• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مشرک اور بے نمازی کا ذبیحہ حرام ہے؟

شمولیت
اپریل 10، 2021
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
9
پوائنٹ
21
بسم الله الرحمن الرحيم سوال نمبر#0165 =========================
سوال: کیا مشرک اور بے نمازی کا ذبیحہ حرام ہے؟ اکبار علماء میں سے کون اسکا قائل ہے، کیا اہل کتاب بھی اسی میں آتے ہیں؟
جواب:
مشرک کا ذبیحہ قرآن، سنت اور اجماع تینوں شرعی دلائل سے حرام ہے۔ خواہ وہ مشرک اصلی مشرکین میں سے ہو یا مرتد مشرکین(اسلام کے نام لیوا مشرکین) میں سے ہو، جیسے مردوں سے اپنی مرادیں طلب کرنے والے قبر پرست اور پیر پرست وغیرہ۔ 1. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے فقط اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے ذبیحے کی حلت کو مستثنیٰ کیا ہے خاص ان کے ذبیحوں کی حلت کا ذکر کر کے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ کفار و مشرکین کے ذبیحے اپنی اصل یعنی حرمت پر باقی ہیں۔ 2. احادیث میں بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط اہل کتاب کے ذبیحوں کو مستثنی کیا ہے۔ جبکہ ان کے علاوہ کفار و مشرکین کے ذبیحوں کو اپنی اصل یعنی حرمت پر باقی رکھا ہے۔ 3. اس لیے اہل کتاب کے علاوہ کفار و مشرکین کے ذبیحوں کی حرمت پر اجماع ہے۔ لہذا قرآن، سنت اور اجماع سے مشرکین کے ذبیحوں کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے اللہ کی کتاب "قرآن حکیم" سے ثابت کرتے ہیں۔ 1. اہل کتاب کے علاوہ مشرکین کے ذبیحوں کی حرمت کا ثبوت قرآن سے: فرمان باری تعالیٰ ہے: وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ} اس آیت کے ضمن میں مفسرین کی آراء دیکھتے ہیں۔ 1. امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: (وقوله: "وطعام الذين أوتوا الكتاب حلٌّ لكم "، وذبائحُ أهل الكتاب من اليهود والنصارى وهم الذين أوتوا التوراة والإنجيل وأنـزل عليهم, " حل لكم " (176) يقول: حلالٌ لكم، أكله دون ذبائح سائر أهل الشرك الذين لا كتاب لهم من مشركي العرب وعبدة الأوثان والأصنام) "اور اللہ کا فرمان:" و طعام الذین أوتوا الکتاب حل لکم" اس سے مراد یہود و نصاریٰ کے ذبیحے ہیں۔ جنہیں تورات اور انجیل دی گئی اور ان پر اتاری گئی۔ "حل لکم" کا مطلب ہے "حلال لکم " یعنی تمہارے لیے انہیں کھانا حلال ہیں سوائے ہر قسم کے مشرکین کے ذبیحوں کے جنہیں کتاب نہیں دی گئی مشرکین عرب میں سے ہوں یا دیگر اصنام اور اوثان کو پوجنے والے مشرک۔" [نوٹ: اصنام صنم سے ہے مورتی کو کہتے ہیں یعنی بت کو۔ اوثان وثن سے ہے، ہر اس جاندار یا غیرجاندار(بے جان) عاقل یا غیر عاقل مخلوق کو کہتے ہیں جسے اللہ کی عبادت میں شریک کیا جاتا ہو۔ وثن کی تعریف میں انسان، جن، پتھر، درخت، گائے، سانپ غرضیکہ ہر مخلوق داخل ہے] 2. امام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: (قوله تعالى : وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم ابتداء وخبر ، والطعام اسم لما يؤكل والذبائح منه ، وهو هنا خاص بالذبائح عند كثير من أهل العلم بالتأويل ، وأما ما حرم علينا من طعامهم فليس بداخل تحت عموم الخطاب ولا بأس بأكل طعام من لا كتاب له كالمشركين وعبدة الأوثان ما لم يكن من ذبائحهم ولم يحتج إلى ذكاة ;) "اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: طعام کہتے ہیں کھانوں اور ذبیحوں کو۔ لیکن بیشتر اہل علم کے نزدیک یہاں طعام سے خاص طور پر ذبیحے مراد ہیں۔ جہاں تک ان کے ان کھانوں کا تعلق ہے جو ہم پر حرام ہیں(جیسے شراب، خنزیر کا گوشت وغیرہ)تو وہ اس عمومی خطاب کے تحت داخل نہیں. مشرکین کے کھانے تناول کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرط یہ کہ وہ ذبیحے نا ہوں اور انہیں ذبح کرنے کی ضرورت نا پڑتی ہو۔" 3. امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں: ثم ذكر حكم ذبائح أهل الكتابين من اليهود والنصارى فقال : ( وطعام الذين أوتوا الكتب حل لكم ) قال ابن عباس وأبو أمامة ومجاهد وسعيد بن جبير وعكرمة وعطاء والحسن ومكحول وإبراهيم النخعي والسدي ومقاتل بن حيان : يعني ذبائحهم . وهذا أمر مجمع عليه بين العلماء ؛ أن ذبائحهم حلال للمسلمين...... فدل بمفهومه - مفهوم المخالفة - على أن طعام من عداهم من أهل الأديان لا يحل) "پھر اھل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے ذبیحوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ابن عباس، ابو أمامہ، مجاھد، سعید ابن جبیر، عکرمہ، عطاء، حسن بصری، مکحول، ابراہیم نخعی، سدی، مقاتل ابن حیان رحمہم اللہ نے فرمایا: طعام سے مراد یعنی ان کے ذبیحے تمہارے لیے حلال ہیں۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس پر علماء کا اجماع ہے کہ اہل کتاب کے ذبیحے مسلمانوں کے لیے حلال ہیں۔ (امام احمد بن حنبل کی بات نقل کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:"دلالت النص سے اس آیت کا مفہوم مخالف یہ حکم واضح کرتا ہے کہ اہل کتاب کے علاوہ دیگر ادیان کے ذبیحے حلال نہیں۔" میں فقط ان تین مستند مفسر ہستیوں پر اکتفا کرتا ہوں ورنہ تمام مفسرین کا اس آیت کی تفسیر میں مؤقف یکساں ہے۔ 2. مشرکین کے ذبیحوں کی حرمت پر وارد أحاديث: 1. امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نبی ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
(فإذا اشتريتم لحمًا، فإن كان من يهودي، أو نصراني، فكلوا، وإن كان من ذبيحة مجوسي، فلا تأكلوا) "پس جب تم گوشت خریدو اور بیچنے والا یہودی یا عیسائی ہو تو اس سے لے کر کھاؤ۔ اور اگر ذبیحہ مجوسی کا ہو تو اسے مت کھاؤ۔" [کتاب المغنی جلد 4 صفحہ 570] بے نمازی کے ذبیحے کا حکم: جہاں تک بے نمازی کا مسئلہ ہے تو اس کی دو حالتیں ہیں: اول: اس کا نماز ادا نا کرنا غالب ہو۔ دوم: کبھی کبھار نماز ترک کرتا ہو۔ پہلی صورت یعنی اگر اس کا نماز ترک کرنا غالب ہو یعنی اکثر و بیشتر وہ نماز نا پڑھتا ہو تو پھر وہ جمہور علماء کرام کے مؤقف کے مطابق مرتد کافر اور مشرک ہے۔ لہذا اس کا ذبیحہ بھی حرام ہے کیونکہ مرتد کافر اور مشرک جو ہوا جیسا کہ احادیث میں بے نمازی کو مشرک کہا گیا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:(بين الرجل وبين الشرك أو الكفر ترك الصلاة ) [رواه مسلم]. "آدمی اور شرک اور کفر کے بیچ حد فاصل ترک نماز ہے۔ جبکہ دوسری صورت یعنی کبھی کبھار نماز ترک کرنے والی صورت ہے اس میں وہ دین سے مرتد ہو کر کافر اور مشرک تو نہیں ہوتا البتہ فاسق ضرور ہے۔ فاسق کی شرعی تعریف: وہ بندہ جو کبیرہ گناھوں کا مرتکب ہو اور صغیرہ گناھوں پر مداومت (ہمیشگی) اختیار کیے ہوئے ہو۔ لہذا فاسق کا ذبیحہ حلال ضرور ہے۔ کھا سکتے ہیں آپ لیکن ورع اور تقوی اختیار کرتے ہوئے اور فاسق کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے اس کا نا کھانا بہتر ہے۔ لیکن جب ایک علاقے میں عادل مسلمان کا ذبیحہ موجود ہو اور ساتھ میں فسقاء اور اھل کتاب کا ذبیحہ بھی موجود ہو تو ترجیح مسلمان کے ذبیحے کو دی جائے گی کیونکہ وہ الحمد للہ ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ واللہ المستعان۔ والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام۔
 
Top