محدث میڈیا
رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,017
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 96
مور كا گوشت كھانا جائز ہے؛ كيونكہ اصول یہ ہے کہ کھانے کی ہر چیز حلال ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً (البقرة:29)
’’وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘
احادیث مبارکہ میں جن جانوروں کو کھانے سے منع کیا گیا ہے، ان میں سے مور نہیں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
((نَهَى رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عن أكلِ كُل ذي نَاب مِنَ السَّباعِ، وعن كُلِّ ذي مِخْلَبٍ من الطير)). (سنن أبي داود، الأطعمة: 3803، سنن ابن ماجه، الصيد: 3234) (صحيح).
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے جانور اور ہر چنگال والے پرندے (جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہے) کو کھانے سے منع کیا ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
ارشاد باری تعالی ہے:
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً (البقرة:29)
’’وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘
احادیث مبارکہ میں جن جانوروں کو کھانے سے منع کیا گیا ہے، ان میں سے مور نہیں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
((نَهَى رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عن أكلِ كُل ذي نَاب مِنَ السَّباعِ، وعن كُلِّ ذي مِخْلَبٍ من الطير)). (سنن أبي داود، الأطعمة: 3803، سنن ابن ماجه، الصيد: 3234) (صحيح).
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے جانور اور ہر چنگال والے پرندے (جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہے) کو کھانے سے منع کیا ہے۔‘‘
والله أعلم بالصواب.