوف اس آیت کا دوسرا ورژن قرار دیں گے؟
اگر انگلش کے لفظ Schedule کو ’ شیڈول‘یا ’ سیکجوئل‘ پڑھنے سے انگلش کو کچھ فرق نہیں پڑتا ہے تو ثابت شدہ متواتر قراءات میں سے کسی کے بھی مطابق پڑھنے سے قرآن قرآن ہی رہتا ہے۔ اور یہ وہ سہولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطاء فرمائی ہے۔ اگر پنجابی اور اردو بولنے والوں کو دادا کے بجائے ’ݙاݙا‘ بولنے کا پابند کیا جائے گا تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔
 
Top