• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا میں ان مدات میں زکوۃ دی سکتی ہو؟

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں ؟
میں عموما مندرجہ ذیل مدات میں اپنی زکوة خرچ کرتی ہوں کیا میرا یہ عمل قرآن وسنت کے موافق ہے ؟؟ مندرجہ ذیل مدات میں کوئی ایسا مد تو نہیں جس میں زکوة خرچ کرنا منع ہو یا گناہ ہو ؟ نیز یہ بھی رہنمائی فرمائے کہ سب سے بہترین مد زکوة خرچ کرنے کے لیے کونسی ہے خواہ وہ ان مدات میں ہو یا وہ کوئی اور مد ہو برائے مہربانی ان کی واضح نشاندہی فرمائیں تاکہ میں اس میں بھی اپنی زکوة خرچ کرو ں اور مجھے زیادہ ثواب مل جائے
کیا زکوة ان مدات میں دی جا سکتی ہے؟
(۱)قرآن پڑھانے والے استاذ کو تنخواہ کے طور پردینا
(۲) کسی کو راشن خرید کر یا راشن کی مد میںدینا
(۳)غریب بچوں کی اسکول کی فیس کے لیے
(۴)شادی کی مد میں
(۵)کوئی کپڑا (جوڑے) یا کوئی اور سامان خرید کر
(۶)جو اسلامی تعلیم کے ساتھ اسکول کھول رہے ہیں ان کے ٹیچرز کی تنخواہ یا جگہ کا کرایہ یا بچوں کو نصاب خرید کر دیا جائے۔
(۷)گھر بنانے کی مد میں جن کے گھر قدرتی آفات کی وجہ سے ٹوٹ جائیں۔
(۸)غریب مریضوں کو دوائیوں کے لیے یا ٹیسٹ یا آپریشن کی مد میں یا کسی قسم کی مشین لگانے کے لیے جیسے نیمبولائزر وغیرہ۔
(۹)زکوة دینے کا جو طریقہ بتایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسے شخص کو زکوة دیں جو اس کا مستحق پھر وہ اپنی جانب سے ان کاموں میں خرچ کردے کیا یہ طریقہ درست ہے؟ کیا حیلہ نہیں بن جاتا؟
(۰۱)اللہ تعالی جانتے ہیں کہ ہماری نیت کیا ہے اور ہم اس بندے کو زکوة کیوں دے رہے ہیں ۔ہمارے اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ،پھر یہ براہ راست کیوں نہیں دی جا سکتی ہے؟
(۱۱)ہم مختلف کچی بستیوں میں اسکول کھول رہے ہیں تاکہ وہ بچے جن کی مائیں کام کی وجہ سے باہر نکل جاتی ہیں بچے آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔ان بچوں کو ان اسکولوں میں سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن پڑھایا جائے گا اور اسلامی آداب سکھائے جائیں گے۔
اللہ سے امید ہے کہ کچھ بچے ایک اچھا مسلمان بن سکیں گے،ان کے لیے جو بھی رقم خرچ ہوگی کیا وہ زکوة کی مد میں سے خرچ کی جا سکتی ہے؟
مہربانی فرماکر قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرماے جزاکم اللہ خیرا فی الدارین
مستفتیہ زوجہ محمد ادریس مرحوم برائے رابطہ موبائل
محترم مفتیان کرام وعلماء کرام محدث فورم یہ ایک استفتاء آیا تھا اس کا جواب چاہیے جزاکم اللہ خیرا فی الدارین جناب ابوالحسن علوی صاحب جناب انس نظر صاحب اور دیگر معزز علماء کرام وشیوخ سے درخواست ہے کہ جواب عنایت فرماے
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
درست ہے کیونکہ کچھ کا تعلق فی سبیل اللہ سے ہے اور کچھ کا غربت اور فقیری سے ۔
محترم شیخ صاحب مشکل یہ درپیش ہے کہ سکول کی تعلیم فی سبیل اللہ میں کہاں آتا ہے ؟؟؟؟ اس خاتوں کی سوال پر آپ غور فرماے دو تین دفعہ انھوں نے یھی کہا ہے کہ ہم سکول
کھول رھے ھیں اس میں دینی تعلیم بھی ہوگا وغیرہ وغیرہ اب کیا سکول فی سبیل اللہ میں آتا ہے؟؟
میں ایک زمانے میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ منصورہ سندھ میں پڑھاتا تھا یہ جماعت اسلامی کا پورے پاکستان میں سب سے بڑا ادارہ ہیں وہاں اس زمانے میں پرنسپل تھے جناب امیر الدین مھر صاحب سابق ڈایرکٹر دعوہ اکیڈمی اسلام آباد ان کا ذھن یہ تھا کہ وہ سکول اور کالج کی تعلیم کو زیادہ ترجیح دیتا تھا سالانہ تقریب میں ہم نے شیخ القرآن مولانا گوھر رحمان صاحب رحمہ اللہ کو بلایا اور ان سے بات کی کہ یھاں کا مدرسہ زکوۃ اور صدقات پر چلتا ہے اور یہ مہتمم صاحب سکول کی تعلیم کو زیادہ ترجیح دیتا ہے تو انھوں نے ان کو سختی سے ڈانٹا کہ زکوۃ کا پیسہ
سکول کی تعلیم پر خرچ کرنا منع ہے شیخ عثیمین کا بھی یھی فتوی ہے کہ سکول میں زکوۃ کا رقم خرچ نھیں کی جاتی یہ مسئلہ چونکہ اجتھادی ھے اس لیے آپ سے میری درخواست ہے کہ آپ اس پر مزید غور فرماے اور
میری درخواست ہے باقی علماء کرام اور شیوخ عظام سے بھی کہ وہ اس مسئلے میں میری رھنمائی فرماے امید ہے آپ سب حضرات توجہ دینگے
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

میری ذاتی رائے ھے کہ نمبر ١ اور ٦ میں تنخواہ کے طور پر زکوٰۃ ادا نہیں کی جا سکتی بلکہ مدرسہ انتظامیہ کو دے سکتی ھے جہاں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

١٩٩٨ کے قریب میں نے ابوظہبئی میں ایک محفل منعقد کروائی تھی جس پر کسی جاننے والے نے کہا کہ قاضی محمد حسین بھی فنڈز کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں اگر میں اجازت دوں تو وہ انہیں بھی ساتھ لے آئے پھر قاضی محمد حسین آئے تو انہوں نے اپنی تقریر نے کہا کہ ان کے مدرسہ میں جو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس پر ہمارے پاس انہیں کھانے کو دینے کے لئے مشکل سے ایک وقت کی روٹی بھی پوری نہیں ہو رہی اس لئے اس پر جو بھی جو کچھ بھی ادائیگی کرنا چاہتا ھے وہ ہمیں دے دے، جس پر سب نے ان کے ساتھ پورا تعاون کیا۔

میرا ایک عزیز جو بہت خوشحال تھا اور وہ اپنی پوری زکٰوۃ نکالتا تھا اور اس کی بیوی زکٰوۃ کی رقم ان سے یہ کہہ کے لے لیتی تھی کہ گھر میں جو نوکرانیاں ہیں وہ انہیں دے دیا کرے گی مگر وہ انہیں زکٰوۃ کی رقم تو دیتی تھی مگر یہ کہہ کے کہ وہ کام کی اجرت دے رہی ھے۔

تنخواہ یا اجرت کے لئے زکوٰۃ استعمال میں نہیں لائی جا سکتی۔ باقی یہ عمومی سوال ھے جو شائد سب سے رائے کے لئے لگایا گیا ھے، پھر بھی فائنل وہی ہو گا جو اس پر کوالیفائیڈ فرفیشنل شیخ حضرات فرمائیں گے۔

والسلام
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
526
ری ایکشن اسکور
2,181
پوائنٹ
171
السلام علیکم

میری ذاتی رائے ھے کہ نمبر ١ اور ٦ میں تنخواہ کے طور پر زکوٰۃ ادا نہیں کی جا سکتی بلکہ مدرسہ انتظامیہ کو دے سکتی ھے جہاں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

١٩٩٨ کے قریب میں نے ابوظہبئی میں ایک محفل منعقد کروائی تھی جس پر کسی جاننے والے نے کہا کہ قاضی محمد حسین بھی فنڈز کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں اگر میں اجازت دوں تو وہ انہیں بھی ساتھ لے آئے پھر قاضی محمد حسین آئے تو انہوں نے اپنی تقریر نے کہا کہ ان کے مدرسہ میں جو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس پر ہمارے پاس انہیں کھانے کو دینے کے لئے مشکل سے ایک وقت کی روٹی بھی پوری نہیں ہو رہی اس لئے اس پر جو بھی جو کچھ بھی ادائیگی کرنا چاہتا ھے وہ ہمیں دے دے، جس پر سب نے ان کے ساتھ پورا تعاون کیا۔

میرا ایک عزیز جو بہت خوشحال تھا اور وہ اپنی پوری زکٰوۃ نکالتا تھا اور اس کی بیوی زکٰوۃ کی رقم ان سے یہ کہہ کے لے لیتی تھی کہ گھر میں جو نوکرانیاں ہیں وہ انہیں دے دیا کرے گی مگر وہ انہیں زکٰوۃ کی رقم تو دیتی تھی مگر یہ کہہ کے کہ وہ کام کی اجرت دے رہی ھے۔

تنخواہ یا اجرت کے لئے زکوٰۃ استعمال میں نہیں لائی جا سکتی۔ باقی یہ عمومی سوال ھے جو شائد سب سے رائے کے لئے لگایا گیا ھے، پھر بھی فائنل وہی ہو گا جو اس پر کوالیفائیڈ فرفیشنل شیخ حضرات فرمائیں گے۔

والسلام
بہت بہت شکریہ کنعان بھائی اصل میں جو مسئلہ قرآن مجید اور صحیح حدیث میں موجود نا ہو تو پھر اس میں ہر امام ہر مجتہد اور عالم دین اپنے اپنے حالات کی متعلق فتوی دیتا ہے اب اس
مسئلے میں آپ حیران ہوجاینگے اتنی مختلف فتوے اور رای ہیں علماء کرام کی کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے کوئی کہتا ہے جایز کوئی کہتا ہے ناجایز میں نے یہ سوال اس لیے ڈالا کہ میں اس خاتون کو اپنا رای اور فتوی بتا چکا ہوں لیکن چونکہ محدث فورم پر علم کی بڑے بڑے پہاڑ موجود ہے میں چاہتا ھوں کہ انن سے مزید رہنمائی لے لو اور اگر کہیں میں غلطی پر ھوں تو میری اصلاح ہوجاے اللہ کرے محدث فورم پر موجود اہل علم اس طرف تو جہ دیں
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

دیکھیں ہر کام کے لئے کچھ اصول ہوتے ہیں جس وجہ سے آپ کو یہ مسئلہ سوال کے طور پر اسی سیکشن میں ڈالنا پڑے گا جہاں صرف منتخب ممبران ہی جواب دے سکتے ہیں۔ اس پر وقت بھی لگ سکتا ھے اور اس جواب میں یقیناً ایک شیخ نہیں بلکہ اللجنہ کی مشاورت سے جواب دیا جاتا ھے۔

اوپن فارم میں سوال یا مسئلہ اگر لکھیں گے تو اس کے مطلب یہ ہوتا ھے کہ آپ سب ممبران کی رائے بھی جاننا چاہتے ہیں اس پر شیخ حضرات ایوائیڈ کرتے ہیں کیونکہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ھے کہ اکثر اوقات سوال پوچھنے والا جواب جاننے کے بعد خود استاد بن جاتا ھے ایسے بہت سے کیسیز سامنے آئے ہیں۔ اور شیخ ہو یا کوئی بھی سکل کا پروفیشنل وہ بحث کرنا پسند نہیں کرتا۔ یہ میرا تجربہ ھے۔

جزاک اللہ خیر

والسلام
 

ابن بشیر الحسینوی

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
1,092
ری ایکشن اسکور
4,469
پوائنٹ
376
ہر وہ کام یا ادارہ جہاں اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے کام کیا جا رہا ہے وہاں زکوہ دینی درست ہے آج کل کئی پرائیویٹ سکول شروع ہوئے جہاں تعلیم فری ہے اور وہاں پر سکول کے بہانے قرآن وحدیث کی تعلیم دی جارہی ہے تو اس طرح کے سکولوں میں زکوۃ دی جا سکتی ہے ۔
 
Top