• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا معراج پر بعض اصحاب رسول مرتد ہوئے؟

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
کیا معراج پر بعض اصحاب رسول مرتد ہوئے؟

ایک روایت کتاب دلائل النبوه از البیہقی کی ہے جس کو شیعہ اور یہاں تک کہ اہل سنت بھی پیش کرتے رہتے ہیں کہ معراج کی خبر پر بعض اصحاب رسول مرتد ہوئے- روایت ہے-



أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمِهْرَانِيُّ الْمُزَكِّي قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ [ص:361] الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى أَصْبَحَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَارْتَدَّ نَاسٌ مِمَّنْ كَانُوا آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، وَسَعَوْا بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِكَ؟ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ فِي اللَّيْلِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: أَوَقَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: وَتُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ , إِنِّي لَأُصَدِّقُهُ بِمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ: أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ أَوْ رَوْحَةٍ. فَلِذَلِكَ سُمِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقَ

عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسجد الاقصی تک سیر کی اس سے اگلی صبح جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ بات لوگوں میں ذکر کیا تو
بہت سے لوگ مرتد ہو گئے جو اس سے پہلے با ایمان اور (حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی) تصدیق کرنے والے تھے. کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کیا آپ کو اپنے صاحب کے بارے میں کچھ معلوم ہے وہ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ وہ راتوں رات بیت المقدس سے ہو کر مکہ واپس آ گئے ہیں. حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کیا واقعی انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں بالکل کہی ہے. حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میں شہادت دیتا ہوں کہ اگر انہوں نے یہ بات کہی ہے تو سچ ہے! لوگوں نے کہا کیا آپ تصدیق کرتے ہیں کے وہ ایک ہی رات میں شام تک چلے گئے اور واپس مکہ صبح ہونے سے پہلے آ گئے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! میں ان کی تصدیق اس سے دور مسافت پر بھی کرتا ہوں کیونکہ میں اس کی تصدیق آسمانوں کی خبر کی صبح و شام کرتا ہوں. راوی کہتے ہیں اسی معاملے کے بعد ان کا لقب صدیق مشہور ہو گیا.

أخرجه الحاكم في «المستدرك» (3: 62- 63) ، وقال: «هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه» ، ووافقه الذهبي، وأخرجه ابن مردويه من طريق هشام بن عروة، عن أبيه، عنها.


امام حاکم نے اس کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے

اس کی سند میں محمد بن كثير الصنعاني المصيصي ہے کتاب الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط کے مطابق

قال ابن سعد ـ:ـ يذكرون أنه اختلط في آخر عمره



ابن سعد نے کہا ذکر کیا جاتا ہے یہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار تھا


عقیلی نے اس کا الضعفاء میں ذکر کیا ہے

قال عبد الله بن أحمد: ذكر أبي محمد بن كثير المصيصي فضعفه جدًا، وقال سمع من معمر، ثم بعث إلى اليمن فأخذها فرواها، وضعف حديثه عن معمر جدًا وقال: هو منكر الحديث، أو قال: يروي أشياء منكره. «العلل» (5109) .

عبد الله بن امام احمد نے کہا میں نے باپ سے محمد بن کثیر کا ذکر کیا انہوں نے شدت سے اس کی تضعیف کی اور کہا اس نے معمر سے سناپھر یمن گیا ان سے اخذ کیا اور روایت کیا اور یہ معمر سے روایت کرنے میں شدید ضعیف ہے اور یہ منکر الحدیث ہے


مستدرک میں امام الذھبی سے غلطی ہوئی ایک مقام پر اس روایت کو صحیح کہا ہے-



أَخْبَرَنِي مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: ” لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى أَصْبَحَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَارْتَدَّ نَاسٌ فَمَنْ كَانَ آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، وَسَمِعُوا بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِكَ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: أَوَ تُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لَأَصُدِّقُهُ فِيمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ فِي غَدْوَةٍ أَوْ رَوْحَةٍ، فَلِذَلِكَ سُمَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»


[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4407 – صحيح

لیکن آگے جا کر اس کو تلخیص میں نقل نہیں کیا لہذا محقق کہتے ہیں یہ ضعیف تھی

حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ الزَّاهِدُ، بِبَغْدَادَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمُ الْبَلَوِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مَعْمَرُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: ” لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى أَصْبَحَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَارْتَدَّ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، وَسَعَى رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِكِ يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ قَالَ: أَوَقَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: أَوَ تُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَةَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَجَاءَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، إِنِّي لَأَصُدِّقُهُ فِي مَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ أُصَدِّقُهُ فِي خَبَرِ السَّمَاءِ فِي غُدْوَةٍ أَوْ رَوْحَةٍ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ، «فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيَّ صَدُوقٌ»


[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4458 – حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه


اس طرح کی ایک روایت مسند احمد میں ابن عباس سے مروی ہے

حسنه الألباني في كتاب الإسراء والمعراج ص76، وقال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده صحيح. وصححه الحافظ ابن كثير في “تفسيره” 5/26.


البانی نے كتاب الإسراء والمعراج ص76 میں اس کو حسن کہہ دیا ہے اور ابن کثیر ، شعیب اور احمد شاکر نے صحیح کہا


مسند احمد میں ہے

22.jpg


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِيرِهِمْ فَقَالَ نَاسٌ قَالَ حَسَنٌ نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ فَارْتَدُّوا كُفَّارًا … وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ … الی آخر الحدیث

(مسند احمد جلد 3 صفحہ477-478 روایت نمبر 3546 مکتبہ دار الحدیث قاہرہ ،مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 476-477 روایت نمبر 3546، مکتبۃ الشاملہ)

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیت المقدس کی سیر کرائی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی رات واپس بھی آ گئے اور قریش کو اپنے جانے کے متعلق اور بیت المقدس کی علامات اور ان کے ایک قافلے کے متعلق بتایا، کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس بات کی کیسے تصدیق کر سکتے ہیں، یہ کہہ کر وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے…اسی شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا نہ کہ خواب میں.

سند ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَحَسَنٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ حَسَنٌ أَبُو زَيْدٍ: قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ


اس کی سند میں هلال بن خباب البصري کا تفرد ہے

ابن القطان: تغير بأخرة


ابن القطان کہتے ہیں یہ آخری عمر میں تغير کا شکار تھا


کتاب الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط کے مطابق

قال يحيى القطان أتيته وكان قد تغير وقال العقيلي في حديثه وهم وتغير بأخرة


ابن حبان ، الساجی ، عقیلی، ابن حجر سب کے مطابق یہ راوی اختلاط کا شکار تھا


ابن حبان کہتے ہیں ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به إذا انفرد.


اس کی منفرد روایت سے دلیل نہ لی جائے


aaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaa

ختم نبوت فورم پر


ان احادیث سے دلیل بھی لی گئی-
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
اس موقعے پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رد عمل ہی ایک پکے سچے مسلمان کے لیے مشعل راہ ہونا چاہے ۔
اگر اس دور میں کوئی ایمان لانے کے بعد واقعہ معراج میں شک کی بنیاد پر کافر ہوگیا ، تو انسان کو ایسے رویے سے بچنا چاہیے ، آج بھی لوگ احادیث رسول کو عقلی کسوٹیوں پر رد کرکے شاید وہی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,648
ری ایکشن اسکور
741
پوائنٹ
290
اللہ تعالی سے ہمیشہ خصوصی دعائیں مسلسل مانگتے رہنا چاہیئے کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں هر آزمائش میں ثابت قدم رکهے ، ایمان پر قائم رکهے اور ایمان پر ہی ہمارا خاتمہ کرے ۔
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,406
ری ایکشن اسکور
1,099
پوائنٹ
412
اس موقعے پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رد عمل ہی ایک پکے سچے مسلمان کے لیے مشعل راہ ہونا چاہے ۔
اگر اس دور میں کوئی ایمان لانے کے بعد واقعہ معراج میں شک کی بنیاد پر کافر ہوگیا ، تو انسان کو ایسے رویے سے بچنا چاہیے ، آج بھی لوگ احادیث رسول کو عقلی کسوٹیوں پر رد کرکے شاید وہی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہیں اس حدیث پر کلام کیا ہے. اور انھوں نے مرتد والے ٹکڑے کو شاید صحیح نہیں بتایا ہے (ایسا مجھے یاد آتا ہے).
 

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہیں اس حدیث پر کلام کیا ہے. اور انھوں نے مرتد والے ٹکڑے کو شاید صحیح نہیں بتایا ہے (ایسا مجھے یاد آتا ہے).
حوالہ ملا تو ضرور یہاں دیجیے گا - شکریہ
 
Top