• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا مکان کے لیے جمع کیے گئے پیسوں پر زکوٰۃ دینا ہو گی

عمیر

تکنیکی ذمہ دار
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
714
پوائنٹ
199
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

اگر کوئی شخص کرایہ کے مکان میں رہتا ہے اور خاص اپنا مکان بنانے کے لیے پیسے جمع کرتا ہے، ہر سال وہ کچھ پیسے جمع کرتا ہے جو کہ نصاب کی رقم سے زائد ہو جاتے ہیں. تو کیا ان پیسوں پر اسے زکوٰۃ دینا ہو گی؟
ساتھ ہی اگر اُنہیں جمع کئے گئے پیسوں میں سے اُس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی قرض دے رکھا ہو تو کیا اس قرضے والی رقم پر بھی زکوٰۃ دینا ہو گی؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
السلام علیکم و رحمۃ اللہ،

اگر کوئی شخص کرایہ کے مکان میں رہتا ہے اور خاص اپنا مکان بنانے کے لیے پیسے جمع کرتا ہے، ہر سال وہ کچھ پیسے جمع کرتا ہے جو کہ نصاب کی رقم سے زائد ہو جاتے ہیں. تو کیا ان پیسوں پر اسے زکوٰۃ دینا ہو گی؟
ساتھ ہی اگر اُنہیں جمع کئے گئے پیسوں میں سے اُس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی قرض دے رکھا ہو تو کیا اس قرضے والی رقم پر بھی زکوٰۃ دینا ہو گی؟
مکان خریدنےکے لئے رکھی گئی رقم پرزکوة
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 August 2013 12:40 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
١۔سعودی عرب سے پیسے بھیجے کہ میرے لیے مکان خرید لیا جاے، کیونکہ پاکستان میں میرا مکا ن نہیں ہے، تاکہ چند ما ہ بعد واپس آ کر رہائش رکھ سکوں۔ سال ختم ہونے کے باوجود مکان نہ خریدا جا سکا،کیا اس رقم پر زکوة ہے، یہ رقم ابھی مکان خریدنے کیلیے مخصوص ہے۔؟
٢۔ صاحب نصاب درمیان سال رقم میں اضافہ کر لیتا ہے۔ اس رقم پر زکوة کا کیا حکم ہے۔؟
٣۔ زکوات کا حقدار اگر عمرہ کی خواہش کرے تو اسے زکوة سے عمرہ کروایا جا سکتا ہے۔؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

١۔جب تک آپ مکان خرید نہیں لیتے ،اس وقت تک آپ کو ہر سال اس رقم کی زکوة ادا کرنی ہو گی۔
۲۔صاحب نصاب کا مال اگر درمیان سال میں زیادہ ہو جاتا ،تو جب وہ زکوة نکالے گا ،اس وقت مجموعی مال کو شمار کر کے زکوة دے گا،خواہ وہ سال کے شروع میں حاصل ہوا ہے یا درمیان میں یا آخر میں۔زکوة دیتے وقت سارے مال کو شمار کیا جائے۔
۳۔زکوة کے مستحق کو آپ زکوة دے دیں ،اب وہ اس کی ملکیت ہے ،وہ اسے جس طرح چاہے خرچ کرے،اسے اختیار ہے۔
ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب
محدث فتوی

فتوی کمیٹی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
جمع کئے گئے پیسوں میں سے اُس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی قرض دے رکھا ہو تو کیا اس قرضے والی رقم پر بھی زکوٰۃ دینا ہو گی؟
قرض میں دیئے گئے مال پر بھی زکٰوۃ ادا کرنا ہوگی ، اگر قرض میں دیا گیا مال واپس ملنے کی قوی امید ہو
اور اگر واپس ملنا مشکل و ناممکن نظر آئے تو جب تک واپس نہ مل جائے زکاۃ واجب نہیں ، ایسا قرض جب واپس ملے تو ایک سال کی زکاۃ ادا کردی جائے
زكاة الدين
س ـ لي دين عند أحد الإخوة فهل تلزمني زكاته؟
ج ـ إذا كان الدَّين الذي لك على موسرين باذلين متى طلبته أعطوك حقك، فعليك أن تزكيه، كلما حال عليه الحول، كأنه عندك وهو عندهم كالأمانة، أم أن كان من عليه الدين معسراً لا يستطيع أداءه لك، أو كان غير معسر لكنه يماطلك ولا تستطيع أخذه منه، فالصحيح من أقوال العلماء، أنه لا يلزمك أداء الزكاة عنه، حتى تقبضه من هذا المماطل أو المعسر، فإذا قبضته استقبلت به حولاً وأديت الزكاة بعد تمام الحول من قبضك له، وإن أديت الزكاة عن سنة واحدة من السنوات السابقة التي عند المعسر أو المماطل فلا بأس، قال هذا بعض أهل العلم ولكن لا يلزمك إلا في المستقبل متى قبضت المال من المعسر أو المماطل، واستقبلت به حولاً، ودار عليه الحول لزمتك الزكاة هذا هو المختار.
الشيخ ابن باز رحمہ اللہ
فتاوى إسلامية
لأصحاب الفضيلة العلماء
سماحة الشيخ: عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ)
فضيلة الشيخ: محمد بن صالح بن محمد العثيمين (المتوفى: 1421هـ)
فضيلة الشيخ: عبد الله بن عبد الرحمن الجبرين (المتوفى: 1430هـ)
إضافة إلى اللجنة الدائمة، وقرارات المجمع الفقهي
المؤلف (جمع وترتيب) : محمد بن عبد العزيز بن عبد الله المسند
الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
زكاة المال المقرض
س ـ أقرضت شخصاً مبلغاً من المال، وحال عليه الحول، ولم يسد فهل أدفع الزكاة أم أنتظر حتى يسدد، ثم أخرج عن سنة عند القبض؟!
د ـ متى كان الدين أو القرض عند شخص غني موسر تقدر على أخذه منه متى أردت فإن فيه الزكاة كل عام، لأنه بمنزلة الأمانة، وسواء تركته عنده للتوسعة عليه أو لعدم حاجتك إليه، أما إن كان الدين أو القرض عند معسر أو مماطل أو عاجز عن الوفاء فإن المختار والراجح أنه لا زكاة فيه حتى تقبضه، فإذا قبضته فأخرج زكاته عن سنة واحدة. ولو بقي عند الغريم عدة سنوات والله أعلم.
الشيخ ابن جبرين

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ترجمہ :
قرض پر دیئے ہوئے مال پر زکوٰۃ
سوال :
میں نے ایک شخص کو کچھ مال قرض دیا ہوا ہے ،جس پر ایک سال گزر چکا ہے ،اور اس نے ابھ تک واپس نہیں کیا، تو کیا میں اس مال کی زکوٰۃ ادا کروں ،یا اسکی واپسی کا انتظار کروں ، اور پھر قبضہ میں لینے کے بعد ایک سال کی زکوٰۃ ادا کردوں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب :
اگر قرض کسی دولت مند اور خوش حال انسان کے پاس ہو ،اور صورت ایسی ہو کہ آپ جب چاہیں اس سے واپس لے لیں ، تو اس صورت میں ہر سال زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا ،کیونکہ اس طرح گویا مال اس کے پاس امانت ہے ،خواہ آپ نے اس کی سہولت کیلئے اس کے پاس مال چھوڑ رکھا ہو ، یا ابھی آپ کو اس مال کی ضرورت ہی نہ ہو ،
اور اگرقرض کسی تنگ دست ،یا ٹال مٹول کرنے والے ، یا ادا نہ کرسکنے والے کے پاس ہو ، تو مختار قول اور راجح یہی ہے کہ اس مال میں اس وقت تک زکاۃ نہیں جب تک آپ اسے واپس قبضہ میں نہیں لے لیتے ،
اور جب آپ واپس قبضہ میں لے لیں تو اس مال پر ایک سال کی زکوٰۃ اادا کرنا ہوگی ،اگر وہ مقروض کے پاس کئی سال رہا ہو ،
فضيلة الشيخ العلامة عبدالله بن عبدالرحمن ابن جبرين
فتاوی اسلامیہ جلد ۲
 

محمد عارف

مبتدی
شمولیت
مئی 23، 2016
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
9
اسلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک شخص کے تین گھر ھیں جو کرایے پر ھیں. یہ شخص کرایے پر زکوۃ دے گا یا گھر کی قیمت پر... مزید یہ کہ خالی پلاٹ پر زکوۃ کا کیا حکم ھے.
جزاک اللہ خیرا

Sent from my ZUK Z1 using Tapatalk
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
ایک شخص کے تین گھر ھیں جو کرایے پر ھیں. یہ شخص کرایے پر زکوۃ دے گا یا گھر کی قیمت پر...
Sent from my ZUK Z1 using Tapatalk
کرائے کے مکان پر زکوۃ اس کی قیمت پر نہیں بلکہ اس سے حاصل کردہ آمدن پر ہوتی ہے ،بشرطیکہ وہ رقم نصاب کو پہنچ جائے اور اسے استعمال میں لائے بغیر اس پر ایک سال گزر جائے۔
مزید یہ کہ خالی پلاٹ پر زکوۃ کا کیا حکم ھے.
یہ پلاٹ اگر تجارتی مقصد سے خرید رکھا ہے اور اس کی مارکیٹ قیمت زکوۃ کے نصاب تک پہنچ جاتی ہے تو ہر سال اس کی متوقع قیمت کے حساب سے اڑھائی فیصد زکوۃ دینا ہو گی۔ اور اگر رہنے کے لئے خریدا ہے تو پر اس پر کوئی زکوۃ نہیں ہے۔ کیونکہ شریعت میں گھر پر زکوۃ نہیں ہے۔
کرائے کے مکان کی زکاۃ
مزید تفصیل یہاں دیکھیں ۔
 
Top